٣
تحریف شدہ یا اصل حالت میں محفوظ؟
”ہاں گھاس مرجھاتی ہے۔ پھول کملاتا ہے پر ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے“
— یسعیاہ  ٤٠ : ٨

دنیا کے چار مختلف حصوں سے آنے والی ذیل کی ای میلیں دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں:

ای میل

ہم سارے الہامی نوشتوں پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن اُن کی اصل صورت میں۔

ای میل

یہ مت بھولو کہ تمہارے پاس وہ پرانا عہدنامہ اور نیا عہدنامہ ہیں جن میں الفاظ بدلے ہوۓ ہیں۔ قرآن پاک کے الفاظ برسوں سے جوں کے تُوں ہیں۔

ای میل

تمہاری بائبل کا متن محرف ہے جو دوبارہ لکھا گیا ہے، اِس میں اضافے کۓ گۓ ہیں اور دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔ تم نے اِسے اپنے غلط اعتقادات کے مطابق ڈھالنے کے لۓ شروع سے آخر تک بدل دیا ہے۔

ای میل

ہم سارے الہامی نوشتوں پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن اُن کی اصل صورت میں۔

ای میل

مجھے یقین ہے کہ بائبل میں صدیوں بلکہ ہزاروں سال پہلے تحریف کی گئ۔ اور نیا عہدنامہ اگر سارا نہیں تو اِس کا بیشتر حصہ بالکل سوروں کا کھاجا ہے جو پولس نامی جھوٹے نبی نے گھڑا ہے۔ اِس وجہ سے میرے لۓ بائبل میں سے اِقتباس کرنا وقت اور محنت ضائع کرنے کے برابر ہے۔

کیا یہ اعتراض اور الزام درست اور بجا ہیں؟ کیا لامحدود خدا نے محدود انسان کو چھوٹ دے دی کہ اُن نوشتوں میں اَدل بدل کر کے بگاڑ دے جو اُس نے قدیم سے اپنے نبیوں کو الہام سے عطا کۓ تھے؟

مسلمانوں سے ایک ذاتی بات

یہاں مَیں اپنے معزز مسلمان قاری سے براہِ راست مخاطب ہونا چاہتا ہوں:

آپ خود جانتے ہوں گے کہ قرآن شریف واضح طور سے کہتا ہے کہ بائبل مقدس کے صحیفے یعنی تورات (توریت)، زبور اور انجیل خدا نے ”ہدایت اور روشنی “ کے لۓ دیۓ (سورہ ٥ : ٤٣ ۔٤٦ )۔ اور قرآن شریف یہ بھی کہتا ہے ”اور (اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔۔۔ “ (سورہ ٥: ٤٨ )۔

اور یہ بھی کہتا ہے کہ ”اور اے نبی تم سے پہلے بھی ہم نے اِنسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہلِ کتاب سے پوچھو “ (سورہ ٢١ آیت ٧)۔ قرآن شریف یہ تنبیہ بھی کرتا ہے ”یہ لوگ جو اِس کتاب (بائبل مقدّس) کو اور اُن ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں۔۔۔ دوزخ کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “ (سورہ ٤٠ آیت ٧٠ ۔ ٧٢ )۔

قرآن شریف بار بار کہتا ہے کہ بائبل کی کتابیں خدا کے الہام سے ہیں اور جو لوگ اِنہیں رد کرتے (جھٹلاتے) ہیں وہ دوزخ میں جھونک دیۓ جائیں گے۔ دیکھۓ قرآن شریف میں یہ حوالے: سورہ ٢: ٨٧ ۔ ٩١، ١٠١ ، ١٣٦، ٢٨٥ ؛ ٣: ٣۔٤ ؛ ٤ : ٤٧ ، ٥٤، ١٣٦، ١٦٣ ؛ ٥: ٤٣۔٦٨ ؛ ٦: ٩٢ ؛ ١٠ :٩٤ ؛ ٢٠ : ١٣٣ ؛ ٢١ : ١٠٥ ؛ ٢٨ : ٤٣ ؛ ٢٩ : ٤٦ ؛ ٣٢ :٢٣ ؛ ٤٠ :٥٣، ٥٤، ٧٠ ۔ ٧٢؛ ٤٥: ١٦ ؛ ٤٦: ١٢ ؛ ٥٧ : ٢٧۔  اِن حوالوں میں قرآن شریف مسلمانوں سے کہتا ہے کہ بائبل مقدس کے صحیفے خدا کے الہام سے ہیں۔

اور قرآن شریف کے یہ اعلانات دنیا بھر کے مسلمانوں کے لۓ بڑی اُلجھن پیدا کۓ ہوۓ ہیں کیونکہ خدا کی ذات اور بنی نوع انسان کے لۓ اُس کے مقصد اور منصوبے کے بارے میں بائبل مقدس اور قرآن شریف ایک دوسرے سے بالکل ہی فرق پیغام دیتے ہیں۔

اِسی وجہ سے مسلمان یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بائبل مقدس کے نوشتوں میں تحریف کی گئ ہے۔ مندرجہ ذیل سوالوں سے بہت سے لوگوں کو شوق ہوا ہے کہ مذکورہ نتیجے کے بارے میں سوچیں:

مسلمانوں کے لۓ خاص سوالات

  •   کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خدا اپنے صحیفوں کی حفاظت کر سکتا ہے؟
  •   اگر کر سکتا ہے تو کیا وہ اُن کی حفاظت کرنے پر آمادہ ہے؟
  •   اگر آپ کو یقین ہے کہ نبیوں کے صحیفوں میں تحریف کی گئ ہے تو:
    • الف۔ اُن میں تحریف کب کی گئ؟
    • ب۔ اُن میں تحریف کہاں کی گئ؟ (یعنی دنیا کے کس خطے میں)
    • ج۔ یہ تحریف کس نے کی؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ مسیحیوں یا یہودیوں نے ان صحیفوں میں تحریف کی تو بتائیں کہ وہ مقدس نوشتوں میں تحریف کیوں کرتے جن کی حفاظت کے لۓ بہتوں نے بخوشی اپنی جانیں قربان کر دیں؟
    • د۔ آپ کیا ثبوت پیش کر سکتے ہیں؟
    • ہ۔ خدا نے فانی انسانوں کو ایسا کیوں کرنے دیا کہ بنی نوع انسان کے لۓ اُس (خدا) کے تحریری کلام اور مکاشفہ (الہام) میں تحریف کریں؟
  • اگر خدا نے انسانوں کو چھوٹ دے دی کہ وہ مقدس موسی' اور داؤد جیسے نبیوں کی کتابوں میں تحریف کر لیں تو آپ کیسے جانتے ہیں کہ جس کتاب پر آپ کا ایمان ہے وہ اِس بدسلوکی سے بچی ہوئ ہے؟

  اِن سوالوں سے ہمارا مقصد کسی کو پریشان یا مغلوب کرنا نہیں ہے۔ لیکن چونکہ بہت سے لوگ اِس ”تحریف کے الزام “ کو درست مانتے ہیں اور یہ مسئلہ ابدی اہمیت اور نتیجے کا حامل ہے اِس لۓ ہم صرف ایک اَور سوال پوچھتے ہیں۔

  • بائبل مقدس کے صحیفوں میں یہ تحریف قرآن شریف کے نزول سے پہلے ہوئ یا بعد میں؟

اِس سوال پر مزید بات کرنے سے پہلے ہم تاریخ کی اِس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں۔ پرانا عہدنامہ بنیادی طور سے یہودیوں کی مقدس دینی کتاب ہے۔ وہ صدیوں سے پوری غیرت اور جاں فشانی سے اِس کی حفاظت کرتے آۓ ہیں۔ کیا وہ برداشت کر سکتے تھے کہ کوئ شخص اُن کے پاک صحیفوں میں شوشہ بھر بھی بڑھاۓ یا گھٹاۓ؟ تاریخ میں کوئ دوسری مثال نہیں ملتی کہ کسی مذہبی جماعت (مسیحیوں) نے اپنے ایمان کی بنیاد اُس کتاب کو بنایا ہو جسے کوئ دوسری مذہبی جماعت (یہودی) معظم و مکرم مانتی اور دل و جان سے حفاظت کرتی ہو۔ کیا صرف ایک یہ حقیقت اِس بات کو عملاً ناممکن نہیں بنا دیتی کہ کوئ پرانے عہدنامے کے صحیفوں میں تحریف کرے؟

اب ہم اِس سوال پر بات کرتے ہیں کہ بائبل میں تحریف قرآن شریف کے نزول سے پہلے ہوئ یا بعد میں؟

پہلے؟

اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ بائبل مقدس کے متن میں تحریف قرآن شریف کے تحریر ہونے سے پہلے ہوئ تو قرآن شریف کیوں اعلان کرتا ہے کہ یہ نوشتے انسانوں کی ”ہدایت اور نصیحت “ کے لۓ ہیں اور فریب یا گمراہی نہیں ہیں، اور یہ نوشتے ”روشنی “ ہیں اور تاریکی نہیں ہیں؟ قرآن شریف کیوں کہتا ہے کہ ”اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اِس میں نازل کیا ہے “ (سورہ ٥ :٤٦ ،٤٧ )۔ اور پھر یہ کیوں کہتا ہے کہ ”اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں “ (سورہ ١٠ : ٦٤ )۔

اگر بائبل مقدس کے نوشتوں کو غیر معتبر مانا گیا تھا تو قرآن شریف نے کیوں حکم دیا کہ ”اب اگر تجھے اِس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں “ (سورہ ١٠ آیت ٩٤ )؟ اور یہ بھی کہ ” اگر تم (اپنے اعتراض میں) سچے ہو تو لاؤ توراۃ اور پیش کرو اُس کی کوئی عبارت “ (سورہ ٣ آیت ٩٣ )؟

بعد میں؟

اِس کے برعکس اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ بائبل مقدس کے متن میں تحریف قرآن شریف کے تحریر میں آنے کے بعد ہوئ تو آپ کی توجہ اِس حقیقت کی طرف دلانے کی ضرورت ہے کہ بائبل مقدس کے جو نسخے آج کل رائج ہیں اُن کے ترجمے قدیم نسخوں سے ہوۓ جو قرآن مجید سے صدیوں پرانے ہیں۔

جس زمانے میں قرآن شریف پہلے پہل حفاظ کے ذریعے سے سنایا جانے لگا بائبل مقدس اُس سے پہلے یورپ، ایشیا اور افریقہ میں پہنچ چکی تھی اور اِس کے ترجمے بہت سی زبانوں میں ہو چکے تھے مثلاً لاطینی، سریانی، قبطی، گاتھی، ایتھوپیائ اور آرمینی زبانیں۔

ذرا غور فرمائیں چند لوگ ایسی شہرت کی حامل کتابوں میں ” تحریف “ کیسے داخل کر سکتے ہیں جن کا ترجمہ اِتنی زیادہ زبانوں میں ہو چکا تھا اور ہزاروں لاکھوں نسخے موجود تھے اور اُس وقت کی معلومہ دنیا میں تیزی سے تقسیم ہو چکے تھے؟ یہ بھی تصور کریں کہ اصل زبان کے نسخوں اور بے شمار تراجم جمع کرنا اور ایک ایک نسخے کو تبدیل کرنا تاکہ سب میں یکسانیت اور تطابق ہو جو ہمیں اِن تراجم میں نظر آتا ہے، کیا یہ ناممکن کام نہیں؟

نتیجہ صاف ظاہر ہے:

٭ یہ دعوی' کہ بائبل مقدس میں تحریف قرآن شریف کے تحریر ہونے سے پہلے ہوئ خود قرآن شریف کی درجنوں آیات کو جھٹلانا ہے۔ یہ آیات ہم پہلے درج کر چکے ہیں۔

٭ یہ دعوی' کہ بائبل مقدس میں تحریف قرآن شریف کے تحریر ہونے کے بعد ہوئ اُن تواریخی اور آثارِ قدیمہ کی شہادتوں کو جھٹلانا ہے جن کی حمایت ہزاروں قدیم قلمی نسخوں سے ہوئ ہے۔

مذکورہ نتیجہ سے چند اَور سوال پیدا ہوتے ہیں:

بائبل مقدس کے یہ ہزاروں قلمی نسخے اور تراجم کہاں سے آۓ؟

اصل نوشتے اب کہاں ہیں؟

اصل نسخے اور  اُن کے ” اَخلاف “

یہ حقیقت ہے کہ کتابوں سمیت اِس دنیا کی ساری چیزیں بتدریج جواب دے جاتی اور محو اور معدوم ہو جاتی ہیں۔ بائبل مقدس کے اصل قلمی نسخے (جنہیں ” اصل مسودات “ بھی کہتے ہیں) اِس قانونِ فطرت کا شکار ہوۓ اور اب دست یاب نہیں ہیں۔ مگر دنیا بھر کے عجائب گھروں اور یونیورسٹیوں میں وہ ہزاروں قدیمی نسخے موجود ہیں جو نبیوں کے لکھے ہوۓ اصل نسخوں کے ” اخلاف “ ہیں یعنی براہِ راست اصل نسخوں سے نقل کۓ گۓ تھے۔

خواہ توریت، اناجیل، فلسفی ارسطو، مورخ فلاویس یوسیفس کی بات کریں خواہ مقابلتاً بعد کے دَور کے قرآن شریف کی بات کریں، سارے اصل نسخے یا تحریریں معدوم ہیں۔

قرآنِ مجید کا کوئی نسخہ یا اِس سے متعلہ کوئی اسلامی دستاویز یا تحریر موجود نہیں جو ٧٥٠ ء (حضرت محمد صلعم کے وصال کے ١٠٠ سال بعد سے زیادہ عرصہ) سے پہلے کی ہو۔ یہی حال ساری قدیم کتابوں کا ہے۔ صرف اصل کے ” اخلاف “ باقی ہیں۔

دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح سینیگال میں بھی بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ بائبل مقدس میں بہت زیادہ تحریف ہو چکی ہے۔ وہ اِس کتاب کا یقین نہیں کرتے۔ اِس کے برعکس وہ اپنے ” راویوں “ (راوی= روایت کرنے والا، سن کر کہنے والا) کا یقین کرتے ہیں۔ راوی وہ شخص ہوتا ہے جو تاریخ زبانی سناتا ہے۔ راوی کا خاص اور اہم کام یہ ہوتا ہے کہ اپنے خاندان یا کنبے کا نسب نامہ اور اپنے گاؤں کی تاریخ زبانی یاد (حفظ) کر کے اگلی نسل کو سناۓ اور منتقل کرے۔ راویوں کی خاندان کے بارے میں تفصیلی معلومات یاد کرنے اور یاد رکھنے اور معقول حد تک درستی سے سنانے اور آگے منتقل کرنے کی صلاحیت یا استعداد قابلِ تحسین اور حیرت انگیز ہے۔ [جو لوگ قرآن شریف زبانی یاد کر لیتے ہیں اُنہیں حفاظ (واحد حافظ) کہتے ہیں]۔ یہ راوی اپنے فن میں بے حد ماہر سہی تو بھی وقت گزرنے کے ساتھ صحت (بالکل صحیح ہونا) اور تفاصیل باقی نہیں رہتیں۔ صحت کے معاملے میں سچائ اور زبانی یاد رکھنے کا طریقہ تحریر کرنے کے طریقے کا ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔

بہت سے لوگ انساںوں کی زبانی گواہی یا شہادت کا تو فوراً یقین کر لیتے ہیں، لیکن خدا کی تحریری گواہی کا یقین کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ عقل مندی ہے؟

” جب ہم آدمیوں کی گواہی قبول کر لیتے ہیں تو خدا کی گواہی تو اُس سے بڑھ کر ہے جس نے خدا کا یقین نہیں کیا اُس نے اُسے جھوٹا ٹھہرایا کیونکہ وہ اُس گواہی پر جو خدا نے اپنے بیٹے کے حق میں دی ہے ایمان نہیں لایا “ (١۔یوحنا ٥ :٩۔١٠ )۔

طومار اور فقیہ

پاک صحائف بہت قدیم زمانے میں لکھے گۓ تھے۔ ابھی کاغذ، چھاپہ خانہ اور کمپیوٹر ایجاد نہیں ہوۓ تھے۔ نبی خدا کی باتوں کو طوماروں پر لکھتے تھے جو جانوروں کی کھالوں یا پاپائرس (ایک قسم کا نرسل) سے بناۓ جاتے تھے۔ (کھال سے بناۓ گۓ طومار کو رَق کہتے ہیں)۔ فقیہ ہاتھ سے لکھ کر اُن اصل طوماروں کی نقلیں یعنی مزید نسخے تیار کرتے تھے۔ فقیہ قدیم دنیا کے ممتاز پیشہ ور افراد تھے جو سرکاری یا قانونی دستاویزات پڑھ سکتے، لکھے سکتے اور اُن کی تصریح کر سکتے تھے۔ بعض فقیہ بائبل مقدس کے متن کی نقول تیار کرتے تھے۔ وہ پوری توجہ دیتے اور دھیان رکھتے تھے کہ نقول بالکل صحیح ہوں، شوشہ بھر بھی فرق نہ ہو۔ بعض کتابوں کے آخر میں فقیہ کتاب کے سارے لفظوں کا میزان درج کرتے تھے اور لکھتے تھے کہ درمیانی لفظ کون سا ہے تاکہ بعد کے دنوں کے فقیہ دونوں طرف کو شمار کر سکیں اور یقین کر لیں کہ کوئ حرف رہ نہیں گیا۔

اِس انتہائ احتیاط کے باوجود چھوٹے چھوٹے اختلافات ان نسخوں میں راہ پا گۓ۔ کہیں کوئ حرف، کوئ لفظ، کوئ جملہ یا پیراگراف چھوٹ گیا یا کوئ عدد غلط نقل ہو گیا ۔ (اِس قسم کے اختلاف کو ” سہوِ کاتب “ کہا جاتا ہے)۔

قدیم نسخوں یا مسودات میں اِس قسم کے اختلافات کی ایک مثال پرانے عہدنامے میں ملتی ہے۔ ٢۔ سلاطین ٢٤ : ٨ میں ہم پڑھتے ہیں ” یہویاکین جب سلطنت کرنے لگا تو اٹھارہ برس کا تھا “ جبکہ ٢۔تواریخ ٣٦ : ٩ میں لکھا ہے ” یہویاکین آٹھ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا۔ “ ایسے اختلافات کی کیا توجیہ پیش کی جا سکتی ہے؟ بعض علما کی راۓ یہ ہے کہ یہویاکین آٹھ برس کا تھا جب اُس کے باپ نے اُسے سلطنت میں شریک کر لیا اور  اِس کے دس سال بعد یعنی اپنے باپ کی وفات کے بعد وہ بادشاہی کرنے لگا۔ اور یہ بات ممکن ہے۔ مگر ایک اَور ممکنہ  توجیہ یہ ہے کہ یہ عددی اختلاف اِس بات کا نتیجہ ہے کہ ابتدائ صدی کے کسی کاتب نے سہواً ١٨ کے بجاۓ ٨ نقل کر دیا۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ غلط عدد اُس کاتب کے نسخے کے سارے ” اخلاف “ میں نقل ہوتا گیا۔ بہرصورت ایسے اختلافات خدا کے پیغام کو نہ تو کسی طرح متاثر کرتے ہیں نہ اُسے تبدیل کرتے ہیں۔ بائبل مقدس کے قدیم قلمی نسخوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ علما اِن کا باہمی موازنہ کر کے آسانی سے صحیح ترجمہ کا تعین کر لیتے ہیں۔ قدیم مسودوں میں اِن اختلافات سے بنیادی سچائ پر کوئ اثر نہیں پڑتا۔

مذہبی یا غیر مذہبی قدیم متون یعنی منقول نسخوں میں کتابت کی اِن معمولی غلطیوں سے علما کو کبھی کوئ مشکل پیش نہیں آئ۔ قلمی نسخوں میں اِن اختلافات کا باقی رہنا اِس حقیقت کی زبردست حمایت کرتا ہے کہ پاک صحائف میں کوئ دست اندازی (تحریف) نہیں ہوئ۔ بائبل مقدس کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے ” ایک بالکل صحیح اور مسلّم نسخہ “ مرتب کرنے اور پھر باقی سارے مسودات کو جلا دینے کی کوشش کی ہو۔

حدیث میں مذکور ہے ” تب حضرت عثمان (رض) نے زید بن ثابت (رض)، عبداللہ بن الزبیر (رض) سعید بن العاص (رض) اور عبدالرحمان بن ہاشمی (رض) کو حکم دیا کہ ان مسودوں کی بالکل صحیح نقول لکھیں۔۔۔ اُنہوں نے بہت سی نقول لکھ لیں تو عثمان (رض) نے اصل مسودے حضرت حفصہ کو لوٹا دیۓ۔ حضرت عثمان (رض) نے اُن کی تیار کردہ ایک ایک نقل ہر ایک مسلم صوبہ میں بھیج دی اور حکم دیا کہ دوسرا سارا قرآنی مواد خواہ وہ جزوی مسودے ہوں خواہ مکمل نقول جلا دیا جاۓ۔ “ (حدیث صحیح بخاری جلد ٦، نمبر ٥١٠ )۔

خدا نے اپنا پیغام (کلام) ہمارے لۓ محفوظ رکھا ہے۔ لیکن ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ آج جو صحیفے ہمارے پاس ہیں بالکل وہی ہیں جو نبیوں اور رسولوں نے لکھے تھے؟

بحیرہ مردار کے طومار

آج سے نصف صدی پیشتر تک پرانے عہدنامے کے نوشتوں (جو نبیوں نے ١٥٠٠ ق م اور   ٤٠٠ ق م کے دوران لکھے) کی معلومہ نقول ٩٠٠ ق م تک کی تحریر  شدہ تھیں۔ چونکہ اصل مسودات اور نقول کے درمیان طویل عرصہ گزر گیا تھا اِس لۓ نقاد دعوی' کرتے تھے کہ ان صدیوں کے دوران کی نقل در نقل ہوتی رہی ہے، اِس لۓ یقین سے جانںا ممکن نہیں کہ نبیوں نے کیا لکھا تھا۔

بحیرہ مردار کے طوماروں کی دریافت سے پہلے بھی پاک صحیفوں کی توثیق کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ موجودہ پرانے عہدنامے کا موازنہ ہفتادی ترجمے سے کیا جاۓ (ہفتادی ترجمہ پرانے عہد نامے کا یونانی زبان میں ترجمہ ہے جو تقریباً ٢٧٠ ق م میں مکمل ہوا تھا)۔ ہفتادی ترجمہ اِس دعوے کو ثابت کرتا ہے کہ پرانے عہدنامے کے صحیفے غیر محرف اور محفوظ ہیں۔

ایک وقت آیا کہ بحیرہ مردار کے طومار دریافت ہوۓ۔

کب؟ ١٩٤٧ ء میں۔

کہاں سے؟ بحیرہ مردار کے قریب قمران کے کھنڈرات سے۔

کیسے؟ دو بدو چرواہے (قاموس الکتاب صفحہ ١٤٠ ” دو چرواہے “ ) اپنی بھٹکی ہوئ بکری کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہے تھے کہ اتفاقاً ایک غار میں چلے گۓ۔ وہاں اُنہیں مٹی کے چند مرتبان ملے جن میں عبرانی، ارامی اور یونانی زبانوں میں لکھے ہوۓ قدیم طومار تھے۔ وہ طومار اُنہوں نے بیت لحم کے ایک پرانی چیزوں کے تاجر کے ہاتھ فروخت کر دیۓ۔ بالآخر یہ طومار اُن علما کے پاس پہنچے جنہیں اُن کی صحیح قدر و قیمت معلوم تھی۔

١٩٤٧ ء اور ١٩٥٦ ء کے درمیان گیارہ غاروں سے بائبل مقدس کے ٢٢٥ سے زائد قلمی نسخے دریافت ہوۓ۔ علما کے مطابق یہ طومار ٢٥٠ ق م سے ٦٨ ء کے درمیانی عرصے میں لکھے گۓ تھے۔ اِن میں سے اکثر طومار ٢٠٠٠  سال سے بھی زیادہ پرانے تھے۔ کیسی زبردست اور خوب دریافت ہے!

یہ طومار قمران کی غاروں میں ٧٠ ء (جس سال رومیوں نے یروشلیم کو ملیا میٹ کیا تھا) میں یہودیوں کی اسینی جماعت کے لوگوں نے چھپاۓ تھے۔ اُن لوگوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ ذاتی طور سے ہم پر کچھ بھی اُفتاد پڑے مگر اِن صحیفوں کو آئندہ نسلوں کے لۓ محفوظ رہنا چاہۓ۔ اِس جماعت کے یہودی قتل ہوۓ یا دوسری قوموں میں منتشر ہو گۓ مگر یہ طومار محفوظ رہے۔

اِن قدیم نوشتوں کی دریافت کی خبر دنیا بھر میں پہنچی۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اِن میں ہزار سال بعد کے موجودہ نسخوں کے مقابلے میں زیادہ اہم اور نمایاں اختلافات موجود ہوں گے اور ہمارا یہ دعوی' ثابت ہو جاۓ گا کہ بائبل میں تحریف کر کے اِسے بدل دیا گیا ہے۔

مگر اُن شک پرست لوگوں کو سخت مایوسی ہوئ، کیونکہ اُن میں صرف ہجا اور گرامر کے معمولی اختلافات ملے۔ اِن قدیم قلمی نسخوں میں بھی وہی الفاظ اور پیغام ہے جو ہماری موجودہ بائبل ہے۔

  بحیرہ مردار کے طومار:
٢۵٠ ق م تا ۶٨ ء
  گذشتہ معلومہ قلمی:
نسخہ جات ٩٠٠ ء
  بائبل موجودہ زمانے میں:
لاتبدیل

 بحیرہ مردار کے طوماروں کے علما کا اِس معاملے میں باقاعدہ فیصلہ کیا ہے کہ اِن صحائف میں رد و بدل اور تحریف کی گئ ہے؟ ” اب تک کی شہادت یہی کہتی ہے کہ کوئ تحریف یا رد و بدل نہیں ہوا “۔

تاریخ کی محفوظ ترین کتاب

جہاں تک نۓ عہدنامے کا تعلق ہے ہمارے پاس کم سے کم ٢٤٠٠٠ قلمی نسخے موجود ہیں جن میں سے ٥٣٠٠ اصل یونانی زبان میں ہیں اور ان میں سے ٢٣٠ نسخے چھٹی صدی سے پہلے کے ہیں۔ یہ حتمی طور سے ثابت کرتے ہیں کہ نیا عہدنامہ مستند طور پر دنیا کا محفوظ ترین متن (کتاب) ہے ۔

تقابل اور موازنے کے لۓ یونانی فلسفی ارسطو کی تحریروں کو دیکھیں۔ یہ فلسفی ٣٨٤ ق م سے ٣٢٢ ق م میں ہوا۔ ارسطو ہر زمانے کا سب سے زیادہ بااثر فلسفی ہے۔ تاہم اُس کے فلسفے اور منطق کے بارے میں ہم جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ معدودے چند قلمی نسخوں سے حاصل ہوا ہے جن میں سے قدیم ترین نسخے ١١٠٠ ءکے ہیں۔ اِس طرح اصل نسخوں اور موجودہ نسخوں کے درمیان تقریباً ١٤٠٠ کے عرصے کا فرق ہے۔ اِس کے باوجود ارسطو کی باتوں اور نظریات کی سند اور محافظت پر کوئ شخص اعتراض نہیں کرتا۔

نۓ عہدنامے کے اِن ہزاروں قلمی نسخوں کے علاوہ ٣٢٥ ق م (مکمل نۓ عہدنامے کے قدیم ترین محفوظ قلمی نسخے کی تاریخ) سے پہلے کی غیر بائبلی تحریروں میں نۓ عہدنامے سے ہزاروں اقتباس بھی ملے ہیں۔ یہ اقتباسات اِتنے وسیع ہیں کہ صرف اِن ہی سے پورا نیا عہدنامہ دوبارہ تیار کیا جا سکتا ہے۔

اِن شہادتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نیا عہدنامہ قدیم زمانے کا سب سے زیادہ محفوظ رکھا گیا متن (کتاب) ہے۔

مختلف بائبلوں کا معاملہ

آپ نے کسی کو کہتے سنا ہو گا کہ ” لیکن اِتنی بہت سی مختلف بائبلیں ہیں! کون سا ترجمہ درست ہے؟ “

بائبل مقدس کے قدیم قلمی نسخوں اور اِن نسخوں کے مختلف تراجم میں فرق کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ قلمی نسخے عرصہ دراز پہلے فقیہوں (کاتبوں) نے نقل کۓ۔ یہ قرآن شریف کے تحریری صورت میں آنے سے صدیوں پہلے کی بات ہے۔ آج کل چھپی ہوئ بائبلیں اِن ہی قدیم متون سے ترجمہ شدہ ہیں۔ مکمل بائبل ہو یا اِس کا کوئ حصہ، اِس کا ترجمہ اصل زبانوں (عبرانی، ارامی اور یونانی) سے ٢٤٠٠ سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اِن ہی میں سے ایک زبان اُردو ہے۔

برِ صغیر پاک و ہند کی مختلف زبانوں میں بائبل مقدّس کے ترجمے اور اشاعت کی تفصیل کے لئے دیکھئے ” قاموس الکتاب “ صفحہ نمبر ١٢٧ تا ١٣٣۔

برِصغیر پاک و ہند میں انگریزی خواں طبقہ انگریزی زبان کی بائبل مقدس اور  اِس کے مختلف تراجم (ورژن versions ) سےبخوبی واقف ہے۔ انگریزی کا ہر ورژن دوسروں سے قدرے فرق ہے۔ جب الفاظ کا ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ مختلف مترجمین کے چنے ہوۓ الفاظ فرق فرق ہو سکتے ہیں، مگر خلوصِ نیت سے کۓ گۓ تراجم کا مطلب اور پیغام ایک ہی رہتا ہے، وہ نہیں بدلتا۔

اِس وقت پاکستان میں بائبل مقدّس کے دو تراجم رائج ہیں: کیتھولک ترجمہ اور پروٹسٹنٹ ترجمہ۔ لیکن اِس کتاب میں پروٹسٹنٹ ترجمہ استعمال کیا گیا ہے۔  ہم اِن دونوں تراجم میں سے ایک آیت مثال کے طور پر  پیش کرتے ہیں (متی ٦: ١٦):

پروٹسٹنٹ اُردو ترجمہ یوں ہے:

” اور جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی طرح اپنی صورت اُداس نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے۔ “

کیتھولک اُردو ترجمہ یوں ہے: 

” اور جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی مانند اپنا چہرہ اُداس نہ بناؤ کیونکہ وہ منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُنہیں روزہ دار جانیں۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر  پا چکے۔ “

اگرچہ الفاظ میں معمولی سا اختلاف ہے، مگر مطلب ایک ہی ہے۔

خدا بہت بڑا ہے

لوگ عام طور سے الزام لگاتے ہیں کہ انسانوں نے خدا کے تحریری کلام میں رد و بدل کر ڈالا ہے۔ لیکن حسن اتفاق ہے کہ اِس الزام کی زبردست تردید دنیا بھر کی مساجد سے سارا دن بآوازِ بلند سنائ جاتی ہے۔ مَیں نے آج صبح بھی یہ تردید سنی:

اللہ اکبر!     اللہ اکبر!

خدا بہت بڑا ہے!   خدا بہت بڑا ہے!

بے شک، خدا بہت بڑا ہے۔ خدا انسان سے اور زمانے (وقت) کے نہایت لمبے لمبے اَدوار سے بھی بہت بڑا ہے۔ ساری قوموں کی برکت اور فیض کے لۓ اور خود اپنے نام کی ساکھ کی خاطر سچے اور زندہ خدا نے ہر پشت اور ہر دَور میں اپنے کلام کو محفوظ رکھا ہے۔

خدا اِس دنیا کا نہ صرف خالق اور سنبھالنے والا ہے، بلکہ اپنے کلام کا بانی اور محافظ بھی ہے

” اے خداوند! تیرا کلام آسمان پر ابد تک قائم ہے “ (زبور ١١٩ :٨٩ )۔

بے شمار رکاوٹیں

اِس موقع پر یہ سوچنا اچھا ہو گا کہ  جتنے لوگ اِس سفر کی تیاری کر رہے ہیں اُن سب نے اُن ساری رکاوٹوں پر قابو پا لیا ہے جو اُنہیں خدا کا کلام سننے سے روکتی ہیں۔ مگر تجربہ اِس کے برعکس ظاہر کرتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لۓ کوئ نئ سے نئ رکاوٹ حائل ہوتی ہے کہ سچائ کی راہ پر نہ چل سکیں۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران کئ کتابیں شائع ہوئ ہیں اور فلمیں بنائ گئ ہیں جن کا سوچا سمجھا مقصد بائبل مقدس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ بعض معترضین اور تنقید نگار ” متبادل اناجیل “ کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو بائبل مقدس کی تردید کرتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ اِس قسم کی ساری ” اناجیل “ مسیحِ موعود کی زمینی زندگی کے بہت عرصہ بعد لکھی گئ تھیں اور تاریخ اِن کی توثیق و تصدیق نہیں کرتی۔

حال ہی میں مجھے یہ ای میل موصول ہوئ: /p>

ای میل

آپ کی طرف سے جواب ملے، شکریہ۔ مجھے یاد آتا ہے کہ کسی جگہ خدا نے کہا ہے کہ ” ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں۔' مَیں ہمیشہ سوچتا اور حیران ہوتا ہوں کہ 'ہم' کس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیا بائبل کے مختلف تراجم موجود نہیں؟ کون سا ترجمہ بالکل صحیح ہے؟ کیا بہت سے مذاہب نہیں ہیں؟ اگر یہ مذاہب نہ ہوتے تو کیا جڑواں مینار ( Twin Towers ) موجود ہوتے؟ کیا مسیحیت بہت سی اموات کی ذمہ دار نہیں ہے؟ اور آپ کو اپنے ایمان اور عقیدے کے بارے میں یقین کیوں ہے؟ کیوں، کیوں، کیوں، کیوں؟ ہم کسی بھی فرضی کہانی پر اعتراض کر سکتے ہیں، بلکہ اعتراضات کی بھرمار کر سکتے ہیں اور جوابات گھڑ سکتے ہیں۔ جیسا کہ بہت سے مبلغین کرتے ہیں تاکہ اُنہیں پیسہ ملتا رہے۔ اور خدا کو کس نے خلق کیا تھا؟ مَیں بھول گیا ہوں __ آپ کا شکریہ۔ “

خدا کی کتاب اِس آدمی کے سوالوں کے جواب مہیا کرتی ہے۔ تاہم جو لوگ قبر میں اُترنے سے پہلے ازل و ابدی سچائ کو دریافت کرنا چاہتے ہیں اُنہیں چاہۓ کہ انسان کی اِس کیوں، کیوں سے توجہ ہٹا کر خدا کے کلام پر، خدا کی باتوں پر غور کریں۔

لوگ کیوں بائبل پر غور نہیں کرتے

بائبل مقدس بیان کرتی ہے کہ لوگ خدا کی سچائ کو کیوں رد کر دیتے ہیں۔

ہم تین وجواہات بیان کرتے ہیں۔

١۔ دل کا بگاڑ

بعض لوگ پاک نوشتوں پر کبھی غور نہیں کرتے۔ اِس کی سیدھی سادی

وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق اور مالک کو جاننا نہیں چاہتے۔

انسانی دل (گوشت پوست کا لوتھڑا نہیں جو دورانِ خون کو جاری رکھتا ہے بلکہ کنٹرول کا باطنی مرکز ہے) کا جائزہ لیتے اور تشخیص کرتے ہوۓ پاک کلام کہتا ہے:

” وہ بگڑ گۓ ۔۔۔ خداوند نے آسمان پر سے بنی آدم پر نگاہ کی تاکہ دیکھے کہ کوئ دانش مند، کوئ خدا کا طالب ہے یا نہیں۔ وہ سب کے سب گمراہ ہوۓ “ (زبور ١٤ : ١۔ ٣)۔

لوگوں کے بائبل مقدس کو رد کرنے کا اِس کے محرف ہونے سے کوئ تعلق نہیں۔ اصل وجہ ہے ” بگڑے ہوۓ اور گمراہ دل۔ “

سلیمان بادشاہ لکھتا ہے ” خدا نے انسان کو راست بنایا پر اُنہوں نے بہت سی بندشیں تجویز کیں “ (واعظ ٧ : ٢٩ )۔

ہمارا طبعی رجحان اور فطری میلان یہی ہے کہ ہم اپنی روشیں خود متعین کریں۔ اپنے لۓ سب کچھ خود تجویز کریں اور اپنے آباو اجداد کے مذہب پر چلیں اور مر جائیں۔ فی الحقیقت ہم خدا کو نہ جاننے کے لئے دلیلیں اور اسباب تلاش کرتے ہیں۔ پاک کلام میں سے گزرنے کا سفر شروع کرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد ہمیں معلوم ہو جاۓ گا کہ ہم کیوں ایسے ہیں۔ فی الحال اِتنا ہی جان لیں اور یاد رکھیں کہ معقول وجہ ہے کہ پاک کلام بار بار آگاہ کرتا ہے کہ ” جس کے کان ہوں وہ سن لے “ (متی ١٣ : ٩ __ مزید دیکھیں متی ١١: ١٥ ؛ ١٣ : ٤٣ ؛ مرقس ٤ : ٩ ، ٤٣ ؛ ٧: ١٦ ؛ لوقا ٨ : ٨ ؛ ١٤ : ٣٥ ؛ مکاشفہ ٢ : ٧ ، ١١ ، ٢٩ ؛ ٣: ٦، ١٣ ، ٢٢ ، ١٣ : ٩)۔

٢۔ فکریں اور دولت

بعض لوگ خدا کی کتاب کا مطالعہ اِس لۓ نہیں کرتے کہ اُن کی ساری

توجہ اِس موجودہ جہان پر لگی رہتی ہے۔ ” دنیا کی فکر اور دولت کا فریب اُس کلام کو دبا دیتا ہے “ (متی ١٣ : ٢٢)۔

یسوع ناصری نے ایک دولت مند آدمی کی تمثیل سنائ۔ اُس نے ساری زندگی نبیوں کے صحیفوں پر کوئ دھیان نہ دیا۔ شاید وہ بھی اپنے ضمیر کو تسلی دینے کے لۓ کہتا تھا کہ یہ نوشتے قابلِ اعتبار نہیں۔ کچھ بھی ہو، آخرکار وہ آدمی مر گیا اور دوزخ میں پہنچا۔ زندہ انسانوں کی آگاہی کے لۓ اور اُنہیں خبردار کرنے کی خاطر خدا نے اُس آدمی کو موقع دیا کہ ابرہام نبی سے جو جنت میں ہیں گفتگو کر لے۔ اُس دولت مند آدمی نے ایک بوند پانی مانگا تاکہ اپنی زبان تر کر  سکے، لیکن اُسے وہ بھی نہ ملا۔ اُس نے جان لیا کہ میرے لۓ ابد تک کوئ اُمید نہیں تو اُس نے ابرہام سے کہا کہ دنیا میں میرے پانچ بھائ باقی ہیں اور درخواست کی کہ مُردوں میں سے کسی کو اُن کے پاس بھیج کہ اُنہیں خبردار کرے تاکہ ” ایسا نہ ہو کہ وہ بھی اِس عذاب کی جگہ میں آئیں۔ “

ابرہام کا جواب بالکل صاف تھا:

 اُن کے پاس موسی' اور انبیا (کے صحیفے) تو ہیں۔ اُن کی سنیں۔ ” اُس نے کہا، “ نہیں اے باپ ابرہام! ہاں اگر کوئ مُردوں میں سے اُن کے پاس جاۓ تو وہ توبہ کریں گے۔ “ اُس نے اُس سے کہا ” جب وہ موسی' اور نبیوں ہی کی نہیں سنتے تو اگر مُردوں میں سے کوئ جی اُٹھے تو اُس کی بھی نہ مانیں گے “ (لوقا ١٦ : ١٩ _٣١)۔

خدا نے واضح طور سے بتا دیا ہے کہ میرا تحریری کلام معجزوں، نشانوں، عجائب سے بڑھ کر میری سچائ کی تصدیق کرتا اور قائل کرتا ہے۔ خدا نے اپنے نبیوں کے صحیفے ہمیں عطا کۓ اور اُنہیں محفوظ رکھا ہے۔ وہ چاہتا  اور توقع کرتا ہے کہ ہم ” اُن کی سنیں۔ “

٣۔ انسانوں کا خوف

بعض لوگ بائبل مقدس کا مطالعہ نہیں کرتے کیونکہ وہ دوسرے لوگوں کے رد عمل اور باتوں سے ڈرتے ہیں۔

ایک دفعہ میرے ایک پڑوسی نے مجھے بتایا، ” اگر مجھے خاندان والوں کا ڈر نہ ہوتا تو مَیں ضرور بائبل پڑھتا۔ مجھے تو بائبل مقدس بتاتی ہے کہ “ انسان کا ڈر پھندا ہے، لیکن جو کوئ خداوند پر  توکل کرتا ہے محفوظ رہے گا “ (اَمثال ٢٩ :٢٥)۔

آپ کا کیا حال ہے؟ کیا آپ بھی ڈرتے ہیں کہ خاندان کے افراد اور یار دوست کیا کہیں گے؟ یا اگر اُنہوں نے آپ کو اُن نبیوں کے نوشتے پڑھتے ہوۓ دیکھ لیا جن کی خود تعظیم کرنے کا دعوی' کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟

ہرگز نہ ڈریں کیونکہ ” جو کوئ خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہے گا۔ “

خدا کے نقطہ نظر سے کوئ معقول وجہ  نہیں کہ اُس کے پیغام کو نظرانداز کیا جاۓ۔