December 2016

Woman and Pigeons in Istanbul

بیش قیمت لہُو

کیدارناتھ

Precious blood


Published in Nur-i-Afshan November 29, 1895
By
Kidarnath


۱۔ پطرس ۱: ۱۸

کیونکہ  تم یہ جانتے ہوکہ وہ خلاصی  جو تم نے پائی  اُن  بیہودہ دستوروں سے جو تمہارے  باپ داداوں کی طرف  سے چلے آئے تھے سو فانی  چیزوں  یعنے سونے روپے  کے سبب نہیں بلکہ مسیح کے بیش قیمت لہوُ  کے سبب سے ہوئی۔ اس آیت میں روح القدس سے الہام   پاکے  ہمارے خداوند یسوع مسیح  کا ( جو سب کا خدا ہمیشہ مبارک ہے آمین) عسول  پطرس  حواری  ہمارے سامنے دو چیزیں رکھدیتا ہے تاکہ  ہم  بڑے غور و فکر سے اُن  کی قیمت دریافت  کریں اور اپنے لئے اُس سے  ممتدبہ فائدہ حاصل کریں۔

پہلی چیز وہ ہے جو دہات سے علاقہ رکھتی ہے جہانتک  مجھکو معلوم ہے دہات  میں زیل چیزیں سب شامل ہیں۔ پوہا۔ سیسہ۔ تانبا۔ چاندی۔ پارہ ۔ سونا ۔ وغیرہ۔

اِن اشیاء کی قیمت  انسانوں نے اُنکی کثرت  اور قلت اور حسب ضرورت ٹھہرائی ہے۔ خدا کی طرف کوئی فہرست ان کی قیمت کی موصول نہیں ہوئی۔

دیکھئے لوہا بکثرت زمین سے نکلتا ہے اور  ہر ایک کام میں اُس کی خاص ضرورت  ہوتی ہے۔ پس اُس کی قیمت بھی  بہت کم ہے کم سے کم    تلے رفی سن اس کی قیمت ہے۔

تانبا بہ نسبت چاندی کے زیادہ دستیاب ہوتا ہےاور چاندی بہ نسبت سونے کے لہذا ان کی قیمت بھی اسی حیثیت سے ٹھہرائی گئی ہے۔

اِبتدا میں خرید و فروخت دادوستد میں پڑی  دقت تھی ایک چیز دوسری  چیز  کے معاوضہ میں مل سکتی تھی مثلاً بڑھی اگر گیہوں خریدنا چاہے تو اب کے حساب  سے ۱۲  سبر گیہوں کے واسطے  ایک روپیہ  کی قیمت کی چار پائی  کے عوض  میں لے سکتا  علیٰ ہذا القیاس۔

جیوں جیوں دنُیا بڑھی عقل بھی زیادہ ہوتی گئی  داناؤں نے رفتہ رفتہ سکہ  کا خیال پیدا کیا۔

معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں تانبے اور چاندی اور سونے کے سکہ بہت بھاری ٹکڑوںسے بنائے جاتے تھے جیسا کی نوابی پیسوں اور قدیم قدیم بعض روپیوں سےمعلوم ہوتا ہے لیکن جب عقل اور بڑھی تب اس میں خوبصورتی پیدا ہو گئی  یہاں تک کہ اگر قدیمی  روپیہ دس گوٹ میں رکھنا مشکل تھا تو اب پچاس روپیہ بسہولیت  تمام رکھے جاتے ہیں۔

اس کی قیمت بھی مختلف  ولایتوں میں مختلف  طور سے مقرر ہوئی مثلاً  آج کل  جو روپیہ  ہندوستان میں جاری ہے۔ اُس کی قیمت  ۱۶ آنہ  ہے مگر امریکہ  کا روپیہ  ہمارے تین روپیہ کے بر ابر ہے۔ اور  ہندوستانی میں دوپہر  کے بادشاہ  نظام سقہ کے چمڑے  کے سکہ اور گورنمنٹ کے جاری کے ہوئے نوٹ  مختلف  اقسام ہمارے اس خیال کو اور بھی زیادہ بڑھا دیتے  ہیں کہ ہر چیز کی قیمت  ہمارے ہی خیال پر موقوف ہے۔  

اب ہم اُس سونے روپے کے فائدہ پر غور کریں گے۔  اس سے بہت  فائدہ  ہے لین دین میں بڑی آسانی  ہے قسمقسم کے زیور اس سے طیار ہو سکتے ہیں جس سے ہماری  ہندوستانی  مستورات اپنے ظاہری حسن پر ایک قسم کا ملمع کر سکتی ہیں اس کی بدولت لکھ پتی  کروڑ پتی  بیٹھ سا ہوکار بن جاتے ہی ہر ایک چیز کی بدولت دیتیاب ہو سکتی ہے انسان اس دنیا میں روپے کی بدولت جو چاہے کر سکتا ہے بعض نے تو اُسکو بہت  سر چڑا لیا جیسا ایک فارسی والا کہتا ہے      

؎      اے زر  تو خدا نہ ؤ  لیکن بخدا  ستار عیوب و قاضی  الحاجاتی اور اُردو میں ایک صرب  المثل ہےکہ روپیہ آسمان  پر راہ پیدا کرتا ہے۔ مگر جب انسان ۹۹ کے پھیر میں پڑ جاتا ہے  تو اسی روپے  کی بدولت  روتوں کو نیند نہیں آتی چو رگھر گھیرے  رہتے ہیں معصوم بچّے اسی کی بدولت  آئے  سال مارے جاتے ہیں بہتیری  جانیں اس دولت  کی  بدولت   ڈاکؤں لٹیروں کے نزر ہوتی ہیں اور اگر کسی نہ کسی صورت  سے مرتے  دم تک یہ دولت ساتھ بھی رہی تو آخر کار  بصد حسرت و یاس چھوڑنی پڑتی  ہے وارث  پہلے اس کی فکر کرتے ہیں حالت  شرع میں جب کہ ایک سانس آتی  اور وہ جاتی ہیں اُس وقت گھر کے مالک بھائی بند ماں باپ  جورو بال بچہ خزانوں کے نالوں میں کنجیاں لگاتے پھرتے  ہیں کبھی کبھی بڑے بڑے دولتمند وں کی موت کے وقت سرکاری پہرہ بھی مقرر ہوتے دیکھے گئے ہیں۔

اور اگر اس سونے روُپے سے بہت محبت بڑھ گئی یا عیاش رنڈی  بازی لونڈے بازی صرف بیجا بھی کیا تو لیجئےلینے کے دینے  پڑ گئے ادھر دنیا چھوٹی اُدھر جہنم واصل ہت تیرا بیُرا سونے کا کیسا ضیق میں ڈالا۔

پس وہ لوگ کیسے نادان ہیں جو اُس سونے روپے کی بدولت  خدا سے بہشت خریدنے  کا سودا سر  میں رکھتے ہیں۔

بھائیو جب کہ ہندوستان کا روپیہ  انگلستان میں نہین چل سکتا تو یہ آسمان کی بادشاہت میں کس طرح رواج پا سکتا ہے۔

لہذا س کی قیمت دمڑی  کے برابر بھی نہیں یہ تو محض نکمِی  چیز ہے نہ یہ ساتھ رہے نہ ساتھ جائے جیسا لکھنو کے نہایت نامی گرامی شاعر نے کہا کے۔

ناسخ۔ رہتی نہیں ایک جا یہ  تکبر۔ پھرتی ہے برنگ  نر و گھر گھر۔

اب ہم دوسری چیز یعنی مسیح کے بیش قیمت لہو کی قیمت پر غور کریں۔

خدا کا رسول پطرس ہم سے کہتا ہے کہ یہ لہو بیش قیمت  ہے جس کا مطلب  شاید کیا بلکہ یقیناً  بھی ہے کہ جو قیمت ہم اس کی لگا دیں اُس سے زیادہ ہے۔ مثلاً ہزار روپیہ  نہین کچھ اور بڑھاؤ۔  ۱۰ ہزار نہین اور بڑھاؤ کروڑ روپیہ  نہیں کچھ اور بڑھاؤ۔ ساری دنیا نہیں کچھ اور بڑھاؤ۔ کل سیاہ اور ثوابت نہین کچھ اور بڑھاؤ۔

حقیقت میں جب ایک چیز ایسی  ہے کہ جسکی بابت ہر ایک قیمت پر جو کم کہیں کچھ بڑھانا پڑے تو ضرور وہ بیش قیمت ہے۔ 

لیکن  یہ ثابت  کرتا ہے کہ مسیح کا لہو کن دلایل  سے بیش قیمت ہے اُس کے جواب میں اگرچہ بہتری دلیلیں ہمارے پاس ہیں اور سوچتے وقت خیال کا سلسلہ روکنا نہایت مشکل لمعلوم ہوتا ہے تو بھی بہ نظر  اختصار  صرف زیل کی دو دلیلیں  پیش کرنا کا فی  ہونگی۔

دلیل اول جو مسیح کی شخصیت  سے نکلتی ہے۔ خدا کےکلام واضح ہوتا ہے کہ خداوند  یسوع مسیح میں دو  ذائیں ہیں ایک زات انسانی۔ یعنی جسم اور روح اور انسانی کل اوصاف صرف گناہ کو چھوڑ کر۔ اس لئے کہ وہ گناہ سے واقف نہ تھا۔ سوال لازم آتا ہے۔ 

کہ انسان کی قیمت کیا ہے؟

ہر ایک دیدنی دوسری نادیدنی  ایک فانی دوسری غیر فانی  ایک مادّی دوسری غیر مادّی۔

خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ انسان اگر ساری دنیا کو حاصل کرے اور اپنی جان کو کھودے تو اُسے کیا فائدہ کیونکہ وہ اپنی جان کے بدلے  میں کیا دیگا۔ یہاں خداوند یسوع مسیح  ہمکو یہ بتلاتا ہے کہ جان کھو دینے  پر بھی ساری دنیا حاصل کرنے میں ٹوٹا ہے تو وہی چیز جو ٹوٹے کا سبب ہے جان کاکافی معاوضہ نہیں ہو سکتی۔

پس خود  ہماری جان کی قیمت اس دنیا کی ساری چیزوں سے بدر جہاز بڑھکر ہے۔ 

لیکن تو بھی ایک انسان جان کی قیمت دوسرا کی جان کے  بر ابر ہے اس میں  بچّہ بر ابر ہے جوان کے اور جوان برابر ہے بوڑھے کے اور نہ  اس میں تذکیر و  تانیث کا کوئی فرق ہے پھرؔ باوجود اس کے ہماری انسانیت میں گناہ کی  پچرّ لگی رہی ہے۔  یعنے ہر ایک انسان گنہگار ہے کوئی نیکوکار  نہیں ایک بھی نہیں پس اس دلیل سے بھی مسیح کی انسانیت ہماری انسانیت سے بڑھ جاتی ہے چونکہ ہم نئ دعویٰ کیا کہ مسیح خداوند  کی شخصی  دلیل اُس کے لہُو  کی قیمت کو بڑھا دیتی ہے تو اب ہم ثابت  کرتے ہیں کہ اُس میں یعنے  خداوند یسوع مسیح میں دو زاتیں کیونکر ثابت ہوتی ہیں  خدا کے کلام پر بغور مطالعہ کرنیسے  یہ طاہر ہوتا ہے کہ مسیح کی الہیٰ ذات بیان کرتے ہوئے کبھی کبھی انسانی ذات کا بیان کرتے ہوئے کبھی کبھی الہیٰ صفات یا کام مسیح سے متعلق ہوتے  ہیں دیکھئے اعمال ۲۰: ۲۸ پس اپنی اور اُس سارے  گلے کی خبر داری کرو جس پر روح قدس نے تمہیں نگہبان ٹھہرا کر خدا کی کلیسیا  جسے اُس نے اپنے  ہی  لہُو سے مول کیا چراؤ۔

یہاں خدا کے حق میں خون کا لفظ  استعمال کیا گیا پر ہم جانتے ہیں کہ خدا     روح  کو جسم یا ہڈی نہیں تب خون کہاں سے آیا لیکن یہ کہ یہ لفظ ایک ایسے کے حق میں مستعمل  ہوا جو در حقیقت انسان ہے جس  کو ہمارے ہاتھوں نے چھوُا اور آنکھوں نے دیکھا۔ پھر

ا قرنتی ۲: ۸  جسے اس جہان کے سرداروں میں کسی نے نہ جانا کیونکہ اگر جانتے تو جلال  کے خداوند  کو مصلوب  نکرتے۔ اس آیت میں پولوس رسول خدا سے الہام پا کے خداوند کے حق میں مصلوب کرنے کا لفظ استعمال کرتا ہے جو بالکل غیر ممکن اور خلاف عقل  ہے بھلا کوئی خدا کو مصلوب کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ہے وہ جو مصلوب ہوا الہیٰ شخص ہے۔

پھر ملاحظہ فرمائے یوحنا ۳: ۱۳ اور کوئی آسمان پر نہیں کیا سوا اُس شخص کے جو آسمان پر سے اُترا یعنی ابن آدم جو آسمان پر ہے یا د رکھنا چاہئے کہ اگر مینے غلطی نکی ہو تو ہمارے نجات دہندہ نے جو ازل سے بنی آدم کا خیر خواہ  اُن کا  مہربان دوست ہے اپنے آپکو ۶۰ مرتبہ اس نام سے ظاہر  کیا بلکہ جب اپنے شاگردوں پر یہ بھید طاہر  کرنا چاہتا تھا کہ اصل حقیقت  اُس کی کیا ہے یعنے کہ وہ خدا کا بیٹا ہو کر خدا کے برابر اور اُس کی زات میں شریک ہے اُس وقت اُس نے نام کے ساتھ اس طرح اُن سے سوال کیا کہ لوگ کہا کہتے ہیں کہ میں جو ابن آدم  ہوں  کون ہوں متی ۱۶: ۱۳ مرقس ۸: ۲۷ لوقا ۹: ۱۸۔

غرض اس سے خداوند کی یہی معلوم ہوتی ہےکہ انسان مشکل سے اس امر پر یقین کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ جو لا محدود ہے۔ کس طرح انسان بن سکتا ہے اور پولوس رسول اس کی دینداری کا بھید بتلاتا ہے دیکھو۔ ا۔تمطاؤس  ۳: ۱۶ اور بلاتفاق دینداری  کا بھید بڑا ہے  یعنے خدا ( یا وہ) جسم میں ظاہر کیا گیا۔ 

اور اُس نے چاہا کہ وہ اس خیال کو کہ خداوند  یسوع مسیح جو زات واحد الہیت دوسرا اقنوم ہے بحیثیت خداوند ی انسانی جسم میں ظاہر ہوا اور وہ فضل و راستی سے بھرپور ہو کے ہمارے درمیان رہا۔ یوحنا ۱: ۱۴۔

اپنے شاگردوں کے الواح دل پر  کا لنقش فی الحجر کر دے۔  اور اُسی کے ساتھ اُس نے یہ بھی بتا دی ا کہ کس طرح سے کمزور نادان انسان اس امر پر یقین کر سکتا ہے چنانچہ جب  شمعون پطرس نے جواب میں کہا تو مسیح زندہ خدا کا بیٹا ہے متی ۱۶: ۱۶ یسوع نے جواب میں اُسے کہا اے شمعون بریونس مبارک تو کیونکہ جسم اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان  پر ہے تجھ  پر یہ ظاہر کیا  متی ۱۶: ۱۷ یعنے یہ کہ خدا آپ ہی انسان کے دل میں یہ کام کرتا ہے۔  ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ

اب انصاف سے ملاحظہ فرمائے کہ کوئی شخص جو محض ابن آدم ہو کیونکر  ای ہی وقت میں دو مختلف مقامات میں موجود ہو سکتا ہے دیکھئے جبکہ ابن آدم یہودیوں سے یہ کلام کر رہا تھا وہاں موجود تھا اور اْسی لمحہ آسمان پر بھی یہاں تو کسی منکر الوہیت  مسیح کی کوئی تاویل بھی پیش نہین جا سکتی ہے پس معلوم ہوا کہ وہ جو ابن آدم یعنے انسان ہو کے خدائی صفت  رکھتا ہے یعنے  ایک  ہی وقت میں دو مختلف  مقاموں پر موجود ہے وہ الہیٰ شخص ہے۔ پھر دیکھو یوحنا ۶: ۶۲ پس اگر تم ابن آدم کو اوپر جاتے جہاں وہ آگے تھا دیکھو تو کیا ہوگا۔

اِس آیت میں بھی خدا کا کلام مسیح کی انسانیت کے زکر میں اُس کی الہی صفت کا بیان کرتا ہے کیونکہ انسان اپنے پیدا  ہونےسے پہلے کہیں نہیں ہو سکتا ہے پس وہ جو آگے ہے سو خدا ہے لیکن ہمارے خداوند کا یہ کلام اُس حالت میں تھا  جبکہ وہ انسانی وجود میں اسی پروہ زمین پر موجود تھا اب اس حالت میں  خیر اُس کے الہیٰ شخص ہونے کے اور کوئی تفسیراس کلام کی نہیں ہوسکتی۔

دلیل دوم

جو انبیا اور بزرگوں کی شہادت سے نکلتی ہے۔   

ہمارے خداوند یسوع المسیح نے ریا کار فقیہوں اور فریسیوں پر افسوس کرتے ہوئے اپنی زبان معدلت بیان انصاف  ترجمان  سے یوں فرمایا دیکھو انجیل متی۲۳ : ۲۶ اے ریا کار فقیہوں اور فریسیوں  تم پر افسوس  کیونکہ نبیونکی قبریں  بناتے اور راستبازوں  کی گوریں سنوارتے  ہو اور کہتے اگر ہم اپنے باپ دادوں کے دنوں میں ہوتے  اور کہتے اگر ہم اپنے باپ دادوں کے دنوں میںہوتے تو نبیوں کے خون میں اُن کے شریک نہ ہوتے اسی طرح تم اپنے پر گواہی دیتے ہو کہ تم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہو پس اپنے باپ دادوں کا پیمانہ بھرو۔ اے سانپو اور اے  سانپ کے بچو تم جہنم کے عذاب سے کیونکر بھوگو گے اس لئے دیکھو میں نبیوں اور داناؤں  اور فقیہوں کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں تم اُن میں سے بعضوں کو قتل کرو گے اور صلیب پر کھینچو گے اور بعضوں  کو اپنے  عبادت خانوں میں کوڑے مارو گے۔  اور شہر نشہر ستاؤ گے تاکہ  سب راستبازوں  کا خون جو زمین پر  بہایا گیا  تم پر آوے۔ ہابل  راستباز  کے خون سے برخیاہ کت بیٹے زکریاہ  کے خون تک جسے تم نے  ہیکل اور قربانگاہ  کے درمیان  قتل کیا ۔ متی ۲۳: ۳۵ ؞

اور اس خونریزی انبیا کا سبب استفنس شہید اپنے درس میں یہ بتلاتا ہے دیکھو اعمال ۷: ۵۱۔ ۵۲۔

اے سر کشو اور دل اور کان کے نامختونو تم ہر وقت روح القدس کا سامنا کرتے ہو جیسے تمھارے باپ دادے تھے ویسے ہی تم بھی ہو۔ نبیوں میں سے کسی کو تمھارے باپ دادوں نے نہ ستایا ہاں اُنہوں نے اُس راستباز کے آنیکے خبر دینیوالوں کو قتل کیا جس کے اب تم  پکڑنیوالے اور خونی ہوئے۔ 

یعنے اگلے انبیا کے قتل کا سبب یہ تھا کہ وہ خداوند  یسوع مسیح کے کفارہ اور اُس کے خون بہائے جانے کی خبر دیتے تھے۔

چنانچہ ہابل راستباز صرف اسی خطا پر اپنے برادر کش بھائی قائن کے ہاتھ سے مقتول ہوا کہ وہ اپنی پلوٹھی اور موٹی بھیڑ بکریوں میں سے لایا۔ اور برّہ کا خون بہا کر اسبات پر گواہی  دی کہ خدا کا برّہ ہر ایک  گنہگار  کے واسطے اپنا کون سلیب پر بہائیگا۔ پھر نوح نے طوفان سے بچکر خداوند کے لئے  ایک مزبح بنایا اور سارے پاک چرندوں اور پاک پرندوں میں سے لے کر اُس مذبح پر سوختنی  قربانیاں چڑہائیں۔ اسبات سے نوح نے اشارہ کیا کہ میں جو اپنے خاندان  سمیت طوفانب سے بچایا گیا اُس کا سبب صرف  خداوند یسوع  المسیح  مصلوب کا کفارہ ہے اور کشتی  خود  مسیح  کی علامت ہے۔

یسعیاہ نے جو انجیلی نبی کہلاتا ہے بہت کچھ مسیح مصلوب کی مصلوبی اور اُس کے خون بہائے جانے کا زکر کیا۔

اب اس میں غور طالب امر ہے سو یہ ہے کہ جب اُس مصلوب کے کون بہائے جانیکی  خبر دینے والوں کے خون کا خون بہا یہ ہے کہ پشت  در پشت خداوند انتقام لیتا ہے یعنے اول تو  جس خاص شخص نے کسی خاص نبی کو قتل کیا اُس کے کون کا مواخذہ  دار اور  زمہ دار ہے دوم کل  آنیوالی پشتیں بھی اُسی دم میں شریک متصور ہو کر سزا یاب ہونگی۔

تب اُس شخص کے کون کی قیمت کیا ہوگی کہ جس کے سبب سے اِن کا خون ایسا قابل قدر و قیمت ٹھہرا۔ 

پس اس دوسرے اصل سے بھی ساف چابت ہو گیا کہ ضرور با لضرور خداوند یسوع مسیح کا  لہو بیش قیمت ہے۔

اب ہمدیکھیں گے کہ اس بیش قیمت لہو کے فائدہ کیاہیں۔ 

اوّل۔ وہ ایمان لانے والے کو گناہ کی سزا سے بچاتا ہے۔

دوم۔ کہ ایمانداروں  کو اس دنیا کی ساری مصیبتوں میں  غم سے چھڑاتا ہے۔

دیکھئے بنی اسرائیل ملک مصر میں کیسی سخت غلامی میں مبُتلا  تھے اور دیکھئے کہ مصریوں کے کل پہلوٹے ہلاک  و برباد ہوئے۔

مگر بنی اسرائیل کا کوئی پہلوٹا ہلاک نہوااس کا کیا سبب تھا یہ کہ اُنہوں نے خداوند کے حکم کے مطابق برّہ  کا خون اپنے دروازوں پر لگایا جو علامت تھا مسیح کا خون  کی حقیقت کا۔ 

سدرک میسکاور عبدنجو کس طرح آگ میں جلنے سے  محفوظ  رہے  اور کس نے ان کو ایسی دلیری بخشی  کہ وہ بیخوف ہو کر بادشاہی حکم کو رد کر کے آگ میں پڑنے کے سزاوار ہوں اور زرا بھی نہ گھبراویں۔ جواب یہ ہے کہ مسیح کے خون نے۔

تواریخ  کلیسیا مین بزرگوں کا ھال پرھئے کہ وہ کیسی کیسی سخت  ازیتوں میں پڑے درندوں سے پھڑوالے گئے زندہ جلوائے گئے۔ جیتے جی شکنجوں میں کھنچوائے گئے بعض پر آرے چلوائے گئے لیکن اُنہوں نے اپنی ہمتوّں کو نہ چھوڑا  فرمائے تو کہ کون اُن کو ایسا استقلال بخشتا تھا۔ جواب مسیح   کا لہو۔

ہمارے زمانہ چند روزہ عذر سن ۵۷ء میں ایمنداروں کے مصائب  اور ان کی ثابت قدمی بھی پکارتی  تھی کہ مسیح کا لہو۔ ہمیں سارے دکھوں سے بچاتا ہے۔

ایک اور ایمندار   ہزپر پنجاب نےبذریعہ  نور افشاں ہمکو اطلاع دی کہ ۱۵ ماہ  کے سیلاب غم میں مسیح  کا لہو کفایت کرتا ہے۔ س

الغرض بعد اس تمام گفتگو کے ہم  کو اس بیان سے یہ سیکھنا  چاہئے کہ مسیح کا بیش قیمت لہو ہمارے لئے بھی کافی ہے کیا خداوند  مسیح بدل گیا نہیں مسیح کل آج  اور ابدتک یکساں ہے۔

دنیا کے تمام دُکھوں اور رنج  کے سیلابوں عزیز وا قارب کی دشمنیوں میں بھی مسیح کا بیش قیمت لہوں ہمارے سہارا ہے۔ 

اے خداوند ہماری دُعا نوحیہ ہےکہ تمام عیسائی اور سچے متلاشی اپنے خیال کو ہمیشہ اپنے  میں جگہ دیں اور مسیح کے بیش قیمت لہو سے ہمیشہ سہارا پا کر اُس کی خدمت میں آگے  کو بڑھتے رہیں۔ آمین    

Ceiling of Blue Mosque in Istanbul

تثلیث  کا ثبوت

غلام مسیح

Proof of Trinity


Published in Nur-i-Afshan April 24, 1895
By
Gulam Masih


ناظرین با انصاف آپ خیال کریں گے۔ کہ یہ کیسی سرخی ہے۔ اور کہ اس کا ثبوت  کیا ہے؟  اور ساتھ  ہی خیلا کریں گے کہ یہ کون سا عالم اجل آج پیدا ہو گیا؟  اور کہاں سے یہ چھپا رستم  نکل آیا؟ جسنے اس لاحل مشکل کے حل کرنے کا بیرا اُٹھایا۔ اور اس عقیدہ لاحل کے کھولنے پر کمر باندہ بیٹھا۔

میرا کچھ قصور نہیں۔ معاف فرمائیں زرا غور سے نظر انصاف  کریں کہ اس سوال کا جواب آتا ہے یا نہیں۔

یہ سوال مجھ غلام مسیح پر قصبہ شاہ آباد مسلمانوں کی طرف سے کیا گیا۔  اور بحث کی ٹھہری۔ جب آٹھویں تاریخ ماہ حال کو تمام شہر کے لوگ اکھٹے ہوئے۔ تو ایک مسلمان نے مجھ پر  یہ سوال کیا۔ کہ ثابت  کرو کہ تثلیث درست تعلیم ہے اور بائبل  میں  بھی اس کا ثبوت ہے؟

تب بندے نے چند آیات  یوحنا کی انجیل سے نقل کیں وہ یہ ہیں۔ یوحنا ۱: ۱، ۱: ۱۴،  ۴: ۲۴، ۱۷: ۵۔

یہ ثبوت دیکر ساتھ ہی میں نے یہ دعویٰ کیا۔ کہ چونکہ یہ تعلیم ایک ایسی کتاب  کی ہے۔ جو دعویٰ الہام رکھتی ہے۔ اور یہ  تعلیم اس میں پائی جاتی ہے۔ سو آپ مہربانی سے اس کتاب کو غیر الہامی ثابت کرو۔ تو یہ تعلیم خود بخود غلط ہو جائیگی؟ اور ساتھ ہییہ بھی بتلاؤکہ وہ کونسے اصول عام میںجنکی رو سے ہم اس کتاب کو یا کسی اور کتاب کو الہامی قرار دیویں۔  اور اس کے غیر کو غیر الہامی؟

دوسرا جواب  ہماری طرف سےیہی تھا۔ کہ اگر تثلیث کی تعلیم  درست نہیں ہے۔ تو   وحدانیت  کی تعلیم درست ہو گی؟ لہذا ہمکو وحدانیت کی تعلیم درست کر کے دکھلاؤ؟

سوال ۱: خدا کااسم ذات  کیا  ہے؟ اور خدا کیا ہے؟

سوال۲: چونکہ  آپ خدا کو واحد قرار  دیتے ہیں۔ تو آپ  پر فرض ہے کہ ہمیں دکھلاؤ کہ واحد کو واحد کیوں کر کہتے ہیں؟

الف ۔ جنسیت کی وجہ سے یا  ( ب) عدہیت کی وجہ سے یا ( د) نوعیت کی خیال سے۔

سوال۳: چونکہ آپ خدا کو روح  نہیں مانتے۔ تو بتلاؤ کہ وہ بغیر روح کیونکر زندہ ہو؟ اور کیسے ہو سکتا ہے؟ 

کیونکر زندگی روح میں ہوتی  ہے۔

پر خدا روح نہیں ہے۔

پس خدا زندہ بھی ہے۔

سوال۴؛ جبکہ خداروح نہیں ہے۔ تو اُسکو قادرِمطلق ثابت کرو۔ قدرت زندہ ہستی میں ہوتی  ہے۔ اور زندگی روح سے حاسل ہے۔ لیکن خدا روح نہیں ہے۔

پس خدا قادر مطلق نہیں ہے۔  یا بالکل قادر نہیں۔

سوال۵: جبکہ خدا روح نہیں ہے تو اُس کو عالم الغیب  ثابت کرو۔ کیونکر :ّ

علم روح ہی کو حاصل ہو سکتا ہے۔

خدا روح نہیں ہے۔

پس خدا کوئی نہیں ہے۔

سوال ۶: جبکہ واحد خدا روح نہیں ہے تو اُس کو حاضر و ناضر ثابت کرو۔

حاضر یا ناظر ہونے کی صفت زندہ ہستی میں ہوتی ہے۔ اور زندگی روح ہے۔

لیکن خدائے واحد روح نہیں۔

پس خدائے واحد نہ حاضر  ہے نہ ناظر ہے۔

یہ دو جواب لکھ کر اُن کے مکان پردے آیا۔ جب مسلمانوں نے دونوں  جواب پڑہے۔ تو مجھکو کہلا بھیجا کہ ہم تو صرف زبانی جواب دیں گے۔ تحریری نہیں۔ مینے کہا اگر تحریری جواب نہیں دینے تھے۔ تو بحث کیوں کی؟  جواب مزارو+  آجتک  تو جواب سے لاجواب ہوں۔ اُمید تو ہے کہ قافیہ تنگ ہوگیا ہوگا۔  پر شاید کوئی جواب دیوے۔ تو وقت پر وہ ہدئیہ ناظرین  ہو گا۔

اب چونکہ میرے یہ سوال اور جواب اہل عقل لی نظر سے گزریں گے۔  اس وجہ سے میں اپنی باقی سوال بھی جو توحید کی خاصکر اسلامی توحید کی تردید میں میرے پاس ہین ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ شاید کوئی سی ان کا جواب دیکر تثلیث کو غلط  ٹھہرادیوے۔

دہوہذا

سوال۷: اگر آپ کا واحد خدا روح نہیں ہے۔ تو وہ رحیم کیونکر ہوگا۔ کیونکہ صفتِ رحم کسی زندہ ہستی  سے علاقہ رکھتی ہے۔ 

اور زندگی روح ہونے پر مبنی ہے۔

پر آپ کا واحد خدا روح سے خالی ہے۔

پس وہ رحم سے بھی بالکل خالی ہے۔ کیونکہ وہ زندہ نہیں ہے۔

سوال۸: جبکہ آپ کا واحد روح سے خالی ہے تو وہ عادل  کیونکر  ہوگا؟ کیونکہ صفت عدل کسی زندہ ہستی کو اپنا  موصوف بنائے گی۔ جو زندہ ہستی ہو گی وہ ضرور روح ہوگی؟  

لیکن آپ کا واحد خدا روح  نہیں ہے۔  پس آپ کا واحد عادل نہیں ہے۔کیونکہ وہ زندہ نہیں ہے۔

سوال ۹: جبکہ آپ کا واحد خدا روح نہیں ہے۔ تو وہ پاک کیونکر ہو گا۔ کیونکہ صفت پاکیزگی کسی کی زندگی کی صفت ہے  زندگی صرف روح ہی سے بحال ہے۔

پر آپ کا واحد خدا  روح نہیں ہے۔ پس وہ پاک بھی نہیں ہے۔ کیونکہ صفت پاکیزگی  زندگی کی ہے۔

سوال۱۰: جبکہ آپ کا واحد خدا روح نہیں ہے۔ تو وہ متکلم  کیونکر ہوگا؟ کیونکر کلام کرنا زندگی کا ثبوت ہے۔ اور زندگی روح کا ثبوت ہے۔

پر خدا روح نہیں ہے۔ پس  آپ کا واحد خدا متکلم بھی نہیں ہے؟

سوال۱۱: جبکہ آپ کا واحد خدا روح نہیں ہے۔ اور کلام بھی نہیں  کر سکتا ہے۔  تو قرآن شریف کو کلام خدا ُ ثابت  کرو+ کیونکہ کلام کرنا صفت زندگی کی ہے۔ اور زندگی خاص روح ہے۔ اور روح میں امتیاز امرو نہی کا ہوتا ہے۔ اور قرآن شریف   امرونہی ہے۔

لیکن آپ کا واحد خدا کلام نہیں کر سکتاہے۔ کیونکہ وہ  روح نہیں ہے۔ اور بغیر روح اُس میں امتیاز نہیں ہے۔

پس قرآن شریف کلام خدا نہیں ہے۔ کیونکہ وہ کلام نہیں کرتا۔ اور کلام بغیر روح اور زندگی محال ہے۔

سوال ۱۲: آپ اپنے واحد خدا کو خالق ثابت کرو۔ کیونکہ خلق کرنا قدرت سے علاقہ رکھتا ہے۔ اور قدرت  زندگی  میں ہے۔ اور زندگی روح ہے۔

لیکن آپ کا واحد خدا خالق بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں قدرت نہیں ہے ۔ اور زندگی بھی نہیں ہے۔

اب کوئی اسلامی توحید ماننے والا ہمکو بتائے۔ کہ اِن صاحبان نے کس ہستی کا نام خدا رکھ چھوڑا ہے؟ کیا محض  عام کا نام نہیں؟ جس کی مثل کوئی شے کسی حالت میں ہو نہیں سکتی؟ کیونکہ دنیا میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ محض عدم کے خلاف  ہست ہے۔ پھر محض عدم کی مثل کون ہو؟ وہی جو محض عدم ہو۔ ہست کا کوئی جزو نیستی سے کچھ مشابہت نہیں رکھتا؟

پس وہ آپ کا واحد خدا  جو بیثل ہے۔صرف محض عدم نکلا؟ پھر آپ ہمکو جو زندہ خدا کے قاتل ہیں کیونکر عدم کی طرف رجوع دلاتے ہیں؟

پیشتر اپنے واحد خدا کو زندہ واحد خدا چابت کر کے دکھلاؤ تب ہم تثلیث  کو بھی چھوڑیں گے۔  یہ بھی تب تک نہیں جبتک  بائبل  کو غیر الہامی اصول عامہ سے نہ دکھلاویں؟ ورنہ اپنا منُہ ہمیشہ کےلئے ہمارے سامنے مت کھولو۔ کچھ ضرورت نہیں؟

میرا یہ جواب دیکھکر مسلمان دم  بخود  ہو بیٹھے ۔ اب میرے جواب پر نہ تو اعتراض  کرتے ہیں۔ نہ میرے سوالوں کا جواب دیتے ہیں ناحق مجھے منادی نہیں کرنے دینے ہیں۔اور سارا شہر مجھے نکالنے  کی فکر کر رہا ہے۔ جدھر جاتا ہوں شور و غل مچاتے ہیں۔ اور کچھ پیش نہیں جاتی ہے۔

منادی تو بالکل بند ہونے پر ہے۔ کیونکہ جدھرمیں جاتا ہوں۔ دس پندرہ آدمی پیچھے ہو لیتے ہیں کلام کرنے نہیں دیتے۔ جہاں پر میں کھڑا  ہو کر منادی کرتا ہوں۔ وہیں لوگ  کھڑے ہو کر  کرافات بکتے رہتے ہیں۔

ان کا کلام یہی ہے۔ تو نکل جا۔ اور تجھے  نکالکر چھوڑنا ہی اب آپ خیال کریں۔ کہ جھوٹوں کا علاج کیا ہے۔  حکام سے اُمید ہے۔ کہ وہ ہمارے خدا کی ہان زندہ خدا کے جلال ظاہر کرنے کے لئے ہمارے ساتھ ہمدرد ہو کر انتظام کریں گے ورنہ میں تو بے کار گھر  میں دن کاٹتا ہوں۔ کام بالکل بند ہونے پر ہے۔

تثلیث کا تیسرا ثبوت

ناظرین ہم نے اپنے پہلے بیان میں چابت کر دیا کہ تثلیث کی تعلیم  سچّی  تعلیم  ہے کیونکہ وہ خدا کے کلام میں پائی  جاتی ہے۔ اور خدا کا کلام  الہامی اور سچاّ کلام  ہے پس تثلیث کی تعلیم  الہامی اور سچی تعلیم ہے۔

اس کے علاوہ ہم نئ ایک  دوسری دلیل سے چابت کیا  کہ صرف تثلیث ہی کی تعلیم سے ہمکو خدا کی وحدانیت کا ثبوت   ملتا ہے۔ورنہ نہیں۔ اس کے ثبوت میں ہم نے  چند اعتراض صرف  محمدی وحدانیت  پر اسی غرض سے کئے ۔ تاکہ ہم پر ظاہر ہو۔  کہ آیا وحدانیت  ثابت ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ۔ تو تثلیث خود بخود ثابت ہے۔ اگر ہے تو اس کا ثبوت کیا؟  لیکن وحدانیت کا ثبوت کوئی محمدی نہ دے سکیگا؟ اس وجہ سے تثلیث کا ثبوت ہمارے اُنہیں دو دلایل سے قایم رہے گا۔

اب چونکہ ان لوگوں کو خدا  کا روح  ہونا اور اُس کا ماننا نہایت دشوار امر ہے۔ لہذا ان کو خدا کے ہونے کا ثبوت دینا دشوار امر ہے۔ جبتک وے خدا کو روح نہ مان لیں۔ تب تک وے لاجواب ہیں؟  اس وجہ سے اب ہم ایک اور ثبوت دیتے ہیں۔  جس کا رد کرنا سوائے خدا کی روح ماننے بغیرہو نہیں سکتا ہے۔ وہ ان کے قرآن شریف سے ہے۔ جس کو وے لوگ خدا کا کلام  کہتے  ہیں۔ لیکن قرآن شریف کا کلام ِ خدا ہونا خدا کے ہونے پر موقوف ہے؟  اور کدا ان کے مذہب کی رو سے جیسا کہ دکھلایا گیا کچھ شے یا حقیقت نہیں۔ پس قرآن شریف کیا ہوگا۔

اس کو بھی فرض کرو۔ کہ کدا کچھ شے ہوگا۔ تو بھی مشکل سوال یہ ہے۔  کہ کیا ثبوت ہے کہ قرآن  شریف اسی خدا کا کلام ہے۔ لیکن اس بات کو ہماری بحث سے کچھ تعلق نہیں۔ قرآن شریف ان کے ہاں کلامِ خدا مانا جاتا ہے۔ کواہ اس کو چابت کر سکیں یا نہ کر سکیں۔ اب دیکھو کہ قرآن  شریف سے خدا کی زاتِ واحد  میں تثلیث  کا کچھ نشان ملتا ہے۔ یا نہیں۔ اگر چہ تثلیث کا ثبوت قرآن کی شہادت پر موقوف نہیں ہے۔  تو بھی مخالفوں کا عاجز کرنا اور اُن کا سکوت اختیار کرنا اور اپنے واحد خدا کا ثبوت  نہ دینا۔ تعلیم تثلیث کو قوت دیتا ہے۔ لہذا ہم ان کو عاجز کرنے کے لئے چند حوالے قرآن سے بھی نقل کر دیتے ہیں۔

اول نساء ۲۳۔ رکوع ا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ۔

ترجمہ۔ اے اہِل کتاب تم اپنے دین میں حد سے نہ نکلو اور الله کی شان میں سوائے پکی بات کے نہ کہو بے شک مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا الله کا رسول ہے اور الله کا ایک کلمہ ہےجسے الله نے مریم تک پہنچایا اور الله کی طرف سے ایک جان ہے سو الله پر۔

سورہ عمران ۵ رکوع۔ جس وقت کہا فرشتوں نے اے مریم یہ بشارت دیتا ہے تجھ کو  ساتھ اپنے کلمے کے نام اُس کا عیسیٰ مسیح بیٹا بیٹا مریم کا آبرو والا بیچ دنُیا کے اور آخرت کے اور نزدیک کئے گیوں سے؟

اِن ہر دو آیت میں کلمؔۂ خدا۔ اور روؔح خدا اور خؔدا کا  نام صاف طور سے واضح ہے۔ 

اے ناظرین میری بیوقوفی کو غور سے ملاحظہ کرنا۔ کہ میں کہاں تک غلطی پر ہوں۔ یہ بات تو آپ پر روشن ہے کہ عیسائی کلمٔہ خدا کو  اور روح خدا کو اور باپ کو ایک خدا مانتے اور یقین سے اس عقیدے پر مرتے ہیں۔ اور مر رہے ہیں۔ اب اگر حضرت محمد صاحب نے تثلیث کی تعلیم کو فکر کر کے چھوڑا ہے۔  تو ہم کو کوئی مسلمان قرآن سے دکھلاوے۔ کہ زیل کے سوالوں کی قرآن نے تردید کی ہے۔

۱۔ روح ِخدا خدا نہیں ہے؟

۲۔ کہ کلمۂ خدا خدا نہیں ہے؟

۳۔ کہ اگر خدا ہے۔ تو وہ ان دونوں باتوں سے خالی ہے؟

اب یہ صرف ظاہر ہے کہ عیسائیوں کی مقدس کتابوں کی یہی تعلیم ہے۔ کہ خدا کی زاتِ واحد میں کلمٔہ خدا اور روح ِخدا امتیازکئے جاتے ہیں۔

اب اگر حضرت نے اس تعلیم کو رد کیا ہوگا۔ تو اُس کے بگیر کسی اور تعلیم کو پیش کیا ہوگا؟ لیکن یہ بات بخوبی ثابت  ہے کہ حضرت نے کوئی نئی تعلیم قرآن میں تثلیث کی تعلیم  کی تردید میں نہیں پیش  کی۔ اگر کی ہے تو ہمکو کوئی شخص  بتلا دیوے؟

پس حضرت محمد صاحب سے تثلیث کی تعلیم در نہیں ہوئی۔  کیونکہ قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا کا کلمہ خدا  نہیں ہے۔ اور کدا کی روحُ  خدا نہیں ہے۔  اور کہ اگر ہے۔ تو جُھوٹ ہے خدا فلانی شے ہے؟  پس جبکہ اِس پرُانی تعلیم کی تردید پر قرُآن نازل ہوا؟ تو اُسکی تردید کہاں ہے؟  اگر اُس پرُانی تعلیم تثلیث  کی قرآن نے تردید نہیں کی؟ تو پرُانی تعلیم  برابر قایم رہی؟ لیکن تردید نہیں کی پس تثلیث قایم رہی۔

پھر اگر حضرت نے تثلیث  کی تردید  کی تو  کیا باپ  بیٹے اور روُح القدس اِن تینوں اقانیم کی تردید کی یا ایک دو  کی؟  اگر دو کی کی اور ایک کو تسلیم کیا؟ تو بھی حضرت نے وحدانیت کو نئی تعلیم نہ بنایا۔ بلکہ عیسائیوں کے عقیدے کا ایک حصّہ مان لیا۔ اور بس؟  وحدانیت  تو پھر نئی تعلیم  نہ ہوئی؟  صرف حضرت نے یہ سوچا کہ چونکہ یہ مسئلہ فکرمیں تو آتا نہیں۔ اِسلئے بہترہو گا۔ کہ مسیحیوں کے عقیدے کے کل کو مان لو۔ اور جو کچھ ہوگا بیچ میں آجائیگا۔ واہ وحدانیت اگر یہ سچ نہیں تو ہمکوکوئی شخص بتلاوے کہ حضرت نے اِن تین اقانیم کا اِنکار کہاں کیا۔ اور اِن کے انکار کرنے کے بعد حضرت نے خدا کس ہستی  کا نام رکھا۔ اور کہاں رکھا؟  یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ جبتک کوئی مسلمان اِن اقانیم ثلاثہ کی تردید قرآن شریف  سے نہ دکھِلاویگا۔ تب تک عیسائیوں کا عقیدہ قایم باثبوت رہیگا؟ اور دوسرییہ بات اگر اِن اقانیم ثلاثہ کی تردید بھی قرآن  شریف سے دکھلاویگا۔ اور اپنے واحد خدا کو کہ وہ کون ہے؟ یاکیا ہستی ہے؟ نہ بتلاویگا۔ تو تثلیث کا عقیدہ قایم  رہیگا۔

کیونکہ حضرت نے کلمٔہ خدا اور روُح خدا اور خدا کو صاف صاف بیان  توکیا ہے۔ لیکن تردید نہیں کی۔ کوئی عقیدہ ہمکو نہیں بتلایا جکسو ہم خدا خیال کریں۔ بہر حال جبتک قرآن سے کلمہ خُدا یا روُح کدا کے مخلوق ہونیکا ثبوت ہمکو نہ ملجاوے۔ اور توحید کی تعلیم اُسکے مقابل میں قایم نہ کیجاوے اور توحید جبتک کہ عیسائیوں کی توحید کے خلاف ثابت  نہ کیجاوے۔تب تک پاک تثلیث کو چھوڑنا اور ایک خیالی خدا کی پیروی  کرنا ہم لوگونکا احمق پن اور جہالت ہوگا۔ اور نہیں تو اسکے خلاف آپ صاحبان کا۔ جو توحید کے قائل ہیں؟

پھر اگر حضرت نےایک کی تردید کی ہو گی تو دو کو ضرور مانا ہوگا؟  اچھا اب وہ قرآن  کا مقام بتلاؤ جس میں لکھا ہے کہ کلمہ خدا۔  اور روح خدا ایک خدا ہیں؟  یا کلمہ کو چھوڑ کر روح خدا اور خدا ایک ہیں؟ یا کلمٔہ خدا  اور روح  خدا تو مخلوق ہیں؟ لیکن خدا جو اُسکے بغیر ہے وہ فلانی شی ہے؟ وہ ایک ہے۔

ورنہ صاحبانِ من آپ کو کچھ مزاج نہیں کہ آپ  عیسائیوں پر کس قسم کا اعتراض کریں! ۔ کیا آپ اِس پاک عقیدے کو چُھڑوا کر ہمکو دھریہ بنانا چاہتے ہو؟  کیا ہم بھی آپ کیطرح  محض عدم کا نام خدا رکھیں؟ ہمارا خدا ہمسے ایسی خطا کبھی ہونے نہ دیگا؟ جب تک آپ اپنے  انوکھے خدا کا ثبوت نہ دیں؟

اب یہ بات رہی کہ آپ  قرآن سے تثلیث کی تردید کا ثبوت  تلاش کریں۔ قرآن سے تثلیث کی تردید کا ثبوت تب ہی جائز ہوگا جب آپ صاحبان ہمپر قرآن شریف کو کلام خدا چابت کرینگے؟ اور قرآن  شریف کلام خدا تب ہی ثابت ہوگا۔ جبکہ آپ اِن عام اصولونکی رُو سے جنکی وجہ سے ہم کسی کتاب لو الہامی اور کسی کو غیر الہامی قرار دیتے ہیں بیان کریں؟

اور وہ اصول عام تب ہی کام میں آوینگے۔ جبکہ آپ خدا کو  بولنے والا ثابت کریں؟ اور خُداکو بولنے  والا  تب ہی  ثابت کرئینگے جبکہ آپ خدا کو زندہ ہستی ثابت  کریں؟ اور خدا کو زندہ ہستی آپ تب ہی قرار دینگے۔ جبکہ آپ خدا کو روُح مانیں؟  لیکن آپ خدا کو رُوح مان نہیں سکتے۔ کیونکہ آپ کے عقیدے  کی کتاب میں ثابت نہیں۔ پس آپ کو کلام خدا بھی چابت نہیں کر سکیں گے۔ جبکہ وہکلام خدا ثابت نہ ہوگا۔ تو آپ کیطرفسے جو ثبوت پیش کیا جائیگا؟ ہمارے نزدیک قابلِ وقعت نہوگا۔  لہذا میں آپ صاحبان کو اطلاع دیتا ہوں۔ کہ اگر کوئی صاحب  میرے بیان پر قلم اُٹھاے تو سوچ کر اُٹھائے+ ورنہ خجالت اُٹھائیگا۔ کچھ ہاتھ نہ آئیگا۔

والسلام علی المومنین

Blue Mosque Courtyard in Istanbul

فرمان مسیح

علامہ جی ایل ٹھاکر داس

Sayings of Christ

Response to Mirza Gulam Ahmend
Objections to Christianity


Published in Nur-i-Afshan February 21, 1896
By
Rev. G. L. Thakur Das


مندرجہ  متی ۵: ۳۸۔ ۴۲۔ پر۔

مرزا  غلام  احمد  قادیانی  صاحب  کا محاکمہ   اور  پادری ٹھاکر داس کا فیصلہ

وہ تحریر  جو ازیں جانب  بھائی خیر الدین صاحب کے اعتراض کے جواب میں نور افشاں مطبوعہ ۳ جنوری سنہ ۱۸۹۶ء میں شائع  ہوئی ےتھی اس پر مرزا غلام  احمد  صاحب  قادیانی نے ایک محاکمہ  چھا پا ہے اور اُس  میں فرضی  اور بے حقیقت  باتیں سنائی  ہیں۔ میں واجبی تفتیش  کے ساتھ اُس پر فیصلہ دیتا ہوں۔

قولہ۔ پادری ٹھاکر داس صاحب  اس بات پر زور دیتے ہیں کہ  انجیل میں جانی یا مالی  ضرر کی حالت  میں ترک مقابلہ  کے معنے ہیں کہ ظالم سے انتقام   حکومت  ہی لیوے آپ مقابلہ نہ کریں۔ 

اقول۔ میری بات کے یہ معنے  ٹکسال  قادیانی  میں گھڑے گئے ہیں آپ میرا بیان پھر سمجھۓ۔حکومت خود حفاظتی کی ایک صورت  ہے۔  آپ تیسرے صورت  پیش کردہ پر پھر غور کیجئے۔

قولہ۔ غور طلب یہ  امر ہے کہ ترک  مقابلہ  کے کیا معنی ہیں۔ کیا صرف  یہی کہ اگر کوئی  ظالم  آنکھ  پھوڑے یا دانت  نکالدے  تو بتوسط  حکام  اُس کو سزا  دلانی  چاہیے خود  بخود  اُس کی آنکھ  نہیں  پھوڑنی چاہئے  نہ دانت  نکالنے چاہئے۔ اگر یہی معنی  ہیں تو توریت  پر زیارت  کیا ہوئی۔ کیونکہ توریت  بھی تو یہی ہدایت دیتی ہے کہ ظالموں  کو قاضیوں کی معرفت  سزا ملے خروج ۲۱ باب ۔ مگر پادرہ  ٹھاکر داس صاحب  کہتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم میں توریت  پر یہ زیارت ہے کہ ایک مظلوم  حکام  کی معرفت  انتقام  لیوے۔ 

اقول مرزا صاحب  آپ کا یہ کہنا درست نہیں  ہے کہ میں اس سے توریت  پر انجیل  کی تعلیم  کی زیارت  بتلاتا ہوں میں نے ہر گز یہ بات نہیں لکھی اور نہ ایسی  کمی  یا زیارت کو پیش ِنظر رکھا تھا۔  اور اس لئے آپ کی ساری تقریر  جو صفحہ  ۲۔ ۳ میں ہے رائیگان ٹھہری۔ آپ نے خود ہی میری طرف سے ایک بات  فرض  کر کے اپنی طرف  سے اُس  پر محاکمہ  بنایا ہے۔ عقلمند وں کی یہ عادت نہونی چاہئے۔ میں اسبات کو خوب  جانتا  ہوں کہ توریت میں انتقام   قاضیوں کے متواسط سے لینے کا  حکم  ہے۔ 

اور انجیل  میں یہ کوئی نئی تعلیم نہیں۔ مگر اس بات سے تو میری کچھ غرض نہ تھی اور جو اصل  غرض تھی اُس کو آپ نے نظر  انداز  کیا اور یا آپکی سمجھ میں نہیں آیا اور اس لئے آٹھ صفحے  محاکمہ میں کالے کر ڈالے۔ پھر دیکھئے کہ میں نے احکام  پیشین اور احکام  انجیل کی بابت یہ لکھا تھا کہ  جس  حال  کہ کسی انسان کا حق  نہیں کہ دوسرے کی جان و مال کو خطرے  میں ڈالے۔ اور جس حال کہ مسیح خداوند  کے احکام  میں وہ اصول موضوع کئے گئے ہیں جو چھ  حکموں  کے تجاوز  کی رغبت  کو دل میں سے اُکھاڑیں جو کسی قسم ی رسمیات ادا کرنے  سے دوُر نہیں ہو سکتے اور یہ نہیں۔ ( یعنے مسیح نے یہ نہیں کیا۔)  کہ ان حکموں  کے زور کو یا اُن  کی تجاوز کی سزا کو موقوف کر دیا ہے۔ ہر گز نہیں بلکہ اُن کو قایم رکھا ہے۔ تو یہ صورت  خود حفاظتی کے لئے سالم   گنجایش دیتی ہے۔ لہذا جو لوگ ظالم اور شرارت  سے باز نہ آویں اور ان مسلیم زریعوں کی قدر و  پروا نہ کریں جو خدا وند  نے باہمی  راستی اور سلامتی  کے لئے فرمائے ہیں تو وہ لوگ  واجبی بدلا پاویں‘‘۔ پھر آپ  اپنے خیال کے موافق  انجیل مقدس کی تعلیم  کو ناقص  ٹھہرانے کے لئے طنزاً لکھتے ہیں کہ۔

قولہ۔ کوئی انسان اپنی آنکھ  ناحق  ضایع کراکر پھر صبر نہ کر سکا اور اپنی قوت انتقام  کو حکام کے زریعہ  سے ایسے وقت  میں عمل میں لایا جو اُس کو کچھ نفع نہیں دے سکتا تھا۔ ایسے عیسائی  سے تو یہودی ہی اچھا رہاجس نے  خود حفاظتی  کوکام  میں لاکراپنی آنکھ  کو بچا لیا۔ 

اقول  میں کہتا ہوں کہ اگر  کوئی شخص  اپنی آنکھ  یا دانت  ضایع  کروا کر دوسرے  کی بھی خود ہی خود حفاظتی  کی وجہ سے ضایع  کردے یا حکام  سے چارہ  جوئی کروائے  تو بہر حال  یہ انتقام ٍ اُس کو کیا نفع دے سکتا ہے جبکہ اُس کا اپنا نقصان  ہو ہی گیا  ہے؟ اور اگر ظالم کا مقابلہ  کرنے کے بجائے کوئی عیسائی  مقابلہ  سے پرہیز  کر کے اپنی آنکھ یا دانت بچالیوے  تو اس میں آپکو  کیا تکلیف  ہے یہ حرکت نفسانی  جذبات  پر اثر  کرنے والی  ہو گی اور ایسا  ہی انسان حقیقت  میں نیک بخت ہے جس نے اپنے آپ کو اور دوسرے  کو بھی نقسان  سے بچایا ۔ اور مناسب نہیں کہ اپنی اپنی  شرارتوں کو روا رکھنے کے لئے  اس برداشت  کو بُرا کہا جاوے اور میں نے اپنی پہلی تحریر  میں اسبات  کا صاف  بیا ن کیا تھا کہ خداوند مسیح نے قصاص  کی نوبت کو روکنے  کے واسطے وہ  ہدایتیں فرمائیں  جو آیات  ۳۹۔۴۲ میں مندرج ہیں ۔ کہ ’’چھوٹی چھوٹی  باتیں جیسے گال  پرتھپڑ کھانا یا کپڑے چھنوانا یا  بیگار پکڑے  جانا وغیرہ  بدلا یعنے کے محل نہ سمجھے  جاویں  ایسی حالتوں میں برداشت کرنا  فرض ہے۔ اور یاد رہے  کہ خداوند  اِس  حکم میں اُن حالتوں کو شامل  نہیں کرتا ہے جن میں جان  یا  مال  خطرے میں ڈالے  جاویں جس سے ظاہر  ہے کہ ایسی حالتوں  میں خود  حفاظتی  کے دوسرے  طریق عمل میں لائے جاویں‘‘۔ پس  آپ  کی طنز  بالکل  بیجا ہے۔ 

قولہ۔  شاید پادری  ٹھاکر داس صاحب  یہ کہیں کہ ترک مقابلہ  اُس  حالت  میں ہے جبکہ  کوئی شخص  تھوڑی تکلیف پہنچانا  چاہے  لیکن اگرچہ  سچ سچ  آنکھ  پھوڑنے  یا دانت نکالنے کا ارادہ کرے تو پھر خود حفاظتی  کے لئے  مقابلہ  کرنا چاہئے  تو یہ خیال پادری صاحب  کا انجل کی تعلیم  کے مخالف  ہو گا اُس تعلیم سے تو یہی  ثابت ہوا کہ اگر سچے عیسائی  ہو تو دانت اور آنکھ نکالنے  دو اور مقابلہ  نہ کرو۔ اور اپنی  دانت اور آنکھ کو مت بچاؤ سو وہی اعتراض  انجیل پر ہو گا جو خیرالدین  صاحب  نے  پیش کیا  ہے۔ 

اقوال مسیح خداوند کی تعلیم کا یہ نتیحہ ہرگز نہیں کہ چپ چاپ بیٹھ کےآنکھ  اور دانت نکلوایا  کرو  اور مقابلہ  نہ کرو کیونکہ اُس نے قصاص کا حکم پہلے  جتا دیا  ہے۔  اور اگر خداوند کی مراد ایسی حالتوں  میں بھی ترک  مقابلہ کی ہوتی جب جان کا خوف  ہو تو وہ اُس  کی بابت  صاف  صاف  فرما دیتا  لیکن جو حالتیں  اُس نے بتلائی  ہیں وہ ایسی خطرناک  حالتوں  سے غیر  ہیں۔ اور آپ نے جو تمانچہ  کی شدّت  کا شوخ بیان  کیا ہے کہ اُس سے آنکھ  اور دانت نکل سکتے ہیں تو یہ  نوبت پھر قصاص   کے تحت میں آجاتی ہے۔  اور عیسائی  مرد کایہ  کام ہے کہ اُن باتوں کی برداشت کرے جن کو بڑہانے سے قصاص  کی نوبت پہنچ سکتی ہے۔ جیسے خون کرنے یا کرانے کی نوبت کو روکنے کے لیے غصّہ  اور بدزبانی  وغیرہ  کی ممانعت  فرمائی ہے۔  ( متی ۵: ۲۱۔ ۲۶) اگر لوگ خداوند  کی ہدایتوں  پر عمل کرنا اپنی روز مرّہ  کی عادت کریں تو قتل اور زناکاری  اور انتقام  اور دُشمنی  کی نوبت کبھی نہ پہنچے  ۔ مگر قرآن  نے بھی  تو اپنا گزارہ  کرنا ہوا۔  اور اودھر منو جی بھی بے اُسید نہیں ہونا  چاہتے۔ عیسائیوں  کی تو یہ صاف  حکم ہے کہ اُن کی طرف سے کو ئی چھیڑ چھاڑ نہو وے۔ بلکہ اوروں کی شرارتوں  کی برداشت بھی کریں۔ اور بعض  حالتوں  میں موت تک بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔  ( متی ۱۰: ۲۲۔ ۳۹)

قولہ۔ اور اگر کوئی  عیسائی  کسی ظالم کو حکام کے زریعہ  سے سزا دلائے تو اُسے  یاد رکھنا چاہئے کہ توریت بھی توایسے   موقعہ  پر یہ اجازت نہیں دیتی کہ ایسے مجرم  کی شخص  مظلوم آپ آنکھ پھوڑے دے یا دانت نکالدے  بلکہ ہدایت کرتی   ہے کہ ایسا شخص  حکام کے زریعہ  سے چارہ جوئی  کرے۔ پس اس صورت  میں مسیح کی تعلیم  میں کونسی زیارت  ہوئی یہ تعلیم پہلے  ہی توریت  میں موجود تھی۔۔۔۔۔ مگر متی ۵ باب میں جس طرز  بیان کو آپکے یسوع صاحب  نے اختیار  کیا ہے یعنے توریت کے احکام  پیش  کر کے  جابجا کہا ہے کہ اگلوں  سے یہ کہا گیا ہے کہ مگر میں تمہیں یہ کہتا ہوں ۔ اس طرز سے صاف  طور پر ان کا یہ مطلب  معلوم  ہوتا ہے کہ وہ  توریت کی تعلیم  سے کچھ علاوہ  بیان کرنا چاہتے ہیں۔

اقول۔  ایسا ہی خیال یہودیوں  نے کہا تھا  جن کے جواب میں  خداوند  نے فرمایا کہ  ’’یہ خیال مت  کرو کہ میں توریت   یا نبیوں  کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا۔ میں منسوخ  کرنے کو نہیں  بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں ‘‘ ( متی ۵: ۱۷) مرزا صاحب آپ بھی اُنہیں  لوگوں  کے خیالوں میں  غوطے کھاتے  ہو۔ کیوں نہیں مسیح کی عبادت  پر  غور کرتے۔  اُس نے اس بات پر کلام نہ بڑھایا تھات کہ توریت  میں مظلوم کو حکام کے زریعہ  چارہ  جوئی کرنے کی کوئی ہدایت  نہیں  اس لئے میں یہ ہدایت کرتا ہوں بلکہ اُس  نے وہی  شرع توریت سے پیش کی جس کو حکام  ہی عمل میں لانے کے مختار  تھے اور مظلوم حق  رسی کے لئے اُن  سے فریاد کر سکتا تھا ( دیکھو  استثنا ۱۷: ۸۔ ۱۳)  اور اُس حکم کے علاوہ یا برخلاف  بیان کرنا نہین چاہا  جیسا آپ نے گمان  کیا ہے۔ آپ نے ساری  تقریر  بے جا کی ہے۔ اول یہ جانو کہ خداوند  نے اس بیان میں اُ س شرع کی طرف رجوع کروایا ہے جو اگلوں سے کہی گئی تھی مگر بر عکس  اس کے لوگ خود ہی انتقام  لیناجایز  کئے ہوتے تھے۔  اور قاضیوں تک جانے کی پرواہ  نہ کرتے تھے۔ اور یوں شریعت  کے حکم کو ٹالتے تھے۔پس مسیح  خداوند نے ایسی نفسانی آزادگی کو روکا   ہے۔ اور دوسری بات  یہ سمجھو کہ جس  طرح  کل تعزیرات کا منشا یہ ہوتا ہے کہ  ظالم  آیندہ  ظلم کرنے سے روکا  جاوے اور ایسا ہی مظلوم  بھی۔ اُسی طرح توریت  کایہ حکم  کہ حکام کے زریعہ  انتقام  لیا  جاوے ظلم کو روکنے اور فریقین کو سُدہارنے  کی غرض رکھتا  ہے اس پر خداوند فرماتا  ہے کہ میں تمہیں کہتا ہوں  کہ ظالم  کا مقابلہ  نکرنا بلکہ ایسے ایسے  نقصان  کی برداشت کرنا تو یہ کسی   قانونی  منشا  کو ایک طرح سے پورا کرنے کی ہدایت ہے یعنے برداشت  کے ساتھ۔ مرزا صاحب  یہ معاملہ  تو بالکل صا ف  تھا  آپ نے آپ نے اُس کو خواہ مخواہ بگاڑا۔ یہ برداشت اُس قصاص کی نوبت  کو روکنے  والی ہے۔

میرے اِس فیصلہ سے آپکا  سارا گندہ اور ناشائیستہ  اور غلط  اظہار جو صفحہ ۴  پر کرتے  ہو غلط  ٹھہرا۔ اور مسیح کی عبادت بے ربط  نہیں ہے بلکہ  ایک صاف حکم ہے۔  مکرّر آپ کو یاد رہے  کہ اِن ہدایتوں سے مسیح خداوند  نے کسی اخلاقی قانون  کو موقوف  نہیں کر دیا  اور قانون قصاص چھٹے حکم کے متعلق  ہے اور اِس مذکور سے  اُس نے اُس کا منشا قایم رکھا ہے۔ یہودیوں  میں قصاص کی وہ خاص  صورت تھی جو مسیح نے بلفظہ پیش کی ہے اور اور مسیحی قوموں  میں بھی  اُس ملکی قانوں کا منشا قایم  رکھا جاتا ہے یعنے خطا کے مناسب عوض دینا۔ اور وہ بھی احکام کے زریعہ سے۔

قولہ۔ پھر پادری ٹھاکر داس صاحب نے جب دیکھا کہ انجیل  کی یکطرفہ  تعلیم پر درحقیقت فعل  اور قانون  قدرت  کا سخت  اعتراض  ہے تو نا چار ایک غرق ہونے والے  کی طرح قرآن  شریف کو ہاتھ مارا ہے تاکہ کوئی سہارا ملے  چنانچہ  آپ  فرماتے ہیں کہ قرآن  جیسی کتاب  میں بھی اُس کی یعنے  انجیل کے حکم  کی تعریف  کی گئی   ہے۔

اقول۔ مرزا صاحب یوں کہا ہوتا کہ ایک غرق ہونے  والے کی طرح ایک تنکے کو ہاتھ مارا ہے۔ آپ کا میری نسبت یہ خیال کرنا درست نہیں ہے۔  کیونکہ میں نے انصاف  کی نظر  سے قرآن کی اچھی بات کو اچھا لکھا ہے کہ اور ایسا ہی دیگر مزہب والوں کی اچھی باتوں کو اچھا   کہا ہے۔ اور اس سے میرا مطلب یہ تھا کہ اگر چہ  گناہ  نے قدرتی انسان کے ہوش بگاڑ  دئے ہیں۔ اِس پر بھی انجیل کی نیک تعلیم کے لوگ قائیل رہے ہیں۔ اس میں قرآن کا سہارا ڈھونڈھنے  کی کوئی حاجت نہ تھی۔ غرض صرف یہ تھی کہ  وہ ایک کتاب  جو انتقام  اور خون  ریزی  سے بھری ہے اس میں بھی  یہ نیک  تعلیم  مانی گئی ہے۔ اور جیسا کہ میں نے غیرقوموں میں اس کی تعلیم  کا پایا  جانا بتلایا  تھا اُس کی چند مثالیں  دیتا  ہوں تاکہ سہلا یکطرفہ نہ رہے دو طرفہ  ہو جاوے۔ 

کانفوشش ؔ کا قول۔ ’’جو کچھ تم نہیں چاہتے کہ تمہارے  ساتھ کیا جاوے  وہ تم  بھی دوسروں کے سااتھ نہ کرو‘‘۔

ارسطوؔ سے پوچھا گیا  کہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ کس طرح پیش آویں۔ جواب دیا کہ ’’جیسا ہم چاہتے ہیں  کہ ہمارے دوست ہمارے ساتھ پیش آویں‘‘۔

سقراطؔ کا قول۔ ’’ کیا ہم یقین جانیں کہ جو کوئی  بے انصافی  کے کام کرتا ہے اُس کے لئے بے انصافی  ایک برُی اور بیعزتی کی بات ہے‘‘؟  ’’ہاں‘‘۔ پس کیا نہ چاہئے کہ ہم  نقصان کریں؟‘‘ ’’بے شک نہ چاہئے‘‘۔ ’’جب ہمارا نقصان  کیا جاتا ہے اُس  کے عوض میں نقصان نہ کریں جیسا بہتیرے  گمان کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں نہین چاہئے  کہ کسی کا نقصان  کریں۔ اس لئے ہمیں  نہ چاہئے کہ بدلا لیویں یا کسی سے بدی کے عوض بدی کریں گو اُس نے ہم سے کیسی ہی بدی کی ہو‘‘۔

اس لئے یہ نہ سمجھا  جاوے کہ قدیم اقوام  میں عداوت  رکھنا اور بدلالینا موقوف  تھا۔ نہیں ۔ بدلا لینا عام رواج تھا اور فرض سمجھا جاتا تھا۔ اور انتقام  لینے کی تاریکی  میں  صبرؔ  کرنا صرف روشنی کی چھوٹی چھوٹی کرِن کا زور لکھتا ہے۔  اوریہی حال قرآن کا ہے۔ پس میرا یہ مدُعا ظاہر  ہے کہ باوجود نفسانی تقاضوں  کے جن کو لوگ فطرتی سمجھتے  رہے ہیں وہ اصلی  اور سچّا فطرتی قانون  مرقومہ متی ۷: ۱۲ میں آدم سے داد پاتا رہا ہے۔  مگر روح القدس کی تاثیر کے بغیر عموماً زور مند نہوا۔

قولہ۔ پھر ایک آیت کا غلط  ترجمہ پیش کرتے ہیں کہ اگر بدلا دو تو اس قدر بدلا دو جس قدر تمہیں تکلیف  پہنچتی اور اگر صبر  کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتری  ہے۔  اور اِس آیت  سے یہ نتیجہ  نکالنا چاہتے ہیں کہ  گویا یہ انجیلی  تعلیم کے موافق ہے  مگر یہ کچھ تو ان کی غلطی اور کچھ شرارت بھی ہے۔ غلطی اس  وجہ  سے کہ یہ لوگ علم  ءبیت سے محض ناواقف ہیں۔ اور شرارت  یہ کہ آیت  صریح بتلا رہی ہے کہ اس میں انجیل کی طرح صرف ایک ہی پہلو درگزر  اور عضو پر زور نہیں دیا گیا بلکہ  انتقام  کو تو حکم   کے طور  پر بیان کیا گیا اور عضو کی جگہ صبر کا لفظ  ہے۔ ۔۔ ناظرین سوچ لیں کہ اس آیت کا صرف  یہ مطلب  ہے کہ ہر ایک مومن پر یہ  بات فرض کی گئی  ہے کہ  وہ اسیقدر  انتقام  لے جسقدر اُس  کو دکھ  دیا گیا ہے لیکن اگر وہ صبر  کرے  یعنے سزا دینے  میں جلدی نہ کرے ۔۔۔۔۔۔ یعنے سزا دینے کی طرف  جلدی نہ  دوڑیں   اول خوب تحقیق  اور تفتیش کریں اور خوب  سوچ لیں کہ سزا  دینے کا محل  اور موقعہ  بھی ہے یا نہیں۔  پھر اگر موقعہ ہو تو دین ورنہ  رُک جاویں۔

اقول۔ مرزا صاحب  میری کوئی غلطی  نہیں ہے میں نے اپنا ترجمہ پیش  نہیں کیا تھا لیکن شاہ عبدالقادر صاحب  کا ترجمہ  اور سیل صاحب  کا انگریزی  ترجمہ  اس کے مطابق  ہے۔ اور  مجھے تو آپ  نے جو جی میں آیا کہ دیا  مگر آپ نے کوئی  اپنا ترجمہ پیش نہ کیا اور صرف  اپنی تفسیر  اُس آیت کی پیش کر دی ہے۔ اور مجھے افسوس  ہے کہ آپکی  تفسیر سے قرآن  مین رہا سہا صبؔر  بھی خارج ہوا۔ اور صبر کے معنے آپ نے  سزا دینے   کے کئے ہیں مگر زرا ٹھہر کر۔ تاکہ سزا  دینے کا محل   اور موقعہ سمجھ لیں۔ جائے غور ہے کہ اگر سزا دینے کا محل  قایم نہ ہو  تو سزا ناجائز ہے اور صبر  مجبوری ہوا اور کسی نقصان پانے کے سبب نہوا۔ اس حال میں صبر کے معنے  جو  آپنے کئے ہیں غلط ہیں۔  کیونکہ  جب نقصان  ثابت نہیں تو صبر اور عٖضو کا فخر  بیجا ہے۔ لیکن بموجب  آپکی تفسیر کت اگر محل اور موقعہ ثابت کر لیوے تو سزا دینی چاہئے اور  رُکنا نہ چاہئے  یہ فرض ہے۔ اسی کا نام آپ  نے صبر  رکھا ہے۔  معلوم  نہیں  آپ  سچ کہتے   ہیں یا  قرآن ۔ اور یہ صبر وہ  صبر  نہو جو انجیل  میں  فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ  اُس کی رو  سے نقصان  اُٹھا   کر دوسرے  کا نقصان  نہ کرنا  صبر ہے۔ پس مرزا  صاحب  قرآن  میں انتقام  ہی انتقام رہگیا اور عضو  کا محل  اور موقعہ  کوئی نہ رہا۔

اور پوشیدہ  نہ رہے  کہ سیل صاحب انگریزی  ترجمہ قرآن  کے  حاشیہ  پر اس آیت  کی تفسیر  میں تقدمین  کی روایت   لکھتے ہیں کہ ’’ یہ آیت  مدینہ میں نازل ہوئی تھی اور موقعہ اُس  کا  جنگ اُحد میں حمزا ( چچا  محمد صاحب ) کا مارا جانا تھا۔ کافروں نےاُس کی انتڑیاں  نکالڈالنے  اور کان اور ناک  کاٹ لینے سے اُس کی لاش  کی بے حرمتی  کی تھی اور جب  محمد نے دیکھا  اُس نے قسم کھائی کہ اگر خدا نے مجھے  فتح بخشی  تو قریش  کے ستّر   (یا تیس۳۰) آدمیوں  پر ان  بے رحمیوں کا بدلا نکالوں گا۔  لیکن اُن الفاظ  کے زریعہ  سے وہ اپنی قسم کو پورا کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ اور اُس کے مطابق  اُس نے اپنی قسم توڑ دی‘‘ مرزا صاحب  کی تفسیر  کے مطابق  محمد صاحب پر فرض  تھا کہ اپنے خون  کی پیا س ضرور بُجھاتے ۔ اور اس سے یہ بھی ظاہر  ہے کہ ہدایت  صبر کرنے کی صرف  محمد صاحب کو ایک خاص  حالت مین کی گئی تھی  نہ کہ ہر مومن کو۔ اور سیل صاحب  بیضاؔوی  سے یہ بھی حوالہ دیتے ہیں ’’ اس جگہ قرآن  خاصکر  محمد کی طرف اشارہ کرتا   ہے‘‘۔

قولہ۔ خدا کے کلام اور خدا  کی کلام کا کامل معانقہ قرآن ہی کرایا  ہے توریت  نے سزاؤں پر زور دیا تھا۔۔۔ اور انجیل  میں عضو اور درگزر  کی تعلیم ہوئی مگر یہ  تعلیم  نفس  الامر  میں عمدہ نہ تھی  بلکہ نظام  الہیٰ کی دشمن تھی۔  ۔  گرچہ انجیل  کی تعلیم بالکل  نکمی  اور  سراسر ہیچ ہے لیکن حضرت مسیح اس وجہ  سے معذور  ہیں کہ انجیل  کی تعلیم ایک قانون  دایمی  اور مستمر  کی طرح  نہیں تھی بلکہ اُس   محدود  ایکٹ  کی طرح کی تھی کو مختص  المقام  اور مختص  الزمان  اور مختص القوم  ہوتا ہے۔ ( صفحہ ۶ اور ۷ میں اسی کے متعلق  مکرّر وہی باتیںواہی  طور پر لکھی ہیں)۔

اقولہ۔ یہ بات غلط ہے کہ توریت  نے صرف  سزاؤں  پر زیادہ  زور دیا  تھا۔  سزا دینا  اُن  کے حکام  کے اختیار  میں رکھا گیا تھا اور توریت  میں اُن کی ہدایت  کے لئے قوانین فرمائے گئے تھے۔ مگر لوگوں میں باہمیؔ برتاؤ  کا اصلی  قانون اور ہدایت  یہ تھی احبار ۱۹: ۱۸ ۔ اپنی قوم  کے فرزندوں  سے بدلاؔمت  لے اور نہ اُن کی طرف سے کینہ رکھ۔ بلکہ تو اپنے بھائی کو اپنی مانند  پیار کر میں خداوند ہوں‘‘ پھر امثال  ۲۰: ۲۲۔ ’’ تو مت کہہ کہ  میں بدی بدی کا بدلالوں گا پر خداوند  کا انتظار  کر کہ  وہ تجھے  بچاویگا‘‘۔ پھر غیروںؔ کے ساتھ برتاؤ کی یہ ہدایت ہے۔ خروج  ۲۳: ۴۔۵۔۹ ۔ ’’ اگر تو اپنے  دشمن کے بیل یا گدھے  کو بیراہ جاتے دیکھے تو ضرور اُسے اُس  کنے پہنچایو‘‘ وغیرہ ’’ اور مسافر کو بھی تصدیع مت دیجیوُ‘‘ وغیرہ  (اور دیکھو استثنا  ۳۴: ۱۴ ۔ ۳۳) پھر امثال  ۳۵: ۲۱۔ ۲۲۔ ’’ اگر  تیرا دُشمن بھوکھا پو اُسے روٹی  کھانے کو دے اور اگر وہ پیاسا  ہو اپسے پانی پینے کو دے‘‘ وغیرہ۔

مرزا غلام  احمد قادیانی  صاحب  کا محُاکمہ  اور   پادری  ٹھاکر داس کا فیصلہ پھر یہ بھی بالکل  غلط ہے کہ انجیل میں صرف عضو پر زور دیا  ہے۔ نہیں ہر قسم کے سلوک  کے محل  اور موقعہ  بتلا دئیے  ( ۱ ) پہاڑی  وعظ مسیح خداوند اور بادشاہ کی روحانی  بادشاہت  یعنے کلیسیا  کے باہمی برتاؤ کے قوانین شامل کرتی ہے جو متی  ۵:  ۶۔ ۷۔ ایوب  میں مرقوم ہیں ۔ اور مسیحی  کلیسیا  پر افسوس  ہے اگر برداشت  اور محبّت  سے گزر قصاص  اور قتل وغیرہ کی اُس مین نوبتیں پہنچیں۔  جو باتیں منع ہیں اُن کو عمل میں نہیں لانا  چاہئے۔ ( ۲)  اِن میں مخالفوں  اور دشمنوں کےساتھ برتاؤ  کرنے کی دو خاص حالتیں بتلائی ہیں۔ ایک وہ جو  ایمان مسیحی  کی پیروی  میں موت تک  برداشت کرنے  کی بابت  ہے۔  متی ۵: ۱۰، ۱۱، ۱۲  بمقابلہ  ۱۶: ۳۴۔  ۳۶۔  دوسری  دشمنوں کے ساتھ  عام سلوک  کرنے کی بابت  ہے متی ۵: ۴۳۔ ۴۸۔  اسکے ساتھ  دیکھو  روم۱۳: ۱۷ ۔ ۲۱ ۔ انہی  طریقوں  سے ہر ایک انسان کے ساتھ ملے رہ سکتے ہیں ( ۳) عضو کا محل اور موقعہ یہ بتلایا ہے کہ’’ خبردار رہو۔ اگر تیرا بھائی  تیرا گناہ کرے اُسے ڈانٹ  اگر توبہ کرے اُسے معاف کر‘‘  لوقا۱۷: ۳ ۔ اور بھی  متی  ۶: ۱۲ اور ۱۸: ۱۵۔ ۱۷۔ ( ۴) خلق اﷲ میں امن رکھنے  اور شریر ظالموں کو   اصلاح پذیر  کرنے کییہ صورتیں  بتلائی گئی ہیں۔ متی ۵: ۲۱۔ ۳۸۔ اور رومی  ۱۳: ۱ ۔ ۴۔ پس انجیل میں ہر قسم کے سلوک کے لئے صاف صاف محل اور موقعہ  بتلائے گئے ہیں۔

مرزا صاحب  کی باقی عبارت  کے جواب میں یہ کہتا ہوں کہ آپ پھر خیال کریں کہ نکماّ  اور سراسر ہیچ حکم وہ ہو گا جو خود غرضی  اور محض اپنی نقانیت  پر مبنی ہو۔  اور جو ہر قوم  اور ہر زمانہ میں فساد اور دشمنی  کے  اجرا اور دوام کا موجب  ہو۔ پس دیکھئے کہ اس صورت میں قرآن  کا یہ حکم مختص  الزمان القوم  ہے کہ ’’اے ایمان والو نہ پکڑو میرے اور اپنے دشمنوں کو رفیق‘‘ ’’اﷲ تو منع کرتا ہے تم کو اُن سے دوستی  کرنے کو جو لڑے تم سے  دین پر اور نکالتے تمکو تمھارے گھروں سے اور میل  باندھے تمہارے نکالنے پر اور جو کوئی اُن سے دوستی کرے سود ہی لوگ  ہیں گنہگار‘‘ سورہ المتنر رکوع ۱، ۲۰۔ اور یا انجیل کا یہ عالم  گیر حکم کہ ’’جو کچھ  تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں ویسا تم بھی اُن کے ساتھ کرو‘‘۔  متی ۷: ۱۲۔ اور پھر دیکھو کہ خدا کے کام اور خدا کی کلام کاکامل  معانقہ قرآن نے کرایا ہے یا انجیل نے۔ قرآن کہتا ہے سورہ بقر رکوع ۲۴۔ ’’ اور مار ڈالو اُن کو جس جگہ  پاؤ۔ اور نکالدو جہاں سے اُنہوں نے تمکو نکالا ۔ پھر جس نے تم پر زیادتی  کی تم اُس پر زیادتی کرو جیسے اُس نے زیادتی کی تم پر‘‘ میں نہیں  دیکھتا  کہ محمد  صاحب  نے کونسا محل عضو کے لئے چھوڑا ہے۔ اور انجیل کا فرمان یہ ہے کہ  متی ۵: ۴۴، ۴۵۔ ’’ میں تمہیں کہتا ہوں کہ اپنے  دشمنوں کو پیار کرو اور جو تم پر لعنت  کریں ان کے لئے برکت چاہو جو تم سے کینہ رکھیں ان کا بھلاا کرو۔ اور جو  تمہیں  دکھ دیں اور ستاویں اُن کے لئے دعا کرو۔ تاکہ تم اپنے  باپ کے جو آسمان  پر ہے فرزند  ہو کیونکہ وہ اپنے سورج کو بدوں  اور نیکوں پر اُگاتا ہے اور راستوں اور ناروستوں  پر مینہ برساتا ہے۔‘‘ اور بھی دیکھو  اعمال ۱۴: ۱۵، ۱۷۔ مرزا صاحب  آپنے بے فائیدہ  تین صفحہ قرآن  کی تعریف  میں خواب  کئے کیونکہ ایسی کتاب دنیا  کے لایق نہیں ہے۔ اور مجھے کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح قرآن چاہتا ہے دنیا آگے ہی ویسی ہے۔ اور بہتری  کی صورت اور اُمید  صرف انجیل مقدس سے ہے۔ 

قولہ۔ خیر الدین صاحب کی یہ غلطی ہے کہ  وہ گمان کرتے ہیں کہ یسوع  انجیلی تعلیم کا پابند تھا۔ اُنہیں  سمجھنا چاہئے  کہ اگر یسوع اُسکی تعلیم کا پابند  ہوتا تو  فقیہوں اور فریسیوں کو بد زبانی  سے پیش  نہ آتا۔ یسوع کے ہاتھ  میں صرف زبان تھی سو خوب  چلائی  کسی کو حرام کار کسی کو کو سانپ کا بچہ کسی کو سُست  اعتقاد قرار دیا گیا اگر کچھ  اختیار  ہوتا  تو خدا  جانے کیا کرتا  ہم اُس کے حکم اور عضو کے بغیر امتحان کے کیونکر  قایل ہو جائیں۔ کہاں یسوع کو یہ موقع  ملا کہ وہ یہودیوں  کے سزا دینے پر قادر  ہوتا اور پھر در گزر کرتا ۔ ہاں یہ اخلاق  فاضلہ ہمارے سید و مالانا فضل  الانبیا  خیر الاصفیا محمد۔۔۔۔ میں چابت ہین کہ آپنے جب مکہ والوں پر فتح  پائی جنہوں  نے آخحصرت کو بہت ستایا  تھا اور صدہا نا حق  کے خون کئے تھے ان سب کو بخشدیا۔ اور کہا کہ جاؤ میں نے سب سب کو آزاد کر دیا۔

اقول۔ مرزا صاحب  کی یہ آخری باتیں ہیں اور سب سے زیادہ کفر اور دروغ گوئی سے پرُ ہیں ۔ اس طور سے تو آپ  سارے انبیاء کو نالایق  اور ناقابل کہ سکتے  ہو۔ اور لایق اور قابل شخص  آپکی نظر میں یشوعہ۔ بخت نصر۔  سکندراعظم ۔ ہانی بال۔ انٹی اوکس ہیرودیس اعظم ۔ محمد اور تیمور وغیرہ جچیں گے۔ جو اپنے اپنے  زمانے میں خون ریزیاں  کرتے رہے  اور کبھی مارتے  کبھی صبر کرتے رہے اگرچہ آپ کی تقریر  نفرت کے لایق ہوتا ہم صبر سے میں آپ  پر سچائی کو روشن کرتا ہوں۔

( ۱) مسیح  خداوند  ا پنی  الہیٰ رسالت  کی وجہ سے حق رکھتا تھا کہ گنہگاروں  اور شریر کا  زبوں  کو ملامت کرے اور اُن سے توبہ طلب کرے  اُس کی رسالت  میں یہ بات مدنظر تھی کہ سچاؔئی پر  گواہی  دیوے اور اُس کو ہر قسم کے آدمی کے سامنے پیش کرنے کے لئے اُس میں یہ الہیٰ وصف  تھی کہ دلوں کا جانچنے والا تھا۔ اور جب اُس نے  اپنا کام اس اصول کی بنیاد پر  شروع  کیا کہ  مبارک وہ جو پاک دل  ہین کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے تو مسیح  ہر طرح سے  لوگوں میں یہ صفائی  طالب کرتا تھا۔ اورکسی حالت  میں اور کسی شخص  میں فریب  اور ریاکاری پر ترس کھاتا تھا۔ اور خواہ لوگ کیسے ہی چھپے بھیس مین اس کے پاس آویں وہ اُن کی خفیہ  غرضوں کو جانتا اور واجبی جواب دیتا اور واجبی ملامت کرتا  تھا۔ اپنے سامعین اور  پیروؤں کو نہ کبھی  دہوکھا دیتا اور نہ دہوکھاکھاتا تھا۔ اور نہ اُن  کی خوشامد کرتا تھا۔ سچؔائی  اور علم غؔیب  اس کے ہتھیار تھے۔ شمعون پطرس کو اُس  کی بیوفائی کی خبر دیتا اور ڈانٹتا ہے۔ یہودا اسقریوطی کو جتاتا ہے کہ  تو مجھے پکرڑائیگا۔ ایک بڑی  بھیڑ کو اپس کی ناقص نیت پر ملامت کرتا ہے۔ اور اس بات کی پروا نہینکرتا کہ وہ لوگ اس کے معجزوں کے سبب اُس کی تعریف  کرتے تھے۔ ( یوحنا ۶: ۲۶) ایک دولتمند  دیندار کا لالچی ہونا اُس پر ظاہر کرتا ہے۔ ( متی ۱۹: ۳۱) فقیہوں اور فریسیوں کی غیر تمندی اور تعصّب  اور دینداری  کا سچّا اندازہ کر کے اُن کو اصل  میں ریا کار قرار دیتا  ہے۔ وہ جو اپنے آپ کو لوگوں میں نیکو کار جتاتے  تھے اُنکو اُنکی  چالاکی  کے سبب سانپوں کے بچے کہتا ہے۔ غرضکہ مسیح خداوند خود سچائی تھا اور سچائی پر گواہی دینے کو آیا تھا اور جہاں کہیں اُس کو بطُلان اور ریاکار ی اور فریب معلوم ہوا اُس نے کسی کا لحاظ  نہ کیا اور لوگوں  کی مخالفت  سے نہ ڈرا اور نہ پروا کی اور نہ خوشامد  کی بلکہ  ملامت کرتا اور سب  سچائی  ہر بات میں طلب  کرتا اور خود سچائی کی کلام اور کام کرتا تھا۔ یہ اخلاق فاضلہ محمد صاحب  میں کہاں تھے؟ لوگوں کے ڈر یا خوشامد کے سبب لاؔت  اور عُزاّ کی تعریف  کر دی تھی۔ بہت پرستوں کی خاطر سنگ پرستی جاری کر دی لوگوں کو نصیحت کرنے کی سلیم چال منسوخ کر کے شمشیر چال اختیار کی۔ یہودیوں سے دہوکھے  کھاتے رہے۔ اسی طرح پریشان سے رہے کہ سچائی کس بات میں ہے۔ لاچاری کے وقت  صبر کرتے رہے جب زور ہوا تو خوب  بدلے لئے اور بھی نقصان سے بڑھکر۔

(۲ ) ۔ اب سنُئے  کہ مسیح خداوند کے اختیار  میں کیا تھا اور پہلے یہ بات زہن نشین کر لو کہ اُس  بے اپنی پاک خدمت  طرح  شروع کی تھی کہ ’’توبہ کرو کیونکہ  آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی ‘‘۔ اور کل عرصہ خدمت میں اُس آسمانی بادشاہت  کی باتیں  سکھلاتا رہا اور یہودیوں  کی اس انتظاری اور شوق کہ نہ پروا کی اور نہ حرص کی کہ مسیح دنیاوی  بادشاہ ہو۔  ( دیکھو یوحنا ۶: ۱۵) اور جب اپنی خدمت  کا کام ختم کرنے پر تھا تو یوں فرمایا کہ ’’ میری بادشاہت  اس جہان کی نہیں  اگر میری بادشاہت  اس جہان کی ہوتی تو میرے نوکر لڑائی کرتے تاکہ میں یہودیوں  کے حوالہ نہ کیا جاتا پر میری بادشاہت یہاں کی نہین ہے‘‘۔ یوحنا ۱۸: ۳۶۔ اب دنیاوی بادشاہت  سے ایسے ساف منع  تعلق کے باوجود دیکھو  دیکھو اُس کو کیا اختیار  تھا۔ وہ مرُدوں کو زندہ کر سکتا تھا اور زندوں کو مرُدے کر سکتا تھا۔ متی ۲۸: ۳۔ ۴۔ اور یوحنا  ۱۸: ۶۔ پھر نبی اسرائیل  کے لئے  بیابان میں خدا  نے آسمان سے منؔ برسایا اور سیر کیا مسیح خداوند نے ویرانوں میں ہزار ہا آدمیوں  کی گروہوں  کو اپنے کلام کی قدرت سے روٹی  سے سیر کیا۔ شیاطین پر اُس کا اختیار  ثابت تھا۔ ہوا اور سمندر اُس کا حکم  مانتے تھےْ بیماریاں اُس کی قدرت سے دور ہوتی تھیں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ وہ جسکو جلانے اور آسودہ کرنے اور شفا دینے کی قدرت و اختیار تھا اگر  چاہتا تو ایسے کاموں  کے بجائے موت اور کال اور بیماری جاری نہیں کر سکتا  تھا؟ بے شک کر سکتا تھا اور اپنے ستانے والوں کو بدلا دے سکتا تھا۔ مگر اُس نے ایسا نہ کیا بلکہ ہر حال  میں برداشت کی۔ مگر اُس نے یہ اختیار کیوں نہ جتایا؟ اس کا بڑا بھاری سبب تھا اور وہ یہ ہے کہ

’’جب  وے  دن کہ جن میں وہ اوپر اُٹھایا جائے پورے  ہونے پر تھے اُس  نے یروشلم کو جانے پر اپنا رُخ کیا۔ اور اُس نے اپنے آگے پیغام  دینے والے بھیجے  وےجا کے سامریوں کی ایک بستی میں داخل ہوئے کہ اُس کے لئے تیاری کریں لیکن اُنہوں نے اُس کو قبول نہ کیا  کیونکہ اُس کا مُنہ یروشلم کی طرف  جانے کو تھا۔ اُس کے شاگرد یعقوب اور یوحنا نے یہ دیکھ کے کہا کہ اے خداوند کیا تو چاہتا ہے کہ جیسا الیاس نے  کیا حکم کریں کہ آسمان سے آگ  نازل ہووے اور اُنہیں  جلاوے تب اُس نے پھر کے اُنہیں دہمکایا اور کہا تم نہیں جانتے کہ تم کیسی روح کے ہو۔ کیونکہ ابن آدم  لوگوں  کی جان برباد کرنی تھیں بلکہ بچا لی آیا۔ الخ‘‘ لوقا ۹: ۵۱۔ ۵۶۔ اور بھی دیکھو متی ۲۶: ۵۲۔ ۵۶۔ 

(۳) مکہ والوں  کو محمد صاحب  کا بخشدنیے کی دلیل  نہیں ہے ۔ میں اصل معاملہ ناظرین کو سُناتا ہوں۔

جب محمد صاحب  مکہ چھوڑ مدینے کو چلے گئے تھے کیونکہ لوگوں نے مکہ میں اُنکو چھوٹی چھوٹی باتون سے تنگ کیا تھا۔ اور مدینہ  میں سلیم طور سے  وعظ کرتے رہے۔ مگر اس عرصہ  میں آپ  ایک کمزور آدمی تھے مگر وہ اور اُن کے ساتھ اپنا وطن  مکہ بہت یاد کرتے تھے۔  اور تاکہ یہ کمزوری دور ہو اور غریبی کم ہووے اور آخر  وطن  کو جانے کی صورت نکلے یہ کاروائی شروع  کر دی کہ قریباً ڈیڑھ  برس تک قریش کے قافلے  لوٹنے شروع کر دئے جومکہ  اور شام میں تجارت کرتے تھے۔ اس راہزانی  کی چند نظریں میں تاریخ و اقؔدی کے حصہّ اول سے پیش کرتا ہوں جس کا نام منازی الرسوؔل  ہے۔ اُن سے معلوم ہو جاویگا کہ مرزا صاحب  کی ثناگوئی کی کچھ حاجت  نہیں ہے۔

جنگ بدر کے  راوی نے یہ وجہ لکھی ہے۔ ’’راوی  کہتے ہیں کہ جس وقت رسول خداصلی اﷲ علیہ وآلہ کو معلوم  ہوا کہ قافلہ قریش کا شام سے پھرا ہے تو حضرت  علیہ السلام  نے بہ قصدا اُس قافلے کے اپنے اصحاب  کو جمع کیا اور دس (۱۰) روز پیشتر  اپنے خروج کے مدینے سے ایسا کیا کہ لحلہ بن عبید اﷲ اور سعید بن زیدکو واسطے  تجسّس و تفحص حال قافلہ  کے روانہ کیا ‘‘۔ یہ دونوں گئے اور قافلہ  کا حال دیکھ آئے  اور محمد صاحب  کو خبر دار کیا۔ اُس پر محمد صاحب نے حکم دیا۔ ’’ راوی  کہتے ہیں کہ ان حضرت  علیہ السلام  نے مسلمین کو طلب کیا اور فرمایا یہ قافلہ قریش کا جو آیا ہے اُس مین اُن کا مال کثیر ہے کیا عجب ہے کہ حق تعالیٰ اُس کو تمہارے تئین  غنیمت میں عطا کرے۔ یہ سنکر ہر شخص خروج میں تعجیل  کرنے لگا۔ اور باپ بیٹے میں واسطے خروج کے قرعہ ڈالا جاتا تھا۔۔۔۔ اکثر مردم حضرت  کی ہمراہی سے باز رہے۔۔۔۔اور جو کوئی جانے سے باز رہا وہ ملامت نہیں کیا گیا اس لئے کہ اُس کے  زغم میں لوگ  قتال اور جہاد کے لئے نہیں نکلے  تھے بلکہ  واسطے تاراج قافلہ کے نکلے تھے‘‘ آخر یہ ہو کہ جب وہ قافلہ واپس شام سے آیا  اور قریش مکہ کو بھی خبر ہو گئی تھی۔ تو  لڑائی ہوئی  اور  قافلہ  لوٹا گیا۔  صبر اور قناعت کی یہ عمدہ  نظیر ہے!!!!!

پھر غزوہ فتح مکہّ کا احوال یہ ہے کہ محمد صاحب نے ازخود ہی اپنے لشکر کو مکہ کی طرف خروج کرنے  کا حکم دیا اور مکہ کے لوگ اس چڑہائی سے ناواقف  تھے اور مقابلہ کے لئے تیار بھی نہ تھے۔ اور جب خفیہ طور سے کسی نے خبر بھیجی  تو محمد صاحب  کو پتہ لگ گیااور وہ  خط واپس پکڑ منگوایا۔ لشکر اسلام کا شمار نو ہزار پانچسو  تھا۔ اور مکہ والوں سے انتقام  کی وجہ یہ بیان ہوئی کہ ’’حضرت نے ابوسفیان سے فرمایا ہاں میں  راضی ہوں اُن مردوں سے جنہوں نےمیری تصدیق کی اور مجھے اپنے یہاں جگہ  دہ اور میری نصرت کی بجائے مردمان میری قوم کے جنہون نے میری تکزیب  کی اور مجھکو  نکالدیا اور میرے شہر سے مجھکو خارج کر دیا اور میرے نکالدینے پر سب نے باہم اتفاق کیا۔‘‘ (غور کرنا چاہئے کہ مکہ کے لوگوں نے حضرت  کو کوئی ایسی  تکلیف نہ پہنچائی تھی جس کے بدلے آپ سارے شہر کی بربادی پر کمر بستہ  ہو کر دس ہزار فوج لیکر آگئے تھے۔ وہ پرانا کینہ دل سے گنوایا تھا بلکہ قریش کو اس سے بڑھکر ستاتے رہے اور اُن کے قافلہ  راستوں پر لوٹ لیتے رہے۔   

اور اسپر بھی صبر  نہ آیا اور اب  قابو پا کر اُن لوگوں کو برباد کرنے  کے درپے ہوئے اور پھر دیکھو کہ کیاکیا شرایط مکہ والوں کے امن کے لئے پیش کی تھیں اور یونہی در گزر  نہ کی تھی)۔ ’’حضرت علیہ السلام نے فرمایا ہاں اور جو کوئی اپنا دروازہ  بند کرے گا وہ بھی امن پائے گا اور جو کوئی کعبے کی طرف توجہ کرے گا اور ہتھیار اپنے ڈال  دے  گا وہ بھی پناہ پاویگا‘‘۔ اور ابو سفیان  محمد کا فر ستادہ  مکہ میں پکار کرتا تھا کہ ’’ اے آل  غالب  اسلام  لاؤ تو سلامت  رہو گے۔۔۔۔ اور آں حضرت ﷺکو یہ خبر پہنچی  کہ اہل  مکہ البتہ  سب اسلام  لائے مگر تھوڑے جو ساتھ مقیس  کے ہیں۔ تب آپ  نے نبی خزاعہ کو حکم کیا کہ  اُن لوگوں کی طرٖف  دوڑ ماریں  اور جو اُنسے لڑیں  اُن کے سوائے اوروں کو قتل نہ کریں  اور نہ اُن چند آدمیوں  کو ماریں جن کا نام اُن کو بتا دیا‘‘ وغیرہ  خالد ابن ولید نے ایک قبیلہ  کو جو جزیمہ  کہلاتے تھے قتل  کر ڈالا اگر چہ اُن لوگوں نے اسلام قبول کیا اور ہتھیار  رکھ دئے  اور پہاڑ سے نیچے اُتر آئے  اور یہ شرط امان کی سنائی  گئی تھی۔   جب محمد صاحب کو خبر پہنچی  تو خالد کو سخت  ملامت کی مگر خالد نے یوں جواب  دیا اُن کی تسلیّ  کر دی کہ ’’یا رسول اﷲ خدا مجھےآپ پر قربان کرے آپ مجھے ملامت نہ کیجئے کہ ہم  نے اُن کو بموجب  اُس آیت کے قتل کیا ہے جسکو خدا نے آپ پر نازل  فرمائی ہے کہ  قاتلو ھم یعذ بھم اﷲ بایدیکم  ویخز ھم ویصرکم علیھم ( وغیرہ) یعنے تم اُن کو قت کرو  کہ حق تعالیٰ اُن کو تمہارے  ہاتھوں   عذاب کرے گا اور خوار  کرے گا  اور تم کو اُن پر گالب کریگا اور مومنین  کے دلوں کو تسکین و تسلیّ دے گا۔ پس حق تعالیٰ  جانتا ہے  کہ بر شک میں مومنین میں سے ہوں اور  ہر آئینہ  اُس قوم نے مجھ سے کینہ  کشی کی تھی پس حق تعالیٰ نے اُن کی طرف سے میرے سنیےکوتسلّی  بخشی‘‘۔پس طاہر  ہے کہ کس سبب سے مکہ پر چڑہائی ہوئیاور کن کن شرطوں  اور کیسے  کیسے کشت و خون کے بعد مکہ کے لوگوں کا پیچھا چھوڑا تھا اور اس  کار گزاری  کا نام مرزاصاحب  نے بخشدینا اور آزاد  کرنا رکھا ہے ۔ میں اسسے بہتر نظریں کئی بادشاہوں اور سرداروں کی پیش کر سکتا ہوں جنہوں نے دشمنوں کو  رہا کر دیا اور ان تکلیفوں  اور خون ریزیوں کی پروا نہ کی۔ جو اپنے اوپر  وارد کی گئی  تھیں۔ مرزا  صاحب  چاہئے تھا کہ ایسی کا  ر روائی  کے سبب آپ  شرمندہ  رو رہتے جنکی تعریف کر رہے ہو۔ اور میں اُمین کرتا ہوں کہ اس فیصلہ سے آپ کو اور ناظرین کو سارا معاملہ خوب سمجھ میں آجاوے گا۔ اور خداوند مسیح کا فرمان اور اُس کی زندگی  قابل  پسند رہیں گے۔

Blue Mosque Courtyard in Istanbul

بائبل کیوں نہیں  پڑھتے؟

کیدارناتھ

Why don't you read the Bible?

Response to Mirza Gulam Ahmend
Objections to Christianity


Published in Nur-i-Afshan November 26, 1895
By
Kidarnath


ہمارا یہ سوال عام ہندو مسلمانوں سے ہے چاہئے کہ وہ آپ یا اُن  کے دین کے پنڈٹ اور مولوی صاحبان سنجیدگی کے ساتھ خدا سے ڈرتے ہوئے جواب با صواب عنایت  فرمائیں۔

لیکن ہم کو اُمید نہین ہے کہ ہماری یہ اُمید اُن کی طرف سے بر آوے۔ بچند وجوہ۔ اوّل کہ وہ دنیا کے دھندوں میں ایسے آلودہ ہیں کہ اُنہیں اتنی فرصت  کہاں جو اپنے آپ کو ایسے  امور میں مشغول  اور مصروف  کریں۔  دوم بفرض  محال اگر کوئی اس سوال  کے جواب دینے پر آمادہ بھی ہو تو اتنا مادہ اور جرأت  نہیں کہ راستی اور انصاف  کے ساتھ معاملہ کر سکے اور یہ دوسری وجہ بھی چند سببوں سے خالی نظر نہیں آتی۔ سبب اوّلیہ ہےکہ باپ دادوں کے طریق  مذہبی  کی پابندی تعصب  کے دائرہ سے قدم  باہرنہیں  رکھنے دیتی۔ سبب دومیہ ہے کہ لوگوں  کی لعن طعن  اور الزام  داتہام  اور فتاویٰ کفر ایسا کرنیسے  روک  دیتے ہیں نظیر اً جناب مولوی  ابوالمنصور  صاحب دہلوی کا نیا ترجمہ  و تفسیر  قرآن  میں  الکتاب کے متعلق  وہ  کتاب کہدینے سے جو ٹھیک  عربی قواعد صرف  کے مطابق  ہے محمدی  بھائی کیسے غضبناک  ہو گئے پس انہیں اسبابپر غور کر کہ  ہمنے اپنے سوال کا آپ  ہی جواب نکالا۔ اول ہم نے اُن مشکلات پر غور کرتے  ہیں جو  حقیقتاً  ہندو  مسلمانوں کو بائبل پڑھنے سے  روکتی ہیں۔

پہلی مشکل صرف محمدیوں کی سدّ راہ ہے بفضل  خداوند  مسیح ہم  پہلے اُسی کے دور کرنے میں مشغول ہوتے ہین۔ 

وہ کہتے ہیں کہ  پورا  ناکلام الہیٰ  منسوخ ہو کر نیا قرآن  ہم کو کافی ہے۔ ہم  عرض  کرتے ہیں کہ یہ نہایت سخت اور گھنونا کلام ہے جو آپ کے اور  آپ کے  مولوی صاحبان کے منہ سےنکلتا  ہے یقینا!  ایسی گستاخی زبان کو اﷲ جلشانہ کاٹ ڈالیگا یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کے کلام کو کون منسوخ کر سکتا ہے۔ کوئی کہے کہ خدا اپنے کلام کو  آپہی منسوخ کر سکتا ہے تو جواب میں یوں عرض ہے کہ ایسا  خدا در حقیقت  خدائی کے عہدہ کے لایق نہیں آپ براہ مہربانی اجماع کر کے جلد اُسے  اُس کے عہدہ سے معزول کیجئے ورنہ خطرہ ہے کہ ایک دن اُس کلام کو بھی جو قرآن  کہلاتا منسوخ کر دے تب آپ نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے ۔اور اگر کوئی کہے کہ پیغمبر  منسوخ کر سکتا ہے تو جواب میں قصور معاف  ہم یوں عرض کرتے ہیں کہ وہ پیغمبر  خدا  کا پیغمبر  نہو گا بلکہ اس دنیا کے سردارکا پیغمبر  ہو گا۔ لاحول ولا قوۃ نعوز باﷲ من ڈالک الاعتقاد پیارے محمدی بھائیو انجیل  شریف میں اﷲ تعالیٰ نے بحالت  تجسّم  آپہی  فرمایا کہ گمان مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو  نہین آیا بلکہ پوری کرنے کو آیا  ہوں میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان  اور زمین ٹل نجاویں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہر گز  نہ مٹےگا  جب تک سب کچھ پورا نہو۔  پس آپ  کو مناسب  ہے کہ خدا کے کلام کی تلاوت  میں ہر صبح و شام مشغول  رہئے اگر   درحقیقت محمدی مذہب  خدا کی طرف سے ہے تو آپ کے دلوں سے اس کا اثر زایل نہوگا۔  پھر وہ کہتے ہیں کہ پادری  صاحبان نے  اپنی طرف سے خدا کے کلام  میں کچھ گھٹایا اور کچھ بڑہایا کچھ تبدیل  کیا اور اس سبب سے پڑھنے کے لایق نہیں۔ اس کے جواب میں گزارش  ہے کہ امر جو پادری صاحبوں کو ایسدا شرمناک  کام کرنے میں  مدد دیتا ہے آپ کو کیوں  مانع ہے آپ کس دلیل سے ہمارے مقابل ایسا آئینہ رکھدیتے ہین جس میں ہم اپنا منُہ دیکھ سیکں مگر اُسی میں آپ کو نہ سوجھ  پڑی یہ اندھیر نہیں تو اور کیا ہے۔  جو کتاب اوروں  کے ہاتھ  ہزارہا ہزار بلکہ لاکھوں لاکھ موجود ہو اور ہر ایک زبان میں پڑھی جاتی ہو اُس کی بابت  ایسا اجماع قیاس  میں آسکتا ہے؟ پس آپ اس وہم  کو دل  دور کر کے کلام الہیٰ  کو مطالعہ  فرمائے ۔ دوسری مشکل ہندو مسلمان دونوں کے لئے عام طور پر پیش  ہے کہ جدید عم نے اُن کو کس ایسے  کلام  سے جو عقل سے باہر  ہو محترز رہنے کی ہدایت کی ہے۔ مگر ہم پوچھتے  ہیں کہ کیا اُن کی مذہبی کتابوں میں ایسی  باتیں مندرج نہیں ہیں جو عقل  اور سمجھ  دونوں  سے کوسوں دور ہیں، علم جدید نے مسلمانوں کو اب تک  نہیں بتایا کہ فرق والقیام اجرام فلکی کا محال  عقل ہے پھر ایسی کتاب کوکہ جس میں شق القمر کا بیان ہو کیوں کلام الہیٰ جانتے اور پڑھتے  ہو پھر ہندو لوگ  بھی علم جدیدہ  کی اس شکل کو  نہیں حل کرتے کہ اگست منی نے سمندر  کو پی کر موت کے راستہ سے نکال  دیا اور پھر اپنی بھی  اپنی مذہبی کتابوں  کو مقدس جانتے اور پڑھتے ہیں لہذا یہ رکاوٹیں بھی غلط ہیں اگر ہم مان لیں کہ بائبل میں بھی ایسی باتیں مندرج ہیں تو بھی اُس کو پڑھ سکتے ہو اگرچہ خدا کےکلام میں ایسی عجیب و غریب عقل کے خلاف  اور علم  جدیدہ کے مخالف کوئی بات بھی  نہیں پائی جاتی۔ میسھ ک پیدایش فوق العادت تو ہے لیکن آدم اور حوا کی پیدایش سے  جو خدا کا قول ہےیہ مشکل  حل ہو جاتی ہے اُس کا مردوں  میں سے زندہہونا عام عقیدہ  قیامت  کو سوید ہے۔  غرضیکہ  یہ باتیں قرین عقل اور عین فہم کی ہیں۔ ہم اتنے میں کہ عقل سے اعلیٰ اور سمجھ سے سے بالا توہیں۔

اب ہم بتاتے ہیں کہ در حقیقت وہ کون سی بات  ہے  جو آپ لوگوں  کو اور پنڈتوں اور مولویوں کو خدا کے کلام کے پڑھنے سے روک  دیتی  ہیں۔ خدا کے کلام کی مثال اُس  آئینہ  کی مانند ہے جو راستہ میں بڑا  ہوا ایک حبشی کو ملا اور اُس  نے  اول تو آئینہ کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے مالک کی لاپرواہیپر لعن طعن اور تمسخر کیا مگر جب اپنے منُہ کے مقابل لایا اور کالا  کالا  رنگ  دیکھا تو غصّہ ہو کر آئینہ کو پانٔوں سے چور چور  کر ڈالا۔  اسی طرح جب خدا کا کلام  آپ کے ہاتھ میں  آتا  پہلی نظر سر سری میں جب اُس میں یہ دیکھنے کہ آدمی  سب کے سب بگڑ  گئے کوئی نیکوکار نہیںایک بھی نہیں تب آپ چونک پڑتے اور کہتے ہیں! یہ کیا بات ہے کیا پیغمبر  اور صاحبہ اور خلفاء راشدین  اور دواز دہ امام اور چہاردہ معصوم اور پختبن پاک اور محتبہدان  مذہب اور شہدا  اور اولیا سب کے سب اور ہم  جو مولوی میں سب کے سب خراب  ہیں۔ اوہ یہ پادریوں نےلکھ دیا  اور پھر کیا اوتار اور رشی منی برہمن سب کے سب بگڑ  گئے  یہ نہیں ہوسکتا اور جھٹ کتاب الہیٰ کو نوچ نوچ  کر ہوا کے رُخ اُڑا دیتے ہیں  پھر جب اُس میں دیکھنے  کہ اچھے  کام اُن کے گندے دھجی  کی مانند  ہیں اور گھورے  پر پھینکنے کے قابل ہیں تب کہتے ہیں کہ اُوہو  نماز روزہ  حج زکات تیرتھ اشنان  برت دھیان خیرات دان پن یہ گندی دھجی  کی مانند ہو سکتے ہیں۔ یہ عیسائی پادریوں کی من گڑہت ہے اور غصبناک ہو کر بائبل کو ٹپک دیتے اور پھر جب پڑھتے ہیں کہ آدمی عمل سے نہیں بلکہ ایمان سے جئیگا تب مُنہ  پُھلا کر کفر بکتے لگتے اور جب پڑھتے کہ عیسو ناصری  حقیر غمزدہ  مصلوب کے  سوائے اور کوئی نجات دہندہ اور مکتی داتا نہیں تو بہت ہی ناراضی کے ساتھ خدا کے کلام کو زمین پر پٹکا دیتے۔ اور پھر جب  پڑھے کہ عیسیٰ اپنے لوگوں کو اُن کے گناہون سےبچاتا ہے تب کہتے کہ لیجئے  جھوٹ پر تو ہماری  روزی چلتی  ہے اگر ہم جھوٹ  نہ بولیں تو کسی قسم کی دوکانداری  چل نہیں سکتی واہ جی کیا اچھی  کتاب ہے اور غصہ  ہو کر پیٹھ  کے پیچھے  پھینک دیتے۔ 

پیارے ہندو مسلمانوں ہماری رائے میں تو مندرجہ عنوان سوال کا حقیقی اور تحقیقی  یہی جواب ہے کہ خدا کا کلام ہماری ساری بدی کا مقابلہ کر کے  اُس کو ہم سے دور کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ ہماری دلی حالت تک حملہ کرتا اور اسی لئے آپ  لوگ  بیئبل نہیں پڑھتے۔ اور اُن کتابوں کو شوق  سے پڑھتے  جو آپ کو جھوٹ موٹ اچھا کہکر  آپ کو موت تک دھوککے میں رکھتی ہیں۔ مگر یاد رکھئے کہ یہ دنیا اور اُس کی ساری دھن دولت  عزیزو اقربا  کوئی آپ کے ساتھ نہ جائیگا اور خدا آپ کو آپ کی ساری بدیوں  کے لئے عدالت میں لائیگا اس لئے ہم بمنّت التماس کرتے ہیں کہ آپ خدا کے کلام  کو  جو مجسّم  ہو کر آپ کے واسطے کفارہ ہو ا دل میں جگہ دیجئے اور ہمیشہ  کے آرام کی تیاری کیجئے باقی بس۔

Camel Rides on Road to Jericho

اِلہام کی ضرورت کیوں؟

کیدارناتھ

Why do we need inspiration?


Published in Nur-i-Afshan November 29, 1895
By
Kidarnath


کیا ایسی حالت میں جبکہ  معدودے  چند کے سوا  جو کسی شمار میں نہیں کل مذاہب  اور فریق اس بات کے قائیل  ہیں کہ خدایا  پرمیشر نے اس اندھیری  دینا میں اپنے  نور الہام  کی روشنی پھیلائی اور کسی نہ کسی  قدر مختلف پیراؤ نمیں  آسمانی آواز رویا خواب مکاشفہ میں اپنی مرضی  کا سورج  چمکایا ہمارا مندرجہ  عنوان سوال  ناظریں  نور افشاں  کے غور کے لایق اور جواب پانے کی قابلیت رکھتا ہو ؟  ہم آپ ہی  عرض ہرواز ہیں کہ اگر اور کسی صورت میں نہو تو نہوو مگر ایک اور حل طلب مشکل ہے جس کے آسان کرنے کے واسطے  سوال  ہذا کے جواب تحریر کرنے میں ہم نے اپنے فامہ دو زبان کو جالان کیا ہے کہ آجکل بعض اشخاض دنعلیم دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا نے اپنی توحید پھیلانے کو الہام بخشا اور حضرت  موسیٰ سے زکی الطبع  شخص نے اپنی پانچوں کتابیں اس غرض کے  برلانیکو تحریر  فرمائیں ۔ مگر ہمنے جہاں تک غور  کیا اس امر کو کسی اور پہلو کی طرف  جھُکتا پایا اس لئے کہ اگر ہم اس بات کو مان لیں کہ  اﷲ جل شانہ  نے محض اپنی توحید شایع  کرنے کو الہام کا تحریری  زخیرہ  جسکا شمار مختلف  ۶۶ کتابوں تک پہنچتا ہے ہمارے ہاتھوں  میں دیا تو ہم ایک ایسے اندھیرےگپُ میں  جا پڑتے ہیں جہاں  ہاتھ مارے تک نہیں سوجھتا  کہ آج  تک کسی  پیغمبر  یا عالم  نے صاف   نہ بتلایا کہ خدا  جو ایک ہی وقت میں مختلف  مقامات پر کیونکر موجود ہے اس دلیل سے ہم اُن  کو کیونکر اندھیرے  سے اوجالے میں لاسکتے ہیں جو اس مشکل لاحل کے ہاتھوں  دہریت کی خندق  میں گر پڑے ہیں پھر یہ کیسا ناکامی الہام ہے جو پہلے ہی قدم میں آگے  پاؤں رکھنے کو جگہ نہیں دیتا توحید ی عیسائی  تو بڑے  فخر  کے ساتھ  ہمکو ٹھٹھوں میں اوڑاتے اور تثلیث  الہیٰ کو بابلی تثلیث  قرار دیتے  مگر ہم کو  معلوم ہوتا ہے کہ جدید سے لے کر قدیم باطلہ  مذایب  تک  جو اپنی موجودگی حضرت  موسیٰ سے کروڑہا برس  پیشتر  بتاتے وہ بھی ہم آواز ہو کر چلاّتے ہین کہ خدا  ایک ہے مہربانی  فرما کر بتا دیجئے کہ قدیم ہندوں یا آریوں نے خدا کی وحدت  کی تعلیم اُس الہام سے کب پائی جس کی بابت دعویٰ کیا جاتا ہے کہ محض توحید کی اشاعت کے لئے آسمان سے نازل ہوا اور اگر اُن کا یہ دعویٰ سچ نکلے  کہ الہام حقیقی کے نزول سے پیشتر ہماری کتابوں  میں پرمیشر کی یکتائی کی تعلیم موجود ہے تو آپ کا دعویٰ اور کس دلیل سے چابت ہو سکتا  ہے بہرحال  اُسی خندق میں جو تثلیثی مسیحّیوں کے گرانے کو کھودا تھا توحیدیوں کو گرنا پڑا  لہذا  جو اصل  سبب نزول الہام کا ہے وہ ہم پیش کرتے ہیں۔ واضح  ہو کہ حضرت  موسیٰ کی کتابوں  میں اکیلے خدا کی پرستش کی تعلیم بتا کید پائی جاتی ہے ضرور لیکن سبب اُس کا کثرت  الاربابی جو تمام اردگرد کی قوموں میں پایا جاتا ہوا اور جیسا کہ  ہم نے ابھی  اوپر تحریر کیا کہ دنیا کی جملہ اقوام  ایک خدا کی  قایل ہین پس جہانتک  مناسب  تھا اُن کو اُسی قدر اُس پہلو کی طرف جُھکایا  گیا اور جب نئے عہد نے اپنی جگے لی اُس وقت یہودیوں  کی غلط فہمی  نے توحید الہی کی بابت تمام اقوام  مختلفہ میں جہاں وہ تتر بتر  ہوئی ایک عجیطب زاہد نہ خشک تاثیر پیدا کر دی کہ ضرورتاً  وہیں  جو مناسب  وقت  اور مطابق حال  تھی زات آلہیٰ کی تشخیصّیت باپ بیٹے روح القدس  کی اقنومیت میں ظاہر کی گئی جس کی بابت ہم کو اور مذاہب  باطلہ سے بھی اشارہ ملتا ہے خواہ وہ قایل  الہام ہوں خواہ  یونانی کے حکیم مثلاً افلاطون  اور وید کے اندر اگنی سورج  یا پرانوں کے برمہاوشن مہیش جس محض غلطی میں اصلی سچائی کسی قدر نمایاں ہے ۔لیکن ایک اور اہم  مشکل  ہے جس کے لئے الہام بخشنے  کی ضرورت آپڑی  اور اُس کی قدامت  آج سے لے کر پچھلے قدموں حضرت آدم و حوا تک پہنچتی  ہے اور جس وقت الہام ان پیارے  اور عبرتناک الفاظ ہیں ظاہر ہوا کہ اے آدم تو کہاں ہے پھر  دوسری آواز  بالمقابل  یہ تھی اور مین تیرے اور عورت  اور تیری  نسل  اور عورت کی نسل  کے درمیان دشمنی ڈالوں گا وہ تیرے  سر کو کچلے  گی اور  تو اُس کی ایڑی کو کاٹیگا۔ پیدایش ۳: ۱۵ یہاں اگر یہ آواز  آتی کہ میں اکیلا خداہوں تو ہم جانتے کہ بیشک الہام کی ضرورت محض اشاعت توحیدی ہے اور اگر ایسا ہوتو تو موقع و محل  کے مناسب  بھی تھا کہ حضرت  آدم نے اگر چہ  کوئی پتھر کی تراشی ہوئی مورت نہیں پوجی اور نہ کسی اور کو خدا مانا مگر تو بھی دوسری صورت نافرمانی میں جس کے حکم سے ایسا کیا شیطان ضرور اُن کے لئے خدا بن بیٹھا  پر تو بھی ہماری رائے کی تائید مین الہام کا نزول  اس امر کے افشا کے واسطے  ہوا کہ آدم اپنے گناہوں  سے کیونکہ رہائی پاسکتا ہے۔ اور سچ مش اسی بھید کے کھولنے  کی خدا کو ضرورت تھی کہ آدم انجیر کے پتوں کی لنگیوں سے اپنی شرم کو نہیں چھپا سکتا بلکہ چمڑے  لالباس درکار ہے۔ بغیر لہو بہائے گناہوں کی معافی نہیں  ہاں الہام نے ہمکو صاف بتایا کہ جب تک پہلا خیمہ کھڑا رہا پاکزپن مکان کی راہ نہ کھُلی تھی وہ خیمہ اس وقت تک ایک مثال ہے جس  جس میں نزریں اور قربانیاں گزرانتے  جو عبادت کرنے والیکو دل کی نسبت کامل نہین کر سکتی کہ وے صرف  کھانے  پینے  اور طرح طرح  کے غسلوں کے ساتھ جو جسمانی  رسم ہیں اصلاح کے وقت تک مقرر  تھیں پر جب مسیح آنیوالی  نعمتوں کا سردار کاہن  ہو یا تو بزرگ تر اور کامل تر خیمے کی راہ سے جو ہاتھوں کا بنا نہیں یعنے اس خلقت  کا نہیں نہ بکروں نہ بچھڑوں کا لہُو لے کے بلکہ اپنا ہی لہُو لے کے پاکترین مکان میں ایک بار  داخل  ہوا کہ اُس نے ہمارے لئے ہمیشہ کی خلاصی  کی عبرانی  ۹: ۸۔ ۱۲ تک خلاصہ یہ ہے کہ الہام  کی ضرورت یہ تھی کہ گنہگار انسان نجات کیونکر پا سکتا ہے توحید  اور تثلیث  کا بیان الہام میں ہموزن اور برابر  اور ایک دوسری پر اسقدر  موقوف اور منحصر  ہے کہ ایک کو چھوڑیں تو محض  بت پرستی اور دوسری کو چھوڑیں تو محض  محمدی  توحید وہمی۔ خدا نے بڑی مہربانی کی کہ جس امر کے بغیر  ہم جہنم  کو جاتے وہ اُس نے ہم پر اگلے زمانہ میں نبیوں کے وسیلہ باپ دادوں سے بار بار اور طرح بطرح اور آخری  دنوں میں بیٹے کی موت کے وسیلہ کھول دیا۔ پس الہام کی ضرورت  کیوں؟  جواب بنی آدم  کی نجات اور بس۔

راقم ۔۔۔۔۔۔  کیدار ناتھَ   

Mirror of Man

Mirror of Man

مراۃ الانسان

یہ کتاب انسانی کیفیت وغیرہ کے بارے میں


پادری مولوی عماد الدین لاہز۔ڈی۔ڈی

۱۸۳۰ - ۱۹۰۰


نے اس مراد سے لکھی کہ اس کے پڑھنے والے خود شناسی میں
ماہر ہو کے خدا شناسی کی دولت تک رسائی حاصل کریں اور
۱۸۸۹ ء
مطبع ریاض ہند امرتسر میں چھپی


 

Dr. Imad ul-din Lahiz

دانا انسان کی حکمت یہ ہے کہ اپنی راہ پہچانے

(کتاب مقدس ۔امثال ۸:۱۴)


Mirta-ul-Insan

The Mirror of Man

The Sketch of Anthropology and Psychology

By

Rev. Mawlawi Dr.Imad ud-din Lahiz

1830−1900

The wisdom of the prudent is to give thought to their ways

(Proverbs 14:8)


 

فہرستِ مضامین مراۃ الانسان
دیباچہ
دفعہ۔ ۱ خدا شناسی کا بیان ۸
دفعہ۔ ۲ ماخذ خیالات کتاب ہذا کا ذکر ۹
دفعہ۔ ۳ ایمان کا بیان ۱۱
دفعہ۔ ۴ خدا تعالیٰ جاشانہ کا ذکر ۱۲
دفعہ۔ ۵ لفظ انسان کا بیان ۱۴
دفعہ۔ ۶ لفظ آدم کا بیان ۱۴
دفعہ۔ ۷ لفظ حوا کا بیان ۱۵
دفعہ۔ ۸ وحدت ابوی کا بیان ۱۵
دفعہ۔ ۹ انسان ایک خاص وقت سے دنیا میں ہے ۱۶
دفعہ۔ ۱۰ آدم کیونکر پیدا ہوا ۱۷
دفعہ۔ ۱۱ ہم سب کیونکر پیدا ہوتے ہیں ۱۹
دفعہ۔ ۱۲ انسان کی اصطلاحی تعریف ۳۱
دفعہ۔ ۱۳ نطق کےبیان میں ۲۳
دفعہ۔ ۱۴ جان اور وح کا بیان ۲۴
دفعہ۔ ۱۵ روح اور جان کی زیادہ توضیح ۲۵
دفعہ۔ ۱۶ نفس ناطقہ میں کچھ علوی کرنیں چمکتی ہیں ۲۶
دفعہ۔ ۱۷ فائدہ یاد رکھنے کی لائق ۲۸
دفعہ۔ ۱۸ انسانی حواس عشرہ کا بیان ۲۹
دفعہ۔ ۱۹ انسان کے دل کا بیان ۳۴
دفعہ۔ ۲۰ دماغ جگر گردوں اور انتڑیوں کا بیان ۳۵
دفعہ۔ ۲۱ غم کا بیان ۳۶
دفعہ۔ ۲۲ خوشی کا بیان ۳۸
دفعہ۔ ۲۳ جسم کے بدکاموں کا بیان ۴۳
دفعہ۔ ۲۴ انسانی جسم کے ناموں کا بیان ۴۳
دفعہ۔ ۲۵ روح انسانی کی صفات کا بیان ۴۴
دفعہ۔ ۲۶ روح انسانی غیر فانی ہے ۴۴
دفعہ۔ ۲۷ انسانی روح مجبور نہیں آزاد ہے ۴۵
دفعہ۔ ۲۸ روح ا نسانی میں دو طرفہ توج ہے ۴۵
دفعہ۔ ۲۹ روح جب گناہ میں ہے مردہ ہے مسیح اسے زندہ کرتاہے ۴۶
دفعہ۔ ۳۰ روح پر اندھیرا سا ہے جسکے چار مخرج ہیں ۴۷
دفعہ۔ ۳۱ خدا ہمارا نشانہ ہے ۴۸
دفعہ۔ ۳۲ نیند اور غنودگی کا بیان ۴۹
دفعہ۔ ۳۳ خواب کا بیان ۴۹
دفعہ۔ ۳۴ پیغمبروں اور مومنین کی خواب کا بیان ۵۱
دفعہ۔ ۳۵ اطوار تعلیم وتعلم ۵۱
دفعہ۔ ۳۶ اطوار تحقیقات کا بیان ۵۳
دفعہ۔ ۳۷ کامل انسان کا بیان ۵۵
دفعہ۔ ۳۸ انسان کے پیدا کرنے سے خدا کا کیا مطلب ہے ۵۷
دفعہ۔ ۳۹ موت کا بیان ۶۰
دفعہ۔ ۴۰ تعلقات ارواح مومنین باخداوند یسوع ۶۳
دفعہ۔ ۴۱ روح انسانی کے لباس کا بیان ۶۵

 


دیباچہ

حق تعالےٰ جل شانہ کی حمدوثنا کے بعد بند ہ عمادالدین لاہز ناظرین کتاب ہذاکی خدمت میں یوں عرض کرتا ہے کہ اب تک مجھے کوئی ایسا رسالہ نظر نہ آیا جس میں انسان کا ضروری بیان کچھ توہوجس کے وسیلہ سے عوام الناس اپنی روح کی کیفیت سے اور اپنی اندرونی حالت سے کسی قدر آگاہی حاصل کریں۔ یہ میں جانتا ہوں کہ میں اس لائق نہیں ہوں کہ یہ بھا ری کام کرسکوں اوراس بحث کے تمام پہلو جیسےچاہئے ویسے دکھلاؤں .تو بھی میں نے ارادہ کیا کہ خُدا سے دعامانگ کے جوکچھ لکھ سکتا ہوں لکھوں اوردوسرے ذی علم لائق آدمیوں کو جو مجھ سے بہتر کام کرسکتے ہیں اُبھاروں کہ وہ اس مہم کی طرف متوجہ ہوں اوریہ میرا رسالہ خود شناسی کے بارےمیں ایک ابتدائی کتاب ہوجائے۔ پس میں نے یہ رسالہ لکھ دیا اوراس کا نام ’’مِراۃ الانسان‘‘ رکھا۔

’’مِراۃ ‘‘ کے معنی ہیں ’’شیشہ‘‘ ۔ وہ سب شیشے جولوگوں کے گھروں میں ہیں اُن میں وہ اپنی ظاہری صورت کو دیکھ کے درست کیاکرتے ہیں تاکہ وہ اچھے معلوم ہوں۔ یہ کتابی شیشہ ہے ۔چاہئے کہ وہ اس میں اپنی اندرونی اورپوشیدہ کیفیت وحالت کو فکر کی آنکھ سے دیکھیں اوراپنی اصلاح کے درپے ہوں تاکہ خُدا کو پسند آئیں جس کی نگاہ انسان کے دل پر ہے۔

دفعہ  ۱

خود شناسی کے بیان میں

Raja Bazaar in Rawalpindi
راولپنڈی میں راجہ بازار

عربی زبان میں ایک قدیم کہاوت ہے اوراہل تصوف اُس کا استعمال بہت کرتے ہیں اوروہ صحیح کہاوت ہے جو یہ ہے (مَن عرف نفسہ فقد عرف ربہُّ)یعنی ’’ جس نے اپنے آپ کو پہچانا اُس نےاپنے رب کو پہچا نا‘‘۔ ’’رب‘‘ کے معنی ہیں’’ پرورش کنندہ‘‘۔ ’’ربیب‘‘ کے معنی ہیں’’ پرورش یافتہ‘‘۔ ہم سب ربیب ہیں ہمارا کوئی رب ہے اُسی کا دوسرا نام خُدا تعالیٰ ہے اور ربوبیت وہ کام ہے جو رب اورربیب کے درمیان رب سے ہوتا ہے۔

اگر آدمی  اپنےآپ کو پہچانیں کہ ہم کون ہیں ؟اور کس حال میں ہیں؟تو اس شناخت کے وسیلہ سے خُدا کی شناخت کہ وہ کون ہے؟ اورکیسا ہے؟آسان ہوجاتی ہے۔رب کی شناخت سے مراد یہ ہے کہ اُس کی کچھ شان اورمرضی معلوم ہوجائے کہ وہ کیسا ہے؟ اورکیا چاہتا ہے؟یہ معلوم کرکے جب کوئی اُس کی مرضی کے تابع ہوتا ہے تب وہ شخص اپنی ٹھیک وضع کے منشاء میں قائم ہوکے خُدا کا مقبول اورمبارک بندہ ہوجاتا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ اس کہاوت کا مطلب بعض صوفیوں نے غلط سمجھا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’’اپنے نفس کا پہچا ننا رب کا پہچاننا ہے‘‘ یعنی’’ تمہارا نفس ہی تمہارا رب ہے‘‘ اوریو ں وہ ہمہ اوست کاد م بھرتے ہیں۔ یہ اُن کا خیال اس لئے غلط ہے کہ خود شناسی سے حاصل نہیں ہوتا ہے بلکہ خود فراموشی سے یہ جہالت نکلتی ہے۔

رات دن کے تجربوں سے ہمیں معلوم ہے کہ جس کسی آدمی پر خُدا کا فضل شروع ہوتا ہے۔ پہلی بات جو وہاں نظر آتی ہے یہی ہے کہ وہ شخص اپنے آپ کو پہچاننے لگا کہ میں بڑا گنہگار، سخت ناتواں ،نہایت محتاج ہوں، نادان ہوں، نکما ہوں ۔ خود شناسی خُدا شناسی کی پہلی منزل ہے جس قدر ہم معرفت ایزدی (خُدائی)میں بڑھتے جاتے ہیں اُسی قدر ہم آپ کو زیادہ پہچانتے جاتے ہیں۔آخر کار ہم بڑےعارف ہوکے یوں کہتے ہیں یقیناً ہم سب سے زیادہ خطا کار، سب سے زیادہ نادان ،سب سے زیادہ ناتواں اوربالکل رحم کے محتاج ہیں اور خُدا تعالیٰ نہایت مہربان، نہایت پاک ،بڑا دانا ،بڑا حکیم ،بڑی قدرت اورطاقت والا ہے۔اُس نے یسوع مسیح میں ہمارے لئے بڑا ہی رحم کا دروازہ کھولدیا اورہم اُس میں داخل ہوکے ضرور بچ گئے ہیں۔

کلامِ اللہ سے جو معرفت ہمیں حاصل ہوتی ہے اُس کا خلاصہ تویہی ہے جو میں نے اوپر سُنایا لیکن یہ بھید جس پر کھلتا ہے وہی اِ س کا لطف اُٹھاتا ہے اوراپنے کو ایسا او ر خُدا کو ویسا دریافت کرکے اپنی رُوح کو بڑے چین کے مقام میں پاتا اورخُدا میں خوشی مناتا ہے۔

اس بیان سے میرا یہ مطلب ہے کہ کتاب اللہ یعنی با ئبل شریف جو سارے جہان کی ہدایت کے لئے خُدا نے نبیوں سے لکھوائی ہے اُس میں بھی یہی طریقہ برتا گیا ہے کہ لوگ وسیلہ خود شناسی کے خُدا شناسی تک پہنچ جاتے ہیں اوریہ وہی بات ہے کہ جب تک کوئی اپنے آپ کو بیمارنہ جانے طبیب کے پاس نہیں آتا۔ یہ سب لوگ جو مذہبوں کی بابت جھگڑتے پھرتے ہیں بے فائدہ کام کرتے ہیں۔چاہئے کہ سب تکرار اورمباحثے چھوڑ کے ذرا اپنی طرف متوجہ ہوں اور دریافت کریں کہ ہم کون ہیں؟ اورکیسے ہیں؟ تو اُ ن کے سامنے سے بہت سی مشکلات خودبخود حل ہوجائیں گی اوروہ اپنے اندرونی امراض سے آگاہ ہوکے علا جِ مناسب کےجویاں (تلاش کرنے والے) ہوں گے اوراُس وقت اُنہیں معالج نظر آجائیگا اوروہ اُس کے پاس آکے صحت بھی پائیں گے۔

دنیا میں یہی حال ہورہا ہے کہ ہرتکراری اوربکو اورجھگڑا لوآدمی جب اپنی بکواس سے چپ کرکے اپنے گریبان میں سر ڈالتا ہے اوراپنی طرف دیکھتا ہے۔ تب اُسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر طرف اندھیرا ہے صرف کلام اللہ میں روشنی ہے۔ بلکہ کلام اللہ کے کسی ایک ہی فقرہ کا جلال اس کی روح کو خُدا کی طرف کھینچ لاتا ہے اورزندگی کے سوتے تک پہنچا دیتا ہے۔کس کو ؟ اُس کو  جو اپنی حالت پر متوجہ ہوکے اور اپنےآپ کو بیمار دریافت کرکے صحت کا طالب ہوتا ہے۔ 

دفعہ ۲

ماخذ خیالات کتاب ہذا کے بیان میں

اس کتاب کے ماخذ خیالات کے بارےمیں چند مہینوں تک میں فکر مندرہا۔ اگرچہ میں یہ جانتا تھا کہ بائبل شریف کے سوا دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے کہ انسانی کیفیت کو پورا پورا بیان اُس میں ہو۔ لیکن بعض آدمی بائبل شریف پر ایمان نہیں رکھتے اوراُس کی دلیلوں پر توجہ نہیں فرماتے۔وہ ہمیشہ دنیا وی حکیموں کے عقلی خیالات کی طرف تاکا (دیکھنا )کرتے ہیں پس اُن کے لئے مجھے ایسے خیالات کی تلاش اورتنقید میں کچھ عرصہ تک رہنا پڑا اورجہاں تک اُن کے ایسے خیالات میں نے پائے اورپر کھے اُن میں میری کچھ سیری نہیں ہوئی اوربہت ہی تھوڑا ساذخیرہ تنقید کے بعد میرے ہاتھ میں رہ گیا۔اگر صرف اُسی کو اس کتاب میں لکھتا تو یہ کتاب ’’مِراۃ الانسان‘‘ نہ ہوسکتی تھی کیونکہ وہ بہت ہی تھوڑی باتیں ہیں۔

پس میرا وہ اعتقادی خیال اس وقت اوربھی زیادہ پختگی کو پہنچ گیا کہ انسان کی کیفیت اوراُس کی پوری حالت کا بیان صرف اُ س کا خالق ہی کرسکتا ہے جو انسان سے واقف ہے یہ کام بھی آدمیوں سے پورا نہیں ہوسکتا ہے۔عقلی اورعلمی روشنی سے آدمی آپ کو جیسا چاہے پہچان نہیں سکتے۔ الہٰی آسمانی الہامی روشنی جب آدمیوں پر چمکتی ہے تب وہ آپ کو پہچانتے ہیں کہ ہم کیسے ہیں ؟پس میں حکمائی خیالات کی طرف سے بہت ہٹ گیا اورکلام کی طرف متوجہ ہوا  کہ اُس کی ہدایت کے سامنے کسی حکیم کی رائے تسلی بخش چیز نہیں ہے۔

اوراس وقت میں ناظرین سے یہ بھی کہتا ہوں کہ انسان کی کیفیت اورحالت کابیان جو بائبل شریف میں ہے تین قسم پرمنقسم ہے۔

  1.  انسان کی ابتدائی حالت کابیان ہے کہ وہ کیونکر اورکس مطلب سے پیدا کیا گیا؟
  2. اُس کی انتہائی حالت کا بیان ہے کہ اُس کا انجام کیاکچھ ہوگا؟
  3. اس کی حالت موجودہ کابیان ہے کہ آدمی فی الحال کیسے ہیں ؟اُن کی حالت کیسی بگڑی ہوئی ہے اور اُن کی اصلاح کیونکر ہوسکتی ہے؟

پس ان تین  قسموں کے بیان میں سے پہلی اوردوسری قسم کا بیان حکما(حکیم کی جمع)سے کچھ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ غیب کی خبریں ہیں جو عقل سے نہیں کھل سکتیں۔ ہاں وہ کچھ امکانی تجویزیں سنایا کرتے ہیں جن کا کچھ ثبوت نہیں ہوا کرتا۔

البتہ تیسری قسم کا بیان دنیا کے لوگ کچھ کرسکتے ہیں اور کچھ کیا بھی ہے ۔لیکن یہ بھی پورا پورا بیان اُن سے نہیں ہوا ۔جہاں تک اُن کی عقل دوڑی وہ کچھ بولے ہیں اوراس بیان کے دوسرے حصہ میں انسان کی اصلاح کیونکر ہوسکتی ہے؟ بڑے اختلاف ان لوگوں میں ہیں اوریہ سب مذہب جو دنیا میں جاری ہیں ۔یہ سب اُن کے اختلافات کی وجہ سےجاری ہیں اوراصلاح کی راہ کچھ نہ کچھ دکھاتے ہیں۔

لیکن ا س مقام پر دو سوال کرنے لازم ہیں

اول

اُن کی بیماری کیا ہے اورتُم اُس کا علاج کیا بتاتے ہو اوراُس علاج کو کیا نسبت اس بیماری سے ہے ؟

دوم

ان کے اُس علاج سے جو تم بتاتے ہو کس کس نے صحت پائی ہے؟ اُن کے نام بھی پیش کیجئے ؟

یہ دونو ںسوال دنیا کے سب جھوٹے مذہبوں کو گرادیتے ہیں اورعیسائی دین کی عظمت دکھاتے ہیں۔دنیا وی مذاہب نہ انسان کی بیماری کا حال پورا پورا سناتے ہیں نہ اُس کا علاج مناسب دیکھاتے ہیں نہ صحت یا فتوں کے نمونے پیش کرسکتے ہیں ۔اُن کے اہل ناحق لڑنے پھرتے ہیں۔

کلام اللہ جو بائبل شریف ہے اُ س میں انسان کی نسبت ماضی اورحال واستقبال کا پورا بیان لکھا ہوا ہے اورتسلی بخش ہے اوراصلاح کی راہ ایسی دکھلاتا ہے جو کیفیت بیان شدہ یا تشخیص شدہ کے مناسب ہے اوراُس سے ہزار ہا ہزار آدمی صحت یافتہ ہیں اورہم نے خود اس راہ سے صحت پائی ہے۔ پس اب فرمائیے کہ یہ کونسی عقل کا حکم ہے کہ ہم اس کلام اللہ کی طرف سے جوایسا ہے چشم پوشی کرکے اُن حکماکے اُن چند بے سروپاخیالات ہی کی طرف تکا کریں اوراُن ہی کو اعلیٰ درجہ کی دلیلیں سمجھیں اُن میں کیا عُلویت (بُلندی)گھس رہی ہے وہ تو وہم سے ہیں۔

ہاں یہ میں کہتا ہوں کہ جو کچھ ان لوگوں نے درست طور سے کہا ہے۔ ہم بہ شکر اُسے قبول کریں گے  اورتکمیل وترقی کے لئے کلام اللہ کی طرف متوجہ ہونگے اورکلام میں انسان کی حالت ِموجودہ کا جوذکر ہے اُس پر غور کریں گے ۔کہ فی الواقع انسان ایسا ہی ہے یا نہیں۔ اگر انسان ایسا نہیں ہے تو خیر جانے دو کلام کو نہ مانواوراگر وہ ایسا ہی ہے تو عیاں راچہ بیاں (ف ۔مثل ۔ظاہرا اور علانیہ چیز کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں )اپنی چشم دیداور تجربہ کی گواہی سے اس بیان کو قبول کرلو اوراصلاح کی فکرکرواوراگر اپنی اصلاح آپ کرسکتے ہو تو کرلو اورجو اُسی بدحالت میں مرنا منظور ہے تو اختیار باقی ہے اوراگر اصلاح چاہتے ہو اورخود نہیں کرسکتے تو اُس معالج کے پاس چلے آؤ جو بائبل میں ظاہر ہوا ہے اوراُس کی دوابھی کھاؤ تب دیکھو گے کہ کیا ہوگا۔

دفعہ ۵

لفظ انسان کے بیان میں

لفظ انسان کی اصل’’ اِ نسی‘‘ ہے۔ لفظ ’’ انسی‘‘ پر زیادتی معنی کی غرض سے الف نون زیادہ کیا گیا جیسے رحما ں میں کثرت رحم دکھانے کے لئے الف نون زیادہ کیاگیا ہے۔پس ’’اِنسی‘‘ سے ’’انسیان ‘‘بناکثرت استعمال سے یائے تحتانی (وہ حرف جس کے نیچے نقطے ہوں) گرگئی (یعنی ختم کر دی گئی) انسان رہ گیا۔لفظ’’ اِنسی‘‘ ضد ہے ’’وحشی‘‘ کی۔ ’’انسان‘‘ کے معنی ہیں ’’وہ شخص جو بڑے محبت واُنس والا ہے‘‘۔ مذکر، مونث، واحد وجمع سب اس میں یکساں ہیں۔ انسان کی حالت تمدنی کا بیان اس لفظ میں خوب ہے۔ اب آپ سوچیں کہ اگر ہم کینہؔ توز  اورخود غرؔض اور بے محبت اور وحشی مزاج ہوں تو ہم اسم بامُسمّٰی (جیسا نام ویسے گُن)انسان ہیں یا نہیں اورایسے لوگوں نے کہاں تک اپنی وضع سے انحراف کیا ہے؟

دفعہ ۶

لفظ آدم کے ذکر میں

’’آدم‘‘ نام ہے اُس شخص کا جو پہلا انسان اورسب انسانو ں کا باپ تھا۔ اس لفظ کےمعنی ہیں ’’مٹی یا سرخ مٹی ‘‘کیونکہ وہ شخص سرخ مٹی سے بنایا گیاتھا۔ اگرچہ اس کی بناوٹ میں اور سب مخلوقات ارضی کی ساخت میں بڑا امتیاز ہے کہ وہ عجیب طور سے بنا ہے اوراس میں زندگی کا دم خُدا نے پھونکا ہے۔ اور وہ سب ارضی  مخلوقات پر حاکم ہے بلکہ تمام کا رخانہِ زمین  اسی کے لئے تیار ہوا ہے ۔تو بھی اُس کا نام ’’آدم‘‘ ہے یعنی ’’مٹی‘‘۔ اس لفظ میں اُس کے جُز اسفلی کا بیان ہوتا ہے کہ وہ یادرکھے کہ میں آدم ہوں یعنی مٹی۔پس ہم سب کو چاہئے کہ اس لفظ کے معنی یادرکھیں اورخاکسار رہیں۔ مغروری کی سربلندی کو دل میں جگہ نہ دیں کہ ہم خاک ہیں اورخاک میں جائیں گے۔ ’’خاک شوپیش ازآں کہ خاک شوی ‘‘۔

دفعہ۷

لفظ حوا کابیان

اس لفظ کے معنی ہیں ’’زندگی‘‘۔ یہ نام آدم نے اپنی بی بی کو دیا تھا کیونکہ وہ سب زندوں کی ماں ہے (پیدائش۲۰:۳)۔ اِس عورت کی پیدائش نر میں سے ہوئی تھی۔اسی لئے ناری کہلاتی ہے کہ نرمیں سے نکلی۔ خُدا نے آدم کو ایک ہی عورت دی تھی۔اس سے خُدا کا قانون معلوم ہوا کہ ہر مرد کو ایک ہی عورت چاہئے۔ عورتوں کی کثرت کا دستور آدم کےپوتےلمک بن قائن نے سب سے پہلے دنیا میں نکالا ہے۔ عدہ اورضِلہ اُس کی دو بیویاں تھیں (پیدائش ۱۹:۴)۔یہ آدمی خونی تھا اوراس کا باپ قائن بھی خونی تھا۔ اب جو کوئی ایک سے زیادہ عورتیں جمع کرتا ہے وہ اس شخص کی سنت پر چلتا ہےخواہ وہ نبی ہو یا غیر نبی۔ یہ سچ ہے کہ پرانے عہد نامہ کے انتظام میں یہ دستور کچھ معیوب نہ تھا اورخُدا تعالیٰ نے بھی اس معاملہ میں کچھ طرح(درگزر) سی دی تھی۔ کسی حکمت کے سبب سے لیکن جب پاکیزگی کا کمال ظاہر ہوا تو سب کچھ صاف روشن ہوا ہے۔ خُدا نے ایک جوڑا آدم اورحوا کا شروع میں پیدا کیا اوراب دیکھو کہ یہ زمیں اُس جوڑے کے بچوں سے کس قدر معمور ہے۔

دفعہ ۸

وحدت ابوی کا بیان

سب آدمی  بنی آدم کہلاتے ہیں۔’’  بنی‘‘ اصل میں ’’بنیں‘‘ تھا۔ نون جمع کا باضافت گرگیا یعنی آدم کے فرزند۔یہ آواز دنیا کے شروع سے چلی آتی ہے کہ سب آدم کے بچے ہیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ خیال تھوڑے دنوں سے مشہور ہوا ہے۔

ہم نے سُنا ہے کہ آدم ایک خاص شخص تھا اوراُس کی ایک خاص زوجہ تھی اوراُن دونوں کو خالق نے کچھ اورہی قاعدہ سے پیدا کیا تھا۔اُن سے یہ سب آدمی پیدا ہوئے ہیں اوراسی آدم کی طرف منسوب ہوکے’’ بنی آدم ‘‘کہلاتے ہیں۔ اگر یہ خیال درست ہے تو’’وحدت ابوی‘‘ کے سبب سے ہم سب ایک ہی گھرانے کے بچے ہیں۔

بعض اشخاص نے ’’وحدت ابوی‘‘ کے بارےمیں اختلاف ظاہر کیا ہے۔پس ان کے گمان میں کئی ایک آدم ہوں گے لیکن اُن کی دلیلیں جو اس بارے میں ہیں تسلی بخش نہیں ہیں۔ اُنہیں عقل سلیم قبول نہیں کرتی۔ ’’وحدت ابوی ‘‘  کا خیال بہت صحیح معلوم ہوتا ہے اورا لہامی تواریخ میں ہے اورجہانگیر ہے۔ دلکش بھی ہے اوراس کے ثبوت کی تائید میں ہمارے پاس ذیل  میں خیالات موجود ہیں۔ ان پر بھی غورو فکر کرو۔

  1. ۔ سب دنیا کے آدمیوں میں بدنی ساخت یکساں ہے۔
  2. ۔ ہر درجہ کے آدمیوں میں اخلاقی ا وروحی کیفیت کے اصول مساوی ہیں۔ اوراس سے اتحاد نوعی ظاہر ہوکے منبع کی وحدت دکھاتا ہے۔
  3. ۔ آدمیوں میں کچھ تفریقیں بھی ہیں، لیکن ایسی تفریقیں نہیں ہیں جیسی مختلف انواع کے جانوروں کی آمیزش سے اُن کےپھلوں میں ہوتی ہیں۔ آدمیوںمیں جو تفریقیں ہیں وہ مختلف ممالک کی آب و ہوا اورمختلف اطوار معیشت اورتاثیرات ملکیہ کے سبب سے ہیں۔ چنانچہ افریقہ ،ایشیا اوریورپ کے باشندوں میں کچھ فرق سا نظرآتا ہے مگرا نسانیت کے ذاتی اصول برابر ہیں۔
  4. ۔ علم ترکیب ارضی سے ثا بت ہوگیا ہے کہ ترکیبی نسلیں آگے نہیں بڑھتیں ،صرف فطری نسلیں آگے چلتی ہیں۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مختلف ممالک کے آدمی آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں اور اُنکی نسلیں برابر دنیا میں چلتی ہیں۔ اس سے وحدت ابوی ظاہر ہے۔

     

  5. ۔ کل بنی آدم میں نوعی موانست ہے اوریہ سرچشمہ کی وحدت کے سبب سے ہے اوراَور قیاس بھی اسی طرح کے نکلتے چلے آتے ہیں۔ ہمارے دلوں کو مستعد کرتے ہیں کہ ہم بموجب ہدایت بائبل شریف کے آدمیوں میں وحدت ابوی کے قائل ہوں اورکہیں کہ ہم سب آدم کےبچے ہیں۔ کسی کا باوا آدم نرالا نہیں ہے اوریہ جدائیاں جو باطل تعلیمات نے آدمیوں میں ڈالی ہیں نادانی اورمغروری کے سبب سے ہیں اوربہت مضر ہیں۔ انجیل شریف ان جدایوں کو دور کرتی ہے اورسب آدمیوں میں ایک ہی لہوثابت کرتی ہے۔ اب وہ سب لوگ جنہیں دنیا کے خود پسند لوگوں نے ذلیل ٹھہرا کے الگ کھڑا کررکھا ہے چاہئے کہ خوشی کا نعرہ مار کے مسیح یسوع خُداوند کی جماعت میں چلے آئیں کہ وہی ہے جو سب کا حق دیتا ہے۔

دفعہ ۳

ایمان کے بیان میں

انسان کی ابتدا اور انتہا کی بابت جو بیانات بائبل میں ہیں وہ سب ایمان سے مانے جاتے ہیں آپ لوگوں میں ایمان ہے یا نہیں؟

ایمان نام ہے اُس یقین کا جو اُن نادیدہ اورمعتبر اشخاص سے شنید ہ باتوں کی نسبت ہوتا ہے جو خُدا سے علاقہ رکھتی ہیں۔ اس لئے کہ وہاں تک عقلی تحقیقات کو رسائی نہیں ہوتی۔

 ہم سمجھتے ہیں کہ سب آدمیوں کو ایمان کی ضرورت ہے اورصحیح ایمان جو لا ئق بھروسہ کےہے۔ وہ صرف بائبل شریف میں بیان ہوا ہے۔ بعض آدمی ایمانی ضرورت کے توقائل ہیں ،لیکن بائبل کے باہر کچھ اَورطرح کے ایمان رکھتے ہیں جن کے  وہ خوگر (عادی) ہوگئے ہیں۔ اُنہوں نے ایمانوں میں مقابلہ کرکے صحیح ایمان کی تلاش کبھی نہیں کی۔وہ لکیر کے فقیر ہیں اورتحقیقات کے نام سے جلتے ہیں اوراگر بہ مجبوری عقل کچھ تحقیق کرتے بھی ہیں  تو اُس جانب کو جھکتے ہیں جس میں اُن کی غرض قائم رہے۔ وہ حق کے طالب نہیں ہیں کہ راستی کی طرف جھکیں۔ بعض ایسے ہیں جو کچھ بھی ایمان نہیں رکھتے سب ایمانوں سے بیزار ہیں کیونکہ اُنہوں نے بعض ایمانوں کو جھوٹا پایا ہے۔اس لئے سب جھوٹے ایمانوں میں سچے ایمان کو بھی ملا کے کہتےہیں کہ سب ایمان غلط ہیں جو کچھ اُن کا دل چاہتا وہ کرتے ہیں۔

ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ اگر انسان میں بائبل والا ایمان نہ ہو اَورکوئی ایمان ہو یا نہ ہو وہ بے ایمان ہے اور اُس کی روح ہلاک ہوجائے گی۔

اس رسالہ کے ناظرین باایمان قسم اول اور قسم دوم کا بیان بھی قسم سوم  کے ساتھ ضرور مانتے ہیں۔لیکن وہ جو با ایمان نہیں ہیں میں اُن سے کہتاہوں کہ آ پ لوگ قسم سوم کے بیان میں ضرور غور کیجئے اورسوچئے کہ آ پ اُسی قسم کے آدمی ہیں یا نہیں۔ اتنی خود شناسی بھی مفیدہوگی اورایمان بھی اس سے پیدا ہوجائےگا پھر آپ لوگ بہت کچھ خُدا سے پاسکتے ہیں۔

تینوں قسم کے بیان اس کتاب میں رلے ملے آتے ہیں ناظرین کو خود سمجھناہوگا کہ یہ کس قسم کا بیان ہے ؟

اوریہ بھی یادر ہے کہ پہلی ا وردوسری قسم کا بیان اگرچہ ایمان سے مانا جاتا ہے اورتیسری قسم کا بیان معائینہ فکر ی سے۔ توبھی ہماری حالت موجودہ کا معائینہ ابتدائی وانتہائی بیانات کے درمیان ہوکے ایک خاص نسبت وعلاقہ ہم میں اوراُن دونوں بیانوں میں ظاہر کرتا ہے۔ اگر سنجیدگی سے بغور کچھ دیکھ سکتے ہو تو دیکھو اوریقین کرو کہ بائبل اپنے بیان میں برحق ہے ۔

دفعہ ۴

خُدا تعالیٰ جل شانہ کے بیان میں

جہاں تک موجودات خارجیہ کی کیفیت آدمیوں کو معلوم ہوئی ہے یہی دریافت ہوا ہے کہ ہرخارجی موجود قائم بالغیر ہے۔پھر وہ غیر بھی قائم بالغیر ہے اورہو نہیں سکتاکہ یہ تمام قائم بالغیروں کا سلسلہ بھلاکسی علت ’’قائم بالذات‘‘ کے قائم اورموجود ہوسکے۔ علتہ العلل قائم بالذات کا ہونا عقلاً ضرور ہے۔ اُسی کا نام اہل علم نے ’’واجب الوجود‘‘ رکھا ہے اوریہ نام ایک ماہیت کی واجب ہستی کا ہے نہ کسی خاص شخص کا۔ اُس ہستی کا ہمسر کوئی نہیں ہوسکتا ،اس لئے اُس کے ہمسر کانام اُنہو ں نے ’’ممتنع الوجود‘‘ رکھا ہے اورتمام جہان کی اشیاء مخلوقہ(خلقت) کواُنہوں نے ’’ممکن الوجود‘‘ کہا کہ اُن کی ہستی کا ہونا یا نہ ہونا امر ضروری نہیں ہے بلکہ واجب الوجود صانع (خالق)کی مرضی پر موقوف ہے اورہر چیز ایسی ہی ہے۔

دنیا کے شروع سے سب قوموں میں یہ خیال برابر چلا آتا ہے کہ ایک ہستی ہے جو از خود ازل سے ابد تک موجود ہے۔اُسی سے سب ہستیاں موجود ہوئی ہیں۔ ہر زبان میں اُس ہستی کے لئے دو چار لفظ نہایت عمدہ پائے جاتے ہیں جنہیں اُس زبان کے اہل نے اپنے محاورات میں بہ تکریم (تعظیماً)استعمال کیا ہے اور اپنی روحوں کے لئے اُن کے مفہوم کو جائے پناہ دیکھایا ہے مثلاً عبرانی میں لفظ ’’الوہیمؔ‘‘ ہے بمعنی ’’معبودان‘‘ صیغہ جمع کا ہے اوراُس ماہیت واحدہ کی نسبت استعمال ہوتا ہے۔ اورلفظ ’’یہوواؔ ہ‘‘بمعنی ’’ہستی قائم بالذات‘‘ اُس کا اسم اعظم ہے۔ایسا ہی لفظ ’’ خُدا‘‘ ہے اصل میں ’’خودآ‘‘تھا کہ اسم فاعل ترکیبی ہے بمعنی ’’خود آیندہ کہ از خود موجود است‘‘ ۔

اِس ہستی کا ثبوت ہمیشہ استدلال اِنّی سے ہوتا ہے۔جس میں معلول (اصطلاح منطق میں نتیجہ) سے علت کا سراغ لگاتے ہیں اور اس طرح اس کی صفات کا ثبوت ہوتا ہے اوردلائل اِنیہ اس مقصد پر جہان میں بکثرت موجود ہیں کیونکہ یہ بےشمار معلولات اس قسم کے دلائل پیدا کرتےہیں۔لیکن ان دلائل سے صرف اتنا ہی ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ہستی قائم بالذات ضرور کہیں موجود ہے ،جس کا نظیر معدوم ہے اور جس میں حکؔمت، قدؔرت اوراراؔدہ ہے۔ کیونکہ ہر معلول میں یہ تین صفتیں مستعمل نظر آتی ہیں۔ لیکن اُس ہستی کا علم بالکہنہ (پکارنے یانِدا دینے کا طریق ) کسی انسان اورفرشتہ کے بھی ذہن میں نہیں سماسکتا۔ اے برتر از خیال وقیاس وگمان ووہم۔ وزہرچہ گفتہ اندشنید یم وخواندہ ایم۔اگر اُسکی ذات وصفات کا علم بالکہنہ کما ہو ہو کسی مخلوق کے ذہن میں سما سکتا تو وہ خُدا نہ  ہوتا۔مخلوقات کے احاطہ فکر ی میں خالق کا علم محدود ہوجاتا۔وہ جو کہتے ہیں کہ پہلے ہمیں سمجھا دو کہ خُدا کیا ہے؟ تب ہم ایما ن لائینگے۔ اُن کا مقصد یہ ہے کہ پہلے ہم خُدا کے ہمسر یا اُس سے بڑے ہوجائیں ،تب اسے مانیں گے۔ سوچوکہ یہ حماقت ہے کہ نہیں؟ کہ وہ لوگ لاانتہا کو اپنے ذہن کی نِہَتی ڈبیا میں بند کرنا چاہتے ہیں۔کیا ایسا ہونا کبھی ممکن ہے ؟

خُدا نے آپ کو بذریعہ ہماری عقل کے اوربذریعہ کتب الہامیہ کے ہمارےظروف کے اندازہ پر ہمارے سامنے ظاہر کیا ہے۔ اورجس قدر اُس کے فضل سے ہمارے دلی اورخیالی طرف فراخ ہوتے جاتے ہیں، اس قدر زیادہ سے زیادہ ہم اُسے پہچانتے جاتے ہیں اورمعلوم نہیں کہ کہاں تک ترقی ہماری ہوگی؟

بڑی بحث جو اہل دنیا خُدا کی بابت ہم سے کرتے ہیں  وہ وحدت اورتثلیث کے بارے میں ہے۔ جس کا مفصل بیان اِس مختصر رسالہ میں نہیں ہوسکتا۔ انشاء اللہ آئندہ کسی کتاب میں ہوجائیگا اس وقت چند فقرے اجمالاً (اِختصار کے ساتھ) یہاں لکھنا کافی ہے۔

عقل سے جہاں تک خُدا معلوم ہوسکتا ہے آدمی جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں لیکن زیادہ ترقی اس بارےمیں عقل سے نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ خود نہ بتلائے کہ میں کیاہوں ؟ اوریہ  بات ثابت ہوچکی ہے کہ یقیناً اُس نے دنیا میں پیغمبر بھیجے اورالہام دیا جو بائبل میں ہے۔ پس ہم عقلی ہدایت سے کچھ زیادہ اس بارے میں اُس کے کلام سے سیکھتے ہیں اور زیادہ روشنی اورتسلی حاصل کرتے ہیں۔کیونکہ جو کچھ کلام سکھاتا ہے وہ عقل کے خلاف نہیں ہے ۔یا عقل کے مناسب ہے یاعقل سے بلند ہے۔ اوریہ بات ہمیں خوب معلوم ہے کہ ضرور خُدا تعالیٰ ہمارے فہم سے بلند وبالا ہے۔

خُدا واحد ہے۔یہ بات برحق ہے اورہم ایمان سے کہتے ہیں لااِلہ الاللّٰہ لیکن یہ کہنا کہ خُدا واحد ہے اس کا مطلب کیا ہے؟ غور طلب بات ہے ۔ خُدا نام ہے ایک ماہیت کا جیسے انسانیت، حیوانیت ،ملکیت وغیرہ ماہتیں ہیں۔الوہیت بھی ایک ماہیت ہے اورسب ماہیتیں قائم بالغیر اورمرکب ہیں۔وہ ماہیت غیرمرکب اورقائم بالذات ہے۔ ممتاز بے نظیر اورازلی وابدی سب ماہتیوں کی موجد اورسب کے اوپر حاکم ہے۔

لیکن اس کی وحدت کیسی ہے ؟عقل سے اس کا بیان نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وحؔدت فردؔی اورنوؔعی اورجنسی کو وہاں دخل نہیں ،ورنہ خُدا ئی کی شان نہیں رہتی ہے اورنہ وحدت وجودی ہے جو مغایرت (اجنبیت)کو معدوم کرتی اوراپنے قائل کو بڑا مشرِک بلکہ منکرِ خُدا بناتی ہے۔ یہی کہنا پڑتا ہے کہ اس کی وحدت کچھ اورہی قسم کی ہے جو فہم سے بلند وبالا ہے۔

کلام سے ثابت ہو اکہ اس کی ماہیت واحدہ ہے اوراس میں تین اقنوم ہیں یعنی تین شخص ’’ اؔب ‘‘،’’  ابؔن‘‘، ’’روؔح القدس‘‘ اُن کے نام ہیں ۔ جو ماہیت’’ابؔ تعالیٰ‘‘ کی ہے وہی ماہیت’’ابؔن‘‘ اور’’ روحؔ القدس‘‘ کی ہےکیونکہ اُن کا جو ہر ذات ایک ہے۔ صفات بھی ایک ہیں۔ حکمت، قدرت اورارادہ ایک ہے۔ صرف تعدد شخصی ہے ،ورنہ ہر طرح سے ایک ہیں اوریہی واحد خُدا ہے۔ خُدا نے اپنی ذات کابیان اپنے کلام میں یوں ظاہر کیا ہے اورہم اُس کے فضل سے سمجھے ہیں کہ یہ حق ہے۔ اِسی کا ماننا خُدا کا ماننا اوراس کا انکار خُدا کا انکار ہے۔ یہ خیال خُدؔا نے ظاہر کیا پیغمبرؔوں سے پہنچا اوربائبل شریف میں بہ تفصیل بیان ہو ااور مومنؔین کے دلوں اورخیالوں میں زندگی اورروشنی بخش نظرآیا اور فکؔر سے دریافت ہوا کہ خُدا اِس عقیدہ کا حامی ہے۔ بلکہ ساری پاک روحانی برکتیں اورمعرفت ِ الہٰی کے اسرار اُنھیں آدمیوں کے حصہ میں ہیں جو اِس واحد فی التثلیث خُدا کو مانتے ہیں۔ تم خود سوچو کہ تمام دنیا کے اہل مذاہب میں معرفت الٰہی اورخُدا شناسی کے بارےمیں کونسا فرقہ بڑھا ہوا ہے؟ صرف عیسائی لوگ۔ اس کا سبب یہی ہے کہ حقیقی اورزندہ خُد ابھی بائبل والا خُدا ہے جو ان کی روحوں میں بوسیلہ اس ایمان کے موثر ہے اورنوربخش ہے۔ اُوراہل مذاہب جو تاریکی میں رہتے ہیں اس کا سبب یہی ہے کہ اُن کے فرضی اوروہمی یا عقلی خُدا جو فی الحقیقت ناچیز شے ہیں کچھ روشنی اورزندگی اُن میں داخل نہیں کرسکتے۔ جب سب بطلان دفع ہونے کا وقت آئےگا یہ سب لوگ بے خُدا کھڑے رہ جائیں گے اورحقیقی زندہ خُدا اہل انجیل کے ساتھ سب کو معلوم ہوجائیگا۔

دفعہ ۹

اِنسان ایک خاص وقت سے دنیا میں ہے

آدم کسی خاص وقت میں موجود ہوا تھا وہ ہمیشہ سے نہ تھا۔لیکن وہ کب پیدا ہوا تھا؟ اُسے کتنے برس کا عرصہ گزرا؟ اس کے سن سال کا قطعی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔ احتمالی ثبوت ہے نہ قطعی۔اوروہ یہ ہے کہ عہد عتیق کے عبرانی نسخوں کے نسب ناموں پر فکر کرکے ہمارے بزرگ عالموں نے یوں دریافت کیا ہے کہ آدم ہمارے خُدا وند یسوع مسیح سے (۴۰۰۴)برس پہلےدنیا میں پیدا ہوا تھا اور اس تعداد کے ساتھ اس وقت (۱۸۸۹)مسیحی برس ملانے سے (۵۸۹۳)برس آدم کو ہوتے ہیں۔عموماً کلیسیاء میں یہ تعداد مسلم ہے بلکہ کلام اللہ کے حاشیہ پر بھی مرقوم ہے۔ کیونکہ پرا نے نسب ناموں کے حساب سے بھی تعداد اتنی ہے۔

 سپتو اجنت Septuagint اورتواریخ یوسیفس Josephus سے جہاں حدیثوں کی بھی رعایت ہے۔آدم سے مسیح تک (۵۵۰۰)برس کا عرصہ نکلتا ہے۔اس لئے ہم برسوں کی تعداد قطعاً معین نہیں کرسکتے اور نہ کسی تعداد پر زور دیتے ہیں کیونکہ ہمارا کوئی ایمانی مسئلہ کسی تعداد پر موقوف نہیں ہے۔ہوسکتا ہے کہ وہی حساب درست ہو جو عبرانی نسخوں سے آتا ہے۔

ہاں اس بات کا ثبوت ہم پر واجب ہے کہ جہاں کی پیدائش میں آدم خُدا تعالیٰ کی آخری مخلوق تھا اور کہ چھٹے دن میں آدم اورحوا کی پیدائش ہوئی ہے۔ ان کی پیدائش کے بعد کسی اورچیز کی پیدائش کا ذکر نہیں ہے۔ یہاں سے دوباتیں نکلتی ہیں۔

اول آنکہ وہ جوڑا آدم اور حوا کا تمام پیدائش میں آخری مخلوق تھا۔

دوم ان کی ساری جسمانی پیدائش کا مقصد وہی جوڑا تھا جس پر خالق نے پیدائش کا کام تمام کردیا تھا۔

وہ جوکہتے ہیں کہ آدمی ہمیشہ سے یوں ہیں، برابر چلے آتے ہیں غلطی پر ہیں کیونکہ ان کے لئے ابتدا ضرور ثابت ہے۔

علم ترکیب ارضی ثابت کرتاہے کہ انسان کا وجود ایک خاص وقت میں نظر آیا ہے۔وہ لاانتہا عرصہ سے نہیں ہے اورجب کہ علمی طور سے یہ بات معلوم ہوگئی تو پھر کلام اللہ پر ایمان لانے میں کیا حجت ہے ؟

ہر ابتدا  کے لئے انتہا ہے اورا نسان کے لئے ابتدا ثابت ہے پس انسان کے لئے انتہا بھی آئےگی۔ اورچونکہ انسان کی رُوح غیر فانی مخلوق ہے، اس لئے اُس کی انتہائی بھی ہے کہ وہ دوسری حالت میں جائے۔ اُسی کا نام آخرت ہے۔اُس وقت ولادت کا قاعدہ بند ہوجائیگا اور جہان کے کام تمام ہوجائیں گے۔ قدرت الہٰی کچھ اورہی رنگ دکھائے گی۔اگر مرضی ہوتو نبیوں کی بات مان لو کہ آخرت آنے والی ہے ورنہ انسان کے لئے علمی طور سے ازلیت ثابت کرو اورعلم ترکیب ارضی کو جو انسان کے لئے ابتدا ثابت کرتا ہے خاک میں دبادوجہاں وہ پہلے دباتھا یا کہو کہ ہر ابتدا  کے لئے انتہا ثابت نہیں ہے اوراپنی تمیز کو آپ ہی جواب دو۔

دفعہ ۱۰

آدم کیونکر پیدا ہوگیا

دنیا کے سب آدمی قاعدہ معمولی کے موافق والدین سے پید اہوتے ہیں اوریہ اُن کے لئے فطری قاعدہ ہے۔ چنانچہ سب حیوانات کے لئے بھی قواعد فطریہ مقرر ہیں۔اگر یہی قاعدہ شروع سے ہے تو پہلے جوڑے کے والدین کون تھے؟ اوراُن میں سے بھی ہر فرد کے لئے ایک جوڑا چاہیئے۔ دَور تو کسی طرح سے ہوہی نہیں سکتا کہ اُ س جوڑےکا وجود ہم پر موقوف ہو اورہمارا وجود اُس پر۔

اورتسلسل بھی باطل ہے اوریہ خوب ثابت ہے کہ انسان سب سے پیچھے  پیدا ہوا ہے۔پس وہ پہلا جوڑ ایقیناً قاعدہ معلومہ کے خلاف کسی اورقاعدہ سے پیدا ہوا ہوگا اوریہ قاعدہ معمولی اُس کی پیدائش کے بعد جاری ہوا ہے۔

اب حجت اس میں ہے کہ وہ جوڑا کس قاعدہ سے اورکیونکر پیدا ہوا تھا؟ اگرکوئی آدمی اپنی عقل سے کہے کہ اِس طرح سے یا اُس طرح سے ہوا ہوگا تو یہ سب اُس کے بیان عقلی امکان ہوں گے یا قوت واہمہ کے توہمات ہونگے جن سے کسی امر کا ثبوت نہیں ہوا کرتا ہے۔اور کوئی نظیر بھی دنیا کی تواریخ میں نہیں ہے کہ کوئی انسان کبھی اتفاق سے یا ترکیب بہائمی وغیرہ سے پیدا ہوکے آدمیوں کے جُھنڈ میں آملا ہو جس پر قیاس کرکے اُس پہلے جوڑ ے کو بھی ایسا ہی سمجھیں۔ حالانکہ اس وقت جو انسانی جوڑے دنیا میں موجود ہیں اُس پر غور کرنے سے اُنکی بناوٹ میں عجیب حکمت اورارادہ صانع کا پایا جاتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پہلا جوڑا جوان سب جوڑوں کا سانچا تھا اور کچھ اَور ہی قاعدہ سے بنا تھا۔وہ قاعدہ اپنے وقت پر ظاہر ہوکے پوشیدہ ہوگیا ہے اوریہ معمولی قاعدہ جاری کرگیا ہے۔ چنانچہ تمام دنیا وی فطری قواعد مقررہ کی جڑوں میں کچھ اَورہی قاعدے صانع کے پاس بچشم غور نظر آتے ہیں جو آدمیوں کی سمجھ سے باہر ہیں اوروہ اپنے وقتوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ عام نہیں ہیں کہ ہر وقت نظرآیا کریں۔اُنہیں قواعد مخفیہ سے بوقت مناسب معجزات بھی ہوتے ہیں جو سچے معجز ے کہلاتے ہیں۔

کوتاہ اندیش لوگ جو خُدا کی معرفت سے بے نصیب ہیں اُنہیں چند فطر ے معلومہ قواعد میں خُدا کی ساری قوت کو منحصر سمجھ کے گمراہی کے گرداب میں ناحق ڈبکوں ڈبکوں کررہے ہیں۔

بیدار مغز آدمی گہری نگاہ سے دیکھتا ہے کہ کیا ہے؟ بائبل شریف کی صدہا باتیں اسی دنیا میں برحق ثابت ہوچکیں ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اُس جوڑے کی پیدائش کا ذکر جیسے کہ اُس میں لکھا ہے مانا نہ جائے ؟حالانکہ عقل   ِ سلیم صاف کہتی ہے کہ یہ بیان خُدا کی شان کے مناسب ہے۔

(پیدائش ۷:۲) میں لکھا ہے کہ خُدا نے آدم کو خاک سے بنایا۔ یہ اُس کے جسمی مادہ کاذکر ہے اوراس با ت کا بیان ہے کہ وہ حیوانی ترکیب سے نہیں نکلا بلکہ خُدا نے خاک کا ایک پتلا بنایا اوراُس میں خُدا نے زندگی کا دَم پھونکا۔ یہ اُس کے دوسرے جز کا ذکر ہے جس کو ’’نفس ناطقہ ‘‘کہتے ہیں جو عالم بالا سے اُس میں ڈالا گیا۔ (پیدائش ۲۷:۱) میں مرقوم ہے کہ خُدا نے اُسے اپنی صورت پر بنایا۔ ’’صورت‘‘ سے مراد یہ ہے کہ انسان کی ظاہری اورباطنی روحانی واخلاقی صورت ایسی بنائی کہ خُدا کے ساتھ ایک خاص نسبت اورمشابہت اورعلاقہ اُس کا ہوا۔

مُشبہَّ اورمُشبہّ  بِہٖ میں موافقت کلی تو کبھی نہیں ہوتی ہے ورنہ دوئی نہ ہوگی لیکن کسی قدر موافقت اورمناسبت بعض امور میں ہوا کرتی ہے۔ انسان میں اورخُدا میں پوری دوئی ہے۔ لیکن وہ ایسی صورت میں پیدا ہوا ہےکہ صفات ِالہٰی کا گو نہ مظہر اورتجلیات کا مہبط اورالہٰی مرضی واحکام کی بجا آوری کے لائق وضع میں ہے اورآزاد بھی ہے نہ مجبور اورعقل قبول کرتی ہے کہ ضرور انسان ایسی وضع میں ہے۔اگرچہ وہ صورت اُس کی بعد گناہ کے بگڑگئی ہے تو بھی شعر

ازنقش ونگار درودیوار شکستہ۔ اثار پدیداست صنا دیدعجم را۔

اوراس سے یہ بھی ثابت ہے کہ وہ اتفاقی مخلوق نہیں بلکہ ارادی ہے۔ آدم کا جسم خاک سے بنا اوررُوح اللہ نے پھونکی لیکن اُس کی زوجہ کو اُس کی پسلی سے نکالا اوراُس کی روح کا ذکر نہیں ہے کہ کہاں سے آئی؟ قیاس چاہتا ہے کہ جیسے جسم سے جسم نکلا ویسے رُوح سے رُوح پیدا کی۔ اسی لئے وہ مرد کی دبیل اوراُس سے کمزور ہے۔

اول خُدا نے زمین وآسمان کو حُکم سے پیدا کردیا اوروہ بے مادہ صرف حکم سے موجود ہوگئے ثانیاً اُس نے زمین کو حکم دے کر اُ س سے حیوانات اورنباتات نکلوائے۔ ثالثاً آدم کو خود پیدا کیا۔ رابعاً آدم میں سے حوا کو نکالا۔ خامساً تولید کا قاعدہ جاری کیا۔ پس پہلا آدمی قا ئن پیدا ہو جو معمولی قاعدہ سے ہے۔

پہلے چار قاعدے عمل میں آئے ۔تب پانچواں قاعدہ جاری ہوا اوروہ قوت جس سے یہ کچھ ہوا خُدا میں ازل سے مخفی تھی اوراب بھی اس میں مخفی اورموجود ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ توکیا کرتا ہے ؟یا تونے ایسا کیوں کیا؟ کس کا منہ ہے جو ایسا بولے؟ البتہ کا فر آدمی جو چاہتا ہے سو بکتا ہے اوراپنا نقصان کرتا ہے۔ لیکن خُدا کے عارف لوگ جانتے ہیں کہ اُس کے سارے کام راستی اورانصاف اورحکمت اورمحبت کے ہیں۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے ہاں جنہوں نے اُس کی کتاب بائبل شریف کو اُس سے پڑھا ہے وہ غیروں کی نسبت زیادہ سمجھتے اورتسلی سے بھرے ہیں۔

Pages