May 2016

محمد صاحب نے معجزے کئے ہیں یا نہیں

Did Muhammad Performed Miracles or Not?

Published in Nur-i-Afshan July 22, 1875
By. Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

Monument in Islamabad

تمام اہل اسلام مقر ہیں کہ محمد صاحب نے بہت   سے معجزے دکھلائے ہیں اگر کوئی اُن کے معجزے پر شک کرے تو وہ اُنکی نظر میں کافر اور ملعون ہے۔ مگر جو کوئی  تعصب اور ضد  کو ترک  کر کے حق کا متلاشی ہو اُسے چاہیے کہ اِن باتوں سے ہرگز نہ ڈرے کیونکہ وہ لوگ جو اپنے مذہب کو بغیر سوچے اور دریافت کئے سچا ّ  اور دوسرونکےمذہب کو جھاٹا جانتے ہیں وہ اکثر اُس شخص  کو جو دین حق کی  تحقیقات کرنا چاہتا ہے طعن اور ملامت  کرتے ہیں اور اُسکو ملعون کافر اور طرح طرح کا مُجرم ٹھہراتے ہیں۔ مثلاً  اگر شایستہ آدمی عمدہ لباس پھنکر ننگے وحشی آدمیوں میں  جانکلے۔  تو  کیا  وہ لباس اُس کے ساتھ نیک سلوک سے پیش آوینگے ۔ ہرگز نہیں بلکہ پتھراؤ کرینگے اِسلئے ہمیں مناسب ہے کہ جسقدر وہ ہمارے ساتھ سختی اور تعدّی کریں اُسیقدر  ہم حق کے دریافت کرنے میں  سعی اور کوشش کریں ۔ ممدیوں کا دعویٰ  ہے کہ محمد صاحب  کے بہت سے معجزوں کا زکر حدیثوں  اور قرآن میں موجود ہے اور محمد صاحب کی وفات  کے بعد محمدیوں نے بھی بہت سے معجزے کئے ہیں ۔ اب ہم پر یہہ فرض ہے کہ حتیّ المقدور اِن چارا باتوں پر خوب غور کریں  سب لوگ جانتے اور اقرار کرتے ہیں کہ کراماتوں کو پختہ شہادتوں سے قبول کرنا چاہیے اور بغیر گواہی پختہ کے قبول کرنا مناسب نہیں ۔ اؤل اُنکے  ہم  اِس دعوے کو تحقیق کرتے ہیں   کہ حدیثوں میں کیسی کراماتوں کا زکر ہے۔  مثلاً      لکھا ہے کہ ایک روز جب محمدصاحب  کو حاجت ہوئی  تو درخت اکھٹے ہو کر اُس کے لیے جائے ضرور  بن گئے ۔  اب ہم  اِسبات پر کئی ایک سوال کرتے ہیں  سوال اوّل کیاسب محمدی لوگ حدیثوں کو مانتے ہیں ۔ نہیں ہر شخص کو معلوم ہے کہ شیعہ سب حدیثونکو نہیں مانتے۔  سوال دویمکیا سُنّی تمام حدیثوں کو قابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔ کبھی نہیں ۔ یہہ بات صاف ظاہر ہے کہ سُنّی حدیثوں کو درجہ  بہ درجہ مانتے  ہیں ۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ اِنکے نزدیک بھی حدیثیں اعتبار  کے لائیق  نہیں ہیں ۔ اب اِنکا نامعتبر ہونا چند دلیلوں  سے جو زیل میں  مندرج کی جاتی ہیں ثابت ہے ۔ محمد صاحب   کی حیات میں اُنکے پیرواُن کو بہت ہی عزیز جانتے تھے لیکن جب  وہ فوت ہوگئے تو اُنکے کہنے لگے کہ حضرت نے ہم سے یہہ باتیں فرمائی تھیں ۔ غرضکہ  ہر ایک اُن میں سے یہی کہتا  تھا  محمد صاحب  نے مجھے فلانی بات سُنائی۔  کچھ عرصہ بعد محمد  صاحب  کی  اُنہوں  نے  اُن تمام باتوں  کو جمع کرنے کا ارادہ کیا ۔ اور یہہ بھی واضح ہو کہ سب لوگ دانا  نہیں ہوتے  اور نہ سب لوگ سچےّ ہوتے ہیں ۔جاہل اپنی جہالت کے سبب  اُن باتوں کو جو قابل اعتبار نہیں   لوگوں کو سُناتے تھے۔ فی الجملہ اُنہوں نے جھوٹوں نے عزت  اور حرمت پانے کے لیے اِن باتوں  کا زکر لوگوں کے آگے کیا اور اِن تمام باتوں کو  جمع  کر لیا۔ جب عولمو ں نے اِن باتوں پر غور کی تب انہوں نے سوچا کہ یہہ باتیں  بالکل ماننے کے لائیق  نہیں  ہیں۔  مگر جو جو باتیں اُنکو زرہ  بھی اچھی معلوم ہوئیں اُنکو علٰحدہ  کر لیا۔ اب ہمکو کیونکر معلوم ہو کہ وہ باتیں جنکو عالموں نے تسلیم کیا  راست ہیں  اور جنکو اُنہوں  ردّ کیا خلاف ہیں کیونکہ عقلمند وں کے نزدیک تحقیق  کرنا  اِن آمورات کا  محال ہے ۔ ایسی باتیں  قابل تسلیم  کبھی نہیں ہو سکتیں۔ سب لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ جب کوئی پیشوا یا گرُو  مر جاتا ہے  اُسکے پیرو یا چیلے اُسکے حق میں عجیب عجیب باتیں لوگوں کو سناتے ہیں ۔  مگر کون جانتا ہے کہ وہ سب باتیں سچی ہیں۔  کوئی دانا شخص  ایسی باتوں پر بغیر ثبوت یقین نہیں کر سکتا۔

مثلا ً  صرف تین چار سو برس کا عرصہ  گزرا ہے کہ بابا نانک مر گیا۔ اُسکے پیرو اب تک بہت سی کرامتوں کا زکر کرتے ہیں ۔ اُن عجیب باتوں میں سے ایک تو یہ ہے کہ ایک روز بابا نانک مکّہ شریف گیا  اور کعبہ کی طرف  پانُوں پھیلا کر سو گیا۔ ایک مسلمان نے دیکھ کر اُسے گالیاں دیں اور کہا کہ کعبہ کی طرف  تمنے کیوں  پانوُں کیا ہے۔ یہہ سُنکر بابا نانک  نے اپنے پانوں دوسری طرف کر لیے اور  سو رہا۔ اِتنے میں کعبہ بھی  فی الفور اُسکے پاُنوں کی طرف ہو گیا۔ کیا کوئی محمدی اِس کرامت کو قابل اعتبار سمجھتا ہے کوئی نہیں۔

پوشیدہ نہ رہے کہ جب کوئی آدمی اپنے لیے بڑا محل  بنانا چاہتا ہے تو اُسکو بڑی پختہ بنیاد  درکار ہوتی ہے تاکہ اُسکا مکان دیر تک قایم رہے۔ اِسیطرح ہمارے ایمان کے لیے پختہ نیؤ درکار ہے صرف لوگوں کی بہیودہ  باتیں  بلکہ خدا تعالیٰ کا پاک کلام۔

اب ہمیں  یہہ بھی دریافت کرنا چاہیے کہ آیا  قرآن سے محمد صاحب  کی کرامتیں ثابت ہوتی ہیں کہ نہیں ۔ سورۂ قمر کی پہلی آیت میں لکھا ہے کہ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ یعنے پاس   آلگی وہ گھڑی اور پھٹ گیا  چاند ۔ لیکن اکثر محمدی کہتے ہیں کہ اِس آیت میں روز حشر کا زکر ہے اور ہمکو عبارت سے صاف معلوم  نہیں ہوتا  کہ اِسمیں  محمد صاحب  کا زکر ہے۔ کیونکہ کسی کا نام  آِیت میں مندرج نہیں کیا گیا۔ پھر سورۂ بنی اسرائیل کہ پہلی آیت میں لکھا ہے ۔ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَاجسکے یہ معنے ہیں کہ وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے (۱۷: ۱)لیکن اِس آیت میں بھی  محمد صاحب کا زکر  نہیں ہے  اور مسیح  کی وفات کے چالیس برس بعد  ٹائیٹس  نے  جو رومی سپہ سالار تھا اُس مسجد کو گرا دیا تھا اور محمد صاحب  کے وقت  تک کسی نے اِس  جگہ  مسجد نہ  بنائی  تھی اور محمد  کے وقت  پر لی مسجد موجود نہ تھی ۔ پھر وہ کس طرح اِس مسجد  میں گیا۔ اور کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ فلانے  نے اِس معجزے کو دیکھا یعنے محمد صاحب کا بیت الحرام سے بیت المقّدس  تک جانا۔ یہہ بھی واضح ہو کہ تواریخ کی باتیں صرف گواہیوں سے ثابت ہو سکتی ہیں ۔ جب اِس بات کا کوئی پختہ گواہ  نہیں ہے تو یہہ کس طرح قابل اعتبار ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی پوشیدہ نہ رہے کہ اگر کوئی شخص کہے کہ محمد صاحب  نے معجزے کئے ہیں ۔ تو وہ سراسر قرآن کے برخلاف  کہتا ہے کیونکہ اِسمیں بار بار لکھا  ہے  کہ محمد صاحب نے معجزے  ہر گز نہیں کئے۔ اگر دریافت کرنا ہو تو سورۂ انعام  کی اِن آیتوں میں ملاحظہ کرو ۔  ۳۶ ۔ آیتوَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يُنَزِّلَ آيَةً وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَاور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (۶: ۳۷)اور پھر اِسی سورۂ کی  ایک سو  نویں آیت ۔وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَاور قسمیں کھاتے ہیں   اﷲ کی کہ اگر انکو ایک نشانی پہنچے  البتہ اُسکو مانیں تو کہہ نشانیاں تو اﷲ کہ پاس ہیں اور تم مسلمان کیا خبر رکھتے ہو کہ جب  وہ آوینگےتو یہ مانینگے۔ ایکسو گیارھویں  ۔وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ۔اور اگر ہم اُن پر اُتاریں  فرشتے اور اُن سے بولیں مرُدے  اور جلادیں ہم ہر چیز کو  اُن کے سامنے ہر گز ماننے والے نہیں مگر جو چاہے اﷲ پر یہہ اکثر نادان  ہیں۔ اور ایک سو چوبیسویں ۔ وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۔ اور جب پہنچے اُن کو ایک  آیت کہیں ہم ہر گز نہ مانینگے جب تک ہمکو نہ ملے جیسا کچھ پاتے ہیں اﷲ کے رسول اﷲ بہتر جانتا ہے جہاں بھیجے اپنے پیام ۔

پھر سورۂ اعراف کی ایکسو اٹھائیسویں  آیت۔ قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔تو کہہ میں مالک  نہیں جان کے بھلے اور برُے کا مگر جو اﷲ چاہے اور اگر میں جانا کرتا غیب کی باتوں کو بہت خوبیاں لیتا اور مُجھ کو برُائی کبھی نہ پہنچتی میں تابہہ ہوں ڈر اور خوشی سُنا نیوالا ماننے والے لوگوں کو۔ 

اور سورۂ بنی اسرائیل کی بانویں آیت سے پچانویں آیت تکوَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا۔اور بولے ہم نے مانینگے تیرا کہا جبتک تو نہ بہا  نکلے ہمارے واسطےزمین سے ایک چشمہ یا ہو جاوے  تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا پھر بنالے  تو اُسکے بیچ نہریں چلا کر یا  گرادیوے آسمان ہم پر جیسا کہا کرتا ہے ٹکرے ٹکرے یا لے آؤ فرشتوں کو اور اﷲ کو ضامن یا ہو جاوے  تجھ کو ایک  گھر سنُہری یا چڑھ جاوے  تو آسمان میں اور ہم یقین نہ کرینگےتیرا  چڑھنا    جب تک    نہ اوتار لاوے ہمپر ایک لکھا جو ہم  پر لیں تو کہہ سبحان اﷲ میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا فقط ۔   بنی اسرائیل  اکسٹھویں  آیت ۔ وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا ۔ اور ہم نے اس سے  موقوف کیں نشانیاں بھیجنی کہ اگلوں نے اِن کو جھٹلایا  اور ہم  نے دی ثمود کو اونٹنی سمجھانے کو پھر اُسکا  حق  نہ مانا اور نشانیاں جو ہم بھیجتے ہیں  سوڈرانے کو فقط ۔ اور سورۃ انبیا  کی پانچویں آیت بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَیہ چھوڑ کر کہتے ہیں اُڑتی خواب میں نہیں  جھوٹ باندھو  یا ہے نہیں شعر کہتا ہے پھر چاہیے لے آوے ہم پاس کوئی نشانی جیسے پیغام لائے ہیں پہلے ۔ اب ان آیتوں پر غور کرواور دیکھو اِن میں  صاف پایا جاتا ہے کہ محمد صاحب نے معجزے نہیں کیے۔

ایک دفعہ میں جوالأ کمھی کو گیا اور ان لوگوں سے ملاقات کی جو معجزے کرنیکا کا دعوے کرتے تھے اور حقیقت میں لوگوں کو فریب دیتے تھے میں نے کہا کہ مہربانی کر کے مجھے بھی کوئی معجزہ دکھلائے۔ تب انہوں نے انکار کیا کیونکہ انہوں نے جانا  کہ یہہ اچھی طرح تحقیق کرے گا ۔ ایسا ہی جب محمد صاحب جب اس دنیا میں تھے تو بہت لوگ اُن کو بھی کہتے تھے کہ ہمیں بھی  مہربانی کر کہ ایسی چند علامتیں جن سے نبوت ثابت ہوتی ہے دکھلائیے تو انہوں نے بھی انکار کیا اور یہہ کہا کہ خدا تعالیٰ نے ایسی علامتوں کا دکھلانا بند کر دیا ہے کیونکہ اگلوں نے جٹھلایا۔ جب یہہ آیتیں ہم قرآن سے  محمدیوں  کو سُناتے ہیں۔ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ عیسیٰ نے بھی کہا کہ برُے لوگ نشان ڈہوندتے ہیں  لیکن ان کو کبھی دکھلایا نہ جاویگا۔  بیشک جب لوگوں نے مسیح کو آزمانے چاہا  اُس نے معجزہ دکھلانے سے انکار کیا۔  لیکن اُس نے یہہ کبھی نہیں کہا کہ خدا تعالیٰ نے ایسی علامتونکا  دکھلانا بند کر دیا ہے اور نہ یہہ کہا کہ سبحان اﷲ میں کون ہوں مگر راہ دکھلانیوالا۔

اب ہم اِس سے یہہ معلوم  کرتے ہیں کہ محمد صاحب نے کوئی معجزہ  نہیں کیا مگر عیسیٰ کو معجزہ کرنے کا  کل اختیار تھا اور اگر وہ چاہتا تو اُن لوگوں کو بھی  جو اُسے آزمایا چاہتے تھے معجزہ دکھلاتا۔

پھر محمدی اقرار کرتے ہیں کہ قرآن خود ایک معجزہ ہے ۔ کیونکہ اُسکی عبادت عمدہ ہے کہ  کوئی آدمی اُس کے موافق بنا نہیں سکتا۔ مینے مانا  کہ یہہ سچ ہے مگر سنسکرت کی عبارت بھی   بہت اچھی ہے ۔ بیشک کوئی شخص  بید کی سنسکرت عبارت کی مانند نہیں بنا سکتا اور بڑے بڑے پنڈت بھی کہتے ہیں کہ بید کی  سنسکرت عبارت کی مانند کوئی بشر نہیں بنا سکتا ۔  پھر محمدی کس طرح اُسکو معجزہ  کہتے ہیں ۔ اگر کوئی آدمی  ایسا بڑا درخت دیکھے جس کے برابر اور کوئی بڑا  درخت نہ ہو تو وہ معجزہ تصور نہیں کیا جاتا۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ داؤد کے وقت  ایک پہلوان مسمیّ گولایاؔ تھا جسے اُسنے مار ڈالا تھا اُس کے قد کے موافق کوئی  دوسرا شخص نہ تھا۔  مگر کوئی شخص اتنے بڑے قد کو معجزہ نہیں کہتا تھا۔ کوئی محمدی حوؔمر کی مانند یونانی عبارت  اور  گؔل کی مانند لطینی عبارت اور کالید اس کی مانند سنسکرت عبارت  ہر گز نہیں بنا سکتا ہے۔ پھر کیا یہہ بھی معجزہ  ہوگا ۔ پھر اکثر محمدی کہتے ہیں  کہ  محمد صاحب کے وقت بھی کوئی شخص ایسا نہ تھا کہ ایسی عبارت بنانے کی لیاقت  رکھتا  بلکہ تمام  لوگ  یہی اقرار کرتے   تھے کہ  قرآن کی عبارت کے موافق  کوئی  بشر عبارت نہیں بنا سکتا  کون جانتا  ہے کہ محمد صاحب کے وقت سب لوگ ایسا ہی کہتے تھے سب دانا آدمی  جانتے  ہیں کہ آجکل فرانس ؔ جرمنیؔ انگلستانؔ  آسٹریاؔ امریکہؔ وغیرہ ملکوں میں بہت لوگ  عبرانی یونانؔی  سنسکرت اور عربی ؔ زبان کو بخوبی  پڑھتے ہیں اور ان زبانوں کی عبادت سے فوقیت رکھتی ہے۔ اگر محمدی عبراؔنی  یونانیؔ  سنسکرت  لطنییؔ زبان کو تحصیل کریں تو بڑا فایدہ اُٹھاویں کیونکہ ان زبانوں میں نہایت عمدہ اور قدیمی کتابیں لکھی گئی ہیں مثلاً  وہ لوگ جو دہلی میں رہتے ہیں اُنہوں نے اور کوئی بڑا عالیشان شہر نہیں دیکھا ۔ وہ تو ضرور یہی کہینگے کہ دہلی کی مانند اور کوئی شہر دنیا کے سطح پر نہیں ہے۔ اگر وہ اور اور ملکوں کی بھی سیر کریں  اور سینٹ ؔ پیٹرزبرگ وائیناؔ ماسکو پیرس  نیوؔیارک  لیوؔرپول  لنڈنؔ اور وغیرہ شہروں کو دیکھ کر پھر دہلی میں آئیں تو دہلی کی تعریف جیسی پہلے کرتے تھے ہرگز نہ کرینگے اور اور شہروں پر اُسے فوقیت نہ دیونیگے ۔ اِسی طرح اگر محمدی سیسرؔ دیماؔ ستہردرجل ؔ ہارسؔ  حومرؔ  ملٹنؔ  وغیرہ  مصنفوں  کی کتابیں   پڑھیں اور قرآن سے اُنکا مقابلہ کریں تو وہ بھی ضرور کہینگے کہ ان کتابوں  کی عبارت  بیشک قرآن کی عبارت سے عمدہ ہے۔

یہہ بھی واضح ہو کہ عبارت مضمون  سے ایسی نسبت رکھتی ہے جیسی پوشاک آدمی سے ۔ اِسکا مطلب یہہ ہے کہ بڑے لوگ بھی اچھی  پوشاک پہن سکتے ہیں ۔ اب بہتر یہہ ہے کہ ہم عبارت کی فکر ہر گز نہ کریں۔ لیکن مطلب پر خوب غور کریں اگر قرآن کی تعلیم سب مذہبی کتابوں کی  تعلیم سے اچھی ہو تو میں اُسکو  ضرور خدا  کا کلام سمجھونگا  اور مانونگا لیکن اِس کا ذکر آگے  کیا جاویگا۔ پھر محمدی کہتے ہیں  محمد صاحب کے پیروں نے بیشمار معجزے کئے ہیں اِس بات  کا ذکر کرنا لا حاصل ہے کیونکہ جب  محمد صاحب کے معجزے ثابت نہ ہوئے تو  اُن کے پیرؤں کے معجزے کس طرح ثابت ہوسکتے ہیں ۔ 

PDF File: 

عیسوی مذہب کا ثبوت

Evidence for the Christian Religion

Published in Nur-i-Afshan March 9th 1876
By. Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

People in Swat Valley, Pakistan

دو ہزار برس کا  عرصہ گزرا ہے کہ اِنگلستان کے باشندے مورتوں کو پوجتے تھے۔ اور اُن کے وخوش کرنے کے لیے اپنے دشمنوں کی کھوُپریوں میں شراب پیتے تھے۔ مگر ان ہی دنوں میں ہندوستان کے باشندے بہت عقیل اور دانا تھے۔ اور روح جسم خدا اور اِنسان کی بابت بھی خوب چرچا کرتے تھے۔ لیکن اب تمام ملکوں میں لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ انگریز لوگ بہت ہی دانا ہوگئے ہیں۔اور ہندوستانی ویسا ہی اپنے آبا واجداد کے موافق ہیں بلکہ اُن سے بھی کم ۔ اِسکا کیا باعث ہے ۔ اِسکے بہت سبب ہیں مگر خاص کر کے یہہ ہے کہ انگریز لوگ عیسائی ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ ایک حبش کے بت پرست بادشاہ نے انگلستان کی بزرؔگی کامؔیابی حکؔمت دولؔت و حشؔمت کا سبب دریافت کرنے کے لیے ملکہ معظمہ کے پاس اپنے ایلچی بھیجے ۔ اِس کے جواب میں ملکہ نے ایک انجیل اٹھا کے کہا کہ یہہ ہی خاص ہمارے ملک کی بہبود کا باعث ہے۔ واضح  ہو کہ دنیا میں طرح طرح کے مذہب ہیں جن میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ اُن کے ماننے سے آدمی خوؔد غرض بےپرؔواہ اور کاہؔل ہو جاتا ہے۔ اور بعض ایسے ہیں کہ جن کے تسلیم کرنے سے بشر سنگدل خون ریز اور تُندمزاج ہو جاتا ہے۔ لیکن بعض ایسے ہیں کہ اُن کی پیروی کرنے سے رحمؔ دل  حلیؔم الطبع  خیرخواہ بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ جیسا معبود ویسا ہی عابد۔اب تمام قوموں کو دریافت کرنا واجب ہے کہ وہ مذہب جس کے سبب سے اِنگلستؔان جرؔمنی وغیرہ ملکوں میں ترقی ہوتی جاتی ہے سچّا ہے یا نہیں    بعضےلوگ کہتے ہیں کہ ہر ایک  ملک کا مذہب اُسنت واسطے سچّا ہے۔ اور اپنے باپ دادونکے مذہب کی تقلید کرنی واجب ہے۔ یہہ سراسر غلط ہے۔ کیا سب مذہب جو ایک دوسرے  سے اختلاف رکھتے  ہیں سچےّ ہو سکتے ہیں ۔ فرض  کرو کہ اگر دس(۱۰) گواہ کسی مقدمہ کی بات کچہریمیں  گواہی دیں اور وہ سب مخلتف  ارائے ہوں تو کس طرح کہ سکتے ہیں کی یہہ سب گواہ سچےّ ہیں  ہرگز نہیں۔ اسی طرح قرؔآن ویؔد شاؔستر  اور بیؔبل ایک دوسرے کے برخلاف ہیں۔ تو سب کے سب کسی طرح سے سچےّ نہیں ہو سکتے۔اور اُن میں سے جو جھوٹے ہیں راہ راست نہیں دکھلا سکتے  ۔ اور اْن کے ماننے والوں کو کچھ فایدہ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ وے بعینہاُن لوگوں کی مانند ہیں جو سیدہا راہ چھوڑ کرآوارہ بٹھکتےپھرتے ہیں کیونکہ جب تک نوکر اپنے آقا کی مرضی سے واقف نہ ہو تب وہ اُسکو کسی طرح سے راضی نہیں  کر سکتا۔ مثلاً اگر آقا کسی سفر کے واسطے گھر کو چھوڑے اور اپنے خانگی  نوکرونکے لیے کام مقرر کرے اور وہ اُس کی مرضی کےموافق نہ بلکہ اپنی مرضی کے مطابق  کام کریں  تو وہ آقا  صرف ناراض نہ ہوگا  بلکہ اُن کو سزا بھی دیگا۔ اب ہم کو دریافت کرنا چاہیےکہ یہہ سب کتابیں  جو دنیا میں پائی جاتی ہیں اُن میں کون سی برحق ہے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں گناہوں کو ماننا چاہیے جن کو ہمارے باپ دادا  مانتے چلے آئے ہیں ۔ کسی نئے مذہب کی پیروی با  لکل نہیں کرنی چاہیے یہہ تو صرف اُن لوگوں  کا مذہب ہے وے دنیا وی باتوں میں کبھی ایسی دلیل پیش نہیں کرتے جب ہم اُن کو کہتے ہیں کہ اپنے لڑکوں کو انگریزی پڑھاؤ تاکہ خاطر خواہ نوکری ملے تب  وہ کبھی نہیں کہتے کہ ہم انگریزی نہ پڑھائینگے کیونکہ ہمارے باپ  دادوں انگریزی  نہیں پڑھی۔ پھر کسی کو پیدل چلتے ہوئے دیکھ کر کہینگے کہ ریل پر سوار ہوجاہیے تو وہ نہیں کہیگا  کہ میرا باپ دادا ریل پر سوار نہ ہوا  تھا میں نے بھی نہیں ہونا۔ لیکن جب ہم اُنکو کہتے ہیں کہ سچےّ مذہب کو اختیار کرو تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم کو اپنے باپ دادوں کے مذہب کو ماننا چاہیے ۔ اِس سے صاف اُن کی بے پرواہی اور سسُتی پائی جاتی ہے۔ بھائیو ہمیں سچاّ دین درکار ہے۔ اِس کے حاصل کرنے کے لیے ہمیں نہایت سعی اور کوشش کرنی چاہیے۔کیونکہ ہم اِس کے زریعے سے بہشت کے وارث ہو سکتے ہیں یہہ بھی واضح ہو کہ اگر آدمی غریب کنگال پریشان اور مصیبت زدہ اس دنیا میں چاہے کیسا ہی ہو تو کچھ مضایقہ نہیں کیونکہ یہہ سختیاں اور مصبتیں چند روز ہ ہیں لیکن دوذخ  کا عذاب اور بہشت  کا سرور دائیمی ہے۔ دیکھو اگر تم قبرستان میں جاؤ اور کوئی شخص تمکو بتلائے کہ یہہ قبر دولتمند کی ہے اور وہ غریب کی یہہ جوان کی اور وہ بوڑھے کی تمھارا جواب یہی ہوگا کی کیا  مضایقہ کیونکہ سب مر کر یکساں ہوگئے ہین لیکن اگر تمکو یہہ بات معلوم ہو کہ یہہ آدمی دوذخ میں ہے اور بہشت میں  ہے تو اِس بات سے تم ضرور تعّجب کروگے کہ یہہ نہایت عجیب بات ہوگی بلحاظ اِن باتوں کے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دین ایک عمدہ وسیلہ ہے جس سے ہمیں واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کونیسی باتوں پر راضی ہوتا ہے اور ہمیں خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے لیے کیا کیا کرنا چاہیے  چونکہ ہم سب گنہگار ہیں اِسواسطے ہم کو دریافت کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہمارے گناہونکو معاف کریگا یا نہیں اگر کر یگا تو   کس شرط پر  ۔ اِن سوالوں کا جواب خدا یا وہ کتاب جو اُس پر نازل ہوئی ہو دیسکتی ہے ۔ اگر کوئی ایسا شخص ہو جو مریضوں کی طرح طرح کی بیماریوں کو رفع دفع  کرے تو  تمام اِطراف کے لوگ کمال شوق سے اُسکے پاس آوینگے کہ شفایاب ہوویں مگر جب  روحانی بیماری ہو تو زیادہ تر جستجوکرنی چاہیے کہ اِسکا کیا علاج ہے اور وہ کہاں  سے دستیاب ہوگا۔ مذہب ضرور ایک ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے  نازل  ہوا اور جس کے ماننے سے ہم نجات  پا سکتے ہیں ۔ اب ہماری مراد یہہ کہ وہ دلیلیں جنسے یہہ مذہب برحق ہو سکتا  ہے۔ لکھیں پہربانی کر کے ہر طرح کا تعصؔب  بؔغض کینہؔاور دشمنؔی کو برکنار رکھ کر  اِن دلیلوں کو آزماؤ اور عقل کی ترازو میں  آزمائی کرو اگر ہلکی ہو تو مانو سب جانتے ہیں  کہ خدا   حاضر و ناظر ہے سچاّئی کو پیار کرتا ہے ہمارے دعاؤں کو بخوبی سنتا ہے اور زیادہ حق کی طرف  ہمیں رجوع کرتا ہے  لازم ہے کہ حق سے دعا مانگ کر اپنے مطلب کی طرف رجوع کریں۔ 

اگر کوئی عیسائی دین کی آزمایئش کرے  تو    اُس کی حقیقت کئی وجہ سے ثابت ہو تی  ۔ اوّل عیسیٰ مسیح کی اصل تعلیم جو ابتک موجود ہے اِس دین کی سچاّئی پر مشاہد کامل ہے۔  دوئم (۲) بسبب پاکیزگی کے اُسکا  خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہوتا ہے۔ سیوم (۳) اُسکا خدا کی طرف سے ہونا نبیوں نی پیشگوئیوں سے بھی بدرجہ ثبوت پہنچتا ہے ۔ چہارم (۴) ثبوت کامل اُسکی حقیقت کا یہہ ہے کہ حواریونکی شہادت ور اُن کے  معتبرے اُسکے صدق پر گواہی دیتے ہیں ۔ پنجم (۵) اِس مذہب کا تمام دنیا میں میں پھیل جانا اُس کی حقیقت پر کامل شہادت ہے۔ اب ہم ہر ایک کو  مفصل بیان  کرینگے  خدا توفیق بخشے۔ 

عیسوی مذہب کا ثبوت

اصل انجیل عیسائیوں کے پاس موجود ہے۔

اِس فصل میں ہمیں یہہ دریافت کرنا چاہیے کہ آیا خدا وند مسیح کی اصلی تعلیم انجیل میں ہے کہ نہیں۔ اکثر خواندہ لوگ جانتے ہیں کہ اکثر محمدی دعویٰ کرتے ہیں کہ عیسائیوں کے پاس اصل انجیل نہیں ہے ۔پہلے اِسکو دریافت کرنا چاہیے ہمکو قوی اُمید  ہے کہ اکثر اہل اسلام اِس رسالہ کو پڑھینگے  ۔ تو ہم قرآن کی اُن آیتوں میں سے جن میں انجیل کا زکر پایا جاتا ہے ۔ چند ایک کو یہاں لکھتے ہیں تاکہ وے اِس بات پر قائل ہو ں کہ محمد صاحب کے وقت تک یعنے ساتویں (۷) صدی  عیسوی تک انجیل موجود تھی ۔ چنانچہ سورۃ یونس ۶۳ آیت     لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ یعنے  دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے اور سورۃ کہف   ۲۶ آیت    وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا یعنے اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے ۔ اور سورۃ مائیدہ  ۷۸ آیت     قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ صاف کہہ دو کہ "اے اہل کتاب! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں"۔

اِن آیتوں سے صاف صاف معلوم ہے کہ محمد کے وقت میں محمدی لوگ جانتے تھے بلکہ اِسبات پر متیقن تھے کہ اصلی انجیل موجود ہے اور یہہ بات بہت سی کتابوں سے ثابت بھی ہو سکتی ہے فن چھاپہ کے ایجاد ہونے تک پیشتر انجیل ہاتھ سے لکھی  جاتی تھی۔ بباعث  کم ہونے کے اتنی عام جلدیں نی تھیں مگر تو بھی بہت کتب خانوں اور عیسائی عابدوں اور پادریوں کے گھروں میں موجو د تھیں۔ چنانچہ اُنھیں سے اب بھی  پائی جاتی  ہیں۔ اُن میں سے ایک نسخہ انجیل جو لندن میں ہے جو محمد صاحب کے زمانہ میں موجود تھا اور روم شہر کے ایک کتب خانہ میں اور  ایک جلد جو اُس سے بھی دوسو برس پیشتر موجود تھی۔ چند برس کا عرصہ گزرا ہی کہ ڈاکٹر تشن ڈرف ساحب  کوہ طور پر ایک کتب خانہ سے ایک نسخہ انجیل جو کہ قریب چودہ سو برس کے لکھی ہوئی ہوگی پائی اگر کوئی پوچھے یہہ کتابیں کس طرح معلوم ہوسکیں کہ اتنی مدتّ کی ہیں تو اِسکا جواب یہہ ہے کہ علیٰحدہ علیٰحدہ  صدیوں میں علیٰحدہ علیٰحدہ  چیزوں پر لکھی جاتی ہیں۔ مثلاً بہت سی صدیوں سے کتابیں کاغذوں کا پر لکھی جاتی ہیں لیکن یہہ کاغز جسپر کتاب چھپی ہو ئی ہے صرف ایکسو برس سے ہے جاری ہے۔ اسیطرح اور کتابیں جو اِسی کاغز پر لکھی ہوئی ہیں۔ اُن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایکسو برس سے زیادہ کی نہیں لکھی ہوئیں اور کاغذ بھی اسیطرح زمانہ برذمانہ بدلتا جاتا ہے۔ پہلے پہل جب کاغذ نہ تھا بھیڑ بکری کے میشہ یعنے وصلی پر کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ علی ہذا لقیاس سیاہی ور خط بھی تفاوت چلے آئے ہیں۔ چنانچہ بہت پرُانی کتابوں کو دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ زمانہ سلف میں لکھنے کا اور ہی دستور تھا اِن علامتوں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہہ کتاب کتنی مدّت کی ہے۔ جس طرح انجیل  پشت در پشت ہمارے وقت تک چلی آئی ہے اُسیطرح اور بہت سی کتابیں مثلاً افلاؔطون  ارسؔطو زؔینوفن  ورؔجل طیؔطس سسؔرو وغیرہ مصنفوں کی کتابیں چلی آئی ہیں۔ اِن کتابوں کے لکھے جانے کا زمانہ ہی سیاسی خط اُس چیز سے جسپر کہ وہ لکھی جاتی تھیں پچھانا  جاتا ہے۔ یوناؔنیوں فرانسؔیسوں اور  انگلسؔتانیوں میں سے وے لوگ جو اِسبات سے واقف ہیں پرُانی کتاب کو دیکھ کر فوراًٍ بتلا دیتے ہیں کہ یہہ کتنی مدّت کی لکھی ہوئی ہے۔ فرنگسؔتان اور انگلؔستان  کے عولموں  نے پرُانی قلمی انجیلوں کا حال کی انجیلوں سے خوب مقابلہ کیا ہے لیکن مضمون میں زرا بھی فرق نہیں پایا۔ قدیمی انجیل کے پرُانے نسخے ایشیا  افریقہ فرنگستان اور بہت سے ملکوں کے کتب خا نوں میں پائے جاتے ہیں اور اُنک حال کی انجیل سے مقابلہ کرنے سے یہی معلوم ہوا کہ وے سب متفق المعنے ہیں۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہہ انجیلیں آپسمیں بہت سا تفاوت رکھتی ہیں یہہ اُن کی سراسر غلطی ہے۔ بیشک اب عیسائی معلم بھی   اِس بات کے قایل ہیں کہ بعض بعض انجیل کی کوئی آیت مختلف اللغط ہے مگر مختلف المعنے با لکل نہیں ہے۔ اور یہہ فرق بھی چھ(۶) یا  سات (۷) سو یونانی انجیلوں کے پڑھنے سے ثابت ہوسکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی  شخص پانچ یا چھ سو آدمی کو ایک کتاب پڑ ھکر سُنائے اور وے اُس کو لکھیں تو بیشک  اُن  کی نوشتوں میں بعض بعض  فرق پڑینگے ۔ اگر ایک ایک نوشت میں صرف  دو یا تین سو ہو جاویں تو بیشک سب نوشتوں میں بہت سے فرق پڑجائینگے ۔ لیکن اگر سب صاحب ہوش اور عالم  شخص ہوں تو بیشک سب کتابوں کا ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے سے سب کے سب فرق نکال ڈالینگے ۔ اکثر ایسے ایسے فرق ایک کتاب کو دوسری کتاب سے نقل کرنے میں پڑ جاتے ہیں لیکن اُنکی اصلیت میں فرق نہیں آیا۔ دیکھو ٹشن ڈرف صاحب نے ایک انجیل انگریز ی میں چھپوائی ہے جس میں اُس نے  اُن فرقوں کو جو تین بڑی قدیمی انجیلوں میں پڑتے تھے صحیح کر کر لکھا ہے مگر اس کتاب کے ملاحظہ کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بڑا فرق نہیں ہے۔ کیونکہ یہہ کتاب وہی تعلیم دیتی ہے جیسے کہ اور بہت انجیلیں بیشک ایسے ایسے فرق انجیلوں میں پڑتے ہیں۔ ایک(۱) میں لکھا ہوگا کہ عیسیٰ نے کہا ۔ دوسری (۲ )دوسری میں کہ خداوند نے کہا ۔ تیسری(۳) میں کہ مسیح نے کہا۔ پھر ایک میں ہوگا کہ عیسیٰ نے اپنے شاگردونکو کہا اور دوسری میں کہ اُسنے  اُن کو کہا۔ اور وغیرہ۔ اگر کوئی شخص اسبات کو خوب تحقیقات کرنا چاہے  تو میں اُسکو ضرور بتلاؤنگا تاکہ اُس کو معلوم ہو کہ سب انجیلیں ایک ہی ہیں۔ ایک اور طریقہ جس سے اصل نجیل کا ابتک موجود ہونا ثابت ہوتا ہے یہہ ہے کہ بہت سے عیسائی بزرگوں کے نام تمام عیسائی ملکوں میں مشہور ہیں۔ چنانچہ جسٹن شہید جو کہ پہلی صدی میں زندہ تھا ٹرٹیلؔن جو  کہ دوسری  صدی میں تھا۔ اَریجنؔ  تیسری  میں بسیوٹیس اور اگستین چوتھی صدی میں زندہ تھے۔ جن کی تصنیفین بھی آجتک موجود ہیں اور اکثر عیسائی عالم بھی اُن کو پڑھتے ہیں غرض کہ انجیل کے پورا لکھے جانے کے دوسو برس  بعد تیس(۳۰) مصنف جن کی کتابیں آجتک موجود اور لاہور کے پادری صاحبوں کے پاس ہیں گزرے ہیں۔ جن میں انجیل کا حال اور اِس قدر آئیتں مندرج  ہیں کہ اگر  انجیل کھوئی جاوے تو ہم اُن کتابوں کے زریعہ سے اور ایسی بنا سکتے ہیں۔  ایک اور دلیل ہے جس سے انجیل کی اصلیت پائی جاتی ہے۔ عیسیٰ کے وقت سے آج تک بہت لوگ ایسے گزرے ہیں جو کہ دین عیسوئی کے بڑے دشمن تھے اُن میں سے ایک پا رؔفری سنَلسَنؔس ہے جو کہ مسیح کے بعد دوسری  صدی میں ہوا اور جولنین جو چوتھی  صدی میں میں گزرا ہے۔ یہہ تمام بیبل کی تردید  کرتے چلے آئے ہیں۔ مسمیٰ سالس نے ایک کتاب جسکا نام کلمہ حق تھا لکھی اُس میں مسیح کی موؔت پیدؔایش  بپتمؔسا  معجزؔوں  جی اُٹؔھنے اور اُسکی منؔادی کرنے کا ذکر ہے۔ باوجود ایسا سخت دشمن کے انجیل  کو جھوٹا نہ کر سکا ۔ اِس سے انجیل کی سرا سر صداقت پائی جاتی ہے۔ آریجن نے ایک کتاب اُسکے جواب میں لکھی اور کئی ایک باتوں کو اُس سے نکالکر اپنی کتاب میں مندرج کیا جو کہ اکثر پادری صاحبان کے پاس موجود ہے جو شخص دیکھنا چاہے دیکھ لے ۔ مسیح کی موت کے بعد بہت ملکوں کے لوگ  عیسائی ہوگئے چونکہ وہ یونونی  زبان نہ جانتے تھے۔ اِس لیے اپنی اپنی خاص  زبان میں انجیل کا ترجمہ کر لیا ۔ مثلاً سُرؔیانی کپؔٹی لیٹؔنی انؔگلو بیکسؔنی ا رؔمنی  ابتؔہی اوؔپک  کاتؔہک  اور وغیرہ  زبانوں میں ترجمہ ہو گیا۔  مسیح کی وفات کے ایکسو برس بعد  سُؔریانی اور لیٹنی زبان میں ترجمہ ہوا اِسیطرح بعض بعض تین سو  برس کے بعد ۔ بعد ازاں یورپ کے ہر ایک ملک کی زبان میں ترجمہ ہوتا چلاگیا۔  اِن تمام  ترجموں سے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ اصلی انجیل ابتک موجود ہے۔ واضح ہو کہ انجیل اِس وقت عنقریب دو سو زبانوں میں چھپی ہے اور دنیا کے تمام حصوّں ایشیؔا افؔریقہ  امرؔیکہ اور یورؔپ اور وغیرہ ملکوں میں اور جزائیر میں ایک ہی طرح کی پائی جاتی ہے ۔ دیکھو اگر ہند کے مسلمان متفق  ہو کر اپنے قرآن بدل ڈالیں تو اور ملکوں کے محمدی لوگ مثلاً روؔم شاؔم  ایؔران مصؔر زنجبؔار الؔجیرس ٹرؔپولی  تیؔونس  مرؔاکو اور وغیرہ ملکوں کے اپنے قرآن کو کبھی نہ  بگاڑینگے ۔ کیونکہ یہہ با لکل ناممکن ہے اور اگر وے مسلمان بند کے قرآن سے اپنے قرآن کا مقابلہ کرینگے تو وے فوراً یہی کہیں گے کہ ہند کے مسلمانوں کے کئی ایک فرقے ہیں مثلاً شیؔعہ  سنُیؔ وہاؔبی صوؔفی اور وغیرہ اُن میں سے اگر ایک فرقہ قرآن کو اپنی  مرضی کے موافق بدل ڈالے تو اور فرقے کبھی اِ س بات کو منظور نہ کرینگے اور اپنے  اپنے قرآن کو کبھی نہیں  بد ل ڈالیں گے۔ 

اِسیطرح عیسائیوں کے بھی بہت سے فرقے ہیں جو یونی ٹیرین یوناوراسٹنٹ  پرو ٹسنٹ ومنسٹنٹ اور وغیرہ کہلاتے ہیں یہہ سب ایک ہی انجیل رکھتے ہیں ۔ اِس سے صاف صاف ظاہر ہوتا   ہے کہ عیسائیوں نے انجیل کو نہیں بگاڑا   ۔ اِن سب کے پاس وہی انجیل ہے جو کہ زمانہ سلف میں موجود تھی۔ جب اہل اسلام اپنے قرآن کو بدل نہیں سکتے تو عیسائی لوگوں کو کس طرح سے انجیل بدلنے کی جُرات ہوئی۔ جس طرح اب عیسائی لوگ اُن لوگوں کے درمیان جو اُن کے مذہب کے دشمن ہیں  بلکہ سراسر حقیر ہی جانتے ہیں بودوباش رکھتے ہیں اِسیطرح وے ہر ایک زمانہ اور ہر ایک ملک میں دشمنوں کے بیچ رہتے آئے ہیں ۔ چنانچہ اب بھی انگلسؔتان جرؔمنی فرؔانس اور امرؔیکہ میں بہت سے لوگ ہیں جو عیسائی مذہب کے سخت دشمن ہیں تو کیا ممکن ہے کہ ہم اُن کے روبرو کتاب کو بدل سکیں۔ اور اُن کوگوں نے بھی کبھی ہمکو نہیں کہا کہ تمنے اپنی کتاب کو بدل دیا ہاں مگر یہہ بات ہے کہ جب کوئی پادری کسی غیر زبان میں جس سے وہ بخوبی واقف نہیں انجیل کا ترجمہ  کرتا ہے تب وہ اُسکو دوسری دفعہ اچھی صاف کرتا  ہے تو یہہ اختلاف با لکل نہیں ہو سکتا کیونکہ اصلی یونانی  انجیل وہی ہے جو پہلی اور دوسری صدی میں موجود تھی ۔ پھر تمام لوگوں میں عیسائی مذہب کی تعلیم مشہور ہے تو جب اور کوئی قوم اپنی اپنی کتاب کو کبھی نہیں بدلتے اور عیسائی انجیل کی بہت تعظیم کرتے ہیں یہہ سمجھ کر کہ یہہ خدا کا کلام ہے جو ہم کو دیا گیا نجات کا راستہ دکھانے کو وہ بڑی خوشی سے اِ س کو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں اور اُسکی پاک تعلیم پر گفتگو کرتے ہیں تو کیا وہ جان بوجھ کر تحریف کرینگے یہہ بالکل ناممکن ہے۔ پھر ہم اپنی کتاب کو کس طرح سے بدل ڈالیں گے اور لاکھ ہا روپیہ اِسواسطے صرف کرتے ہیں کہ تمام ذبانوں میں  اِسکا ترجمہ ہوجاوے۔  پھر سب لوگ جانتے ہیں کہ کوئی  شخص جب تک کہ اُسکو کوئی دنیاوی فایدہ یا خوشی کی اُمید نہ ہو تب تک وہ قصور نہیں کرتا۔جب انجیل کو بدل ڈالنے سے عیسائی لوگوں کو کچھ فایدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان ہوتا ہے لوّوے انجیل کو کیونکر بدل سکتے ہیں ۔ یہہ بھی واضح ہو کہ یہودی لوگوں کے پاس توریت ذبور  اور نبیوں کے صحیفے ابتک موجود ہیں۔ اور محمدی عالم بھی جانتے ہیں کہ وہ تعلیم جو انجیل میں پائی جاتی ہے اِن تمام کتابوں میں بھی ملتی ہے۔  مثلاً  عیسیٰ کی الوہیت اُسکا کفارہ ہونا، اور وغیرہ۔ اگرچہ عیسائی لوگ اپنی کتاب بدل ڈالیں تو یہودیوں کی کتاب کو کس طرح خراب کرینگے۔ اب ہم اُمید قوی رکھتے ہیں کہ اگر لوگ تعصب کو چھوڑ کر اِن دلیلوں پر غور کریں تو وہ بھی اِقرار کرینگے کہ یہہ انجیل جواب موجود ہے وہی ہے جو عیسیٰ کے بعد پہلی اور دوسری صدی میں موجود تھی۔ ایک اور سوال اِسبات پر کہ آیا کہ انجیل خدا کا کلام ہے یا نہیں بیان کرتے ہیں اگرچہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہندو لوگونکے پاس اصلی وید اور شاشترموجود ہیں اور آتش پرستوں  کےپاس  ژؔند واشتؔااور سکھ لوگوں کے پاس گرؔنتہ توبھی ہم اِنمیں  سے کسی کو کلام الہیٰ ہر گز نہیں کہہ سکتے جب اِسیطرح ثابت ہوا کہ اصلی انجیل ہمارے پاس موجود ہے تو اِس دلیل سے ہرگز خدا کا کلام نہیں ہوسکتی اب ہمیں اُسکو خدا کا کلام ثابت کرنا چاہیے۔

عیسوی مذہب کا ثبوت

انجیل خدا کا کلام ہے۔ عمدہ تعلیم کی شہادت

اگر کوئی شخص ہم کو سکی کتاب کو دکھلا کر دعویٰ کرے کہ یہہ کلام اﷲ ہے تو ہم ضرور یہی کہیں گے کہ ہمیں ضرور اِسباتکی تحقیق کرنی چاہیے کہ وہ تعلیم جو اِس میں پائی جاتی ہے خدا کی مرضی کے مطابق ہے یا نہیں جب ہم انجیل کو کلام الہیٰ کہتے ہیں تو ہمیں یہہ بھی دریافت کرنا چاہیے کہ وہ تعلیم جو اُسمیں پائی جاتی ہے خدا کی مرضی کے موافق ہے یا نہیں ۔ اگر اُسکی تعلیم اُسکی مرضی کے مطابق ہو تو بیشک اِسکو تسلیم کرنا چاہیے ورنہ اُسکو رد کریں۔ یہہ بھی پوشیدہ نہ رہے کہ اگر انجیل کی باتو ں میں سے بعض بعض ہماری سمجھ نہ آویں تو اُس پر تعجب کر کہ اُسکو ردّ نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ جس طرح آسمان زمین پر فوقیت اور ترجیح رکھتا ہے اُسیطرح خدا کی سمجھ ہماری سمجھ پر لڑکا اپنے باپ کی تعلیم  کو ہر گز جھوٹا نہیں سمجھتا ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرا باپ مجھ سے زیادہ دانا ہے۔ بعینہ اِسیطرح انجیل کو اگرچہ اُسکی بعض بعض تعلیمیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں خدا کا کلام کہتے ہیں اور اُسے لوگوں کو سُناتے ہیں۔ اور ہم دعویٰ بھی کرتے ہیں انجیل کی تعلیم سراسر خدا کی مرضی کے موافق ہے۔ دیکھو اِن دنوں میں بہت لوگ ہیں جو انجیل سے واقف ہیں مگر اسکی تعلیم پر بڑے بڑے اعتراض کرتے ہیں ۔ کیونکہ وہ  اِن باتوں پر جو ہماری سمجھ سے بعید ہیں مثلاً مسیح کی الوہیت اُسکا   مجسّم اور کفارہ ہونا  اور ایسے ایسے مشکلات جنکو عقل اِنسانی دریافت نہیں کر سکتی سوال کرتے ہیں۔ ہمکو صرف اُن تعلیموں دریافت کرنا چاہیے جو ہماری سمجھ میں آسکتی ہیں ۔ سب لوگ اِس بات پر متفق ہیں کہ خدا خدا تعالیٰ قادر مؔطلق حاضؔر  و ناظؔر دؔانا عادؔل پاؔک اور مہربؔان ہے ۔ دیکھئے انجیل میں بھی یہی تعلیم ہے جو آدمی انجیل کی تعلیم سے واقف ہیں وہ اقرار کرتے ہیں کہ تمام  صفات الہیٰ انجیل میں مندرج ہیں۔ اِس میں لکھا ہے کہ اگرچہ خدا تعالےٰ تمام قسم کے گناہوں نفرت رکھتا ہے تو بھی گنہگاروں کو پیار کرنا اور اُنکی نجات دینی چاہتاہے۔ چنانچہ اُسنے دنیا کو ایسا پیار کیا کہ اپنے بیٹے یسوع مسیح کو دنیا میں بھیجا کہ وہ ہمارے لیے جان دیوے تاکہ ہم نجات پاویں ۔ جو شخص انجیل کو ازروئے انصاف کے پڑھے تو اُسکو بخوبی معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ دانا پاک رحم محبت کا چشمہ اور حقیقی باپ ہے ۔ اگرچہ اور کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ خداوند تعالیٰ رحیؔم عادؔل پاؔک ہے لیکن اُنکی تعلیموں سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا بالکل رحیم  نہیں ہے۔ کو کوئی اپنے آپ کو یتیم سمجھتا ہے وہ انجیل کے پڑھنے سے معلوم کر لیتا ہے کہ میرا باپ خداوند تعالیٰ ہے اور جو اپنے کو پلید اور گنہگار تصور کرتا ہے وہ دریافت کرتا ہے انجیل سے کہ خدا مجھے ضرور بچانے کے لیے تیار ہے وہ کسی گنہگار کی بربادی پر راضی  نہیں ہے بلکہ  وہ یہی چاہتا  ہے کہ سب کے سب سچےّ اور ایماندار ہو کر نجات ابدی حاصل  کریں۔ اے بھائیو ہم تمھاری منّت کرتے ہیں کہ اگر تم خدا کی محبت اور رحمت سے واقف ہو نا چاہتے ہو۔ تو انجیل کو پڑھو بیشک انجیل کی تعلیم کامل ہے اُس کے اوّل سے لیکر آخر تک یہی لکھا ہے کہ تم حلیم الطبع غریب دل پاک دل بنو۔ اپنے دشمنوں کے قصوروں کو بھی معاف کرو۔ اُنھیں پیار کرو اور اُنکے لیے  پروردگار سے دعا   مانگو ضابر اور رضامند  بنو خدا تعالیٰ کی دل و جان سے عبادت کرو۔ اپنے ہمسایونکو اپنے جیسا سمجھو خدا تعالیٰ کی مانند پاک ہو۔    نحن اقرب إِلَيْهِ من جل الورید یعنے خدا تعالیٰ ہماری شاہرگ سے بھی نزدیک ہے اگر حکموں کو ظاہری  طور پر مانیں اور دل حقیقی پاکیزگی اور محبت مبعّرا ہو تو صرف  قبرونکی مانند جو باہر سے سفید اور اندر سے طرح طرح کی کی الایش  اور اسُتخوانوں سے پُر  ہیں ہوگا۔  حال میں بہت سے ہند و بنگالی اِس ملک میں ہیں جو علم انگریزی سے واقفیت رکھتے ہیں۔ وہ بھی اِس بات کے مقتر ہیں کہ کسی نے آج تک ایسی تعلیم  نہیں دی جیسی کہ عیسیٰ مسیح نے دی ہے۔ صرف پچاس (۵۰) برس کا عرصہ گزرا ہے کہ راجہ رام موہن رائے نے جسکا نام ابتک تمام ہندوستان میں مشہور ہے اپنے لوگوں کو شائیستہ کرنے کے لیے بہت ہی سعی و کوشش اور انجیل سے  بہت باتوں کو نکالکر چھپوایا  تاکہ اُسکے ہم وطنوں کو معلوم ہوجاوے کہ خدا کو  کیا کام پسند آیا ہے کہ اُس نے باوجود عیسائی نہ ہونے کے عیسیٰ کی تعلیم کو پسند کیا ۔صرف یہی باعث ہے کہ وہ دانا تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہہ تعلیم حقیقی اور درست ہے۔ علاوہ اِس کے مسیح کے ہم عصر لوگ اُس کی تعلیم کو سنکر بے اختیار یہی کہتے تھےکہ کسی نے آج تک ایسی تعلیم نہیں دی  جیسا کہ یہہ دیتا ہے۔  اِس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہہ تعلیم عین خدا کی مرضی کے موافق ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اور کتابوں میں بھی پاک تعلیم ہے تو میں یہہ جواب دیتا ہوں کہ بیشک لیکن انجیل کی تعلیم سراسر صحیح اور پاک ہے ہمکو اب لازم ہے کہ مسیح کے چال چلن پر بھی غور کریں۔ اگر تم ازروئے انصاف کے پڑھو تو تمکو معلوم ہوجاویگا کہ اُسکے افعال وا قوال بہت سی عمدہ تھے بلکہ تم بھی اقرار کرو گے کہ کوئی دنیا  میں اُسکے برابر نہ تھا وہ کہتا تھا کہ باپ  اور میں ایک ہوں جو کچھ اُس نے کہا   یا کیا اُس کے دعویٰ کے موافق تھا اکثر ایسا واقعہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے اُستادوں کی تعلیم اُن کے کردار کے موافق نہیں ہوتی یعنے اُنکا چال وچلن اُن کی تعلیم کے برخلاف ہوتا ہے۔ بعض بعض نے اپنی کمزوری سے واقف ہو کر کہا ہے اور اقرار بھی کر دیا ہے کہ بھائیو ایسا کو جیسا کہ ہم سکھلاتے ہیں نہ ایسا کہ جیسا ہم کرتے ہیں ۔ لیکن مسیح کا چال و چلن اُس کی تعلیم کے عین مطابق تھا وہ ہمیشہ حلیؔمی  پرہیؔزگاری  فروؔتنی مؔحبت ہی دکھلاتا تھا۔  ہر ایک کنگال اور گنہگار کی وہ ہمدردی کرتا تھا۔ جب اُس کے دشمن آزمائیش کے طور پر اُس سے سوال کرتے تو وہ اُنکو نہایت حلیمی اور دانائی سے جواب دیتا تھا۔ جب اُسکے دشمن اُسکو طرحطرحکی ایذا دیتے تو وہ صبر کرتا تھابلکہ خدا سے کہتا تھا کہ ای باپ  اِنکو معاف کر کیونکہ یہہ نہیں جانتے   کہ کیا کرتے ہیں ۔ جب اُسکے ایک شاگرد نے اُسے بوسہ سے پکڑوایا تو اُس نے صرف اُسے یہہ کہا کہ اے یہودا کیا تو ابن آدم کا بوسہ لیکر اُسے پکڑاتا  ہے۔ جب یروشلم کی عورتیں اِسلیے کہ گنہگار لوگ اُسے صلیب۔

عیسوی مذہب کا ثبوت

انجیل خدا کا کلام ہے پیشین گوئیوں سے ثبوت

اہل اسلام اور عیسائی اسبات پر متفق  ہیں کہ خدا تعالیٰ نے نبیونکی معرفت اپنی مرضی ظاہر کی اور دونوں مانتے ہیں کہ موسیٰ و داؤد  و دانیال وغیرہ سب انہیں نبیونمیں سے تھے علاوہ اِسکے قرآنمیں بھی اِنکا  زکر پایا جاتا ہے۔ نورائجےس ثابت ہوتا ہے کہ یہودی اپنی کتاب کی نہایت حفاظت کرتے چلے آئے ہیں۔ جب عیسیٰ اِس دنیا میں تھا تو اُن کو اکثر ملامت کرتا تھا۔ کیونکہ وہ اپنی کتابوں پر عمل نہیں کرتے تھے۔ لیکن اُس نے اُنکو کبھی نہیں کہا تھا کہ تمنےاُن کو خراب کر دیا ہے بلکہ اُنہیں کتابوں کو لیکر اُنکو سناتا تھا اور فرماتا تھا کہ اُن پر عمل کر و۔ یہہ کتابیں عبرانی زبان میں ککھی گئی تھیں۔ اور آج تک یہودی اور عیسائی لوگ اُن کو اُسی زبان میں پا سکتے ہیں مسیح سے تین سو  برس  کے قریب پیشتر  سکندریہ کے ستر عالموں سے یہہ کتابیں عبرانی سے یونانی زبان میں ترجمہ کی گئیں۔ یہی ترجمہ جو تمام روئے زمین پر مشہور ہے سعہ اصلی کتابوں کے ملتا ہے ۔ جو لوگ اِس بات پر یقین کرینگے کہ یہودیوں پاس توریت وغیرہ صحائف انبیا موجود ہیں۔ تو اُن کو یہہ بھی کہنا ضرور پڑیگا کہ یہودیوں نے عیسائیو کو اتنی فر صت ہرگز نہیں دی کہ وہ اُنکی کتاب کو اپنے مطلب کے موافق بدل ڈالیں تاکہ وہ عیسیٰ پر گواہی دیویں ردوّبدل کر سکیں۔ خدا کی مرضی سے ایسا ہوا کہ یہودی لوگ تمام دنیا میں پراگندہ  ہو گئے اور اپنی کتابیں بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں پس ہم یہہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو پیشنگوئیاں اِن کتابوں میں مسیح کی بابت مندرج ہیں عیسائی دین کو ثابت کرتی ہیں۔ اگر کوئی شخص پیشنگوئی کرئے کہ عیؔسیٰ  یا  محؔمد یا مدؔاس آویگا۔ اگرچہ پوری بھی ہو تو اِس سے کچھ  ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ ہزار ہا آدمیوں کے ایسے نام ہوتے ہیں ۔ یا اگر کوئی شخص کہے کہ اٹلی یا عرب کے ملک کی زبان سے آگ نکلیگی اور وہ نکل بھی پڑی تو اِس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا ۔ کیونکہ آگ کئی ایک ملکوں کی زبان سے نکلتی ہے۔ اگر کوئی زخص کہے کہ انگریز اِس صدی میں قندہار تک فتح کر لیوینگے یا اہل روس کابل تک آوینگے اگر یہہ ہو بھی جاوے تو اس سے بھی اُسکی بنوت نہیں  پائی  جاتی  اکثر لوگ ایسی ایسی باتوں سے فریب کھاتے ہمارے نزدیک چند دلایل میں جن سے سچیّ پیشن گوئی ثابت ہو سکتی ہے ۔ اؔوّل پیشینگوئی پوری ہونیکے پیشتر ہی لکھا جاوے۔ دؔویم  کہ کسی فایدہ کے واسطے ہو ۔ سیؔوم کہ وہ با لکل آدمی پیش بینی سے باہر ہو۔ چہارم کہ وہ پوری بھی ہو جاوے۔ اور پنجم یہ کہ پیشین گوئی  اپنے پورا  ہونے کے سبب نہ ہووے۔ اگریہہ پانچ  علامتیں پائی جاویں  تو بیشک پیشین گوئی سچی ہوگی۔ دیکھو نبیوں کی کتابوں میں بیشمار پیشین گویاں ہیں خدا نے نبیوں کی معرفت مصر  کوہ طور  بابل سور یہودیہ  وغیرہ کی بابت زکر کیا کہ کیا حال آیندہ کو اِنکا   ہوگا۔ 

اِن باتوں کے پارا ہونے سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی جن کی معرفت یہہ سب باتیں لکھی گئی تھیں خدا سے الہام پائی تھیں۔

اب ہم اُن پیشین گوئیوں کا بیان کرتے ہیں جو مسیح اور اُسکی بادشاہت کے بابت  زکر کی گئی ہیں۔ پیدایش کے تیسرے باب کی پندرہویں آیت میں ایک بچانے والے کا زکر ہے۔ جسکا خطاب عورت کی نسل ہے انجیل سے بھی ثابت ہے کہ عیسیٰ مریم کنواری سے پیدا ہوا۔ خدا نے اشارہ دیا کہ یہہ بچانے والا ابراہیم کی نسل سے ہوگا ۔ دیکھو پیدایش کا ۲۲باب ۳ آیت ۔ اور پھر اصحاق سے ہوگا۔ پیدایش ۲۶ باب ۴ آیت ۔ اِسکے ۴۹ باب ۱۰ آیت سے صاف صاف ظاہر ہے کہ یہی بچانے والا بادشاہ یہودہ کے فرقہ سے آنے والا تھا۔ اور یسعیاہ نبی کے ۱۱ باب ۱۰ آیت میں یوں لکھا ہے کہ وہ یسیّ کی نسل سے ہوگا۔ پھر یسعیاہ نبی کی معرفت خدا تعالیٰ  نے فرمایا   کہ کنواری پیٹ ہوگی اور بیٹا جنیگی اور اُسکا نام عمانوئیل یعنے خدا ہمارے ساتھ رکھینگے  ۔ ہر ایک  شخص جانتا ہے کہ عیسیٰ مریم کنواری سے پیدا ہوا۔ اور انجیل سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا مسیح میں مجسم ہوا ۔ اور مسیح  کے نسب نامے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم سے اصحاق پیدا ہوا  اور اصحاق سے یعقوب اور یعقوب سے یہوداہ اور یہوداہ کے خاندان میں یسّی پیدا ہوا اور یسیّ سے داؤد  بادشاہ اور مسیح داؤد کے خاندا ن میں پیدا ہوا۔ سو مسیح میں یہہ سب پیشین گوئی پوری ہوئی۔ پھر اُسی نبی نے کہا کہ ہمارے واسطے ایک لڑکا تولد ہو تاہے  اور ہمکو ایک بیٹا بخشا جاتا ہے جسکے کاندے پر سلطنت ہو گی اور اُسکا نام عجؔیب مؔشیر خدا قاؔدر مطلؔق ابدیؔت کا باپ اور سلامتی کا شہزادہ ہوگا۔ یہہ سب باتیں یسعیاہ نبی کے ساتویں باب ۱۴ آیت میں بیان ہوئیں تو وہ ضرور عمانوئیل ہی تھا۔ اور جو لوگ انجیل سے واقف ہیں وہ سب جانتے ہیں کہ وہ سب مسیح میں پوری ہوئیں۔ پھر میکاہ ۵ باب کی ۲ آیت میں لکھا ہے کہ بیت الحم میں پیدا ہوگا۔ اور متی کے ۲ باب سے ظاہر ہوتا ہ ے کہ اگرچہ مریم بیت لحم میں نہیں رہتی تھی تو بھی خدا کی قدرت اور حکمت ایسی ہوئی کہ وہ وہاں چلی گئی اور مسیح وہاں پیدا ہوا تاکہ یہہ پیشین گوئی پوری ہو۔ علاوہ اِسکے جبرائیل نے دانیال نبی کو خبردی کہ وہ فلانے زمانہ میں پیدا ہوگا اور اُسکا نام  یہہ نام ہوگا اور کفارہ ہونے کیواسطے آ ئیگا۔ دیکھو باب ۹ ، ۲۵ آیت ۲۷ تکپس تُو معلُوم کر اور سمجھ لے کہ یروشلِیم کی بحالی اور تعمِیر کا حُکم صادِر ہونے سے ممسُوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے ۔ تب پِھر بازار تعمِیر کِئے جائیں گے اور فصِیل بنائی جائے گی مگر مُصِیبت کے ایّام میں۔ اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسُوح قتل کِیا جائے گا اور اُس کا کُچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آئے گا جِس کے لوگ شہر اور مَقدِس کو مِسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہو گا اور آخِر تک لڑائی رہے گی ۔ بربادی مُقرّر ہو چُکی ہے۔ اور وہ ایک ہفتہ کے لِئے بُہتوں سے عہد قائِم کرے گا اور نِصف ہفتہ میں ذبِیحہ اور ہدیہ مَوقُوف کرے گا اور فصِیلوں پر اُجاڑنے والی مکرُوہات رکھّی جائیں گی یہاں تک کہ بربادی کمال کو پُہنچ جائے گی اور وہ بلا جو مُقرّر کی گئی ہے اُس اُجاڑنے والے پر واقِع ہو گی۔ واضح رہے کہ  ایک ہفتہ سات برس کی مراد رکھتا ہے۔ جب یہہ بات دانیال پر ظاہر ہوئی تب بنی اسرائیل بابل میں اسیر تھے لیکن تھوڑے دن بعد بادشاہ نے اُن حکم کیا کہ وہ اپنے ملک کو جاکر یروسلم اور ہیکل کو پھر بناویں اگرچہ اُسکے بنانے میں کچھ روک ٹوک ہوئی تو بھی وہ کامیاب ہوگئے اور اُس حکم کے صادر ہونے سے مسیح کی موت  تک ۴۹۰ بر س سے  تین  چار بر س کم تھے۔ جیسا کہ لکھا گیا تھا کہ وہ غیروں کے واسطے پچھلے ہفتہ کے درمیان میں مارا جاویگا۔ جسطرح کہ یسعیاہ نبی کے ۶۱باب کی ۱آیت سے ۳ تک لکھا ہے اُسیطرح عیسیٰ نے لوگوں کی تسّلی کی اور اُنکو خوشخبری سنائی۔اُن میں لکھا ہے کہ خُداوند خُدا کی رُوحمُجھ پر ہےکیونکہ اُس نے مُجھے مَسح کِیا تاکہ حلِیموں کو خُو ش خبری سُناؤُں اُس نے مُجھے بھیجا ہے کہ شِکستہ دِلوں کو تسلّی دُوں ۔ قَیدیوں کے لِئے رہائی اور اسِیروں کے لِئے آزادی کا اِعلان کرُوں۔ تاکہ خُداوند کے سالِ مقبُول کا اور اپنے خُدا کے اِنتقام کے روز کا اِشتہار دُوں اور سب غمگِینوں کو دِلاسا دُوں۔ صِیُّون کے غمزدوں کے لِئے یہ مُقرّر کر دُوں کہاُن کو راکھ کے بدلے سِہرااور ماتم کی جگہ خُوشی کا رَوغن اور اُداسی کے بدلے سِتایش کا خِلعت بخشُوں  تاکہ وہ صداقت کے درخت اور خُداوند کے لگائے ہُوئے کہلائیں کہ اُس کا جلال ظاہِر ہو۔ یسعیاہ نبی کی ۵۳ باب کی پہلی آیت میں لکھا ہے کہ لوگ اُسپر ایمان نہیں لاوینگے سو ایسا ہی ہوا۔ پھر اُسی کی دوسری اور تیسری آیت ہے کہ وے اُسکو حقیر جائنیگے۔  اور چوتھی آیت سے ساتویں تک کہ تَو بھی اُس نے ہماری مشقّتیں اُٹھا لِیں اور ہمارے غموں کو برداشت کِیا ۔پر ہم نے اُسے خُدا کا مارا کُوٹااور ستایا ہُؤا سمجھا۔حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیااور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا ۔ہماری ہی سلامتی کے لِئے اُس پر سیاست ہُوئیتاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شِفا پائیں۔ہم سب بھیڑوں کی مانِند بھٹک گئے ۔ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پِھراپر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔وہ ستایا گیا تَو بھی اُس نے برداشت کی اور مُنہ نہ کھولا ۔ جِس طرح برّہ جِسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اورجِس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زُبان ہے اُسی طرح وہ خاموش رہا۔یہہ بھی حرف حرف پورا ہوا۔ پھر پچاسواں باب ۶آیت میں لکھا ہے کہ مَیں نے اپنی پِیٹھ پِیٹنے والوں کے اور اپنی داڑھی نوچنے والوں کے حوالہ کی ۔ مَیں نے اپنا مُنہ رُسوائی اور تُھوک سے نہیں چُھپایا۔اور مسیح کی موت کے بابت ۲۲ زبور کی ۱۳ آیت سے ۱۸ تک اِسطور پر لکھا ہے کہ   وہ پھاڑنے اور گرجنے والے بَبر کی طرح  مُجھ پر اپنا مُنہ پسارے ہُوئے ہیں۔ مَیں پانی کی طرح بہہ گیا۔ میری سب ہڈّیاں اُکھڑ گئیِں۔میرا دِل موم کی مانِند ہو گیا۔ وہ میرے سِینہ میں پِگھل گیا۔ میری قُوّت ٹِھیکرے کی مانِند خُشک ہو گئی اور میری زُبان میرے تالُو سے چِپک گئی اور تُو نے مُجھے مَوت کی خاک میں مِلا دِیا۔ کیونکہ کُتّوں نے مُجھے گھیر لِیا ہے ۔ بدکاروں کی گروہ مُجھے گھیرے ہُوئے ہے۔ وہ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں چھیدتے ہیں ۔ مَیں اپنی سب ہڈِّیاں گِن سکتا ہُوں ۔ وہ مُجھے تاکتے اور گُھورتے ہیں۔ وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں۔ اور میری پوشاک پر قُرعہ ڈالتے ہیں۔پھر ۱۶ زبور کی ۹ اور ۱۰ آیت میں لکھا ہے کہ  اِسی سبب سے میرا دِل خُوش اور میری رُوح شادمان ہے۔ میرا جِسم بھی امن و امان میں رہے گا۔ کیونکہ تُو نہ میری جان کو پاتال میں رہنے دے گا۔ نہ اپنے مُقدّس کو سڑنے دے گا۔

یہہ سب باتیں مسیح میں ہی پوری ہوئیں ۔ یہہ تمام پیشین گویاں جو عیسیٰ کے بابت لکھی گئیں ہیں ایکدوسرے سے اِسقدر تفاوت اور ضد رکھتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایک آدمی میں پوری ہونگی۔ مثلاً ایک جگہ میں لکھا ہے کہ وہ  بڑا فتحمند بادشاہ  ہوگا۔ دوسری زبور کی ۷ آیت سے ۱۳ تک دیکھو پھر یسعیاہ نبی کے ۵۳ کی ۷ آیت میں لکھا ہے کہ وہ ایک مصیبت زدہ اور مغلوب ہوگا۔ اِسی کتاب کے ۹باب کی ۶ آیت میں لکھا ہے کہ وہ قادر مطلق ابدیت کا باپ  اور اسی آیت میں لکھا ہے کہ وہ لڑکا ہوگا۔ پھر دانیال کے ۲ باب کی ۴۴ آیت میں لکھا ہے کہ اُس کی بادشاہت  ابد الاباد ہوگئی۔ اور کئی ایک جگہوں میں لکھا ہے کہ وہ مارا جاویگا۔ ایک جگہ لکھا  کہ وہ مردود ہو گا۔ لیکن ۷۲ زبور کی ۴،۸،۹،۱۱،۱۲،۱۳،۱۷آیت میں اِسکی لکھا ہے یہہ سب کی سب باتیں مسیح میں پائی جاتی ہیں بیشک خدا نے اِن پیشین گوئیوں کو ہماری ہدایت اور تسلّیکیواسطے لکھوایا۔ یہودیوں کی تواریخ سے پایا جاتا ہے کہ وہ لوگ قوموں کو کتےّ کی مانند جانتے ہیں۔  جسطرح برہمن لوگ اور قوم کے آدمیوں کو ناپاک اور حقیر جانتے ہیں۔ اِسطرح وہ بھی تصور کرتے ہیں۔ ایک روز ایسا واقع ہوا کہ جب پولوس رسول نے اُن کے سامنھے کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے غیر قوموں کے پاس بھیجا ہے انہوں نے اُسکو مار ڈالنا چاہا اِس کے علاوہ کئی ایک نبیوں نے یہی کہا کہ جب یسوع آویگا خدا یہودیوں کو ردّ کر کے اور قوموں کو قبول کرے گا۔ اِسکی تصدیق کے لیے کئی ایک آیت نبیونکی  کتابوں سے نکا لکر ہم لکھتے ہیں۔ چنانچہ یسعیاہ کے گیا رھویں باب کی ۱۰ آیت میں لکھا  ہے کہاور اُس وقت یُوں ہو گا کہ لوگ یسّی کی اُس جڑ کے طالِب ہوں گے جو لوگوں کے لِئے ایک نِشان ہے اور اُس کی آرام گاہ جلالی ہو گی۔ پھر ۴۲باب کی پہلی آیت میں لکھا ہے  کہ دیکھو میرا خادِم جِس کو مَیں سنبھالتا ہُوں ۔ میرابرگُزِیدہ جِس سے میرا دِل خُوش ہے ۔ مَیں نے اپنی رُوح اُس پر ڈالی ۔ وہ قَوموں میں عدالت جاری کرے گا۔اُسی کی چھ ّیت میں خداوند نے تجھے صداقت کے لیے بلایا میں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا۔ اور تیری حفاظت کرونگا اور لوگوں کے عہد اور قومونکے نور کے لیے تجھے دونگا۔ اور ۴۹ باب کی ۲۲آیت خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ مَیں قَوموں پر ہاتھ اُٹھاؤُں گا اور اُمّتوں پر اپنا جھنڈا کھڑا کرُوں گا  اور وہ تیرے بیٹوں کو اپنی گود میں لِئے آئیں گے اور تیری بیٹِیوں کو اپنے کندھوں پر بِٹھا کر پُہنچائیں گے۔ اور ۶۰ باب کی ۳،۵، ۱۱ آیتوں میں اور قَومیں تیری رَوشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطِین تیرے طلُوع کی تجلّی میں چلیں گے۔  اور سلاطِین تیرے طلُوع کی تجلّی میں چلیں گے۔ہاں تیرا دِل اُچھلے گااور کُشادہ ہو گا۔ کیونکہ سمُندر کی فراوانی تیری طرف پِھرے گی۔ اور قَوموں کی دَولت تیرے پاس فراہم ہو گی۔ اور تیرے پھاٹک ہمیشہ کُھلے رہیں گے ۔ وہ دِن رات کبھی بند نہ ہوں گے۔ تاکہ قَوموں کی دَولت اور اُن کے بادشاہوں کوتیرے پاس لائیں۔ اور ۶۲ باب کی دوسری آیت   تب قَوموں پر تیری صداق اور سب بادشاہوں پر تیری شَوکت ظاہِر ہو گی  اور تُو ایک نئے نام سے کہلائے گی جو خُداوند کے مُنہ سے نِکلے گا۔ اور ۶۶ باب کی ۱۲، ۱۹ آیت   کیونکہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ مَیں سلامتی نہر کی مانِند اور قَوموں کی دَولت سَیلاب کی طرح اُس کے پاس رواں کرُوں گا تب تُم دُودھ پِیو گے اور بغل میں اُٹھائے جاؤ گے اور گُھٹنوں پر کُدائے جاؤ گے۔ ۴۹ باب کی ۱۶ آیت اُنکی جالی کی پوشاک بن نہیںسکتی وے اپنی بناوٹ سے آپکو ڈھانپ نہیں سکتے۔ یہہ سب پیشین گوئیاں پوری ہوئیں اور ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ جب عیسیٰ مسیح اس دنیا میں تھا اُس نے بھی بہت سی پیشینگوئیاں کہیں اور وہ حرف بہ حرف پوری ہوئیں ۔ اُسنے اپنی موت کی پیشین گوئی کی کہ میں کس وقت مارا جاؤں گا۔ متی کی  ۱۲، ۱۸ آیت کو ملاحظہ کیجئے۔ اُسنے یہہ بھی کہا کہ میرا ایک شاگرد مجھے پکڑوائیگا۔ مرقس کے ۱۴ باب ۱۰ آیت کو دیکھو کہ کس طرح مارا جاوے ۔ متی ۲۰ باب  ۱۹ آیت اور مرقس ۱۰ باب ۳۳ آیت اُس نے کہا کہ میرا شاگرد لوگوں سے حقارت کئے جاوینگے  پھر  اُسنے یر وسلم  برباد ہونے کے بابت بھی کہا ۔ متی کے ۲۴ باب  ۲، ۱۰، ۱۶، ۲۱، ۲۲، ۳۴ آیتوں پر ملاحظہ فرمائیے ۔ یہہ سب باتیں  مسیح کی موت کے چالیس برس بعد حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔

عیسوی مذہب کا ثبوت

انجیل خدا کا کلام ہے۔ حواریوں کی گواہی سے ثبوت

انجیل کے تصدیق کرنے کی تیسری  دلیل حواریوں کی گواہی ہے جب تم سے کوئی پوچھے کہ تم کس طرح سے  جانتے ہو کہ اکبر بادشاہ دہلی کا تھا تو تم جواب دہوگےکہ لوگون کی زبان اور کتب تواریخ سے ثابت ہے کہ وہ دہلی کا بادشاہ تھا۔ ایسا یہ سب جانتے ہیں کہ ارسطو ایک یونانی حکیم تھا اور فرعون مصر کا بادشاہ علیٰ ہذا القیاس اور بہت سی باتیں ہیں جو صرف گواہی سے ثابت ہوتی ہیں اور ہم اِن میں ذرا بھی شک نہیں کر سکتے ۔ لیکن بعض بعض گواہیاں بھی  قابل  اعتبار نہیں ہو سکتیں۔ اِس لیے ہمکو ایک ایسا قانون بنانا چاہیے کہ جس سے سچیّ اور جھوٹھی گواہیاں ثابت ہو سکیں۔ چار وجہ ہیں جنسے سچیّ جھوٹھی گواہی معلوم ہوسکےی ہے۔ پہؔلے یہہ کہ وہ بات جسکی بابت گواہی  دی جاوے اغلب ہو۔ مثلاً اگر کوئی آدمی کہے کہ اورنگ زیب نے اپنے بھائیوں کے ساتھ بڑی سختی کی۔ تو یہہ بات ہو سکتی ہے۔ لیکن یہہ اغلب نہیں کہ کرشن نے  گو پیونکو بارش  سے محفوظ رکھنے کے لیے پہاڑ کو اپنی  انگلی پر اُٹھا کر اُن کے سر پر سایہ کر دیا۔ دوسرے یہہ کہ گواہ بہت ہوں اور معتبربھی۔ فرض کرو کہ اگر کسی مقدمہ کی تصدیق کرنے کے لیے صرف ایک گواہ ہو تو کچہری میں کوئی شخص اُسکی بات پر اعتبار نہیں کر سکتا ۔ یہہ بھی واضح ہو کہ شریر اور بد معاش لوگوں کی گواہی قابل سماعت نہیں ہو سکتی۔ تیسرے یہہ کہ گواہ نے شہادت سے کچھ نفع  نہ اُٹھایا ہو اور اگر اپنی مطلب برآری پر گواہی دیوے تو یہہ بھی مانی نہیں جا سکتی ۔ چوؔتھے یہہ کہ گواہ جس بات پر وہ گواہی دیتا ہے اُس سے آگاہ  ہو۔ وہ گواہی جس میں یہہ چار باتیں پائی جاویں قابل اعتبار ہیں بگر نہ ہر گز نہیں۔ اب ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ بیان کیا جاتا ہے ۔ پہلا یہہ کہ جو بات جس کی بابت گواہی دیجاوی ممکن ہو۔ دیکھو اﷲ تعالیٰ نے اِنسان اور حیوان کیواسطے کیسے کیسے عمدہ بندوبست کئے ہیں مثلاً دیکھنے کے لیے آنکھ سونگھنے کو ناک اور سنُنے کو کان اور وغیرہ  سب چیزیں عطا کی ہیں ۔ اِن سب کے سوا ایک اور بات ہے جو ہر ایک انسان کے لیے بہت ہی ضروری ہے یعنے نجات اور یہہ بات اغلب ہے کے اُس نے ضرور اِس کے واسطے بھی بندوبست  کیا ہوگا کیونکہ وہ ہماری بہتری چاہتا ہے نجات یہہ ہے کہ ہم گناہ کی طاقت اور اُسکی پلیدگی اور سزا سے چُھٹکارا  پاویں۔ اِس چھٹکارے کے لیئے بندوبست چاہیے۔مثلاً اگر کسی کا باپ اپنے بیٹے کو اُسکی تندرستی کی حالت میں اُسکو پیار کرے اور ضروری چیزیں دیوے تو جب وہ بیمار ہوگا تو بھی وہ اپنے لڑکے کا اچھی طرح حفاظت کریگا اور کوشش کرے گا تاکہ وہ صحت پاوے تو کیا وہ مہربان جس نے ہمکو تمام دنیاوی چیزیں دیں کیا یہہ بندوبست  نہ کریگا کہ ہم گناہ سے بچیں اور ہمیشہ کی زندگی پاویں۔

پوشیدہ نہ رئے کہ عیسیٰ کے کام  اور کلام کے بہت سے گواہ ہیں۔ چنانچہ وہ شاگرد جوعیسیٰ کے ساتھ رہے  اور اُسکے کلام کو سنُتے رہے جن کی گواہی آج تک موجود ہے اکثر اہل اسلام نہیں جانتے کہ مسیح جے حواریوں کا زکر قرآ ن میں  ہے لیکن اگر دریافت کرنا ہو تو سورۃ مائدہ کی  ۱۱۱،۱۱۲،۱۱۳ آیت کو دیکھیے  ۔     وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ ۔ یعنے اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب اُنہوں نے کہا کہ "ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں"۔    إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۔ یعنے جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تیرا رب کر سکتا ہے کہ ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے اتارے کہا الله سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو ۔     قَالُوا نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّاهِدِينَ ۔ یعنے انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں اور ہم جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس پر گواہ ر ہیں ۔ عیسیٰ نے اپنے شاگردوں میں سے بارہ کو چُن لیا تاکہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں اور اُس کے ساتھ اور اُسکے پیچھے انجیل کی منادی کریں اُن میں سے مؔتی یوحّؔنا یعقؔوب  پطؔرس نے مسیح کا احوال کم وبیش لکھا ۔ اِن کے سوائے  مؔرقس لوؔقا اور پوؔلوس نے اِس کام  و کلام پر گواہی  دی جب  یہہ تمام شاگرد اور   اَور   عیسائی لوگوں کے درمیان منادی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمنے اِن بوتونکو بچشم خود دیکھا ہے اور کانوں سے سناُ ہے تو بیشک وہ  لوگ جنمیں سے سنِکڑے لوگوں نے مسیح کو دیکھا اور اُسکی کلام کو سُنا  ہے اِن باتوں  کو مانتے ہیں۔ اب اِن لوگوں کے چال وچلن کو دریافت کرنا چاہیے جو آدمی اُن کتابوں کو پڑھیگا  اُسکو بخوبی  واضح ہوگا کہ وے راست گو اور نیک تھے  کیونکہ اُن کی تعلیم میں فرؔوتنی حلیمؔی بردبارؔی ایک دوسرے کی خطاؤں کی معافی اور محبت پائی جاتی ہے اور خود غرضی کا نشان بھی نہیں  پایا جاتا۔  برہموں کی کتاب میں لکھا ہے کہ برہموں کی عزّت کرو  اور جو شخص کسی برہمن کو گائے دیگا سئرگ میں داخل ہوگا اور جو برہمن کو کسی گناہ کیواسطے ماریگا وہ نرگ میں جائیگا۔  قرآن سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اِسکا مصّنف محمد صاحب دنیاوی اور جسمانی خوشیونکی بہت خواہش کرتا تھا کیونکہ اُس نے کہا کہ مجھے بہ نسبت  اور مسلمانوں کے زیادہ عورتیں چاہیئں۔ جب اُسکی قسم نے اُسے روکا اُسے حکم دیا گیا کہ قسم کو مت مانو ۔  سورۃ تحریم کی پہلی اور دوسری آیت کو دیکھ لیجئے ۔ يَاأَيُّهَاالنَّبِيُّ    لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ یعنے اے نبی آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو الله نے آپ کے لیے حلال کیا ہے آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہیں اور الله بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔    قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ یعنے  الله نے تمہارے لیے اپنی قسموں کا توڑ دینا فرض کر دیا ہے اور الله ہی تمہارا مالک ہے اوروہی سب کا جاننے والا حکمت والا ہے۔    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ ۔یعنے  اے نبی ہم نے آپ کے لیے آپ کی بیویاں حلال کر دیں جن کے آپ مہر ادا کر چکے ہیں اور وہ عورتیں جو تمہاری مملومکہ ہیں جو الله نے آپ کو غنیمت میں دلوادی ہیں۔ برعکس اِسکے خداوند عیسیٰ مسیح کے شاگرد ہر طرح کی خیر خواہی اور خاکساری ظاہر کرتے تھے اور عزت کے خواہاں  کبھی نہ ہوئے تھے کبھی غرور نہ کرتے تھے اور اپنی رسالت پر کبھی فخر نہ کرتے تھے۔ وہ کبھی نہیں کہتے تھے کہ ہم اعمالوں سے بچیں گے صرف خدا کا فضل ہمکو بچا سکتا ہے کیونکہ ہم بھی اور آدمیوں کی مانند گنہگار اور  لاچار ہیں ۔ سورۃ الانفال  کی پہلی آیت میں لکھا ہے۔    يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ۔ یعنے تجھ سے غنیمت کا حکم پوچھتے ہیں کہہ دے غنیمت کا مال الله اور رسول کا ہے۔اگر حواری یہہ کہتے کہ غنیمت  کا مال ہمارا اور خدا  کا ہے تو وہ بالکل خود غرض  ہوتے لیکن یہہ عادت تو اُن میں پائی بھی نہیں جاتی  بلاشک وہ لوگوں کی نجات کا فکر کرتے تھے نہ لوٹ کا ۔ کاش  کہ خدا   لوگوں کی آنکھیں کھول دیوے اور وے مسیح کے حواریونکی پاکیزگی اور خود انکاری سے واقف ہوں۔

اب تیسرا نشان سچیّ گواہی کا یہہ ہے کہ  گواہ کو کچھ لالچ نہ ہو جب  سن ۱۸۵۶ ء  میں ہندوستا ن میں غدر مچا تو   جس طرح بہت مفسدوں نے انگریز اور عیسائی  خاص کر کے اُن لوگوں جو واعظ   تھے مارنا چاہا  بلکہ کئی ایک کو مار بھی ڈالا۔ ۔ اسیطرح اُن دنوں میں جب عیسائی مذہب کا آغاز ہو ا خدا وند یسوع مسیح کے کہنے کہ مطابق کہ میں تمکو بھیڑوں کی مانند بھڑیوں میں بھیجتا ہوں اور جو کوئی تمکو مار ڈالیگا یہی گمان کریگا کہ میں خدا کی خدمت بجا لاتا ہوں اسیطرح یہودیوں اور غیر قوموں نے مسیح  کے شاگردوں سے  و پیروں سے دشمنی  حقارت اور طرح طرح کی تعدّی کی بلکہ کتنے پیروں کو قتل بھی کیا  ۔  باوجود اِس ظلم و ستم کے وے لوگ اپنی جان کو ناچیز سمجھ کر ملک بہ ملک شہر بہ شہر گا تو بہ  گانو  پھر تے تھے اور انجیل کی منادی کرتے تھے۔  تواریخ سے منکشف ہوتا ہے  کہ حواری بالکل غریب اور کنگال تھے اور اُن میں بہت سے لوگ مارے بھی گئے ۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وے  دنیاوی فائیدہ کے ہر گز خواہاں  نہ تھے وہ راست گو تھے اور  دنیاوی فائیدہ کے واسطے جھوٹ نہ بولتے تھے۔ اگرچہ وہ دنیا سے مردود ہوئے اور اُنکا جینا کسی کو  گوارا نہ تھا اور ہر شخص اُن کے قتل  کے درپے تھا تاہم وے اپنے خدا اور اپنے بچانے والے  کے حضور میں روحانی شان و شوکت سے رہتے تھے خدا تعالی اپنے فضل سے ہم کو بھی اُن کی مانند کرے یہہ بھی واضح ہو کہ جب یوّحنا نے رویا  میں آسمان کو کُھلے ہوئے دیکھا اور بہت لوگ سفید پوشاک پھنے ہوئے  اُسے نظر آئے تب اُسنے فرشتے سے پوچھا کہ یہہ کون ہیں ۔ تو اُس نے اُسے جواب دیا  کہ یہہ وہ لوگ  جنہوں نے بسبب قبول کرنے دین عیسوی کے نہایت تکلیف پائی  تھی۔ پولوس رسول کی تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ ہے کہ اُس  نے تین بار چھڑیوں سے مار کھائی ۔  ایک دفعہ سنگسار کیا گیا ۔ پانچ  بار ایک کم چالیس کوڑے  کھائے اور  وغیرہ تواریخ  سے ثابت ہوتا  ہے کہ آخر کا ر قتل ہوا بیشک عیسایونکو پہلے پہلے  ایسے فائیدے ملتے تھے۔

چھوتھا سچاّ نشان سچیّ گواہی کا یہہ ہے کہ گواہ اُس بات کی گواہی دیوے جس سے وہ اچھی طرح سے واقف ہو۔عیسیٰ نے جو کچھ سناُیا  یا سکھایا  جہان کے سامنے کیا یا اپنے شاگردوں کے سامنے وے گانؤ گانؤ ملک بہ ملک  اُسکے ساتھ رہتے اور پھرتے تھے اُسی کے ساتھ کھاتے پیتے تھے۔ اور وہ معجزے جو اُس نے لوگوں کو دیکھائے سب اُن کے سامنے ہی ہوئے  اُن کی گواہی عین درست ہے کیونکہ اُنھوں نے جو دیکھا اور سنُا وہی لوگوں کے سامنے بیان کیا۔ جب اِس بات میں کچھ شک نہیں  کہ جو باتیں حواریوں نے کہیں  سچیّ تھی اور ممکن بھی تھیں  تو بیشک وہ قابل اعتبار تھیں دنیا میں گواہی دینے کے باعث اُن کو ہر طرح کی تکلیف ملی اور کسی طرح کا فایٔدہ نہ تھا۔  اور وہ باتیں جن پر وہ گواہی دیتے تھے اُن کے سامنے ہوئیں اور انھوں نے بچشم خود دیکھا تو ضرور اُن کی گواہی ماننے کے لایق ہے جس قدر دلایل عیسیٰ کی بات حواریوں اور اور لوگوں نے دی ہیں میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اِس قدر دلیلیں سکندر اعظم کی فتوحات کی بھی نہ ہونگی۔ اگرچہ اِس کی فتوحات میں کوئی آدمی شک نہیں تو بھی اُن کی گواہی  ایسی پختہ نہیں جیسا کہ انجیل کی یعنے جس طرح مسیح کا احوال گواہیوں  سے ثابت ہوتا ہے سکندر کی فتوحات نہیں ہو سکتیں جب باوجود اِن سستُ گواہیوں کے ہمیں ماننا  پڑتا ہے کہ سکندر ایک عظم بڑا   جنگی بادشاہ تھا تو ہم کیوں نہ اُسکو مانیں کہ خداوند عیسیٰ مسیح جس کے بابت بیشمار پختہ گوا ہیا ں ہیں ایک معجزہ کرنے والا اور بچانے  والا۔

عیسوی مذہب کا ثبوت

انجیل خدا کا کلام ہے ۔ معجزوں سے ثابت

گزشتہ فصلوں میں یہہ بات ثابت کی گئی ہے کہ جو جو ماجرے انجیل میں  لکھے گئے ہیں ماننے کے لایق ہیں اور اگر ہم اُن کو نہ مانیں تو تمام تواریخ کو ردّ کرنا پڑیگا۔ اور یہہ بالکل نہ مانناچاہیے کیونکہ یہہ اسیطرح بنائی گئی جیسی اور تواریخ کہ سلطان محمود غزنوی  ہندوستان میں آبا اور اکبر دہلی کا بادشاہ  ہوا ۔ جو کوئی آدمی انجیل کو پڑھے اُسکو بخوبی معلوم ہو جاویگا کہ جو کچھ اسمیں لکھا ہے عین درست ہے ور پختہ دلائیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ دیکھو انجیل میں کیا لکھا ہے کہ عیسیٰ نے بہت سے معجزات کئے ہیں چنانچہ بیماروں کو صحت دی جنم کے اندھوں کو بینا کیا ۔ بہروں کے کان کھولے ۔ کوہڑیوں کو پاک و صاف کیا۔ پانچ روٹی سے پانچ ہزار آدمیوں کو سیر کیا ۔ مرُدوں کو ذندہ کیا۔ اور وغیرہ۔ یہہ سب عجیب کام فقط اُس کے کام سے ہوئے ایسے معجزوں سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ خدا کا فرمان ہے۔ اور وے لوگ جو ایسے ایسے معجزے کرتے ہیں بیشک اپنی باتوں پر خدا تعالیٰ کی مہر رکھتے ہیں۔ مثلاً جب کوئی فرمان حکام ّ کیطرف سے صادر ہونا ہے تو جب تک وہ اُنک مہر  و دستخط سے مثبت نہ ہو تو لوگ اُسکو اصلی فرمان تصّور نہیں کرتے اور شک میں پڑے رہتے ہیں کہ آیا ہم کو اسپر عملدار آمد کرنا چاہیے یا نہ واضح ہو کہ اِس دنیا  میں بہت ایسے ایسے لوگ آئے ہیں جو پیغمبری کا دعویٰ کرتے ہیں اور حقیقت میں وہ جھوٹھے ہیں اسواسطے اُن سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ ہندؤں کے شاستروں میں بیشمار معجزونکا  زکا زکر جن کے سنُنے  سے ہنسی آتی ہے اور تعلیم  ہندؤنکی اُن کو جھواٹا جانتی ہے۔ بیشک ایسی ایسی بیہودہ کراماتوں  کو ردّ کرنا  چاہیے۔ کیونکہ وہ ماننے کے لایق نہیں ہے۔ لیکن ایسا نہ کرنا چاہیے کہ سب کے سب معجزوں کو ردّ کریں ۔ کیونکہ خدا کے نزدیک نبیوں سے معجزے کرانا کچھ مشکل بات نہیں ہے اکثر ایسا واقع ہوتا ہے کہ بہت سے روپیوں میں چند روپیہ کھوٹے بھی ہوتے ہیں۔سب روپیوں کو کھوٹے نہیں بنا سکتے بلکہ اُن کو اچھی طرح پرکھتے ہیں کہ کھراکون ہے اور کھوٹا کون۔ اسواسطے اب بفضل خدا اُن نشانونکو  جن سے سچیّ کرامامتیں  پہچانی  جاسکتی ہیں بیان کرتے ہیں ۔ 

پہلا یہہ کہ وہ خدا کے لایق ہو  نہ ہنسی کا باعث۔ مثلاً  اگر کوئی شخص مجھے کہے کہ فلانے شخص  نے اپنے بیٹے کا سر کاٹ کر ہاتھی کا سر لگا دیا۔ یا  کسی  آدمی نے پہاڑ کو نگل لیا یا اُسنے چاند کو اپنی تلوار سے دو ٹکڑے  کر دیا ۔ جب میں سے ایک  ٹکڑا  اُسکی استین سے ہو کر نکل گیا۔ تو میں اِن باتوں کو باوجود پختہ دلایٔل کے کبھی نہ مانونگا۔ لیکن بیماروں چنگا اندھوں کو بینا کرنا مرُدونکو زندہ کرنا کو یڑوں کو پاک و صاف کرنا خدا ہی پر موقوف ہے اور اُسی کے لایق ہے ۔ ایسے ایسے معجزے خداوند عیسیٰ مسیح نے کئے اور اُس کے معجزات سے ہیں چند نصیحتیں بیش  قیمت حاصل ہوئیں ۔ اور اُسکے کاموں سے سراسر روحانی تعلیم ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً جب اُسنے کویڑیوں کو پاک و صاف کیا تو اُس سے ثابت ہوا کہ وہ گناہ سے بھی صاف کر سکتا ہے۔ انجیر کے درخت کو سُکھانے سے یہہ ثابت ہوا کہ جو آدمی نیکی کا پھل نہیں لاتا سکھایا جاتا ہے۔ بیماروں سے تندرست کرنے سے واضع ہوا کہ وہ روحانی حکیم ہے اور دل کی بیماری کو بھی زایٔل کرنا ہے۔ بیشک عیسیٰ کے معجزے خدا کی مرضی کے مطابق تھے۔  دوسرا نشان یہہ ہے کہ طرح طرح کے معجزے و قوع میں آویں ۔ مسیح نے بیشمار معجزے مختلف قسموں کے کئے۔ اگر کوئی شخص ایک قسم کے چند معجزے دکھا وے  تو دے ۔ ماننے کے لایق   نہیں ہو سکتے  کیونکہ اُنمیں فریب پایا جاتا ہے۔ مسیح نے برخلاف اسبات کے گانؤ بہ گانؤ دہ بدہ  پھر کر بہت سے لوگوں کو قسم قسم کی بیماریوں سے چنگا کیا۔ مرُدونکو قبروں سے نکالکر زندہ کیا۔ لنگڑے اُسکے حکم سے  ہر نونکی مانند کوونےلگے۔ ناپاک روحوں کو دیو انوں سے نکالا۔ اور بعض بعض وقت ایسا واقع ہو کہ آندھی اور سمندروں نے اُسکا  حکم مانا۔ ایسی ایسی باتو ں میں کبھی فریب نہیں پایا جاتا۔ تؔیسرا یہہ کہ معجزا برملا کیا جا وے بیشک عیسیٰ نے اپنے معجزے عام  لوگوں کے سامنے دکھائے۔ ایسے کہ ہر ایک آدمی ا ُسکو  سمجھ سکتا تھا اور معجزے فی الفور وقوع میں آجاتے ہیں۔ چنانچہ جسوقت ُاسنے آندھے کو کہا کہ بینا ہو تو  وہ فوراً بینا ہو سکے ۔ یہی نشان ہیں  کہ  جنسے  سچےّ معجزے ثابت ہوں گے۔ چوؔتھا یہہ کہ دشمن بھی  معجزے کے قایل ہوں۔ اگرچہ اُسکے دشمن بسبب عداوت معجزوں کے مقر تھے۔ ور اُن کو درست جانتے۔ آج تک محمدی لوگوں میں مشہور ہے  اُسکے دم میں صحت تھی۔ اگرچہ یہودی لوگ کہتے ہیں اور اُن کی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ اُسنے عجیب عجیب کام دکھلائے مگر بہت تعصب سے کہتے ہیں کہ وہ ساحر تھا۔ پانچواں یہہ کہ گواہی پختہ ہو یہہ بات مشہور ہے کہ اُسکے شاگرد   جان سے مار دالے گئے۔ مگر اُسکے معجزون  کی گواہی سے ہر گز  باز  نہ آئے  اِس لیے کہ وہ  ہمیشہ   عیسیٰ کے ساتھ رہتے تھے اور اُسکے کاموں کو اچھی طرح سے  دیکھتے تھے تو کس طرح  ہو سکتا ہے کہ وہ دھوکھا کھاتے دیکھو وہ کیا کہتے ہیں کہ ہم نے اُسکے قسم قسم کے معجزوں کو دیکھا ہمارے سامنے وہ صلیب پر کھینچا گیا جب پھر وہ زندہ ہوا  ہمکو کئی بار ملا ہمارے سامنے وہ آسمان پر چڑھ گیا۔ جب لوگ اُنکو کہنے  سے مانع آئے  تو اُنہوں نے جواب دیا کہ خدا  کا حکم انسان کے حکم سے افضل ہے اور بیشک ماننے کے لایق ہے۔ جیسا اُنکو کہا کہ ایسی ایسی باتیں مت کرو ورنہ تم قتل کئے جاؤ گے تاہم وہ باز نہ آئے۔ دیکھو جان بہت عزیز ہے اور جان کو بچانے کے واسطے انسان ہر ایک دنیاوی چیز کو قربان کرتا ہے اگر وہ فریب کھاتے تو کیونکر اپنی جان دیتے۔ جب انہوں نے فریب نہیں کھایا  اور دیا بھی نہیں تو اُنکی بات قابل تسلیم ہے۔ عیسیٰ اپنی اپنی قول کی تصدیق کے لیے معجزے کئے جو جو اُسنے سکھلایا وہ سچ برحق اور ماننے کے لایق ہے۔

عیسوی مذہب کا ثبوت

انجیل خدا کا کلام ہے ۔ انتشارِانجیل سے ثبوت

انتشار ِ انجیل اُسکی صداقت کا بھاری نشان ہے۔ جانتے ہیں کہ مسیح سے تھوڑی مدّت کے بعد  دین عیسوی تمام ملکوں میں پھیل گیا اور کئی ایک قوموں سے تسلیم کیا گیا۔ اور بعض لوگ اعتراض کرینگے کہ دین محمدی بھی اسیطرح سے پھیل گیا تھا ۔  درحقیقت سچ ہے یہہ بھی جاننا چاہیے کہ صرف مذہب کے پھیلنےسے اُسکی سچاّئی ظاہر نہیں ہے مگر کئی ایک شرطوں سے  لوگ اپنے قدیمی مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو کئی ایک وجہ سے اختیار کرتے ہیں۔ دڑ سے لالچ یا نجات کیواسطے۔ تمام علماءمحمدی جانتے ہیں کہ جس وقت  محمدصاحب نے ایک فریق کو  کو جمع کیا اُس نے اپنے مذہب کو تلوار کت زور سے پھیلا دیا۔ مثلاً  کوئی شخص وحشیوں کے بیچ بڑا بہادر ہو اور چاروں طرف چھوٹے چھوٹے فرقے ہوں جو آپس میں میل نہیں رکھتے تب وہ بہادر ایک نئے مذہب کو جاری کر کے بتلادے کہ یہہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور یہہ بھی کہے کہ جو شخص اُسکے واسطے لڑائی کرئے اُسکو اِس دنیا میں لوٹ اور خوبٖ صورت عورتیں ملینگی۔ اور اُس دنیا میں ویسی خوشی اُسکو عنایت ہوگی تو بیشک بہت لوگ اُسکو قبول کرینگے اور جس قدر زیادہ شریر لوگ ہوں گے اُسقدر اُسے زیادہ مانیں گے کیونکہ لڑائی زر زمین اور زن کے لیے ایسے ایسے لوگوں کو بہت عزیز ہوتی ہے۔ لیکن عیسائی دین انسان کی ساری بدخواہشوں کے برخلاف ہے۔ دیکھو جب عیسیٰ کے شاگرد اُس کی عزت اور پچاؤ کیواسطے اُسکے دشمنوں کے ساتھ لڑنا چاہتے تھے۔ تو وپ اُنکو منع کرتا تھا کہ تم نہیں جانتے کہ تم کس طرح کی روح رکھتے ہو۔ علاول اُسکے اُس نے انہیں فرمایا کہ میں تمکو بھیڑونکی مانند بھیڑیونکے درمیان بھیجتا ہوں ۔ اور وہ اُن کو یہہ ہی سکھلاتا تھا کہ رحم دل اور فروتن مزاج ہو جو دشمن تم پر سختی کرے تو خفا مت ہو اپنے دشمنونکو کو پیار کرو اُن کے قصوروں کو معاف کرو اُن کے لیے دعا مانگو اس لیے کہ مغرؔور لالؔچی دغاؔباز کؔینہ وار اور سنگدؔل بادشاہت الہیٰ میں کبھی داخل نہیں ہو سکتا۔ میں تم سے پوچھتا ہوں کہ بیشمار لوگوں نے اپنے قدیمی مذہب کو کس واسطے چھوڑ کر اِس مذہب کو اختیار کیا ہے ۔ اگر کوئی شخص کہے کہ اُن لوگوں نے دنیاوی مطلب کیواسطے اختیار کیا ہوگا تو یہہ سراسر غلطی ہے کیونکہ دین عیسوی دنیاوی خواہشوں کے بالکل برخلاف ہے۔ اِسکا سبب یہہ کہ جب انہوں نے پہچان اور غور کی کہ یہہ لوگ جو کہ کراماتیں کرتے ہیں اور نئے مذہب کی تلقین کرتے ہیں سچےّ ہیں تو اُنکی بات کو ماننا چاہیے ۔ پھر ہم سب جانتے ہیں کہ اکثر لوگ اپنے پُن اور ثواب کو اپنا فخر سمجھتے ہیں جیسا کہ نمازی اپنی محراب کو حاجی حج کو پنڈت ودیاّ کو جاتری تیرتھ کو جوگی یا سنیاسی بڑے دُکھ  کو خداوند عیسیٰ مسیح نے صاف فرمایا ہے کہ پُن اور ثواب خداوند تعالیٰ کے آگے کچھ قدر نہیں رکھتے ہیں آپ سے پھر پوچھتا ہوں کہ انہوں نے اِس مذہب کو جس کے سبب کہ وہ جانتے تھے کہ ہمارے رشتہ دار ہم کو چھوڑ دیوینگے اور حکم ہم پر سب سے پچھلی دلیل جس سے دین عیسوی سچاّ ٹھہرایا جاتا یہہ ہے کہ وہ آدمی کی دلی بیماریوں کو اچھی طرح سے انکا علاج کرتا ہے فرض کرو کہ ایک آدمی بیمار ہوا ہو اور دس حکیم اُس کے علاج کیواسطے مقرر ہوں۔ جو بتا دیں کہ ہم میں سے ہر ایک اس بیماری کا علاج کر سکتا ہے۔ ازا نجملہ معلوم ہو کہ نو حکیم اُس بیماری کا علاج نہیں کر سکتے اور دسواں بیماری کو خوب تشخیص کرے۔ اور ظاہر کرے کہ مریض کے سر پیٹ اور خون میں خلل ہو اور بیماری کی قباحت کو بیان کرے اور کہے کہ میں بخوبی  اِسکا علاج کر سکتا ہوں۔ تب سب دانا لوگ کہینگے کہ بیشک یہہ دسواں حکیم اِس بیماری کا علاج کر سکتا ہے ۔ میں مدّعی ہو ں کہ بیبل ہی انسان کی ایسی ایسی دلی بیماریوں کو رفع دفع کر سکتی ہے۔ وہ کسی کی چاپلوسی نہیں کرتی وہ ہمکو بار بار یہہ سکھلاتی ہے کہ تم خود بخود تندرست نہیں ہوسکتے اور صرف خدا کا نام لینے یعنے حّج کرنے روزہ رکھنے نماز پڑھنے یا زکوۃدینے  سے خلاصی نہیں پا سکتی۔ لیکن برعکس اِسکے وہ ہمیں یہی سکھلاتی ہے کہ ایسے کاموں سے آدمی مغرور اور متکبر ہو جاتے ہیں اور خدا کی نظر میں اِن کاموں کے کرنے سے آدمی گنہگار ٹہرایا جا سکتا ہے کیونکہ وہ لوگ جو ایسے ایسے کام کرتے ہیں ریاکار ہیں اور لوگوں سے عزت پانیکے واسطے انہیں بجا لاتے ہیں اور یہہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ اِس سے ناراض ہے۔ انجیل ہمیں نہ صرف یہہ سکھلاتی ہے کہ ہم کبھی کبھی گناہ کرتے ہیں بلکہ ہمیں بار بار کہتی ہے کہ ہم بزاتہ گنہگار ہیں اور ہم میں کوئی خوبی نہیں ہے اسبات کی تصدیق کے لیے چند آیتیں لکھی جاتی ہیں ۔ پولوس کے رومیوں کے خط کے پہلے باب کی اکیسویں (۲۱) بتیسویں (۳۲) آیت تک کیونکہ اُنہوں نے اگرچہ خدا کو پہچانا تو بھی خدا کے لایق اُسکی بزرگی اور شکرگزاری نہ کی بلکہ باطل خیالوں میں پڑگئے اور اُن کے نافہم دل تاریک ہوگئے وہ آپ کو دانا ٹھہرا کے نادان ہوگئے اور غیر فانی خدا کے جلال کو فانی آدمی اور پرندوں اور چارپایوں ور کیڑے مکوڑوں کی موت سے بدل ڈالا ۔ اِس واسطے خدا نے بھی اُن کے دلونکی خواہش پرانہیں ناپاکی میں چھوڑ دیا کہ اپنے بدنوں کو آپس میں بحیرمت کریں۔ اور مخلوق کی پرستش اور بندگی کر کے خالق کو چھوڑ دیا جو ہمیشہ ستایش کے لایق ہے۔ اِس سبب سے خدا نے اُن کو گندی شہتوں میں چھوڑ دیا ۔ تیسرے باب کی دسویں آیت سے اٹھارھویں آیت تکچُنانچہ لِکھا ہے کہ کوئی راست باز نہیں ۔ ایک بھی نہیں۔

کوئی سمجھ دار نہیں۔ کوئی خُدا کا طالِب نہیں۔ سب گُمراہ ہیں سب کے سب نِکمّے بن گئے ۔ کوئی بھلائی کرنے والا نہیں ۔ ایک بھی نہیں۔ اُن کا گلا کُھلی ہُوئی قبر ہے ۔ اُنہوں نے اپنی زُبانوں سے فریب دِیا۔ اُن کے ہونٹوں میں سانپوں کا زہر ہے وغیرہ۔ زبور کے ۵۱ باب کی تیسری آیت سے پانچویں آیت تک کیونکہ مَیں اپنی خطاؤں کو مانتا ہُوں ۔اور میرا گُناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔مَیں نے فقط تیرا ہی گُناہ کِیا ہے۔ اور وہ کام کِیا ہے جو تیری نظر میں بُرا ہے۔ تاکہ تُو اپنی باتوں میں راست ٹھہرے۔ اور اپنی عدالت میں بے عَیب رہے۔ دیکھ! مَیں نے بدی میں صُورت پکڑی۔ اور مَیں گُناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔ایسا ہی بیبل سکھلاتی ہے وہ کہتی ہے کہ ہم سب چھوٹے بڑے گنہگار پلید پریشان نالایق اور کمبخت ہیں۔ وہ ہمیں کہتی ہے کہ ہم نیکی نہیں کر سکتے جسطرح حبشی اپنے رنگکو بدل نہیں سکتا۔ چیتا اپنے داغوں کو اِسیطرح گنہگار نیکی نہیں کر سکتا ۔ خدا تعالیٰ ہونٹوں کی بندگی نہیں چاہتا دلی بندگی چاہتا ہے ۔ اُسکا پہلا حکم یہہ ہے کہ ہم اُسکو سارے دل اور ساری جان سے پیار کریں۔ جبکہ ہمارے دل میں دؔشمنی تکبؔرّ  ضؔد اور خود ؔغرضی بھری ہو  خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ ہم دان اور پُن کریں لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمام لوگوں کو اپنا جیسا سمجھیں تو یہہ ہم سے نہیں ہو سکتا۔ دیکھو بیبل کیا فرماتی ہے وہ کہتی ہے کہ سب لوگ کمزؔور ناچار اور نّکمےہیں۔ اِسواسطے وہ شخص اپنے چال و چلن اور دل کو جانچیگا وہ ضرور اقرار کریگا کہ بیبل ہی میرے تمام حالات کو  جانتی ہے۔ واضح رہے کہ انجیل جیسا کہ مذکور ہوا نہ صرف بیماری کو بتلاتی ہے۔  بلکہ علاج بھی کرتی ہے یہہ بات صاف صاف ظاہر ہے کہ ہندو اور محمدی مذہب گناہ سے پاک نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ شخض جو پوجا کرتا  اشنان  کرتا دیوتوں کا نام لیتا ہے جنکے کرنے کی اجازت ہندؤں کے مذہب میں پائی جاتی  وہ  ویسا ہی لالچی اور خود غرض رہتا ہے جیسا کے آگے تھا بلکہ آگے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے ویسا ہی جو حجّ کرتا نماز پڑھتا اور روزہ رکھتا ہے وہ بکوبی جانتا ہے کہ میں  ان کے کرنے سے فروتن مزاج رحم دل خیر خواہ کبھی نہیں ہو سکتا بلکہ تؔکبرّ  خوؔد غرضی غرؔور اور سنگدؔلی سے معمور ہوں۔ برخلاف اِن سب کے انجیل یہہ دعویٰ کرتی ہے کہ جو شخص مجھے مانیگا بیشک راستباز ہو جاویگا۔ اور جو کوئی شخص عیسیٰ پر ایمان لائے گا وہ حلیؔم الطبع فروؔتن مزاج خیؔرخواہ رحم ؔدل ہو گا اور خدا کو پیار کریگا۔ اگرچہ پہلے وہ خدا تعالیٰ سے ڈرتا تھا مگر اب اُسکی صحبت میں مگن رہیگا اور خدا کو ابا کہہ کر پُکارے گا۔ اگر چہ اُسکو خدا کی عبادت کرنا اُسکےواسطے بڑا مشکل کام تھا اب نہایت خوشی اور خواہش سے کریگا۔ گناہ سے نفرت رکھیگا۔ اور حتیالمقدور کوشش کریگا۔ کہ میں گناہ  خودؔغرضی تکؔبرّ اور بُری برُی خواہشوں سے پرہیز کروں۔ قطع نظر  اِس بات کے انجیل ہمیں  فرماتی ہے ہے کہ وہ  شخص جو عیسیٰ پر ایمان لاتا ہے اُسکو روح القدس ملتی ہے جس سے اُس آدمی کا مزاج نیک ہو جاتا ہے اور وہ از سر نو پیدا ہوتا ہے ۔ دیکھو جب نیقو دیموس عیسیٰ کے پاس  رات کو آیا  اور اُسکو کہا اے ربی میں جانتا ہوں کہ تو خدا کی طرف سے اُستاد ہو کے آیا  ہے۔ تب عیسیٰ نے اُسکو جواب میں یہی کہا  کہ تم کو از سر نو پیدا ہونا چاہیے اگر نہین تو تو خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ ضرور ہم گنہگاروں کو از سر نو پیدا ہونا چاہیے۔ انجیل میں بار بار لکھا ہے کہ جو آدمی مسیح پر ایمان لائے گا از سر نو پیدا ہوگا ۔ دیکھو مسیح کے زمانے سے لیکر آج تک بہت سے لوگ گزرے ہیں جنھوں نے اقرار کیا ہے کہ ہم آگے مرُدے تھے اب عیسیٰ پر ایمان  لانےسے زندہ ہوئے ہیں۔ آ خدا کو پیار نہیں کرتے تھےابھی اُسکو پیار کرنے لگے آ گے اپنے دشمنوں کی  بربادی چاہتے تھے ابھی اُن کی بہتری چاہتے ہیں۔ آگے گناہ کرتے تھے اب اُس سے پر ہیز کرتے ہیں۔ آگے انسانی عزت کے خواہان تھے اب خدا کی طرف سے عزّت چاہتے ہیں۔  اِسبات میں کوئی شک نہیں کہ وے لوگ جو مسیح پر ایمان لاتے ہیں یہہ برکت یعنے نیا جنم پاتے ہیں مگر سبھونکو نہیں ملتا ہاں سچےّ عیسائیوں کو۔ میں بھی یہہ کہتا ہوں کہ بیشمار لوگ برائے نام عیسائی ہیں لیکن  بتُ پرستوں  سے بدتر ہیں۔ اور ایسے عیسائیونکو بھی دیکھا جنھوں نے یہہ نیا جنم پایا ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ تم نے کس طرح سے سچےّ اور جھوٹے عیسائی پہچانا۔ تو اِسکا جواب یہہ ہے کہ جس طرح درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسیطرح عیسائی بھی معلوم ہو جاتا ہے۔ فرض کرو کہ اگر کوئی درخت  کھٹا اور خراب پھل لاوے اور پھر سال بہ سال عمدہاور شیریں پھل لانے لگے تو ہر ایک آدمی کہیگا کہ آگے یہہ درخت خراب تھا اب اچھا ہو گیا ہے۔ آگے خراب پھل لاتا تھا اب شیریں لانے لگا ہے۔ پس یہی فرق  عیسائیوں میں ہے کہ جب وہ دل و جان سے عیسیٰ پر ایمان لاتے ہیں تب ہر شخص کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اُنکو نیا جنم حاصل ہو گیا  ہے۔  اور وے اچھے ہو گئے ہیں۔ شاید کو ئی آدمی کہے کہ اِسبات کو ثابت کرو تب میں دین عیسوی کو سچاّ جانونگا  تو اِسکا جواب یہہ ہے کہ امریکہ انگلستان اور اور ملکوں میں بہت  لوگ  ہیں جنھوں نے یہہ برکت پائی۔  چنانچہ اِس ملک میں بھی بہت سے انگریز ہیں جنھوں نے نیا جنم پا لیا ہے جو بڑے خاندان کے ہیں اور اپنا ملک رشتہ دار ور بھائی بندوں کو چھوڑ  کر طرح طرح کی بے غر تئیں بازاروں میں کمینہ آدمیوں سے اُٹھاتے  ہیں اور بالکل بے غرض ہیں کچھ تنخواہ نہیں لیتے اگر وے چاہیں تو اور پادریوں کی مانند گزارہ کے موافق اُن کو تنخواہ  ملسکتی ہے مگر وہ نہیں لیتے۔ کیونکہ وہ دولت مند ہیں وہ مفت کام کرتے ہیں۔ دیکھو جب کوئی شخص اُن سے پوچھتا ہے کہ تم نے اپنی ولایت گھر رشتہ دار اور بھاری عہدوں کو کیوں۔   چھوڑا اور اِس ملک میں کیوں آئے ۔ تو وہ یہی جواب دیتے ہیں  کہ ہم اِس ملک میں اِسواسطے آئے ہیں اور طرح طرح کی سختی تکلیف برعّزتی اور وشنام اِسواسطے اُٹھائی ہیں کہ اس ُملک کے لوگ  کلام  الہیٰ سے واقف ہو کر نجات پاویں  ۔ ہم روپیہ  کے واسطے اور عہدے  کے واسطے نہیں آئے اگر روپیہ اور عہدہ چاہتے ہو  تو اپنی ولایت میں اِس میں اِس سے دوگنا حاصل کر سکتے ہیں  تھے۔یہہ مت کہو کہ وہ ثواب کی امید پر یہہ کرتے ہیں  کسواسطے کہ انجیل میں لکھا  ہے کہ ثواب کوئی آدمی  نہیں کر سکتا بلکہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے جو عیسیٰ مسیح سے ملتا ہے نجات دیگا  اور کہتے ہیں کہ جب خدا وند عیسیٰ مسیح نے اتنا  ذالجلال ہے  بہشت اور اپنے  باپ کو چھوڑ دیا اور اِس خراب دنیا میں آکر بے نہایت  تکلیف اور دُکھ اور بےعّزتی اُٹھائی اور  سولی پر اپنی بیش قیمت جان دی تاکہ ہمکو حقیقی دولت عّزت اور  ہمیشہ کی زندگی ملے۔ تو کیا یہہ بڑی بھاری بات ہے کہ ہم اپنے بھائیوں جھوٹی  دولت دنیاوی عزّت اور چند روزہ خوشی کو چھوڑ دیں۔  بیشک ایسی خیر خواہی اور محبت حقیقی  ایمان  سے حاصل ہوتی ہے۔ بھائیو  وہ درخت جس سے ایسا  پھل حاصل ہوتا  ہے  بیشک جنتّی ہے۔   قطع نظر اسکے یہہ بھی واضح ہو کہ ہزارہا آدمی عیسائی ملکوں  میں ہیں  جو سال  بہ سال  پادری لوگوں کو روپیہ دیتے ہیں تاکہ وے تمام دنیا میں جاکر اسکول بناویں ہسپتال مقرر کریں۔ اور اَور کام لوگوں کے فایٔدے کے لیے کریں۔ اگر کوئی شخص  دنیا کی سیر کرےاور ہر طرح کے مزہبوں کے لوگوں کو دیکھے اور اکثر جگہ غریبوں بیواؤ ں اور یتیموں کے پالنے کے واسطےخوب بندوبست پاوے۔ اور اندؔھوں  بہؔروں   غرؔیب اور لاچاروں کے سکھلانے کے واسطے مدرسے دیکھے تو اُسکو معلوم   ہوگا کہ یہہ دین عیسوی  کے نتیجے ہیں اور وہ یہہ بھی کہیگا کہ اِن ُملکوں کے بندوبست کے موافق جب میں انجیل مروّج ہے اور خوب پائی جاتی ہے کسی ملک کا بندوبست نہ  ہوگا۔  اے عزیز و اب اِنصاف سے اسبات پر غور کرو کہ وہ دین جس سے ایسے عمدے فایدٔے حاصل  ہوتے ہیں سچاّ ہے کہ نہیں اگر یہہ بات سچ ہے ۔ کہ درخت اپنے پھل سے پحچانا جاتا ہے تو بیشک یہہ دین برحق ہے۔  اب ہماری یہہ التجاہے کہ جو آدمی اس مضمون کو پڑھے تو تحقیق کرے  انجیل کو پڑھو۔ اُسکو خوب غور سے ملاحظہ کرو اور خدا  سے دعا مانگو کہ تمہاری  ہدایت  کرے۔ اور خداوند عیسیٰ مسیح کے طفیل معافی حقیقی راستبازی اور پاکیزگی ڈھونڈھو  تاکہ تمکو نجات ملے  فقط۔ 

PDF File: 

تحریف قرآن

Errors in the Quran

Published in Nur-i-Afshan July 6th, 1876
By. Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

Raja Bazaar, Rawalpindi, Pakistan

جس وقت محمدی انجیل کی تعلیم سُنتے ہیں  تو کہتے ہیں بلکہ اِسبات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس انجیل میں تبدیلی ہو گئی ہے اور ہمارا قرآن صحیح اور درست ہے مگر جب ہم پوچھتے ہیں کہ کس وقت انجیل کی تبدیل ہوئی اور کن لوگوں نے اُسکو تبدیل کیا اور اُنکا مطلب کیا تھا اور کون سی باتیں  ہیں جو پہلے اور طرح تھیں اب اسطرح بدل گئیں اور اصل انجیل کہاں ہے اور پھر کیا سبب ہے کہ کئی ملکوں اور کئی فرقونکے عیسائی اِس انجیل متبدّلہ خراب کی ہوئی کو مانتے ہیں بلکہ اُسکو اپنی نجات کی خوشخبری سمجھتے ہیں تو اِن سوالوں کا ایک بھی جواب معقول  نہیں دے سکتے اور نہ کسی دلیل سے اِس دعوا کو ثابت کر سکتے ہیں ۔ پس جو کوئی تھوڑی سی عقل بھی رکھتا ہے وہ جانتا ہے ہے کہ دعویٰ  بغیر دلیل کے باطل ہوتا ہے عیسائی لوگ بھی یہہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ قرآن تبدیل ہوگیا ہے مگر اُنکا دعویٰ بے دلیل نہیں وہ اِس دعویٰ پر کئی  دلیلیں رکھتے ہیں چنانچہ پادری فنڈر صاحب نے اِس دعویٰ کو میزان الحق میں چند دلیل سے ثابت کیا ہے ہم اِن دلیلونکو  زیل ہیں لکھتے ہیں  جو حق جوئی منصف مزاج ہیں وہ  خود مطالعہ فرما کر انصاف  کریں۔

پوشیدہ نہ رہے کہ مسیحی لوگ  بطریق اولیٰ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن نے تحریف پائی ہے اور یہہ قرآن جواب محمدیوں میں مروج ہے اصل  قرآن نہیں ہے کیونکہ پہلے تو اُسے ابوبکرنے اکھٹا اور مرتب کیا پھر  عثمان نے دوبارہ ملاحظہ کر کے اصلاح  دی ہے حالانکہ شیعہ لوگ ان اشخاص کو کافر اور بیدین جانتے  اور کہتے ہیں کہ عثمان نے کئی سورتوں کو جو علی کی شان میں تھیں قرآن سے نکال ڈالا اور فانی کتاب  دابستان میں یوںمسطورہے کہ کہتے ہیں کہ عثمان  نے قرآن  کو جلا کر بعض سورتیں جو علی اور اُسکی اولاد کی شان میں تھیں نکال ڈالیں اور کتاب عین الحیات کے  ۲۰۸  ورق کے ۲ صفحہ  میں ایک حدیث مرقوم ہے کہ امام جعفر نے فرمایا ہے کہ سورۃ اخراب میں قریش کے اکثر مرد و عورت کی برُائیاں تھیں اور وہ سورت سورۃ بقر سے بڑی تھی لیکن کم کئی گئی اور مشکلات المصابیح میں جو اہل سنت کی معتبر و مشہور کتاب ہے کتاب فضایل القران کی پہلی فصل میں لکھا ہے کہ ۔

راوی:عبداللہ بن یوسف , مالک ابن شہاب , عروہ بن زبیر , عبدالرحمن بن عبدالقاری

  حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا وَکِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّی انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ لِي أَرْسِلْهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ اقْرَأْ فَقَرَأَ قَالَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ لِي اقْرَأْ فَقَرَأْتُ فَقَالَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَؤا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ

عبداللہ بن یوسف، مالک ابن شہاب، عروہ بن زبیر، عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطاب کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورت فرقان اس کے خلاف پڑھتے ہوئے سنا، جس طرح میں پڑھتا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو پڑھایا تھا اور قریب تھا، کہ میں ان پر جلدی کر جاؤں، مگر میں نے صبر کیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے پھر میں ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور عرض کیا، کہ میں نے ان کو اس طریقہ کے خلاف پڑھتے ہوئے سنا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو پڑھایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو، پھر ان سے فرمایا کہا پڑھ (انہوں نے پڑھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے پھر مجھ سے فرمایا کہ پڑھو، میں نے پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوا ہے، قرآن سات طرح پر نازل ہوا ہے جسطرح تم کو آسانی ہو پڑھو۔یہ حدیث متفق علیہ ہے  اور عبارت مسلم کی ہے۔

صحیح بخاری ۔ جلد اول ۔ جھگڑوں کا بیان ۔ ۔ حدیث ۲۳۱۵

پھر تیسری فصل میں مرقوم  ہے۔

راوی:محمد بن عبیداللہ , ابوثابت , ابراہیم بن سعد , ابن شہاب , عبید بن سباق , زید بن ثابت

  حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَکْرٍ لِمَقْتَلِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّائِ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَخْشَی أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّائِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ کُلِّهَا فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ کَثِيرٌ وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ کَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِکَ حَتَّی شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ وَرَأَيْتُ فِي ذَلِکَ الَّذِي رَأَی عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَإِنَّکَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُکَ قَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعْ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ لَوْ کَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنْ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا کَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ کَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ يَحُثُّ مُرَاجَعَتِي حَتَّی شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَرَأَيْتُ فِي ذَلِکَ الَّذِي رَأَيَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنْ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ فَوَجَدْتُ فِي آخِرِ سُورَةِ التَّوْبَةِ لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ إِلَی آخِرِهَا مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا وَکَانَتْ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَکْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ اللِّخَافُ يَعْنِي الْخَزَفَ

محمد بن عبیداللہ ، ابوثابت، ابراہیم بن سعد، ابن شہاب، عبید بن سباق، زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقتل یمامہ میں میرے پاس ایک آدمی بھیج کر بلوایا، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے، حضرت ابوبکر نے کہا کہ میرے پاس عمر آئے اور کہتے ہیں کہ یوم یمامہ میں بہت سے قراء شہید ہوگئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ تمام جگہوں میں کثیر تعداد میں قرا کے قتل سے قرآن کا کثیر حصہ ضائع نہ ہوجائے۔ اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں، میں نے کہا کہ میں کیوں ایسا کام کروں جس کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم یہی بہتر ہے اور عمر مجھ سے باربار کہنے لگے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ اس کے لئے کھول دیا جس کے لئے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا، اور میں نے بھی اس کے متعلق وہی خیال کیا جو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خیال کیا، زید کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے کہا کہ تو عقلمند جوان ہم تم پر کسی قسم کا شبہ نہیں کرتے اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وحی لکھا کرتے تھے، اس لئے قرآن کو تلاش کرو اور اس کو جمع کرو، زید کا بیان ہے کہ خدا کی قسم اگر مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھانے کی تکلیف دی جاتی تو یہ اس جمع قرآن کی تکلیف سے زیادہ وزنی نہ ہوتی، جو مجھے دی گئی تھی، میں نے کہا کہ تم دونوں کیونکر ایسا کام کروگے، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، حضرت ابوبکر نے کہا کہ خدا کی قسم یہی بہتر ہے پھر برابر مجھے اس پر آمادہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ اس چیز کے لئے کھول دیا جس کے لئے حضرت ابوبکر و عمر کا سینہ کھول دیا تھا، اور میں نے بھی اس میں یہی مناسب خیال کیا چنانچہ میں قرآن تلاش کرنے لگا، اور اس کو کھجور کے پتوں، کھالوں، اور ٹھیکریوں اور لوگوں کے سینوں میں جمع کرنے لگا، میں نے سورۃ توبہ کی آخری آیت لَقَدْ جَا ءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ۹۔ التوبہ : ۱۲۸) ابی خریمّہ  انصاری کے سوا کسی کے پاس لکھی  ہوئی نہ پائی ، میں نے اس کو اس کے آخر میں شامل کردیا، اور یہ صحیفے حضرت ابوبکر کے پاس ان کی زندگی بھر رہے یہاں تک کہ اللہ نے ان کو اٹھا لیا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کی زندگی بھر رہے، یہاں تک کہ جب اللہ نے ان کو اٹھا لیا تو حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رہے، محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ لخاف سے مراد ٹھیکریاں ہیں۔

صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ احکام کا بیان ۔ حدیث ۲۱۰۱

قرآن جمع کرنے کا بیان۔

راوی: موسیٰ , ابراہیم , ابن شہاب , انس بن مالک

  حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُ أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَی عُثْمَانَ وَکَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّأْمِ فِي فَتْحِ إِرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَائَةِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَدْرِکْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْکِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَی فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَی حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْکِ فَأَرْسَلَتْ بِهَا حَفْصَةُ إِلَی عُثْمَانَ فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْئٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَاکْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا حَتَّی إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَی حَفْصَةَ وَأَرْسَلَ إِلَی کُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنْ الْقُرْآنِ فِي کُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ فَقَدْتُ آيَةً مِنْ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ قَدْ کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ

موسی ، ابراہیم، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حزیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اس وقت وہ اہل شام و عراق کو ملا کر فتح آرمینۃ و آذربائیجان میں جنگ کر رہے تھے قرأت میں اہل عراق و شام کے اختلاف نے حضرت خزیفہ کو بے چین کردیا چنانچہ حضرت حزیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے امیرالمومنین! اس امت کی خبر لیجئے قبل اس کے کہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب میں اختلاف کرنے لگیں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ تم وہ صحیفے میرے پاس بھیج دو ہم اس کے چند صحیفوں میں نقل کرا کر پھر تمہیں واپس کردیں گے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ صحیفے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیج دیئے حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سعید بن عاص، عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کو حکم دیا تو ان لوگوں نے اس کو مصاحف میں نقل کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان تینوں قریشیوں سے کہا کہ جب تم میں اور زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کہیں (قرآت) قرآن میں اختلاف ہو تو اس کو قریش کی زبان میں لکھو اس لئے کہ قرآن انہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ جب ان صحیفوں کو مصاحف میں نقل کرلیا گیا تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ صحیفے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھجوا دیئے اور نقل شدہ مصاحف میں سے ایک ایک تمام علاقوں میں بھیج دیئے اور حکم دے دیا کہ اس کے سوائے جو قرآن صحیفہ یا مصاحف میں ہے جلا دیا جائے ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھ سے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول نقل کیا کہ میں نے مصاحف کو نقل کرتے وقت سورت احزاب کی ایک آیت نہ پائی حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تھا ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ آیت مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس ملی (وہ آیت یہ ہے) ( مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ الخ) ۳۳۔ الاحزاب : ۲۳) یعنی ایمانداروں سے آدمی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا تو ہم نے اس آیت کو اس سورت میں شامل کردیا۔

صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ فضائل قرآن ۔ حدیث ۲۲۲۳

اب مشکوۃ کی اِن حدیثوں سے کئی ایک باتیں ثابت ہوتی ہیں پہؔلے یہہ کہ خود محمدّ کے وقت میں ایک شخص نے ایک آیت کو ایسا اور دوؔسرے لیے اُسی آیت کو ویسا پڑھا تھا دوسرے یہہ کہ قرآن محمدّ کے وقت میں ایک جد بین جمع نہیں ہوا تھا بلکہ ابوبکر نے آیات کو جمع کرنیکا حکم دیا اگرچہ محمد سے اِس کام کیواسطے اُسکو حکم نہیں ملا تھا بلکہ صرف مصلحت کی راہ سے کیا تاکہ مبادا  آیات گم ہوجاویں ۔ تیسرؔے یہہ کہ عثمان نے خلافت کے تخت پر بیٹھکر جب دیکھا کہ لوگ پھر بھی قرآن کے پڑھنے میں فرق کرتے ہیں اور ڈراکہ قرآن میں آگے اور زیادہ خرابیاں نہ ہوں تو زید وغیرہ کو حکم دیا کہ قرآن کو دوبارہ صحیح اور سب آیات قریش کی زبان میں لکھیں ۔ چھوؔتھے  اُس نے سب اگلے نسخے جمع کر کے جلا دیئے  اور نئے نسخہ سے اور لکھوا کر سب جگہ بھیجدیئے اور اِسی طرح اُسکو مشہور کیا  اب ہم پوچھتے ہیں کہ عثمان نے کس واسطے اگلے سب نسخوں کو جلا ویا  اگر وہ نیا نسخہ جو اُس نے مشہور کیا اور اب مستعمل ہے اگلے  نسخوں سے مضمون اور الفاظ میں بعینہ برابر اور موافق تھا اور اُس نے  صرف آیات اور سورتوں ہی کی ترتیب اور ترکیب اور طور پر کی تھی تو کیا سبب تھا کہ اُن کو جلا دیا بلکہ لازم تھا کہ اگر سب کو نہیں  تو بعض کو تو  ضروری  رکھ چھوڑتا  تاکہ  اگر کوئی کہے کہ تمنے قرآن کو تغیّر  کر دیا اور اور بدل ڈالا تو اُن اگلے نسخوں کو اُسکے سامنے رکھے اور کہے کہ لو  لیے  اگلے نسخے ہیں  دیکھو اور مقابلہ کرو تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ یہہ قرآن  مضمون  اور الفاظ میں اگلے نسخوں سے موافق اور مطابق ہے لیکن اِس بات سے کہ عثمان نے ایسا  نہیں کیا  بلکہ سب اگلے نسخوں کو  جلا دیا تو کچھ اور گمان نہیں ہوتا مگر یہی کہ اگلے نسخوں میں سے ہر ایک اور ہر طرح  کا تھا یا یہہ کہ جیسا شیعہ  کہتے ہیں کہ اُس نے قرآن کو قصداً کم کیا اور بعض آیات میں تغیر  و تبدیل کی ہے ور اُس نسخہ کو جو  حفصہ پاس  تھا  اور عثمان نے اُسکو پھیر دیا  اُسکی  خبر کی کسی کو پھر نہ ملی اور نہ کسی نے اُسکو پھر دیکھا شاید عثمان نے بعد میں اُسکے جلادینے کا بھی حکم  دیا ہوگا اگر کسی محمدی پاس ہو تو اُسے ظاہر  کرے  تا کہ اب  کے قرآن کو اُس سے مقابلہ کریں اور معلوم ہووے کہ یہہ اُس  سے مطابق ہے کہ نہیں اب اُس صورت میں کہ شیعہ ایسا کہتے ہیں اور  نتیوں کی مشہور اور معتبر کتاب میں بھی ایسی باتیں لکھی ہیں  تو ہر صاحب فہم و شعورکے دل میں قرآن کے صحیح اور اصل ہونیکی  بابت  کلی ہوگی اگر محمدی ایسی باتیں  توریت و انجیل کی بابت مسیحیوں  کی مشہور  اور معتبر کتابوں سے نکال لاسکتے ہیں  تو البتہ اُنکا یہہ دعویٰ کہ کتب مقدسہ تحریف ہوئی ہیں  بیجا نہ ہوتا۔

PDF File: 

دعوٰی پیشین گوئی

Claims of Prophecy

Published in Nur-i-Afshan August 5, 1876
By Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

Isaiah 53:6-12

محمدی بخوبی جانتے ہیں کہ رسول کی رسالت پیشین گوئی سے بھی ثابت ہوتی ہے اور یہہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ محمد صاحب کے حقمیں بہت سی پیشین گوئیاں قدیم کتابوں یعنی توریت اور انجیل میں مندرج ہیں۔ اگر اُنکا یہہ دعویٰ سچ ہے تو ہمکو چاہیئے کہ ہم سب کے سب محمدی ہو جاویں۔ مگر پہلے دریافت کرنا چایئے کہ یہہ اُنکا دعویٰ اُن کتابوں میں لکھا  ہے یا نہیں کیونکہ بغیر دریافت کرنے کے سچ یا جھوٹ معلوم نہیں ہو سکتا ۔ سورۃ الصف کی چھٹویں آیت میں ضرور لکھا  ہے۔وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ  فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ۔ اورجب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل بے شک میں الله کا تمہاری طرف سے رسول ہوں تورات جو مجھ سے پہلے ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہو گا پس جب وہ واضح دلیلیں لے کر ان کے پاس آ گیا تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے فقط۔ جب ہم محمدیوں کو کہتے ہیں کہ یہہ بات انجیل میں نہیں ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس آیت کو تمنے انجیل سے نکال ڈالا ہے۔ اُن کو چائیےکہ جب تک اِس بات کو ثابت نہ کریں ہم پر کوئی عیب نہ لگاویں ۔پوشیدہ نر ہے کہ اگر چہ یہودی مسیح کو جیسا ماننا چاہیے نہیں مانتے تو بھی اُنہوں نے اُن پیشین گوئیونکو جو مسیح کے حقمیں اُنکی کتابونمیں مندرج ہیں نہیں نکالا۔ اگر وہ اُن پیشین گوئیوں کو نکالنا چاہیں تو عیسائی اُنکو کبھی نکالنے نہ دینگے اور اِس حرکت سے اُنہیں  باز رکھینگے کیونکہ یہہ پیشین گوئیاں اُنکے واسطے نہایت مفید اور اُنکے نزدیک اپنے دین کے سچاّ ہونے کی کامل دلیلیں ہیں۔ اِسیطرح اگر ایسی پیشین گوئی محمد صاحب کے حقمیں توریت یا اِنجیل میں مندرج تھی تو محمد یوں نے اُسکی حفاظت کیوں نہ کی۔ بعضے یہہ بھی کہتے ہیں یہہ آیت برنابؔاس کی انجیل میں موجود ہے اور یہہ ثابت نہیں ہوتا کہ محمد صاحب کیوقت یہہ انجیل عیسایونکے پاس موجود تھی اگر محمد صاحب کیوقت کی کتابوں میں یا اُ س سے پرُانی کتابوں میں ایسی کتاب کا زکر جسمیں یہہ پیشین گوئی سے کسی نے بھی برناباس کی انجیل کا زکر نہیں کیا اور گو ایسی کوئی انجیل اُس وقت موجود نہیں تھی۔

محمدی یہہ بھی کہتے ہیں کہ بیبل میں اور کئی ایک آئیتیں ہیں جو محمد صاحب کی رسالت پر دلالت کرتی ہیں۔ اُن آیتوں میں سے ایک یہہ ہے جو موسیٰ نے کہا کہ میرے میرے پیچھے ایک نبی آویگا ہم اِس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بیشک موسیٰ نے کہا ۔ لیکن موسیٰ کے بعد بہت سے بنی آئے پھر کس طرح سے معلوم ہوکہ وہ اُنمیں سے کس کا زکر  کرتا تھا ۔ مگر اُن علامتوں سے جنکو موسیٰ نے ظاہر کیا  یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ محمد صاحب کا کا ذکر ہرگز نہیں کرتا تھا کیونکہ اُسنے کہا  کہ خداوند تعالیٰ تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی قایم کریگا ۔ اگر دریافت کرنا ہو تو اِستثناکے اٹھارھویں باب کی پندرھویں آیت پر ملاحظہ  فرماویں۔ اِس آیت سے معلوم ہوتا  ہے کہ وہ نبی جسکا زکر موسیٰ نے کیا اسرائیلیوں میں سے تھا کیونکہ حضرت موسیٰ بنی  اسرائیل سے خطاب کرتا تھا نہ اہل عرب سے۔ پھر کس طرح خیال کیا جائے کہ محمد صاحب  کی طرف اِشارہ ہے۔ واضح ہو کہ یہہ دونوں باتیں تیرےدرمیان   سےتیرے بھائیوں میں سے ایک ہی معنی رکھتی ہیں کچھ فرق نہیں ۔ اگر کوئی کہے کہ یہہ دونوں باتیں یعنے تیرے درمیان  سے تیرے بھائیوں میں سے ایک ہی معنی رکھتی ہیں کچھ فرق نہیں۔ اگر کوئی کہے یہہ دونوں باتیں یعنے تیرے درمیانسے اور تیرے بھائیوں میں سے اِسرائیل کیطرف خطاب نہیں جواب دیتے ہیں کہ توریت میں بہت سی جگہ ایسے الفاظ استعمال کئے گے ہیں۔ اگر استثنا ء کے پندرھویں باب کی سوتویں آیت ملاحضہ فرماویں تو بخوبی معلوم کیونکہ اسمیں لکھا ہے کہ اگر تمھارے بیچ تمھارے بھائیوں میں سے تمھاری سرحد میں کوئی مفلس ہو  تو  اُسکے ساتھ  مہربانی سے سلوک کرو اور اپنے آپ  حتی  المقدر مدد دو۔ پھر اِستثناء کے سترھویں باب کی پندرھویں آیت میں لکھا ہے کہ تو اپنے بھائیوں میں سے ایک کو اپنا بادشاہ کر۔ پھر استثناء کے چوبسیویں باب کی چودھویں آیت  میں لکھا  ہے کہ تو اپنے نوکر پر ظلم نہ کر خواہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہے خواہ کوئی اجنبی۔ اِن آیتوں  سے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ تیرا بھائی  بنی اسرائیل سے مراد ہے ۔

یہہ بھی واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے ابراہیم سے وعدہ کیا کہ تجھ سے ساری دنیا برکت پاویگی۔ پھر اصحاق اور یعقوب سے بی یہی وعدہ  کیا گیا اگر دریافت کرنا منظور ہو تو پیدایش کت اٹھارھویں باب کی اٹھارھویں آیت چھبیسویں باب کی  چودھویں آیت اٹھائیسویں باب کی چودھویں آیت پر ملاظہ فرماویں ۔ سب بنی اصحاق  سے لیکر آج  تک جو دنیا میں آئے ۔ سب کے سب اِسی فرقے اور اِسی خاندان میں سے تھے ۔ کوئی  نبی۔ہؔندؤ۔ چیؔنی ۔ انگؔریز۔  عرؔبی وغیرہ فرقوں میں سے نہ تھا۔ انجیل سے  صاف صاف  پایا جاتا ہے  کہ وہ پیشین گوئی جو موسیٰ نے کی تھی سب عیسٰی میں پوری ہوئی ۔ اعمال کے تیسرے باب کی بوئیسویں آیت اور ساتویں باب کی سینتیویں  آیت پر ملاحظہ فرماویں اگر کوئی کہے کہ موسیٰ کی مانند عیسیٰ کس طرح ہو سکتا ہے  تو اُسکا جواب یہہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام سے عیسیٰ  علیہ السلام بہت سی باتوں میں ملتا ہے خاص کر کے درمیانی ہونے میں یعنے جیسا حضرت موسیٰ بنی اِسرائیل سے  اور خدا کے درمیان تھا۔ ویسا  ہی عیسیٰ ہمارے اور خدا کے درمیان ہے۔ اور موسیٰ نے جو بنی اسرائیل سے کہا  کہ خدا ایک ایسا نبی تم میں سے قایم  کر یگا جیسا تم نے چاہا اِس سے مراد یہہ ہے کہ وہ نبی درمیانی ہوگا ۔ کیونکہ بنی اسرائیل جب کوہ سینا کی خوفناک  آوازوں سے خوف میں تھے تو اُنہوں نے کہا کہ ہم خداوند اپنے خدا کی آواز سُن نہیں سکتے یعنے کہ اُنہوں کوئی درمیانی چاہا جو خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق   ہر ایک بات سے اُنکو آگاہ کرے۔  بیشک مسیح سچّا اور زندہ درمیانی ہے ۔ علاوہ اِسکے انجیل میں بھی لکھا ہے کہ ایک ہی خدا ہے اور ایک ہی خدا بیچ درمیانی  یعنے مسیح ۔ اکثر محمدی کہتے ہیں کہ یو حناکی انجیل کے پہلے باب ۱۹ ۔ آیت سے لیکر۲۹ محمد صاحب کا زکر ہے ۔ لیکن اُس جگہ یہہ لکھا ہے کہ جب یہودیوں کے کاہنوں اور لاویوں نے یوحّنا  بپتمسا دینے والے سے پوچھا کہ تو کون ہے اُس نے کہا اور اقرار کیا کہ میں مسیح نہیں ہوں۔ تب انہوں نے پوچھاکہ تو الیاس ہے اُس نے کہا میں نہیں ہوں۔ پس آیا وہ نبی ہے ۔ اُس نے جواب دیا نہیں۔ تب انہوں نے اُسے سے کہا  کہ تو اور کون ہے اور اپنے  حق میں کیا کہتا ہے ۔ اُسنے کہا کہ میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا بیابان میں ایک پُکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خدا کی راہ درست  کرو۔ انہوں نے اُس  سے سوال کیا اور کہا اگر تو نہ مسیح ہے اور نہ الیاس اور نہ وہ نبی پس کیوں بپتمسا دیتا ہے ۔ یوحنّا نے جواب میں  اُسے کہا  کہ میں پانی سے بپتمسا دیتا ہوں پر درمیان تمہارے ایک کھڑا ہے جسے تم نہیں جانتے یہہ وہی ہے جو میرے پیچھے آنے والا تھا اور مجھ سے مقدّم تھا جس کی جوتی کا  تسمہ میں کھولنے کے لایق نہیں ہوں ۔ چاہے کہ وہ لوگ اِسی انجیل کے چھبیسویں باب کی چودھویں آیت کو دیکھیں۔ اُس میں لکھا ہے لوگوں نے یہہ معجزہ جو یسوع نے  دکھلایا تھا دیکھ کر کہا کہ فی الحقیقت دہ نبی جہان میں آنے والا تھا یہی ہے اِن آیتوں سے صرف یہہ ثابت ہوتا ہے کہ یہودی لوگ اپنے نبیوں کی پیشین گوئیوں کو اچھی طرح نہیں سمجھتے تھے اور ہر ایک مضمون پر اتفاق نہ کرتے تھے ۔ ایک اور دلیل جس سے رسول کی رسالت ثابت ہوتی ہے اچھی تعلیم ہے۔ محمدی اقرار کرتے ہیں کہ جس طرح انجیل توریت کے قائم مقایم ہے ۔ اُسیطرح  قرآن انجیل کا قایم مقام ہے۔ مگر واضح ہو کہ ہر ایک بادشاہ جو دانا اور دور اندیش ہے وہ  پرُانے قانون کو منسوخ اور نئے قانون کو جب جاری کرتا ہے کہ پُرانے کی نسبت نیا اُسکو اچھا معلوم دیتا ہے ۔ پس اگر قرآن حقیقتاً انجیل کے قایم مقام ہے۔ رو بیشک اُسکی تعلیم  انجیل کی تعلیم افضل ہو گی ۔ مقابلہ سے معلوم ہوگا اور اہل اسلام یہہ سے بھی دعویٰ کرتے ہیں  کہ اصلی انجیل کو عیسائیوں نے بگاڑ دیا ہے۔  جب انجیل کی یہہ حالت ہے بیشک انجیل اور قرآن میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا ۔ جب کبھی عیسائی انجیل اور قرآن کے حکموں کا مقابلہ کرتے ہیں تو محمدی انجیل کو چھوڑ کر توریت کی طرف متوجہ  ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توریت میں دیکھو کیا لکھا ہے ۔ بھلا یہہ بھی کو ئی بات ہے کہ قرآن کو انجیل کے قایم مقام ٹھرانا اور  توریت سے مقابلہ کرنا ۔ چاہئے کہ قرآن ا ور انجیل کا  آپس میں مقابلہ کریں ور سب کو معلوم ہے کہ توریت عیسائیوں کی خاص کتاب نہیں ہے مگر انجیل۔ پس اُس کتاب کا قرآن سے مقابلہ کرنا چاہیے جو خاص عیسائیوں کی ہے۔ یہہ بھی ظاہر ہو کہ شروع  موسوی سے کامل شائیستگی کل واقفیت اور پوری دانائی حاصل نہیں کر سکتے مگر انجیل سے۔ ور بیشک وہ تمام اور کتابوں پر نہایت فوقیت اور ترجیح رکھتی ہے ۔ پولوس رسول فرماتا ہے جب میں لڑکا تھا تب لڑکے کی مانند بولتا تھا اور لڑکے کی مانند خیال کرتا تھا اور لڑکی مانند حجّت کرتا تھا پر جب  جوان ہوا تب میں لڑائی سے ہاتھ اُٹھایا ۔ ایسی ہی توریت کی حالت ہے یعنی وہ ہمکو ایسا شایستہ اور دانا نہیں بنا سکتی جیسا انجیل ۔ پس اگر وہ قرآن کی تعلیموں کو  انجیل  کی تعلیموں سے مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ تو کیوں توریت کی طرف پھرتے  اور قرآن کی تعلیم نہ صرف توریت کی نسبت  بلکہ انجیل کی نسبت زیادہ تر اچھی ہونی چاہئے کیونکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انجیل کے قایم  مقام ہے۔      

PDF File: 

مسیح  گنہگاروں کاکفارہ

Christ's Atonement for Sinners

Published in Nur-i-Afshan November 1873
By Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

Three Crosses at Sunset

پرچہ  ہائے گزشتہ اخبار میں مسح کی الوہیت اور انسانیت کا بیا ن ہوا ۔ اب اُس کے کفارہ ہونے کا ثبوت پیش کیا جاتا ہے ۔  (ا) نبیوں کی کلام میں مسیح   جابجا  کفارہ کے طور پر بیا  ن ہوا  ہے خاص  کر یسعیا نبی کی کتاب  میں  دیکھو ۵۳ باب  اور اُسکی  ۴۔ ۵۔ ۶۔ ۸۔ آیت اِسمیں یوں بیان ہے یقیناً       اُسنے  یعنی مسیح نے ہماری مشقتیں اُٹھالیں  ۔ اور ہمارے غمونکا  بوجھ اپنے اوپر چڑھایا  ۔ پر ہم نے اُنکا یہ حال  سمجھا کہ وہ  خدا  کا مارا کؤتا  اور ستایا ہوا ہے پر وہ ہمارے گناہونکے سبب گھایل کیا گیا اور ہماری بدکاریونکے سبب کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لیے اُسپرسیاست ہوئی تاکہ اُسکے مار کھانے سے ہم  چنگے ہوویں  ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے اور ہم  میں سے ہر ایک  اپنی  راہ سے پھرا  اور خداوند نے ہم سبھوں کی بدکاری  اُسپر کادی  ایزا دیکے اور اُسپرحکم کر کے دے  اُسے لیگئے۔ پر کون اُسکے زمانہ کا بیان کریگا    کہ وہ زندونکی  زمین سے کاٹ ڈالا گیا میرے گروہ کے گناہونکے سبب  اُسپر  مار پڑی اُسکی   قبر بھی شریرونکے درمیان ٹھہرائی  گئی تھی  پر اپنے مرنیکے بعد  دولتمندو نکے  ساتھ وہ ہوا کیونکہ اُس نے  کسی طرحکا ظلم نہ کیا  اور اُس کے منہ میں کسی طرح کا  چھل نہ تھا لیکن خداوند کو پسند آیا کہ اُسے   کچلے اُسنے اُسے غمگینکیا جب اُسکی   جان گناہ  کے لیے گزرانی  جاوے  تو   وہ اپنی نسل  کو دیکھیگا    اور اُسکی  عمر    دراز ہو گی۔  اور  خدا کی مرضی  اُسکے ہاتھ کے وسیلے برآویگی اپنی جان کا دُکھ اُٹھا کے وہ  اُسے  دیکھیگا اور سیرہو گا ۔  اپنی ہی  پہچان  میرا صادق  بندہ  بہتوں  کو راستباز  ٹھہراویگا  کیونکہ وہ  اُنکی  بدکاریاں اپنے  اوپر اُٹھا لیگا۔

اور دانیال نبی ۶ باب میں پیدایش مسیح سے چار سو نوے برس  پیشتر یوں کہتا ہے کہ بدّکاری کی بابت کفارہ کیا جاویگا  اور مسیح قتل کیا جاویگا   پر نہ اپنے لیے ۔

مسیح کے کفارہ ہونیکا زکر انجیل میں بہت جگہ ہے چنانچہ نیچے اِسکی چند آیتیں بیان کی جاتی ہیں افسیوں کا خط ۵ باب ۲ آیت  جس میں پولوس  رسول  یوں لکھتا ہے تم   محبت سے چلو جیسا مسیح نے ہم سے محبت کی اور خوشبو  کے لیے ہمارے عوض میں اپنے تئیں خدا  کے آگے نزر اور قربا ن کیا۔  پہلا قرنتیوں کا  خط  ۱۵ باب  ۳ آیت   مسیح ہمارے گناہوں کے واسطے موا۔ پہلا پطرس دوسرا باب ۲۴ آیت ۔  وہ یعنی مسیح آپ ہمارے گناہونکو اپنے بدن پر اُٹھا کے صلیب پر چھڑہ گیا ۔ تاکہ ہم گناہوں کے حق میں مر کے راستبازی  میں چلیں۔  اُن کوڑونکے سبب جو اسپر پڑے تم  چنگے ہوئے  پہلا خط  یوّحنا ۲باب ۲ آیت  اور وہ یعنی مسیح ہمارے گناہونکا کفارہ ہے پر فقط ہمارے گناہونکا نہیں  بلکہ تمام دنیا کے گناہونکا بھی ،  ۲قرنتیون کا  خط  ۵ باب ۲۱ آیت اُسنے یعنی خدا  نے اُسکو جو گناہ سے نا واقف  تھا ہما رے بدلے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اُس میں شامل ہو کے آلہی راستبازی ٹھہریں۔ رومیوں کا خط ۵ باب  ۱۰ آیت خدا نے اپنے بیٹے کی موت کے سبب ہم سے ہم سے میل کیا ، مکاشفات  ۵ باب ۹ آیت تو نے اپنے لہو سے ہمکو ہر ایک فرقہ اور اہل زبان اور امت اور قوم میں سے مول لیا۔ 

اور خداوند یسوع مسیح خود فرماتا ہے کہ  میں اپنی جان اپنی بھیڑوں  کے لیے دیتا ہوں باپ مجھے اس لیے پیار کرتا ہے کہ میں اپنی جان دیتا ہوں تاکہ میں اُسے پھیر لوں کوئی شخص اُسے مجھے لیتا  پر میں اُسے آپ دیتا ہوں میرا اختیار ہے کہ اُسےدوں ۔ اور میرا اختیار ہے کہ اُسے پھیر لوں یہ حکم میں نے باپ سے پایا ہے ۔ اِسطرح بائیبل میں جابجا زکر ہے کہ مسیح گناہ کا کفارہ  ہے۔

میں تعجب کرتا ہوں کہ باوصف اِسکے ملک شاہ صاحب کسطرح سے فرماتے ہیں کہ با ئیبل سے مسیح کا کفارہ ہونا ثابت نہیں ۔ ہر ایک شخص اِن آیتیوں سے معلوم کر سکتا ہے کہ بائیبل سے مسیح کا کفارہ ہونا ثابت ہے اور نیز  اِن آیتیوں کی کسی اور طرح تفسیر نہیں  ہوسکتی جس سے اِسکے خلاف خیال دوڑ سکے اس لیے مناسب ہے کہ ملک شاہ صاحب اِن پر غور فرماکریہ الزام عیسائیوں پر سے اٹھا لیویں کہ بائیبل سے مسیح کا کفارہ ہونا ثابت نہیں ۔

ملک شاہ صاحب کیواسطےتو اتنی دلایل کافی ہیں لیکن اس لیے کہ لوگوں کو کفارہ کے معنے اور خاصیت معلوم  نہیں میں اُسکی نسبت بیان کرتا ہوں اور چند دلایل دیتا ہوں ۔ مسیح کے کفارہ کے معنے اور خاصیت سمجھنےکے لیے پہلے اِن باتوں پر غور کرنا  واجب ہے جسکا زکر زیل میں کیا جاتا ہے۔ (۱) سارے انسان گنہگار ہیں کوئی راستباز نہیں ایک بھی نہیں سب گمراہ  ہیں کوئی  نیکوکار نہیں ایک بھی نہیں ۔اِس کلام میں کل انسان شامل ہیں ازنٰی جعلیٰ فقیر امیر پیر پیغمبر بنی مرسل غرض کہ یہ کلام     ہر فرد بشر پر محیط ہے ۔

اور یاد رہے کہ گنہ دو قسم کے ہیں ایک عملی دوسرا خیالی ، عملی گناہ تو ہیں جو ظاہری عمل اور کام و کاج میں ظاہر ہوتے ہیں اور جسکو ہر ایک انسان دیکھ سکتا ہے اور خیالی وہ ہیں جو صرف خیال سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف انسان کے دلمیں وسوسہ انداز ہوتے ہیں جیسا کہ لالچ ، غصہّ، طبح خیالات فاسد اور دیگر امورات مزموم معلوم رہے کہ خدا دل اور گردوں کا جا نچنےوالا ہے اور اُسکے ساھمنےخیالی گناہ بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ عملی اوریہ دونو اُسکے حضورہم پلہ ہیں اگر  اِن معنوں کو انسان مدنظر رکھے تو کسکو اِس سے یا رائے انکار  نہیں کہ کوئی شخص گناہ  سے بری  ہے کیونکہ اگر ظاہر گناہ سےاحتراز بھی کیا جاوے تاہم ایسا کوئی فرد بشر نہیں جو خیالی گناہسے بچ جاوےپس انجیل کا وہ کلام کہ سارے انسان گنہگارہیں عین سچ ہیں۔ 

(۲)خدا ہمارا خالق مالک اور پر وردگار ہے اُسنے ہمیں بتایا اور پیدا  کیا اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ اُسکا ہے اسی واسطے ہمپر فرض ہے کہ ہم  اُسکی  بندگی اور فرمانبرداری کریں اور اُسکی  تابعداری  بجالاویں اور اُس  سےدل و جان سے محبت رکھیں اور اُسکی مرضی پورا کرنیکے لیے کوشش کریں اگر ہم  یہ فرض ادا  نکریں تو ہم  اُسکے قصور وار اور گہنگار اور فرض کے قرضدار ٹھہرتے ہیں اور سزا کے لائق ہوتے اسواسطے ہر ایک گنہگار اُسکے حضور فرض اور فرمانبرداری کا دیندار ہے او رسزاکا سزاوار ہے۔

(۳)یہ فرض کا دین انسان تو یہ کے وسیلے سے ادا نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ تو یہ ہماری   طرف سے خدا کی طرف  واجب کو ادا کریں تو پچھلا دیں ساقط نہیں ہوتا  تو یہ پچھلی چیزوں پر اثر نہیں کر سکتی یہ صرف آیندہ سے تعلق  رکھتی ہے مثلاً  ایک قرضدار قرض اُٹھانے سے توبہ کرے اور آیندہ   کو نقد سودا لیتا  رہتا ہے تو اس سے اُسکا پچھلا قرض جاتا نہیں رہتا ۔

بلکہ قائم رہتا ہے  ہاں آئیندہ کو وہ اَس بوجھ سے سبکدوش رہتا ہے ایسا ہی اگر کوئی شخص بیوقوفی سے اپنے کسی عضو کو کاٹ ڈالے اور آئیندہ کو ایسے کام کرنسیے توبہ کرے اور احتیاط عمل  میں لاوے  تو اِس توبہ کرنیسے وہ  اُسکا عضو درست نہیں ہوجاہیگا  گو آئیندہ کو اُسکے دوسرے عضو  سلامت اور محفوظ رہیں اسی طرح انسان گنہگارجب اپنے گناہوں سے پرہیز اور کنارہ کر کےخدا کیطرف متوجہ ہوتا ہے تو اِس سے اُسکے گناہ سابقہ زایل نہیں ہوجاتے ہاں اُسکی  توبہ کا اثر اُسکی آئیندہ  زندگی پر ضرور پر پہنچتا ہے اُسکے سابقہ گناہونکی معافی کے لیے کو ئی اور طریق یا کوئی اور وسیلہ ضرور ہے لیکن تو بہ علاج ناکارہ ہے۔

(۴)ایک اور سبب ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ گناہ توبہ سے معاف  نہیں ہوسکتا وہ یہ ہے کہ خدا عادل اور منصف ہے اور اُسکی عدالت اُسکے ہر ایک کام میں ظاہر ہوتی ہے عدالت اُسکی زات کا ایک حصّہ ہے اور اُسکے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا اور ہر ایک امر میں  اُسکو ملحوظ رکھتا ہے عدالت اِس امر کی مقتضی ہے کہ ہر ایک گنہگار گنہ کے عوض میں سزاپاوے اور  ہر ایک خطا اور غفلت کے عوض میں اُسپر سزا کا فتویٰ     کیا جاوے اور وہ کسی شخص کو بری الزمہ  نہیں کرتے جب تک کہ وہ فرمانبرداری  اور اطاعت ( جو اُسپر واجب ہے) خدا کی طرف  ادا   نہویٰ ہووے البتہ  یہ ضروری ہے کہ خدا   بڑا  رحیم ہے اور رحیمی کی صفت اُس میں  موجود ہے  لیکن یہ رحم اُسکا  اُسکے عدل کے ساتھ ملا ہوا اور جب تک اُسکی عدالت کا حق پورا نہو تب تک وہ رحم گنہگار ونکی بخشش اور نجات میں ظاہر نہیں ہوتا ۔ پس پھر کیونکہ تو بے گناہونکی معافی کا وسیلہ ہوسکتی ہے۔

(۵)بصورتہاےمسبوق الدّکر یعنے  جبکہ خدا کی بندگی اور پرمانبرداری   اور اُسکے احکام اور شریعت کی اطاعت ہم پر فر ض اور واجب ہے اور ہم  بالخلقت گنہگاراور معصیت پروردہ ہیں اور کسی صورت سے ہم اُسکے قرض کو ادا نہیں   کر سکتے اور توبہ ہماری نجات  کا وسیلہ نہیں ہوسکتی اور نہ ہمارے پچھلے گناہونکو معدوم کر سکتی  ہے اور اُسکی  عدالت ہماری  نسبت سزا کا فتویٰ سادر کرتی ہے اور ہمارے لیے کوئی صورت  پریت کی نہیں  اور ہم نہایت ناامیدی  اور پاس   کی حالتمیں ہیں  تو ضرور تھا کہ کوئی  اور طریق جاری نجات کا ہوتا جس سے خدا کا رحم بھی ظاہر ہوتا  اور اُسکا عدل  بھی قائم اور برقرار رہتا۔

پس خدا نے ایسے بے حد رحم کو کام  میں لاکر اپنی  لاتعداد حکمت سے ہمارے لیے ایک طریقہ نجات  کانکالا جس سےاُس کی عدالت  میں بھی کچھ فرق نہیں  آیا  وہ یہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح کو (جو ابن اﷲ تھا) اِس دنیا  میں بھیجا  اور اُس نے پیراوان مت میں آکر ۳۳ برس  تک دنیا  میں زندگانی بسر کی اور آخر کو  اُس  نے گنہگارونکا ضامن بنکے اور اُنکے عوض میں آپ سزا  اُٹھا کے خدا کی شریعت کو پورا کیااور سارا حق اُسکی عدالت کا پہنچایا۔ یعنے وہ پوری اور کامل فرمانبرداری جو انسان پر خدا کی طرف واجب تھی یسوع مسیح نے انسان کا ضامن ہو کر پوری کی  اور آخرش اُسنے اپنی جان انسان کے عوض میں صلیب پر دی اور آپ بےگناہ ہو کر اُسنے گنہگار ونکی سزا اپنے سر پر اُٹھائی۔

اور یہی امر یعنے (یسوع کا انسان کے عوض میں خدا کی فرمانبرداری اُٹھانا اور گنہ کی سزا کا اپنے اوپر برداشت کرنا) کفارہ کہلاتا ہے جو شخص اِس کفارہ پر ایمان  لاتا ہے وہ گناہ کی سزا سے بچ جاتا ہے کیونکہ وہ سزا اور سیاست جو اُسپر واجب تھی مسیح نے اُٹھائی اور جو کچھ شریعت کی اطاعت اُسپر لازم تھی اُسنے پوری کی ۔

اب عدالت بھی برقرار رہی اور اُسکا رحم بھی بظہورآگیا اور انسان نجات کی اُمید ہوگئی یہی ایک طریقہ نجات کاہے جسکا زکر اوپر ہوا اور جو انجیل سے ظاہر ہے۔

اب واضح  رائے زرینناظرین ہووے کہ اس طریقہ نجات (یعنےکفارہ پر) وہ اعتراض  لازم آتے ہیں ۔

(اول یہ) کہ ایک آدمی کی موت سے کسطرح بہتوں کی معافی ہوسکتی ہے خداوند یسوع مسیح اکیلا گنہگارونکے عوض میں صلیبی موت اُٹھاکر کفارہ ہوااِس ایک کفارہ سے ساری دنیا کی نجات کسطرح ہوسکتی ہے ایک آدمی کے عوض میں ایک ہی بچ سکتا ہے نہ کہ کلُ دنیا۔

اسکا جواب یہ کہ خداوند یسوع مسیح عام  انسانوں کے موافق انسان نہیں تھا بلکہ اُسمیں الوہیت تھی

(یعنے  زات و صفات  خدا)موجود تھی اور اِس الوہیت کے سبب جو کچھ کام  و کاج اُسنے جائے انسانی میں کیا اُسمیں الوہیت کا اثر پہنچا اور اُسکے  درجہ اور صفت نے اُسمیں   تاثیر کیا اس لیے جب مسیح نے انسان کے عوض میں  فرمانبرداری اور موت اٹھائی تب اُسکے اسکام  میں بھی درجہ الوہیت کا پہنچا ۔ اسلیے مسیح کی راستبازی  بیحد راستبازی  تھی اُسکی  موت کا اثر بھی بیحد ہی وہ پورا اور کامل اور بے نقص  اور سب سے بڑھکر انسان تھا یا یہ کہیں کہ وہ ایک بڑی قدر ومنزلت کا انسان تھا اور اُسمیں الوہیت بھی موجود تھی اسلئےاُسکی جان گرامی ساری دنیا  کا کفارہ ہوسکتی ہے اور اُسکی ایک جان تمام جہان کے عوض کافی خیال کیجا سکتی ہے بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ اُس کی قیمت اُس سے بڑھکر ہے کیونکہ اُسکا مرتبہ بیحدہے۔

(دوسرا اعتراض ) اِس بیان سے بے انصافی ظاہر ہوتی ہے کہ گناہ اور انسانوں نے کیا اور سزا مسیح نے اُٹھائی ۔ اِس سے خدا کا انصاف قائم نہیں رہتا کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔

اِسکا  پہلا جواب یوں ہے اس سے خدا کی بے انصافی ظاہرنہیں  ہوتی کیونکہ مسیح نے اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے یہ سزا  بعوض گنہگارونکے اپنے اوپر اُٹھائی دیکھو  یوحنا ّ  کی انجیل جسمیں مسیح خداوند خود فرماتے ہے کہ میں اپنی  جان  بھیڑوں کےلیے دیتا ہوں میں اپنی خوشی سے اُسے دیتا ہوں کوئی  اُسے مجھے نہیں لیتا مجھ کو اختیار ہے کہ میں اُسے دوں   یا پھیر لوں  وہ آپ  انسان پر رحم  کھا کر گنہگارونکا  ضامن بنا   اور اُنکے عوض میں  اُس نے خود  گنہ  کی سزا اپنے سر پر اُٹھای  اِس حال  میں کیونکر خدبے انصاف ہو سکتا ہے ۔

(۲جواب) یہ ہو سکتا ہے کہ ایک کے عوض  میں دوسرا  سزا کا سزاوار ہووے دیکھو  یہ  دنیا  کا عام  و تیرہ ہی کہ ضامن اپنے اصل مجرم کے عوض میں لاخوز کیا جاتا ہے اور خدا کے انتظام میں تو یہ عام ہے اور اُسکی پروردگاری  کے کام میں اکثر دیکھتے ہیں  کہ ایک شخص  دوسرے کے عوض  جس سے اُسکا  کچھ تعلق  ہوسزا اُٹھاتا  ہے دیکھو باپ حرامکاری کرتا  ہے اور اُسکی بیماری کا اثر بیٹے پر پہچنتاہے اور وہ  آلشک کی بیماری سے مرتا  اور جلتا ہے باپ بدکاری میں اپنے جسم کو کمزور کرتا ہے اور اُسکا  عزاب  اُسکی نسل پر پڑتا ہے ۔

دیکھو گناہ  آدم   سے بظہور آیا  اُسکے عوض میں اُسکی تمام نسل کو بہشت سے محروم رکھاگیا  تاہم  ہم خدا کو بے انصاف  نہیں کہ سکتے یہ سب پروردگار کا  انتظام ہیں اُسمیں ہم نقص نہیں نکال سکتے پس جب اِسمیں  نقص نہیں نکال سکتے تو ہم   پر واجب ہے کہ ہم نجات کے کام  میں بھی نقص  نہ نکالیں بلکہ ہمیں واجب ہے کہ ہم اُسکو مطابق پروردگار ی کے کاموں کے قبول کر لیں ۔

مسیح پر ایمان رکھنے کا بیان

Meaning of Faith in Christ

Published in Nur-i-Afshan November 2, 1876
By Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

Man Praying before Cross

ایمان کی خاصیت اور اُس  کی حد پاک کلام کے ہر ایک ورق میں عمدہ علامت ایمان کی بیان  کی گئی ہیں اور  جو تا شیرات اُس کی گروہا گر وہ خلقت نے بیان کی ہیں وے سب بجا ہیں ۔ لیکن جب بیان بیبل کے جب تک مسیح پر ایمان نہ ہو تب تک فی الحقیقت اِنسان خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے۔ اِسی واسطے ہر ایک آدمی کو مناسب ہے کہ پاک کلام میں تلاش کرے کہ ایمان کی خاصّیت کیا ہے اور حد اُس کی کہاں تک ہے۔ اِس کی خاصّیت کا بیان اِسطرح پر ہے  کہ انجیل مقدّس  میں خداوند مسیح نےبعضے شخصوں کے ایمان کی تعریف کی اور بعضوں کو بے ایمانی تنبیہ۔ جب یے دونوں باتیں اِنسان کی سمجھ میں بخوبی آجاویں تو ایمان کی خاصیّت اور بے ایمانوں کی غلطیوں سے بخوبی آگاہ ہو جاویگا اور بہت سے تردد اور بدعات جن کی بابت جھگڑے واقع ہوتے ہیں بالکل رفع ہوجاوینگے۔  پہلی مثل جو ہم اِس وقت انجیل میں سے تمھارے فایدے کے لیے زکر کرتےہیں وہ صوبہ دار کی حکایت متی کی آٹھویں باب میں سے ہے۔ اِس صوبہ دار کے گھر میں اُس کے نوکروں میں سے ایک شخص بیمار تھا اُس نے اُس کی بیماری پر رحم کر کے بطور غمخواری مسیح کی خدمت میں آکے اِلتجا کی کہ آپ میرے نوکر پر رحم کریں  اور میں اُسکو ادھرنگ کی بیماری میں تڑپتا  چھوڑ کر آیا  ہوں۔  اِس صوبہ  دار کے دل   میں   مسیح کی قوّتِ شفا بخشی اور رحم  پر ایسا ایمان   تھا  جس سے محروم ہونے کی شک بالکل دل میں نہیں تھی اور مسیح کے ہمنشین بالکل اِن باتوں سے ناواقف تھے۔ خداوند مسیح نے اُس کو فرمایا کہ چل میں آکر اُسے آرام دیتا ہوں  اِس ایماندار کے لحاظ نے منظور نہ کیا  کی ایسا بڑا آدمی اُس کے غریبخانہ میں آوے اور ایسی تکلیف فضول اپنے آپ پر اآٹھاوے اِس واسطے عرض کی کہ اے خداوند یہیں پر زرہ  زبان سے کہہ دے کہ میرا نوکر اچھا ہو جاوے اور مجھ کو تیری قوّت شفا   بخشی  پر اِس قدر یقین ہے جس قدر اپنے سپاہیوں پر حکم کر کے اپنے کام  بے روک ٹوک لے نیکا اختیار ہے۔ جب یسوع نے اُسکی یہہ باتیں سُنیں تو تعجب ہو کر  اُس رومی صوبہ دار  کے ایمان کی تعریف  کی ۔ باوجودیکہ وہ یہودیوں کی نظر میں نہایت حقیر تھا اُس کے ایمان کی  بڑائی سب لوگوں پر ظاہر کرنے کے لیے اور نجات کا مقدّمہ  میں اُس فضل کو قیام  بخشنے کے لیے یسوع  نے اپنے شاگردوں کو  کی طرف متوجہ ہو کے کہا کہ میں تمھیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسا بڑا ایمان میں نے اسرائیلیوں میں بھی نہیں پایا۔ میں تمھیں کہتا ہوں  کہ بہت لوگ   پورب  اور پچھم سے ایسے ہی ایمان کے زریعے سے آوینگے اور ابراہام اور اِسحاق اور یعقوب کی گود میں آسمانی  بادشاہت میں بیٹھینگے ۔ اب خیال کرو کہ اِس صوبہ دار کے ایمان کی خاصیّت کیا تھی اصل میں اتنی ہی بات ہے  کہ اُس نے اپنے  دل میں یقین کیا کہ قوّت اور بھلائی مسیح کی ایسی بے حد ہے جس  پر توکلّ  کرنے سے ہر کام میں امداد اور ہر بلا سے رہائی حاصل ہوتی ہے ۔ پس سچےّ ایمان کے یہی معنے ہیں کہ مسیح کی قدرت اور اُسکے منصب پر واسطے مدد اور نجات  روحانی موت کے بھرسا رکھے۔ یہی مسئلہ ایک دوسری مثل  سے بھی  ثابت ہوتا  ہے کہ ایک عورت زات کی کنعانی اپنے شاگرد نوح میں مسیح کے آنے کی خبرسُنکر دوڑ کر اُس کے پاس  آئی اور چلا کے بولی کہ اے خداوند داؤد کے بیٹے مجھ پر رحم کر میری بیٹی دیو کے آئسیب سے تکلیف شدید میں پڑی  ہے۔  مسیح نے اُس کے چلاّنے پر جواب نہ دیا  بلکہ کہا   کہ مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی چھینکر کتّوں کو ڈالو کیونکہ سارے یہودی لوگ بُت پرستوں کو خدا  کی نظر میں ناپاک جانکر کتُے سے بھی حقیر  سمجھتے تھے۔ اُس عورت  نے تس  پر بھی  مسیح کا کہنا  قبول کیا اور  کہا کہ ہاں خداوند سچ ہے لیکن کتّا بھی جو اُس کے مالک کے دسترخوان سے ٹکرے  کرتے ہیں کھاتا ہے مجھ پر  نو ویسا ہی  رحم کر جیسے کتّے اپنے مالک کے ہاتھ سے دیکھتے ہیں۔ فیاضی کے ہزاروں معجزے  تو یہودیوں میں دکھلائے ہیں اُسی میں سے مجھ کمترین پر بھی زرہ عنایت فرما ۔ تب مسیح نے جواب دیا  کہ اے عورت تیرا ایمان بڑا ہے جیسا تو چاہتی ہے تیرے  لیے ویسا ہی ہوگا  یہہ حال متی کے پندرھویں باب میں لکھا ہے ۔ اِس سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ توکلّ میں پائیداری اور مدد رہائی کیواسطے  مسیح پر پکا  بھروسا  ہی کا میاب  ہے۔  دیکھئےکسِ قدر  یاس اورنا اُمید ی کی حالت اُس عورت  پر گزری۔تس  پر بھی  صبر کر کے اپنی درخواست سے باز نہ آئی بلکہ رہائی کی اُمیدکو قایم رکھا  کیونکہ اپنے دل میں جانتی تھی  مسیح میں قوّت اور رحم کثرت سے ہے غرض  جیسےپہلی حکایت سے مسیح پر ایمان  رکھنے کی خاصیت معلوم ہوئی  ایسے ہی اِس ماجرا سے ظاہر ہوتا ہے کہ واسطے مدد اور رہائی کے اُسی پر توکلّ  بھی ہو۔ یہی ایمان اور یہی سچائی اچھی طرح اُن  نقصوں  سے ثابت ہوتی ہے جو مسیح نے اُن  لوگوں کو جن کے ایمان میں قصور پایا دکھلائے  اور تنبیہ دی۔

۲ ۔پہلے ایمان کی تعریف بیان ہوئی تھی اب بے ایمانی کی تنبیہ کا زکر ہے۔  لوقا کے آٹھویں باب میں مرقوم ہے کہپِھر ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ اور اُس کے شاگِرد کشتی میں سوار ہُوئے اور اُس نے اُن سے کہا آؤ جِھیل کے پار چلیں۔ پس وہ روانہ ہُوئے۔ مگر جب کشتی چلی جاتی تھی تو وہ سو گیا اور جِھیل پر بڑی آندھی آئی اور کشتی پانی سے بھری جاتی تھی اور وہ خطرہ میں تھے۔  اُنہوں نے پاس آ کر اُسے جگایا اور کہا کہ صاحِب صاحِب ہم ہلاک ہُوئے جاتے ہیں! اُس نے اُٹھ کر ہوا کو اور پانی کے زور شور کو جِھڑکا اور دونوں تھم گئے اور امن ہو گیا۔ اُس نے اُن سے کہا تُمہارا اِیمان کہاں گیا؟اِس  مقدمہ سے تم کو معلوم ہوگا  کہ اُن کے دلوں میں قّلت اُس توکلّ کی تھی جس کی تعریف وہ آگے کر چکا تھا ایمؔاندارونکو چاہئے کہ جب کوئی صدمہ یا بلائے عظیم یہانتک بھی غلبہ پاوئے کہ اپنے بچنے کی اُمید باقی بہ دیکھیں تو بھی خدا کی قدرت اور رحم سے ہرگز نامید نہ ہوویں ایسی نامیدی بے ایمانکا پھل ہے ۔ حقیقت میں یہہ بے ایمانی اُن شاگردوں میں تھی کیونکہ اُنھوں مسیح کے معجزے بھی  بہت دیکھے تھے اور اُس قوّت اور  بھلائی سے بھی واقف تھے یہہ کونسی بڑی بلا تھی جس سے باوجود ہونے مسیح کے اُسی کشتی پر اُنھوں نے  اعتماد   بچاؤ نہ کیا ۔ تمھاری ملالت کے خوف سے میں صرف ایک ہی اور مثال لاتا ہو ں جو مرقس کے نویں باب میں لکھی ہے۔ کسی لڑکے کا باپ اپنے بیٹے کو بیماری کی شدّت میں لیکر مسیح کے شاگردوں کے پاس آیا اور وے اُس کو اچھا نہ کر سکے تب وہ دل میں نامید ہوکر بحالت شک کے مسیح کے پاس آ کر یوں کہنے لگا کہ اگر تجھ سے ہو سکے تو ہمپر رحم کر۔ مسیح نے کہا اگر تو ایمان لاسکے تو کامل ایمان سے سب کچھ ہو سکتا ہے یعنے اگر تیرے  دل میں میری قدرت اور رحم  پر ُمستقل توکلّ ہو تو تیرا بیٹا اچھا ہو سکتا ہے اُسی وقت اُس شخص نے چلا کر کہا کہ میں ایمان لاتا ہوں میری بے ایمانیکوں معاف کر۔ بہت مثالیں اِس قسم کی انجیل میں موجود ہیں لیکن جن چار کو ہمنے دونوں باتوں میں بیان کیا ہے اُن سے صاف معلوم ہوگا کہ مسیح قوّت پر تو کلّ کرنا ایمان ہے ۔ اگر کوئی کہے کہ وہ صوبہ دار اور کنعانی عورت واسطے دنیاوی فوائید کے ایمان رکھتے تھے اور نجات ِروحانی چیز ہے ان دونوں کا مقابلہ ہر گز نہیں ہو سکتا  تو غور سے معلوم کرے کہ اگرچہ فوائید روحانی اور جسمانی الگ الگ ہیں پر دونوں کے لیے ایمان کی حدّ اور خاصیت  ایک ہی ہے۔ اِس قسم کے ایمان سے نوح نے کشتی بنائی ابراہیم اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوا اور موسیٰ نے مصر کی دولت اور حشمت سے خدا کے لوگونکے ساتھ مفلس رہنا بہتر سمجھا ۔ اگرچہ نتیجے اُن کے الگ الگ ہیں پر اصل ایمان ایک ہی ہے خواہ مسیح پر اِس نیت سے توکلّ رکھیں کہ دنیاوی بلیاّت سے مخلصی بخشنے خواہ بدیں مراد کہ روحانی اعدا یعنے شیؔطان  دنؔیا نفؔس دوؔذخ  غؔضب ِآلؔہیٰ  سے نجات دیوے۔ فی الحقیقت  حد ایمان کی ہماری  حاجت پر موقوف ہے۔ جس قدر ہماری حاجت ہوں اُسی قدر ایمان کی کثرت ہمارے دلوں میں ہونی  چایئے۔ پہلے ہم اپنے اعمال کو ساتھ قانون  فرض کے معلوم کریں اور ہر ایک حکم کو جو روحانی طرح پر ہے سمجھ لیں جیسے کہ مسیح نے متی کے پانچویں باب اور  چھٹے اور ساتویں باب  میں تشریح کی ہے۔ خدا ہمارے دلوں   میں یہہ خیال ڈالتا ہے کہ گناہ صرف نسیان سے ہی نہیں بلکہ بہتیرے سے گناہ ہم جان بوجھکے اور بہتیرے روشنی باطن کے برخلاف مغرور  ہو کے ازروئے سر کشی کے برعکس خدا کے کرتے ہیں ۔ اِن گناہوں  سے رہائی پانے کی اُمید میں مسیح پر توکلّ واجب ہے جیسے کہ بیان ہوا ۔ اُس کے کفارہ خون  پر جسے خدا نے ہماری مغفرت کے واسطے معّین کیا با لکل بھروسا کرنا اور ایسی استعمال توکلّ کفارہ کی عدل کی گرفتاری اور قادر مطلق کے غصب سے ہم کو چُھڑا سکتی ہے۔ جب کبھی ہمارا دل گناہونکے ڈر سے گھبرا وے تو مسیح کے کفارہ پر غمگینی کے ساتھ توکلّ کرنا واجب ہے۔ اپنی نیکی سے آنکھیں بند کر کے اُسی کی راستبازی سے مدد کا خواہان ہونا چاہیئے۔

ہماری سمجھ بھی بگڑ گئی جس سے شریعت کا سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہوا ۔ کیونکہ دل تاریک ہے اُس تاریکی کو ہٹانے اور سخت دل کو نادانی اور سرکشی سے باز لانے کے واسطے روشنی آلہی درکار  اِس کے لیے بھی  خداوند مسیح پر اُسی طرح توکلّ ضرورہے کیونکہ اُسمیں طاقت ہے اور وہ چاہتا بھی ہے کہ ایمان داروں کے دلوں کو روشن کرے اور اُن کو روحانی  سمجھ بخشنے اور اُن غلطیوں  کو جو خیالی ہیں بنیاد اُن کی خدا کے کلام میں نہیں  ا ور صرف  اِنسان نے اپنے خام خیالوں سے پیدا کی ہیں صحیح کرے۔ تمھیں چاہیئے  کہ اِسی طرح متوکلّ ہو کر اُس سے درخواست کرو کہ موت کی  ملالت اور گناہ  کی جہالت سے تمھیں رہائی عطا کرے  لڑکے کی طرح  اُس کے قدموں کے تلے بیٹھکر سیکھنے کی اِلتجا  رکھو ور اُس کی پروردگاری ور بندوبست سے بیدل نہ ہو۔نجات  کیواسطے جو کچھ مسیح نے سکھلایا  اور جو روح قدّس کی ہدایت سے تمھیں معلوم ہوا بالکل  اُسی پر بھروسا رکھ کے  یہہ دعا حح     کرو کہ تم قوّت اور استعداد سیکھنے کی بخشے۔ جیسا اچھا طالب علم اپنے اُستاد کی نصیحتوں کو سیکھتا ہے اعتراض نہیں کرتا تم بھی ویسا ہی کرو ۔ تم اپنے دل سے جانتے ہو کہ تم کمزور ہو فرمان برادری کی طاقت تم میں بالکل نہیں تمھاری جسمانی خاصیت ہمیشہ بُرائی کی طرف متوجہّ ہے۔ ہزاروں اِمتحان اِس دنیا میں موجود جو تمھیں خدا کی طرف سے ہٹانے پر مستعد  ہیں اور مایوس کرنے کو ہمیشہ آمادہ۔ اِس حالت میں اُسی کی امداد کے شایق ہو کے روحانی  احکام کے ماننے میں توکلّ رکھو۔ جتنی اخلاق اور روحانی خوبیاں تم میں تھیں اور جس قدر خدا اور عاقبت سے جدا  ہو کر دنیا اور نفس اور شیطان کیطرف  پھر گئی ہیں اُن سب کو پھر لاٹا کے خدا کی راہ  پر لانا اپنی خوشی اور بہبودی کے لیے نہایت مطلوب ہے۔   پر اپنی طاقت سے تم یہہ کام نہیں کر سکتے اور گناہونسے پاکیزگی کی طرف وہ دلی بازگشت  جو خدا چاہتا ہے تمھاری طاقت سے بعید اور خدا کے فضل سے ممکن۔ اِس نعمت کیواسطے بھی توکلّ ہی درکار ہے۔ غرض ایمان لانا مسیح پر یہی ہے کہ سب روحانی برکتوں  کے لیے جیسا کہ خدا  نے مقرّر  کیا ہے اُسی پر مدار چاہیئے اور ہر وقت اُس کی عادت ڈالنی واجب ہے یعنے ہر دم اپنے نفس کا انکار کرنا اور اپنی طبیعت کے برخلاف چالنا اور خدا کے فرمان کے مطابق عمل کرنا اور امداد صرف مسیح کی کامل تصوّرکرنی  لازم ہے ۔ اُنکے اِستعمال میں سُست ہونا نہ چاہیئے۔ کیونکہ فوج دشمنوں کی غالب ہے اور تم  میں جرات نہیں۔ اگر ثابت قدم رہوگے تو قادر ِمطلق تمھیں طاقت اور فتح دونوں بخشیگا۔

۳۔ میں نے خاصیت اور حدایمان کی بیانی کر دی کہ واسطے بخشش گناہ کے توکلّ ِ مسیح اور اُس کی امداد  پر ہے جس سے تم گناہ کی پابندی سے چھوٹو ۔ لیکن ایک امر باقی ہے کہ سکونت ہماری اِس دنیا میں چند روزہ ہے یہہ زندگی جلدی ختم  ہونیوالی  ہے اور ایک نئی فی الفور شروع  ہونیکو جس کا انتہا  کوئی نہیں جانتا  اُس میں  نامعافی گناہوں کی سزا ہمیشہ کے لیے سہنی پڑیگی اور ضروری خوشیوں ور خدا  کی محبت  کو دل میں دخل  نہ ہوگا۔ پس حد ایمان کی گویا یہانتک پہنچتی ہے اور بڑا درجہ  رکھتی ہے کیونکہ ابد تک پہنچتی اور ہمیشہ کی خوشی اِسی ایمان  اِسی ایمان اور توکلّ پر موقوف  ہے۔ یہہ ہمیشہ کی خوشی اور قوتّ اور خدا کی محّبت اُسوقت میں بھی تمھیں تسلی اور تشفیٰ بخشیگی جس وقت اِس دنیا   کی چیزیں اور اِس جہان کی مدد تمھارے لیے کام نہ آویگی ۔  جو کہ صاحب ایمان خدا کے کلام پر بھی توکلّ  رکھتا ہے اور یقین جانتا ہے کہ ارواح  ہر گز  مجرّو نہیں  چھوڑی جاویگی اور اعضا اگرچہ قبر میں مٹی ہو جاتے ہیں لیکن وہ بھی پھر کسی وقت دوبارہ قایم کئے جاوینگے  اور جلالی بدن میں جی اُٹھینگے اور اُس  مبارک بادشاہت میں جو حکیم بر حق اور قادرِمطلق نے خوشی و وام خواص اپنی کے لیے مہیا کی دخل پاوینگے ۔ اِس دائمی زندگی کی اُمید پر بھی توکلّ کرنا ِسی ایمان کا پھل ہے جس سے ہم جانتے ہیں خداوند یسوع مسیح آپ آسمان پر عروج کر کے ہمارے لیے رہنما ہوا ہے اور ہم بھی اُس کےپیچھے پیچھے  جانے والے ہیں۔ یہہ تشریح ایمان کی جو ہمنے اِسوقت بیان کی اور جس کا منشا توکلّ ہے واسطے نجات اور افضال متعّلقہ  اُس کے کے کافی ہے۔ اُس کا سمجھنا بہت آسان بلکہ اِسقدر آسان ہے کہ جاہل مطلق جن کو زرہ بھی علم نہ ہو سمجھ لوینگے کیونکہ ایمان کی بابت علما میں بہت تکرار پہلے بھی ہوتے آئے ہیں اور اب بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہہ صاف اور سیدھا مسئلہ ہے کہ ایمانداروں کو اچھی طرح معلوم ہے اور ساری تسلّی اِسی پر موقوف ہے اور لازم ہے کہ یہہ مسئلہ سب مسائل میں صاف ہووے  کیونکہ جس پر روح کی نجات موقوف ہو اُس کا سمجھنا عام اور خاص کو ضروری ہوتا ہے۔ بھلا اُس کو کون نہیں سمجھتا کہ ایمان اِن چیزوں پر توکلّ ہے یعنے دؔانائی راسؔتبازی یسؔوع مسیح کی نجات ۔  کیا اِس دنیا  میں مفلس اور جاہل مرد مال اور علم کے لیےاُن  تو نگروں اور عالموں پر توکلّ نہیں کرتے جن کی دولت اور علم پر اُن کو اعتبار ہے ۔ یہہ کسی آدمی کی سمجھ یا دانائی اُس سے کیا کم ہوگئی کہ وہ اپنے اُستاد کے کہنے پر ایمان نہ رکھے خصوصاً جب اُستاد سب طرح  کی دانائی اور راستی میں مشہور ہو اگر ایسا اعتقاد نہ رکھیں  تو اِستفا دہ کب ہو سکتا ہے اور بڑوں سے اِمداد کب مل سکتی ہے ۔ قرضدار جب اَداےقرض کی اپنے آپ میں طاقت نہیں دیکھتا تو ضرور ضامن کا آسرا تکتا ہے پھر یہہ کیا مشکل ہے کہ آدمی جو جاہل اور ناچار اور گناہوں کے قرض  سے دبا ہوا ہے شیطان سے دشمنی کے ظلم اور اپنی بدطبعی کیسے مُغنویکے اغوا سے رہائی پانے کے لیے مسیح پر توکلّ رکھے۔ پس اگر اِن باتوں کو جو روزمرّہ اِنسان کے جسم میں ہو رہی ہیں فواید روحانی کے لیے ایک مسیح پر ہی ڈالیں تو نہایت آسانی ہے اور اِس سے روز بروز اعتبار واسطے مدد کےاور شکر واسطے فواید کے بڑھتا ہے۔

۴۔ ہم ایمان کی خاصیت اور اُس کی حد مطابق مثالہائےمندرج کُتِب مقدّس جن میں کثرت ِ ایمان کی تعریف اور قلت کی سرزنش  ہوئی  ہو بیان کر چکے کہ اُسکی مراد واسطے دانائی اور راستبازی اور پاکیزگی اور نجات کے مسیح پر پختہ  تاکلّ ہے۔ اب ہم اِس کے فواید کا زکر کرتے ہیں۔ بسبب ناواقفی تاشیرات ایمان کے کئی بدعات اور خرابیاں واقع ہوئی ہیں  اور  اِنسان  نے بباعث خود پسندی کے جھوٹے ایمان کا لباس پہنکر اپنے آپ کو ایماندار تصور کریا اور اپنے آپ کو فریب دیا اور دوسروں کو بھی غلطی میں ڈالا۔ مثلاً خواندہ آدمیوں نے اُن پیشین گوئیاں کو جو نبیوں کتابوں میں بحق ِ مسیح مندرج ہیں پڑھکے اور جیسے کہ وہ ہو بہو وقوع میں آئی ہیں اُن پر لحاظ کر کے اور اُن معجزات کو جو مسیح نے دکھلائے بطور دلیل کافی کے سمجھ کے واسطے پرانے بے ایمانوں کے ایک ہتھیار جانا اور جو لوگ  کہ انجیل کے ُمنکر  تھے اُن کے ساتھ بحث کرنے کے لایق ہوئے اور ایسے علم کو ایمان کی جگہ تصوّر کر کے اپنے آپ ایماندار مشہور کیا اور اپنے ایمان کو کامل جانکر کسی بات کا قصور نہ سمجھے۔ باوجودیکہ اُن کے عمل اچھی طرح ظاہر کرتے ہیں کہ اُن کے دلوں میں بالکل ایمان کی تاثیر نہیں ایسے لوگوں کو اِس بات کا قایل کرنا نہایت مشکل ہے کہ وے ایماندار نہیں ہیں  اور جو ایمان برائے نام رکھتے ہیں سو صرف ایک خیالی امر ہے کیونکہ مسیح مذہب کے مسایل سے واقف ہو نا اور مسیح کی تواریخ سے بخوبی آگاہی حاصل کرنی اور قواعد ِ نجات کو جو مسیح کی موت کے زریعہ سے اِنجیل میں ظاہر ہوئے ہیں استعمال میں لانا ایمان نہیں  نئے امور صرف بحث اور مجلسی گفتگو کے لایق ہیں روح کو  اُنسے کچھ فایدٔہ نہیں پہنچتا۔ اور اِس قسم کا علم نہ گناہونسے نفرت دیتا ہے اور نہ اُن کا قایل کرتا ہے اور نہ اُن کو ترک کراسکتا ہے اور نہ دل میں پاک ہونے کا شوق پیدا کرتا ہے ۔ پہلے پہل غیر قوموں میں بھی جہاں مسیح کی منادی  اوّل ہوئی تھی اِسی خیال نے رواج پایا  اور اُنھوں  نے سمجھا کہ مسیحی مذہب میں راستبازی کی کچھ ضرورت نہیں۔ نجات صرف ایمان سے ہی ہےدل کی تبدیل اور فرماں برداری اور توکلّ جو ایمان کے ساتھ متعلق ہیں  اُنھوں  نے کچھ چیز نہ سمجھی ور وے اپنے باطل بھروسے پر یہہ کہتے رہے کہ مسیح کی راستبازی ہماری راستبازی ور مسیح کی پاکیزگی ہماری پاکیزگی ہے۔ اُنھوں نے اعمال کی پیروی کرنی چھوڑ دی ور حکموں کو متروک کر دیا۔ جہاں کہیں سّچے ایمان کی خاصیت اور حد نہ پہچانی جاوے وہاں ایسی ایسی بدعات ضرور ظہور پکڑتی ہیں۔ اِس مقدمہ میں پؔولوس  پطؔرس  یوؔحنا  یعؔقوب رسولوں کے مکتوبات پڑھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایمان بے عمل نکلا ہے بلکہ ایمان کا ہونا ایمانداروں کے نیک عملوں سے ثابت ہوتا ہے۔ انگلستان اور جرمن میں اگلے زمانے کے بہت لوگ یہی خیال رکھتے تھے کہ نجات صرف ایمان ہی سے ہے۔ اور حقیقت میں ایسا ہی ہے پر عمل کو بالکل ناچیز جاننا بڑی غلطی ہے۔ ایمان ضرور مسیح پر توکلّ ہے جیسے کہ بیان ہوا ہے اور یہہ توکلّ واسطے نجات روح کے آخرت میں دوذخ سے ہے۔ لیکن ویسا ہی توکلّ واسطے نجات کے شوق گناہ اور شہوت ا ور نفس کی سرکشی سے بھی ضروری ہے۔ یہہ کیسا ہو سکتا ہے کہ آدمی گناہ کے نتیجے سے نجات چاہے اور گناہ کی پلیدی سے نہ بچے ور تمنّا کرے کہ باپ  فرشتوں کی صحبت اور زندگی دوام کے آرام سے حصّہ پاؤں پر جو دلی پاکیزگی اُس صحبت کے لایق ہے اور جسپر سب فرحتیں عاقبت کی موقوف ہیں زندگی میں حاصل نہ کرے ۔ توکلّ خود چاہتی ہے کہ شب و روز اُس خداوند کا خیال دل میں رہے تاکہ مدداور نجا ت اُس سے ملے ۔ لیکن جب گناہ کے خیال اورشوق دل میں بھرے رہیں  توخدا اور خداوند مسیح کے خیال نے کب دخل پایا۔ آدمی جس گناہ سے بچنے کے لیے مسیح کے پاس آیا اُسی گناہ کو کس طرح دل سے پیار کریگا۔ غرض  ایسا مرُدہ ایمان جس میں پاکیزگی کی زندگی نہ ہو ایمان نہیں ہوتا۔

۵۔ ایک خرابی اور بھی پھیلی ہے اور وہ یہہ ہے کہ لوگ یہ سبب تعلیم خوردسالی کے چند عادات مذہبی اختیار  کر لیتے ہیں اور اُنھیں کو ایمان کی جگہ میں نجات کے لیے کافی سمجھکر اوقات بسر کرتے ہیں۔ مثلاً گرجا میں جا کے دعائیں مانگنے اور مذہبی کتابوں کے پڑھنے اور مفلسوں پر سخاوت کرنے اور اپنے مذہب کے مقدمہ میں کُمک دینے اور اپنا نام مذہبی لوگوں کے ساتھ لینے اور جہاں کہیں مذہب کے تزکرہ کے لیے جماعت اکھٹی ہو وہاں پر حاضر ہو نے کو ایمان تصور کرتے ہیں۔ لیکن سچےّ ایمان سے جو توکلّ مسیح پر واسطے راستبازی اور پاکیزگی  اور نجات کے ہے محض بے بہرہ ہیں ایسے ظاہر پرستوں کو مناسب ہے کہ اپنے خیالات اور سچےّ ایمان سے  بے بہرگی کو سمجھکے معلوم کریں کہ اُن کا ایمان اُس بنیاد پر قایم ہے کہ نہیں  جو مواخزہ میں ہر گز جنبش نہ کرے اور ثابت کریں  کہ ایمان صرف خیالی ہی تو نہیں بلکہ تقینّ واسطے  نجات کے ہے۔ اگر آدمی ایسی نیک چال بھی رکھیں کہ لوگونکی  نظر میں کبھی برُے معلوم نہ دیویں اور خدا کی رحمت پر بھی ایسا تکیہ ہو کہ وہ کمزور یٔوں  کی حالت میں مدد کرے تسِ پر اگر ایمان اِنجیل  کے مطابق نہ ہو تو وہ ایمان کسی کام کا نہیں ۔ اِن باتوں سے تصّور  اقسام ایمان کے بخوبی آسکتے ہیں بجا کونسا ہے اور غلط کون۔

۶۔  ایک اور غلطی یہہ ہے کہ بعضے آدمی بغیر تلاوت کلام  رباّنی اور بدون صحت خیال ایمانی کے کہتے ہیں کہ ایمان نے ہمارے دلوں میں ایسا غلبہ کیا ہے کہ سب امور مذہبی ہمارے دل پر کھل گئے ہیں اور وجد کی حالت میں آکر اپنے آپ کو سّچا ایماندار گنتے ہیں اور گناہ کی مغفرت  اور پاکیزگی کی بنیاد اِسی اندرونی خیال سے تصدیق کر لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیئے کہ انہوں نے گناہ سے توبہ اور مسیح پر توکلّ جس پر عفو گناہ کے وعدے کئے گئے ہیں اپنے دل کے تجربہ میں پائی ہے یا نہیں۔ کیونکہ اگرچہ خدا نے بعض اوقات اپنی کمال رحمت سے بعض اشخاص پر اپنی محبت  کا پر  تو آسمانی طریقہ سے روشن کیا ہے لیکن نجات اور فضل ِ رباّنی واسطے عفو گناہ عوام  کے اِس طریق پر ظاہر نہیں ہوئے۔ انبیاؔ اور شہدا نے بحالت ِ وجد آگ کے شعلوں میں بھی شکر گزاری کے را گ گائے ہیں اور بہت تکلیف کی موت میں بھی انتقام کی طبع پر غالب آکے اپنے دشمنونکے لیے دعائیں مانگی ہیں۔لیکن عوام کو یہہ برکات میسرنہیں ہیں ۔ ہر ایک اِنسان کو نہیں چاہیئے کہ ایسی آسمانی ناگہانی برکت حاصل کرنے کی گمانی التجا رکھے۔ وجد میں آکر خدا کی رحمت پر اِس قدر خوش ہونا کہ اپنے ظاہری کاموں سے بالکل بیخود ہو جائے  اور شے ہے  اور مسیح پر واسطے نجات ِ دوذخ اور رہائی گناہ اور مخلصی شیطانی اِمتحان کے توکلّ رکھنا اور شے اِن دونوں میں زمین اور آسمان کا تفاوت ہے بخشش کی گواہی اپنی طبیعت کے وجد سے سمجھ لینی ایک  واسطے عفو گناہ کے مسیح پر توکل کرنیکا سبب ۔ اُس خدا نے جسنے  اِبتدا  میں طریقہ مغفرت کا مسیح پر ایمان لانے سے ظاہر کیا خواص اور جلال اُس بچانیوالے کے بھی پاک کتاب میں مندرج کئے جس سے ایماندارونکے  دل میں بنیاد توکلّ کے سبب قومی پیدا ہوں ۔ یہی خدا کی گواہی مسیح کے جلال ور عظمت پر یسوعی ایمان کی بنیاد ہے۔ اور نجات کی باتیں ایسی صاف اور باقاعدہ معلوم ہیں  کہ کسی جگہ اُن میں  اشتباہ کی گنجایش نہیں جس دن سے گناہ نے دنیا میں دخل پایا اور اِنسان اپنے خالق کی نظر میں خطا کار اور غضب کا سزا وار ٹھہرا اُسی دن سے نجات کا وسیلہ بھی خدا نے ایسا ظاہر کیا جس سے آدم اور اُسکی اولاد اُسکی رحمت سے نامید اور ہراساں نہ ہووے۔ بیبل کے مضمون سے معلوم ہوتا  ہے کہ خداوند یسوع مسیح صرف اِنسان ہی نہ تھا بلکہ الوہیت بھی اُس میں تھی جو کلام ابتدا میں تھا وہ کلاِم خدا تھا  اور ساری چیزیں اُس سے بنیں اور جو بنیں بغیر اُسکے زریعہ کے نہیں بنیں۔ بسبب  اِس اصلی الوہیت کے جب خدا وند یسوع مسیح زمین پر واسطے فدیہ گنہگاروں کے پیدا ہوا اگر چہ وہ اور طفلونکی طرح صرف ایک طفل تھا  اور مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا اور بعد پیدایش طویل میں رکھا گیا لیکن اُسوقت خدا  باپ نے فرشتوں کو فرمایا کہ اُس کی پرستش کریں ا ور سارے فرشتوں نے یوں پکارا کہ خدا  کو آسمان  پر جلال اور زمین پر امن اور اِنسان  کو رضامند ی ۔ پھر پیدایش خداوند مسیح کی خبر پر والوں کو دی کہ خدا ہمارے  ساتھ ہوا اِسی واسطے عمنوئیل نام رکھا گیا۔ اِس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح میں الوہیت بھی تھی اور اِسی واسطے نجات  کے لیے اُسپر توکلّ سارے   نایب ایمانداروں کے دلوں میں مستقیم ہے اورہے اور سب نبیوں نے مثل اشعیا اوردانیال کی بابت الوہیت مسیح کے خبر دی ور اُس کے کفارہ میں جان دنیے پر یہہ بڑائی کی کہ اُس نے گناہ کو ختم کیا اور  اِنسان کو رہائی بخشی ۔ اور یسوع مسیح کی الوہیت واسطے کفارہ گناہ کے توکلّ کی پکی بنیاد ہے  کیونکہ اگر وہ خدا نہ ہوتا تو گناہ بخشنےکا اِقتدار  ہر گز نہ رکھتا ۔اِس مقدّمہ میں خدا نے خود فرمایا ہے کہ خدا نے دنیا پر ایسا  پیار کیا کہ اپنا اکلوتا پیارا بیتا بخشا تاکہ جو کوئی اُسپر ایمان لاوے ہمیشہ کی زندگی پاوے فقط وہ خدا کا برہّ ہے جو جہان کے گناہ لیے جاتا ہے اُسنے ہمارے گناہ  اُٹھالیے۔ کیونکہ وہ خدا بھی اور اِنسان بھی تھا غور کرو کہ اگر خدا ایسے شخص کو جیسا  مسیح ہے مقرر کر کے صرف آسمان پر رکھ کے گنہگاروں کو اطلاع دیتا کہ اُسپر ایمان لاؤ گے تو تمھارا شفیع ہوگا اور اُس کی شفاعت گناہ کی مغفرت کے لیے مقبول ہوگی تو بھی ہر ایک کو لانک ہوتا کہ اُسپر ایمان لاوے۔ خدا  نے اُسے صرف مقرر ہی نہیں کیا  بلکہ زمین پر بھیجا اور اپنارحم اور عدل دونوں ایک جگہ میں ظاہر کئے۔ اگر مسیح صرف اِنسان ہی ہوتا اُس کا کفارہ معافی کل جہان کے لیے کافی نہ ہوتا۔ اور اگر وہ صرف الوہیت میں لوگوں پر خدا کی رحمت ظاہر کرتا تو عدل پورا نہ ہو سکتا ۔ اسی واسطے خدا اور اِنسان کا متوسط ہوا جیسا کلام میں تزکرہ  ہوا ہے کہ خداوند مسیح میں الوہیت تھی جسے آسمان کے فرشتے پر ستش کرتے تھے یہہ بھی لکھا ہے کہ اِنسان گمراہ کے بچانیکے لیے اُس نے آکے جاندی۔ مسیح کی پیدا  یش سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُس میں ضرور الوہیت تھی کیونکہ اُس میں لکھا ہے کہ اُسنے فرشتہ کی صورت نہ پکڑی بلکہ ابراہیم کی اولاد میں پیدا ہوا تاکہ گنہگاروں  کا نجات دہندہ ہووے ۔ اِن دونوں خاصیت کا ہونا  مسیح میں ضرور تھا تاکہ وہ خدا کے ہو خدا کا حق پہچانے اور اِنسان  ہو کے اِنسان کی کمزوری پر رحم لاوے۔ اور یہی دونوں خاصّیت واسطے تقویت ِ بنیاد توکلّ کے پاک  کتابوں میں زکر ہوئی ہیں اِس جگہ میں لکھنا اُن کا ضرور ی نہیں ۔ کلام کے پڑھنیوالوں کو آپ ہی معلوم ہو گا کہ مسیح میں یہہ دونوں خاصیّت موجود  تھیں ا  ور اِسی  واسطے وہ ہمارے لیے نجات دہندہ کامل ا  ور واسطے  عفو گناہ کے توکلّ  اُسپر بخوبی ہو سکتا ہے۔ یہودیوں نے مسیح کے حق میں یہہ غلطی کی کہ وے اُسکو بادشاہ صاحب جلال الوہیت سے پر اُن کو دشمنوں سے چھڑا نیوالا شجاعت میں بہادر انتظار کرتے تھے۔ اور مسیح برعکس خیال اُن کے کے مفلس آدمیوں کی صورت میں پیدا ہوا ور ہر ایک قسم کی تکلیف میں اُس نے اپنے آپ کو ڈالا۔ سامھنے پلاطوس  کے حاضر ہوا گویا ساری دنیا کا منصف یعنے مسیح اُس بُت پرست حاکم کئے سامھنے اِنصاف کے لیے لایا گیا کیونکہ خدا نے ہماری گناہ اُسپر ڈالے تھے ۔ جب دوسرے گنہگار واجب القتل نے پلاطوس کے ہاتھ  سے رہائی پائی تو اُس نے مسیح کے حق میں  صلیب کا فتویٰ دیا۔ یہہ سخت سزا جو مسیح پر وار ہوئی ہمارے گناہوں کے سبب تھی ۔ فی الحقیقت عدول حکمی ایسی ہی سزا کا تقاضاکرتی ہے جس سے ساری دنیا غازت ہووے  اور یقیناً مسیح نے ایسی ہی سزا ُٹھائی جس سے ساری دنیا کو نجات ملے سزا کا بوجھ  جو مسیح نے اُٹھایا ایسا سُبک نہیں تھا کہ صرف اِنسانیت اُسے اُٹھا  سکتی عدول حکمی کی سزا اُن فرشتوں سے بھی اُٹھائی نہیں گئی جو اِنسانسے طاقت اور لیاقت کئی درجہ زیادہ رکھتے تھے اُسی سزا میں وہ فرشتے عمدہ آرام ِ آسمانی سے شیطان کی  طرح دوزخ کے لایق ہوئے۔ پر خدا وند مسیح نے اپنے جسم میں بسبب سنبھالنے اور تھامنے الوہیت کے وہ آسمانی غضب  اُٹھایا اور خوشی سے اُس کو سہا لیکن تو بھی بوجھ اِس غضب کا اُسکے اِنسانی جسم پر بخوبی معلوم ہوا اور ایک بات سے جو ساری تکلیفوں سے زیادہ  تر قوی تھی وہ گھبرایا ۔ دیکھو اُسنے پلاطوس کے آگے واسطے رحم کے کچھ درخواست نہ کی اور جب یروسلم کی عورتیں اُسپر رونے لگیں تو اُس نے حلم سے اُن  کو کہا کہ اپنے فرزندوں کے لیے رؤ اور پھر بخوشی خود صلیب کو قبول کیا  اور جیسے بھیڑ ی بال کترنے والوں کے آگے چپ رہتی ہے ویسے ہی سارے دُکھ سہتا رہا۔ لیکن جب خدا کا غضب اُسپر نازل ہوا اور خدا نے اپنی الوہیت کا چہرہ اُس سے جدا کر لیا تب مسیح چلاّیا کہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں ترک کیا ۔ اِس سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح گنہگاروں کی نجات دینے میں کامل اور توکلّ اُس پر بجا اِس قدر صاحب جلال ہو کے ایسا پست بنا اور خدا کی رحمت سے یہہ بھی آشکار ا ہے کہ اُس خدا نے ہمپر ایسا پیار کیا کہ اپنے اِکلوتے اور پیارے  بیٹے کو بھیجا تاکہ گنہگار اُسکے وسیلے سے نجات پوویں پس  اُس کلام پر تکیہ نہ کرنا نہایت گناہ ہے اگرچہ تمہارے گناہ شمار میں بے حّد ہیں تو بھی مسیح سے بخشش کے اُمید وار ہو سکتے ہو۔ کیونکہ کوئی گناہ ایسا نہیں  جسکو اُس کا خون صاف نہ کر سکے اور کوئی گناہ ایسا نہیں جسکا بدلہ اُسنے نہ دیا ہو اور کوئی سزا  گناہ کی ایسی نہیں جو اُسنے نہ اُٹھائی ہو اور اُسکی نجات خدا کی مقرر کی ہوئی ہے۔ پس توکلّ کروکہ اُسنے عدل کو پورا کیا اور شریعت کو عزت دی اور رحم کو ظہور میں لایا   اور گناہوں  کی سزا   اپنے آپ پر  اب ہم مدد جو مسیح  سے حاصل ہوتی ہے اور وہ چُھٹکارا   جو مسیح بخشتا ہے اور وہ قہر اور غضب شریعت کا جو اُسنے ہمارے لیے اُٹھایا  اور وہ روشنی فہم کو جو اپنے کلام کے زریعہ سے  ہم کو عطا کی ہے بیان کر چُکے لیکن ایک اور بات باقی ہے جس کا زکر اب کرنا چاہتے ہیں اور وہ نجات کے لیے لازم ہے۔ یعنے آدمی بزاتہ دنیا کا غلام ہے اور دنیاوی شہوتونکا لالچ اور عاداتِ طفلانہ اور حسد اور تکبرّ اُس کے دل میں موجود ہیں۔ یہی نہیں کہ اُن چیزوں کو صرف رغبت سے استعمال ہی میں لاتا ہو بلکہ اُس کے کاموں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اِن شہوتوں کے قبضہ میں ایسا آرہا  ہے جس سے چھوٹنے کا اِرادہ رکھتا اور جب تک اپنی طاقت سے چھوٹنے کا اِرادہ رکھتا ہے تب تک ہر گز چھوٹ بھی نہیں سکتا ۔ ہر ایک اِمتحان میں جس کا وہ  مغلوب ہوتا ہے یہی بات اُس کو سچ معلوم ہوتی ہے۔ اگرچہ  اپنی ناتوانی کا اِقرار کرنے میں ظاہر اً مذامت ہے لیکن بچنے کی راہ کی تلاش نہ کرنی عین حماقت ہے۔ بعضوں کو بزاتہ اور بعضوں  کو تعلیم  سے کچھ کچھ نیک عادتیں حاصل بھی ہیں مگر اندرونی بد اخلاقی تسِ پر بھی وقتا ً فوقتاً  اُن کے علم کے برخلاف غالب ہو جاتی ہے اور طبیعت  کو بالکل پراگندہ اور تلخ بناتی ہے ۔ یہہ غلامی زیادہ تر غم  افزا ور برداشت  سے باہر ہوتی ہے۔ جس قدر خدا کے اِنصاف ا  ور گناہ  کی حالت سے اِنسان واقف ہوتا ہے  اُسی قدر اُس کو اِس غلامی سے چُھڑانے پر مسیح قادر ہے۔ اِس مخلصی کے لیے بھی خدا کا یہہ حکم ہے کہ مسیح پر توکلّ  کرو اور اُسی  کی قوت پر بھروسا رکھو ۔ اگلے زمانے کے نبیوں نے بھی مسیح کی خاصیّت کو اِسی طرح بیان کیا ہے کہ وہ گناہ  سے چھڑانے پر قادر اور شیطان کی جنگ میں بہادر ہے اور اُس کے قبضہ سے پھر کوئی نہیں چُھڑا  سکتا۔ مسیح کی ظاہری پست حالی پر خیال کر کے کوئی یہہ نہ سمجھے کہ گناہ کی غلامی سے چھڑانے پر اُس کو  قوّت کم ہے کیونکہ انجیل کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے گنگے کو زبان دی ا ور بہرے کو کان اور لنگڑے کو پانوُعطا  کئے اور اندھے کو آنکھیں  اور مرُدہ کو زندگی  بخشی اور آندھی اور دریا  نے اُس کا حکم  مانا اور دریا کی موجیں اُس کے خوف سے  تھم گئیں ۔ آندھی میں اگرچہ دوذخ کی قّوت ہے اور اِنسان پر غالب ہے لیکن مسیح پر غالب نہیں اُس کی قدرت اِن سب چیزونپر فایق ہے۔ ہمارے ایمان اور توکلّ اور اُمید کی تقویت کے واسطے پاک کلام میں بارہا مزکور ہوا ہے مسیح ہم کو گناہ کی غلامی  سے آزاد کرانیوالا ہے۔ خراج  لینیو الوں کو جو گنہگار وں میں بڑے شمار ہوتے تھے  اور زنانہ فحبہ جو عورت  ِفاحشہ گنی جاتی تھیں مسیح کی قوّت نے شہوتوں سے رہائی دی ۔ غرض گنہگاروں کو گناہ سے رہائی بخشنے کی قوّت  جو مسیح میں ہے  اُسکا تزکرہ میں کہاں تک کروں سب کلام  رباّنی اِنہیں  باتونکی تواریخ ہے اور سارے مسیح لوگ اِس کلام کے گواہ ہیں دیکھواُس خونی جو مسیح  کے ساتھ مصلوب ہوا تھا مسیح نے کہا کہ تو آج  ہمارے ساتھ فردوس میں ہوگا۔ یعنے میں تجھے بہشت میں اِس امر کی علامت کر کے لیجاؤنگا کہ ہم شیطان پر غالب ہوئے۔ ایسا ہی جو لوگ کہ مسیح  پر ایمان لاتے ہیں اور دنیا ور نفس اور گناہ  پر غالب ہوتے ہیں قوت مسیح  کی علامت ہیں گویا کہ اُس نے اُن کو شیطان کے ہاتھوں سے چھڑادیا  اور جل نے  تنکے کو  آگ  سے بچا لیا ہر ایک دل  جو مسیح کی قوّت سے صاف ہوتا ہے اور ہر ایک طبع جو گناہ سے پھر کے خدا کی طرف رجوع ہوتی ہے اور ہر ایک گنہگار جو گناہ سے توبہ کر کے شیطان کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے اور مسیح کا سپاہی کہلاتا ہے مسیح کی قوّت کا نشان ہے۔ یہہ خاصیت مسیح کےبھی بیبل میں اُس کے لقب کے مطابق ہے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ فتحمنداور  دشمن پر غالب ہوگا جھوٹھہ کو کچلیگا ور راستی کو قایم کریگا۔ اگر کوئی کہے کہ مسیح کی موت ور قبر اُس کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے کیونکہ تو یہہ پاک کتابوں کی ناواقفی سے ہے کہ کیونکہ مسیح قبر میں اِسواسطے نہیں گیا کہ قبر  کا پابند ہو بلکہ فتحمند کی مانند تھا۔ اِسواسطے قبر کی بند کو اور موت کی سلطنت کو توڑ  کے اُن دونوں پر غالب آیا اور مر کے تیسرے دن جی اُٹھا  پس اُس پر توکلّ کرنا ہمیشہ کی موت سے  چھٹکاراہے  یہہ مر کے جی اُٹھنا اُس کا قوتّ الہیٰ   ہے ۔ جسنے نبیوں کے کلام کو پوراکیا اور تمام آدمیوں کی اُمید کا پہلا  سبب ہوا اور ظاہر کر دیا کہ ساری خلق مر کے پھر جی اُٹھیگی جیسے کہ لکھا  ہے کہ جاگ ا ور  گا  اے  تو جو خاک میں بستی ہے تیری  شبنم اور تیری سبزیاں قایم ہیں کہ زمین اپنے مردوں اپنے مردوں کو نکال دیویگی۔  باب ۷۶ آیت ۱۱۹  شعبا نبی کی۔ پس اِن کاموں سے مسیح کی قوّت صاف ظاہر ہے اور ہماری توکلّ کی بنیاد وہ ہم کو صرف گناہ کی سزا  ہی سے نہیں چھڑاتا بلکہ گناہ کی قوّت سے بھی چھڑاہے۔ پولوس حواری نے بھی لکھا  ہے کہ وہ صاحب نجات جو اپنے نام پر توکل رکھینوالوں کو نجات کے دشمنوں سے رہائی دیتا ہے ہمارے  میانجی منصب   میں یہہ اقتدار  رکھنا ہے اور ہمارے سارے دشمنوںپر ایسی حکومت کرنا  ہے کہ جب تک مخالفت گناہ اور شیطان اور خدا کی موقوف  نہ ہووے تب تک اِسی میانجی کے تخت  پر بیٹھیگا اور وہ خدا کے دہنے ہاتھ پر  بیٹھا تاکہ تمام قوتیں اور ساری ریاستیں نہ صرف دنیاوی جو موجود ہیں بلکہ  عقبیٰ کی بھی اُس کے قدم تلے کی جاویں اور کلیسیا کی ساری چیزوں پر مختار رہیگا ۔ اِمتحان کی تعداد اور قوّت کتنی ہے تصوّر کرواور اِنسان کی کمزوریوں اور بدعادتوں ور شیطانی فریبوں کو کتنا ہی خیال کرو سب مسیح کی قوّت  کے نیچے ہیں وہ اپنے لوگوں کو پاک کریگا اور خاص  قوم بنا کر خدا کے حضور میں  پہنچائیگا مسیح ایمانداروں کا بادشاہ ہے کہ سب روحانی ظلموں اور ناپاک  شہوتونسے  رہائی بخشتا ہے اگر کوئی شخص حلم اور پایداری سے مسیح کو قوّت پرتو کلّ کرے تو تجربہ سے معلوم کریگا کہ یہہ سدا ہی خوبیاں اُس میں ہیں اور گناہ کی بلا میں ہرگز گرفتار نہ رہیگا  مسیح پر توکلّ کرنیوالے  گناہ پر ضرور فتح پاوینگے ورنہ اُن کو خدا کے کلام میں شک ہوگا۔ جس قدر اِس باب میں کہا گیا اِسی قدر ایمان میں تقویت پیدا کرنے اور مسیح پر توکلّ کی بنیاد مضبوط کرنے کو کفایت کرتا ہے کہ وہ بچانیوالا  واسطے دانائی ور راستبازی ا ور پاکیزگی   کے کافی ہے۔ 

شریعت الہی کا بیان

The Divine Law

Published in Nur-i-Afshan September 1873
By Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

پچھلے پرچوں میں ہم زات و صفات خدا کا اور ابتری انسان کا بموجب کلام الہی  کے بیان کرچُکے اب ارادہ ہے کہ خدا کی شریعت کا تذکرہ کریں کیونکہ بغیر آنے سچےّ خیال شریعت کے آدمی انجیل کیطرف متوجہ نہیں ہو سکتا  بلکہ شریعت ہی  کی پہچان انجیل کی رہنمائی اور اسیواسطے  انکا واقف بہت ضروری ہے ۔ خدا کی شریعت میں ایک تو  ارائےشرایط سے راستباز ہو کے حصول زندگی جا ودانی اور دوسری طرف بغاوت اور نافرمانی سے موت ابدی کی پشیمانی ہے اور یہہ پہلی بات ہے جو خدا نے انسان کے سمجھنے کو عطا فرمائی  تاکہ ایسا نہ ہو کہ انجیل جو  گنہگار آدمی کو شریعت کے بچانے کا سبب ہے بالکل  سمجھ میں نہ آوے اور جو مطابقت شریعت اور انجیل میں ہے پاک کتابوں کے ہر ہر صفحہ میں مذکورہے لیکن انسان بباعث اپنی سخت دلی  کے یہہ سمجھتے رہے کہ وہ شریعت صرف یہودیوں کے لیے تھی بلکہ بعضے مسیحی لوگ  بھی ایسا سمجھتے ہیں۔ اِس کج فہمی کوزایل کرنے کے لیے ہم کہتے ہیں  کہ وہ اخلاقی  شریعت  روحانی ہے جس کی اطاعت کے فواید ہر فرقے اور ہر عہد کے لوگ  یکساں اُٹھا سکتے ہوں اور اُسکی نافرمانیکے نقصان بھی ہر ایک جگہ میں مشہور ہوں ۔ اور شرایع جو دنیا کے مختلف مذاہب میں مروج ہیں اور اُنکے بانی انسان ہیں  اسی بات میں قاصر ہیں کہ وے ہر ایک شخص کی حاجت  برارنہیں ہیں اور نہ اندرونی خطا اور دلی نیت تک پہنچتے  ہیں  وے صرف اُن ظاہری کاموں  کو منع  Ten Commandments on Stone Tablet بتلاتے ہیں جن میں عام لوگوں کا نقصان ہو یا  جماعت میں تفرقہ پیدا کرتے ہوں لیکن خدا کی شریعت میں برعکس اُسکےاُنکے گناہوں کی سزا بھی جو صرف  دل ہی میں ہوتے ہیں اور ابھی ظہور میں نہیں آئے ہوتے معتین ہے۔ اگر کوئی کہے کہ شریعت  عقلی کا بھی ویسا ہی بندوبست ہے جیسا کہ روحانی شریعت کا اُسکے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں نہیں  کیونکہ عقلی شریعت کے بانی بہت باتیں موافق اُن دستورات اور تعلیمات کے مقرر کرتے ہیں جنسے وے واقف ہوتے ہیں۔ جب کہ وہ دستور و تعلیم  اصل میں بگڑ ے ہوئے انسان کےہی ہیں  تو ہرگز  کامل مقصود نہیں ہو سکتے بلکہ اکثر اوقات نقصان پذیر ہوتے ہیں خدا  کی شریعت  میں ایسی مشکلات ہرگز نہیں پائی جاتیں اور جو قانون قوموں  میں واسطے امن اور خوبی سلطنت کے مقرر ہوئے ہیں اکثر سخت اور خاص لوگوں کے لیے تکلیف رساں  ہوتے ہیں کیونکہ  وہ اور طرح کی بناہی نہیں سکتے۔ اِسواسّطے  جس میں قلت نقصان کی دیکھتے ہیں اُسی کو عمدہ سمجھکے مان لیتے ہیں۔ پر خدا کی شریعت ہر زماں و ہر مکان میں  عوام اور خواص کے لیے مفید ہے جس طرح لوگ اُسکو مانتے ہیں اُسی طرح خوشی حاصل ہوتی ہے۔  کوئی آدمی یہہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس کے ماننے سے ہمارا کچھ ہرج ہوا نہ دولتمند نہ غریب جہانتک لوگ اپنا فایٔدہ ڈھونڈھتے ہیں اُسکا نقصان ہر گز نہیں پاوینگے ۔ اگلے زمانہ کے حکیموں نے انسان کے چال سنوار نے کے لیے چند قواعد مقرر کئے تھے چنانچہ اِس زمانے میں بھی اکثر مذاہب کی کتابوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتے ہیں  لیکن کلّیہ اُن سبکا ایک طور پر ہے یعنے اُنہوں نے شہوتوں کےمارنے کے واسطے جسمانی  زہدّ مقرر کئے ہیں اور شجاعت کی تقویت کے واسطے گوناگوں  اُتقام اور تکبّر کو  پشتی دی ہے  پر خدا کے کلام میں ایسی باتیں نہیں پائی جاتی ہیں بلکہ ہر ایک قسم کے گناہ کی جڑ پر اُسکا  تبر ہے اگر کسی بدی کا انجام  نیکی بھی ہو تو اُسکو نیکی نہیں کہا ہے۔ ایک قسِم کا قانون جو خدا کے کلام  میں مندرج ہے یہودیوں کی رسوم کا قانون ہے۔ ایسی شریعتوں کو جب روحانی شریعت کے ساتھ مقابلہ کریں تو کئی درجے کم پائی جاوینگی اور سبب اسکا معقول ہے کیونکہ وہ رسمی شریعت خاص اُسی قوم اور اُسی زمانہ اور اُسی ملک کےلیے ہوتی ہے۔ پر روحانی شریعت رسم  اور ملک اور زمانے سے متعلق نہیں  ہوتی بلکہ اُسکی نسبت خدا کے ساتھ ہوتی ہے  جو سبکا خالق ہے  اور اُسکا قیام بھی مثل قیام  خداوند علی الدوام سوائے اُسکے وہ رسمی شریعت یسوع مسیح کے آنے پر دلالت کرتی تھی جیسے کسی شے کا سایہ ہوتا ہے  ویسے ہی وہ شریعت  یسوع مسیح کے آنے کا سایہ تھی جب کہ اُس سورج نے  طلوع کیا تو  سایہ معدوم ہو گیا۔

جب دس حکموں  کا خلاصہ جو پّتھر  کی دو تختیوں پر کھودے  ہوئے موسیٰ کہ معرفت بنی اسرائیل کو خدا نے عنایت  کئےتھے معلوم ہووے تب روحانی شریعت کا حال اچھی طرح  معلوم ہو سکتا ہے اُنکے حدود اور روحانی مطالب بہت ہی بیشمار ہیں کچھ اُنہیں  دس  باتونپر انحصار نہیں  بلکہ تمام توریت اور ساری انجیل میں انہیں کی تشریح ہے۔ چنانچہ پہلے حکم میں خدا یہہ چاہتا ہے کہ انسان کے دل میں  بدون شریک کے ایسی حکمرانی  کرئے جس سے جسمانی خوشی عزت دولت آرام  اُسکی نظر میں خوار  معلوم ہوویں دؔوسرے حکم میں خدا ہم پر اِس فرض کو واجب کرتا ہے کہ اُس کے اوصاف  سوائے اُس طرح  کی جو اُسنے  اپنی زبان مبارک سے اپنے  کلام میں فرمائے  دوسری طرح  تصور نہ کریں نہ اُسمیں ایک لفظ بڑھا ویں  اور نہ گھٹا ویں اور اُسکی عبادت بھی جس طرح اُسنے  مقرر کی ہے اُسی کریں اپنی طبیعت سے کوئی تعریف یا ایسی دعائیں جنمیں بت پرستی کی پائی جاوے نکریں۔  تیؔسرے حکم میں چاہتا ہے کہ ہم  اُسکے جلال کو اپنے دل میں جگہ دیکر کلام اور چال اور خیال میں ایسے رہیں  جسمیں غفلت اور بے عّزتی  اُسکے نام لینے میں نہ پائی جاوے۔  چھوؔتھے حکم میں فرمان ہے کہ ایک دن دنیاوی خیالات اور دنیا کے کا موں کو چھوڑ کے روحانی مقدمات کی طرف متوجہ ہوویں۔  پانچؔویں  بغور شناخت فرایض اپنے والدین کی ایسی تعظیم کریں جو اُنکی اُس محنت کو جو ہماری پرورش میں پائی ہو اور اُس فایدہ کو جو اُنکی تکلیف سے ہم نے اُٹھایا ہو لایق ہووے اور خدا کےحکم سے ہم اپنے آپکو اُنکا قرضدار سمجھیں۔ اِسی حکم میں یہہ بھی آگیا کہ بادشاہ اور حاکم اور خادم ِ دین اور آقا کی بلکہ ہر ایک بوڑھے اور بزرگ  کی جو ہمکو جائے ادب ہے تعظیم میں ہر گز غفلت  نہ کریں۔ چھٹےؔ حکم میں صرف ہمارے ہاتھوں کو قتل سے خون آلودہ کرنے کی ممانعت نہیں بلکہ ہر ایک قسم کی غفلت اور شک اور حسد اور کینہ کی دل سے بیخ کنی کرنیکا فرمان ہے کیونکہ اُنہیں گناہوں کی نوبت خون تک پہنچتی ہے۔ ساتوؔں حکم میں چاہتا ہے کہ ناپاک شہوتونے جو دل کو آلودہ کرتی ہیں باز رہیں اور ہر ایک صورت  کے حسن شہوت کی نظر کو جسے صرف خدا  ہی دیکھ سکتا ہے محفوظ رکھیں۔آٹھوؔاں  حکم لالچ اور طبع دنیاوی کو جس سے ہمارے دل اپنے پڑوسیوں  کے حق پر دست اندازی کرنی چاہتے ہیں  منع فرماتا ہے اور ہر ایک قسم کی حق تلّفی اور ٹھگیٔ اور بے انصافی سے جو اِسی حکم میں ممنوع ہو چکیں باز رہیں۔ نویں کا یہہ مضمون ہے کہ راستی کا خیال  ہمارے دلوں  میں اسقدر جڑ پکڑ ے کہ اپنے کلام میں کسیکےنقصان کی نیت سے ہر گز جھوٹ کو  استعمال نہ کریں  اور آخری حکم لالچ سے باز رکھتا ہوتا کہ صبر کو ہر ایک مقدمہ میں استعمال کریں۔

اِس مختصر بیان احکام سے جو بیبل میں مندرج ہیں سارے  فرایٔض جنکا ماننا  اور جن سے بھاگنا انسان کو واجب ہے معلوم ہوتے ہیں ۔ یہہ حکم دو تختیوں پر  اسواسطے لکھے گئے کہ ایک پروے فرایض جو منسوب بخدا تھے  ثبت ہوئے۔ اور دوسرے پر وے جو اپنے ہمسایوں کی نسبت مرعی ہوں۔ مسیح نے اِن دو تختوں کا خلاصہ دو حکموں میں حصر کیا ہے۔ اوّل  تختے کا اِس میں کہ تو اپنے خداوند کو اپنے سارے دل اور ساری روح  اور ساری قوت سے پیار کریعنےجب انسان نے سارے دل  یعنے عقل و  خیال وغیرہ سے  اور ساری روح  یعنے روحانی اخلاق  مثل محبت و خوف وغیرہ سے ایک شے کو پیار کیا  تو کوئی جگہ اُس کے دل میں ایسی نہ رہی جس میں غیر کی سمانی ہو۔ اور ساری قوت سے یہہ مراد کہ جسقدرجسمانی  اشیا ہم میں  ہیں اُسی کی خدمت میں مصروف  رہیں غرض جسقدر آلات انسانی ہیں  خواہ جسمانی خواہ روحانی  سب خدمت  ربانّی میں مصروف ہوں ۔ دوسرے تختے کا خلاصہ  جو پڑوسیوں کے حق میں تھااسطرح پر کیا کہ اپنے پڑوسیوں کو  ایسا پیار جیسا اپنے آپ کو  یعنے جیسا تو چاہتا  ہے کہ لوگ تجھ سے سلوک کریں  تو بھی اُنسے ویسا کر۔  جن  معاملات  سے تیرا دل نفرت کرتا ہے اور نہیں چاہتا ہے کہ تیرے ساتھ کوئی کرئے تو بھی ہرگز  اُنکے ساتھ کر کے اُنکو نہ ستا ۔ اور جن معاملات کو تو چاہتا ہے کہ لوگ تیرے ساتھ لوگ کریں اُنھیں کو اُنکے ساتھ کر کے  اُنکو خوش کر۔  اِن باتوں سے معلوم ہوتا  ہے کہ یہہ سب شریعت لایق  اُس خدا کے ہےجس کی شان تمام عالم میں  مشہور ہے۔ جہا کہیں کسی نے اِن احکام کو پایا  اور  مانا بہت  عمدہ  نتیجہ ظاہر ہوا  جس حالت میں  آدم بےگناہ اور اپنے خالق  کےساتھ متکلم اُس حالت میں  پتّھر کے تختوں  پر احکام کھود کے دینے کی کچھ حاجت نہیں تھی۔ لیکن جب انسان گنہگار ہو گیا اور اُسکی طبیعت نے گناہ کی طرف رغبت کی اور کو ئی شعشہ اُس راستبازی کا جو آدم کو ابتدامیں حاصل تھی باقی نہ رہا تب ضرورت ہوئی۔ آدم اگر چاہے بھی کہ سو چکے اپنے فرایض  کو زہنی علموں سے معلوم کرے تو ہر گز نہیں کر سکتا کیونکہ اُسکی عقل اور ادراک میں ایسا فتور واقع ہوا ہے کہ بھلے برے کی پہچان جو خدا کی شریعت کے پرتو سے  اب ہمکو معلوم  ہے پچھلے قوموں کے کاروبار سے معلوم ہوتا ہے کہ اُنکو ہرگز نہیں تھی۔ واسطے جبر اِس نقصان کے خدا تعالیٰ نے کوہ سینا میں وے تختے موسیٰ کو دیئے اب حاجت نہیں کہ آدمی اپنے فرایض کو معلوم کرنے واسطے عقل کو دخل دیوے کیو نکہ خدا کے احکام  صاف اور ظاہر ہیں۔  اگرچہ وہ تھوڑے ہیں پر سب قوموں پر اُنکا  انتشار ہے ۔ دوسرا فایدہ اِس شریعت کا  یہہ ہے کہ اُن آدمیوں کو جنکو  ترغیب دے کے گناہ سے باز لا سکتی ڈراتی ہے۔ کلام مقدس فرماتا ہے کہ غضب الہیٰ کی گھٹا  اُن سب پر جو اِس شریعت کے نافرمان  ہیں جھوم رہی ہے بلکہ نا فرمان شخص کی پشتہاپشت  سے خدا نفرت رکھتا ہے اور جب اُسکو استعمال میں لاویں تو ہزار در ہزار پشت تک رحم بھی  دکھلا سکتا ہے۔ سوائے اِسکے اِنسان کو  گنہگا قایل کرنیکے واسطے یہی شریعت  کافی ہے۔ آدمی بغیر شریعت  کے غافل اور عاقبت  کے خوف سے بالکل بے پرواہ  رہتا ہے۔ جب شریعت کی آواز اُسکے کانوں میں پہنچتی ہے تو اُسکو اُسکے گناہوں کا قایل کرتی ہے بلکہ شریعت کی روحانی سمجھ  آنے پر  آدمی اپنے آپ کو گنہگار جان کے شریعت کی واجبی  سزا کا مستحق سمجھتا ہے گناہ  میں مردہ جان کے زندگی  کی راہ  ڈھونڈھتا ہے۔ اسی مقدمہ  میں پولوس  حواری کا کلام  جو اُسکے خطوط میں مندرج  ہے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہےکہ اِنسان بدون شریعت  کے اپنے آپ کو جیتا جانتا ہے  پر جب شریعت کی پہچان اور خلاصہ اُسکو  معلوم  ہوتا ہے ہے تو اپنےآپ کو مردہ اور خدا  کے غضب میں مبتلا  دوذخ  کے لایق سمجھتا  ہے۔

پس اِن باتوں  سے وہی کلام  جو ہم نے آگے کہا  ہے کہ شریعت  حقیقت  میں انجیل کی رہنماہی  ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ جس وقت ہم اپنے آپ کو خدا کے فضل سے محروم  پاتے ہیں اور یہہ بھی معلوم کر لیتے ہیں  کہ اپنی جانشانی  سے وہ  راستبازی جو شریعت  کے ماننے سے حاصل ہوتی ہے ہمکو ہر گز میسر نہیں تاکہ خدا کے حضور میں راستباز  شمار ہو کر مقبول ہوویں  تو خواہ مخواہ دل میں یہہ التجا پیدا ہوتی ہے کہ خدا کی رحمت جو مسیح  کے وسیلے سے  ظہور میں آئی  ہے  بوسیلہ ایمان کے حاصل کر یں تاکہ غضب سے بچ جاویں۔ غرض شریعت  کی پہچان  ہمکو گناہ کی غفلت  سے جگاتی ہے اور شّکی امن کی  خواب سے بیدار کرتی ہےاور اُسکا خوف ہمارے کانوں کو اُس دعوت  کی سماعت  کے لیے جو مسیح کی  معرفت ملاپ کے لیے  مقرر ہے کھولتا ہے  اور ہمارے دلوں کو  نو اُمیدی سے بچا کر  امید بلند  عطا کر کے اُس بچانیوالی  کی طرف جو شریعت کی لعنت سے بچا سکتا ہے متوجہ کرتا ہے ۔ یہہ بھی کام شریعت کا ہے کہ ہماری ناپاکی اپنی پاکی  کے زریعہ ہمکو معلوم کراتی ہے ۔ اسی سبب سے ہمارے  دلونمیں وہ لڑائیاں  جنکا زکر پولوس  نے رومیوں کے خط  کے ساتویں باب  کے آٹھوریں  آیت سے آخر باب  تک تزکرہ  کیا  ہے اثر کرتی ہیں جسمیں اُسے شوق الہیٰ اور ارتکابِ  گناہ کا مجادلہ باہم بیان کیا ہے۔ اور وہ یہہ ہے کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ مُجھ میں یعنی میرے جِسم میں کوئی نیکی بسی ہُوئی نہیں البتّہ اِرادہ تو مُجھ میں مَوجُود ہے مگر نیک کام مُجھ سے بن نہیں پڑتے۔ چُنانچہ جِس نیکی کا اِرادہ کرتا ہُوں وہ تو نہیں کرتا مگر جِس بدی کا اِرادہ نہیں کرتا اُسے کر لیتا ہُوں۔ پس اگر مَیں وہ کرتا ہُوں جِس کا اِرادہ نہیں کرتا تو اُس کا کرنے والا مَیں نہ رہا بلکہ گُناہ ہے جو مُجھ میں بسا ہُؤا ہے۔ غرض میں اَیسی شرِیعت پاتا ہُوں کہ جب نیکی کا اِرادہ کرتا ہُوں تو بدی میرے پاس آ مَوجُود ہوتی ہے۔  کیونکہ باطِنی اِنسانِیّت کی رُو سے تو مَیں خُدا کی شرِیعت کو بُہت پسند کرتا ہُوں۔ مگر مُجھے اپنے اعضا میں ایک اَور طرح کی شرِیعت نظر آتی ہے جو میری عقل کی شرِیعت سے لڑ کر مُجھے اُس گُناہ کی شرِیعت کی قَید میں لے آتی ہے جو میرے اعضا میں مَوجُود ہے۔ ہائے مَیں کَیسا کمبخت آدمی ہُوں! اِس مَوت کے بدن سے مُجھے کَون چُھڑائے گا۔ اپنے خُداوند یِسُو ع مسِیح کے وسِیلہ سے خُدا کا شُکر کرتا ہُوں ۔ غرض مَیں خُود اپنی عقل سے تو خُدا کی شرِیعت کا مگر جِسم سے گُناہ کی شرِیعت کا محکُوم ہُوں۔  فقط  غرض کے انسان کے دل میں دو طبیعت ہوتی ہیں ایک شوق الہیٰ کی  دوسری پرورش نفس کی شریعت کی پہچان میں نفس کی  پرورش  سے تو ہنستا ہے۔ لیکن تس پر بھی  فرایض شوق الہیٰ کو  ادا نہیں کر سکتا  کیونکہ طبیعت  ابتر ہوتی ہے  باہم اِن دونوں طبیعتوں کے ایماندارونکے کے دل میں جنگ رہتا ہے اور اِس جنگ کی آغاز شریعت کی شناخت ہے جس قدر آدمی اپنے آپ کو  کمزور پاتا ہے اُسقدر خدا  کا فضل  اور خداوند مسیح کی راستبازی  کا محتاج سمجھتا ہے۔ پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت  کچھقہر کے لیے  خدا نے نہیں ظاہر کی  بلکہ رحم کا شروع ہوتا کہ  شریعت کے زریعہ سے جگا کے فضل کا امیدوار  کرے۔کوہ سینا کی بجلی اور رعد کی آواز سےیہہ مطلب  نہ تھا کہ صرف  ہم کو ڈراوے اور نومید کرے بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں یہہ ارادہ تھا کہ ہم کو  کوہ  زاین یعنے صیہوں کی رہبری کرے جہاں سارے جہان کی خوشی ہے اور جو شہر الہیٰ کہلاتا اور جہاں رحمت ِ خدا جلوہ گر ہے اور فضل کی خوبیوں سے معمور ہے اُس سے خوش ہونا  ہم پر واجب ہے بے مسایل انسانی نہیں ہیں بلکہ وے سچی باتیں ہیں جو خدا کے پاک کلام سے ظاہر ہوتی ہیں موافق آیت ۱  تا  ۴ باب ۸ خط رومیوں  کے ۔  پس اب جو مسِیح یِسُو ع میں ہیں اُن پر سزا کا حُکم نہیں۔ کیونکہ زِندگی کے رُوح کی شرِیعت نے مسِیح یِسُو ع میں مُجھے گُناہ اور مَوت کی شرِیعت سے آزاد کر دِیا۔ اِس لِئے کہ جو کام شرِیعت جِسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کر سکی وہ خُدا نے کِیا یعنی اُس نے اپنے بیٹے کو گُناہ آلُودہ جِسم کی صُورت میں اور گُناہ کی قُربانی کے لِئے بھیج کر جِسم میں گُناہ کی سزا کا حُکم دِیا۔ تاکہ شرِیعت کا تقاضا ہم میں پُورا ہو جو جِسم کے مُطابِق نہیں بلکہ رُوح کے مُطابِق چلتے ہیں۔فقط  اِن آیات میں جسم سے یہہ جسم مراد نہیں جو ہلاک ہوتا ہے  بلکہ گناہ کی طبیعت سے مراد ہے۔ اب میں نے تمھار ے سامنھے یہہ دونوں چیزیں بیان کر دیں  یعنے مطلب شریعت کا صرف انجیل کی طرف رغبت ہے اگر آدمی غرور سے پر نہو تو  ادائے احکاِم  شریعت سے اپنے آپ کو  لاچار جان کے مسیح کی فرمانبرداری اپنی راستبازی کی جگہ قبول  کر کے نجات  کا امیدوار  ہو کے تسلی پا کے بڑائی خدا کی بخوبی  کر سکتا ہے اسمیں پاکیزگی شریعت کی بھی بڑھتی ہے اور خداوند یسوع مسیح کی راستی  خدا کی محبت سے پر معلوم ہوتی ہے  بلکہ سارے مسائیل پر بھی  مسئلہ جو نیا عہد  کہلاتا ہے  فایق  ہے۔ 

بعضے کہتے ہیں  کہ اکثر شریعت کا ماننا  بسبب کم زوری انسان محال سمجھا  جاوے اور خداوند مسیح کی راستبازی نجات کے لیے کافی مصّور ہو  تو  اِس میں گناہوں  اور خرابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں  اور ایسا  سمجھا جاتا ہے کہ یہہ خدا کا فضل ضرور انسان  کو گناہ کی ترغیب دیتا ہے بلکہ خراب  آدمیوں نے اِسی طرح  سمجھا  ہے اور عمل میں لاتے ہیں۔ اُس کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا  کی نظر  میں راستبازی ٹہرنا  اپنی راستبازی  سے محال ہے لیکن یسوع مسیح کے وسیلے سے ۔ راستباز ٹہر کے محبت کےرو سے ساری شریعت کی فرمانبرداری  فرض ہے ۔ اور کونسا مسئلہ پاک بیبل میں مندرج ہے جسکو انسان کے خراب دل نے نہیں  بگاڑا ۔ کیا تم انسان کے بگاڑنے  کے سبب ایسے ایک سچےّ مسئلہ سے انکار کروگے  جس سے ہزاروں نے تسلی پا کر ایمانداری  اور  فرمانبرداری  میں زندگی بسر کر کے ایک نمونہ  چھوڑا  ہے اگر اِس  مسئلہ کا  انکار  کرو تو  اُسکی جگہ اور کسکو تصور کر سکتے ہو انسان کی ناتوانی تو ظاہر ہے اور شریعت کے رو سے راستبازی ہونا  غیر ممکن ۔ اگر ایمان اور فضل سے نجات نہ ہو تو پھر نجات کاکوئی ٹھکانا نہیں ۔ چاہے کہ ایماندار لوگ خدا  کی مدد  پا کر اپنی چال سے شریعت کو ایسی توقیر  دیویں کہ منکروں کا مُنہ بند ہو جاوے ۔ فضل اور ایمان  پر نجات مقرر ہونے سے شریعت باطل نہیں ٹھہرتی بلکہ فضل کی حمد اور رحم کا  شکر زیادہ ہوتا ہے۔ اِس باب میں بھی پولوس رسول کا کلام  بجا ہے آیت ۱  تا  ۱۴ باب۶  خط رومیوں کے ۔  (نیٹ سے لیں)  پہلے ہم شریعت کی علت غائی بیان کر چکے جس سے معلوم ہوا کہ آدمی اُن احکام کو جن کی مشابعت واجبی ہے بے تامل دل سے قبول  کرے ورنہ ہمیشہ کی سزا کے لایق ٹھہر یگا واسطے اپنے بچاؤ کے یسوع مسیح کی راستبازی پر بھروسا کرے جہاں کہیں لوگ شریعت کی پاکیزگی کا خیال کم کرتے ہیں اور اُسکی علت غائی  سے ناواقف ہیں وہاں انواع انواع کی غلطئیں اور اقسام اقسام کی بدعتیں واقع  ہوتی  ہیں جنکا بیان کرنا اِسوقت  لازم ہے۔ شریعت کی ناواقفی سے تم اپنی اصل حالت سے بالکل  ناواقف رہو گے کیونکہ تم اپنے دل میں ضرور خیال کروگے  کہ تم خدا کی نظر میں نیک ہو اور اُسکی مہربانی کے لایق۔ اگر کبھی کسی امر میں اپنےآپ کو قاصر بھی پاؤ گے تو پچھلی نیکوکاریوں پر نگاہ کر کے اپنے تئیں واجب الرحم تصور کروگے اور یہہ نہیں سمجھوگے کہ بغیر  کامل فرمانبرداری کے ہر گز کوئی شخص راستباز نہیں گنا جا سکتا اور گناہ آلودہ  اطاعت قہر کے لایق ہوتی ہے  خصوصاً اگر تم  اوایل  عمر سے دینداری کا لباس  رکھتے  آئے ہو گے تو ضرور ہی اپنے دل میں خیال کروگے کہ تم  ویسی توبہ کرنے کی حاجت نہیں رکھتے جیسے اور لوگ جو برملا گناہ میں مبتلا ہیں بلکہ اپنے آپ کو اور گنہگار دنسے یہاں تک اچھا خیال  کروگےکہ اگر کوئی گنہگار بہشت کت لایق نکلا تو تم ضرور ہی داخل  جنتّ ہوگے۔ اِس حالت میں اگر کوئی تمکو توبہ کرنے یا نجات کے لیے یسوع مسیح پر  بھروسا رکھنے کی ترغیب دیوے تو تم اُسکی نمایش  کو ہر گز قبول نہیں کروگے  کیونکہ تم نے اپنے دل میں اپنے آپ کو راستباز تصور کر رکھا  ہوگا اور اُسی نیکی کے لباس کو جس کے وسیلے سے تم نے دنیا میں عزت پائی اور لوگوں نے تم کو دیندار سمجھا اپنی نجات کے واسطے کافی سمجھو گے حلم اور ندامت  کو جو گناہ کی یاد سے  اِنسان کے دل میں پیدا  ہوتی ہے  ہر گز اپنے دل میں جگہ نہ دو گے جیسے فر یسی اور کاتب اپنی نظروں میں  اپنے آپ کو راستباز سمجھتے تھے  تم بھی ویسا  ہی سمجھو گے اور رحم کی تمنّا کر کے دعا میں  ہر گز نہ رؤوگے اور خدا کے غضب سے کسی قسم کا خوف تمھارے دل میں کبھی پیدا نہوگا اور توبہ اور فضل کی حاجت  نہ رکھو گے۔ جب تک تم شریعت کی پاکیزگی اور روحانی مطالب سے بخیر  رہوگے تب تک یہہ سب غارت  کرنے والی  حالتیں تمھارے دل میں موجود  رہینگی خطا کے مبارک اقرار کی آواز کو  جواں ِ دنوں یحیی اصطباغی کی طرح گنہگار وں کو مسیح کی طرف رہنمائی  کرتی ہے اپنے کانوں میں جگہ نہ دو گے اور نجات کی دعوت تمھارے مزاق  میں ویسی شیریں معلوم نہ  ہوگی  جیسے کہ کھوے ہوئے بندوں کے دلوں  کو لزت بخشی ہے۔

شریعت کی ناواقفی ستابعت کی بنیاد  میں نا معقول خیالات پیدا کرتی  ہے۔ وہ خدا جس نے انسان کو پیدا کیا  اپنی مشابعت  کا حق رکھتا ہے  بندہ کو بندگی واجب ہے اور بندہ کے یہی معنی ہیں کہ مانند  بندونکے متابعت کرے  یہہ حق  خدا  نے اپنے کلام  میں صاف ظاہر کر دیا ہے اور تابعیں کے لیے ہمیشہ کی زندگی کا وعدہ کیا ہے اور نافرمانوں کو زلت کا مستحق ۔ لیکن جہاں پر شریعت کی پاکیزگی کے خیالات معدوم ہیں وہاں پر ستابعت بھی معلوم بلکہ جو متابعت آدمی بغیر حکم  کے ادا کی چاہتے ہیں وہ  خدا  کے حضور میں گستاخی سے خالی نہیں اور متابعت خدا کی پاک شریعت کے  برخلاف  ہے وہ خدا کی نظر میں مکروہ ہے۔ جیسے بعضے لوگ  سخاوت کی برکت کا لحاظ کر کے بہت سا مال غریبوں کو اِس نظر سے دیتے  ہیں  کہ اُنکے گناہوں کا کفارہ ہووے اور بعضے لوگ اپنے وعدے اور لین دین کی کہرائی پر فخر کر کے یہہ کہتے ہیں کہ  سچاّ خدا  سچائی ہی چاہتا ہے۔ اور اِسی قسم کی راستی میں نجات تصور کرتے ہیں۔ اور ایک قسم کے گنہگار اپنی بے انصافی اور بے دیانتی اور کینہ پروری کے کفارہ کے لیے نماز اور روزے اور دعا میں مشغول ہو کے گناہوں کو چھپانا چاہتے ہیں پر ایسی ایسی نفرت انگیز نیکو کاریوں پر خدا بہلایا نہیں جا سکتا جس کام میں نیت گناہ کی ہو وہ نیک نہیں گنا جا سکتا ایسا نیک کام صرف  ہمارت تکبر پنہانی پر پردہ ڈالتا ہے  یہہ سب خیال  خدا کی شریعت ناواقفی سے پیدا ہوتے ہیں شریعت کی علت غائی یہی ہے جو ہمنے بیان کی کہ آدمی اپنی ناتوانی کا قایل ہووے اورفضل کا امیدوار رہے۔ لیکن جب آدمی بخیال بجا آوری احکام کے گناہ کرے تو وہ خیالی نیکی انسان کو حقیقی نیکی بتانے کے لیے مفید نہیں اِسی نادانی سے  ایک یہہ خرابی بھی نکلی ہے کہ بہت آدمی مسیح کی راستبازی کو صرف جبر نقصان اپنی نیکوکاری کا سمجھتے ہیں اور جب تک کہ وہ اپنے آپ کو ایسے ایسے گناہوں میں مبتلا دیکھیں جس سے گرفتاری اُنکی یاہتک  عزت  یا گھبراہٹ دل کی پیدا ہو تب تک مسیح کی حاجت نہیں جانتے مسیح کی راستبازی کو صرف لگن شمع نیکوکاری اپنی کا جانتے ہیں۔ اور کوئی غلطی اور بدعت اِس سے بدتر دنیا میں پیدا نہیں ہوئی کہ باوجودیکہ اپنے آپ کو گنہگار اور معافی کے لایق ضرور  سمجھتے ہیں پس پھر بھی اپنی نیکی کی تو قیر پر گز  فراموش نہیں کرتے اور خدا کی التفات نسبت اپنے واجب سمجھتے ہیں۔  غرض کہ اپنی اور مسیح کی نیکی کو شامیل کر کے ایک کامل نیکی پیدا کرنی چاہتے ہیں سو یہہ خیال محض باطل ہے۔جب کہ تمھاری دریافت نے خود تم کو مّتہبم کیا  اور خدا کی شریعت نے تم پر لعنت بھیجی پھر اپنی نیکی کی بصناعت خدا کے ساتھ ملاپ کرنے کے لیے کافی سمجھتی عین حماقت ہو۔ جب گناہ تمھارے  اسقدر ہیں  جس سے تم واقف بھی نہیں تو کس طرح  عضو کے خیال سے تسّلی پاتے ہو یقیناً معافی مانگنی اُس شخص کے لیے واجب ہے جو اپنے آپ کو کھویا ہوا اور لاچار سمجھکر رحمت کے قدم  پر گر کے مفت مغفرت  مانگتا ہو ۔ لیکن مسیح کا شریک ہو کر اپنی متابعت  کا جھنڈا بلند کر کے اور راستباز یکا  سر آسمان تک پہنچا کے  مکر سے معافی مانگنی حماقت اور گناہ عظیم ہے  اِس میں خدا کی کمال بے عزتی پائی جاتی ہے اور مسیح کی نسبت بے ادبی ۔  اِسمیں خدا کی کمال بے عزتی  پائی جاتی  ہے اور مسیح کی نسبت  بے ادبی۔  اُسکی بے گناہ زندگی اور بےبہا موت اور زریعت کا منصب تم اور کسی کام  میں نہیں لاتے صرف اتنا سمجھتے ہو کہ اپنے گناہ اور خرابیوں کے گھاٹے  میں اُسکو ملا کے پورا کریں اور سر کش گنہگاروں کی نجات اور اُنکا خدا  کے حضور میں دخل اور ہمیشہ کی زندگی کا آرام صرف اپنے ہی ہاتھ کے  کامونسے چاہتے ہو پس  اس  سےزیادہ  اور کیا بے عزتی ہو سکتی ہے۔ کیا تم نجات اور بخشش کی عزّت میں مسیح کے ساتھ شمول چاہتے ہو اور خدا کی رحمت  اپنی نیکوکاری کے عوض مول لینی چاہتے ہو اِس میں پاک کلام کا انکار بھی پایا جاتا ہے جس میں صاف بیان کیا گیا ہے کہ نجات کے مقدمہ میں اول سے لیکر  آخر تک جلال خدا ہی کو ہے جس کا فضل  یسوع مسیح کے وسیلے سے گنہگاروں کو بخشتا ہے ۔ اگر یہہ مسایل  ایک  یا دو  چار جگہ میں مرقوم ہوتے تو میں اُنکا زکر اِس جگہ میں کرتا لیکن ساری بیبل میں اُنہیں مسایل کا بیان ہے کہ انسان میں کچھ نیکی نہیں اور نجات بالکل فضل سے ہے ۔ ایسا ہی سمجھنا اور ایسا ہی جینا مسیحی لوگوں کے لیے متابعت ہے اور یہی اُنکی زندگی اور اُسی کا نام شریعت کی سمجھ ہو جس کے آنے سے آدمی اپنے آپکو گناہ کے سبب مردہ جانتے ہیں اور یسوع مسیح کے وسیلے سے نئی زندگی کے امیدوار  ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو کچھ جاننااور اپنے نیک کاموں کو راستباز ی سمجھنا دینداروں کے لیے گناہ  عظیم ہے اور اُسکی جڑ تکبّرہے۔ سو انسان کے دل میں اور اخلاقی خاصتیوں سے تکبّر ہی زور آور ہے اور ایسا روپوش رہتا ہے کہ  اکثر  آدمی ڈھوندھ کے بھی نہیں پا سکتے اور پہچان اُسکی اُس سے ہو سکتی ہے کہ اپنی  بڑائی کا  لالچ کسی نہ کسی صورت سے ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔ صرف حسن صورت اور کثرت مال  اور تحصیل علم اور شرافت نسب پر ہی نہیں بلکہ روحانی حاصلات پربھی  تکبر ہو سکتا ہے۔ اسیواسطے کیا یہودیوں اور کیا غیر قوموں میں اکثر ایسی جماعتیں ہوتی رہیں کہ اپنی دینداری اور تقویٰ کے تعصب میں اوروں کو حقیر جانکر  یوں کہتی رہیں کہ تم  ہمارے لایق نہیں ہو  ہمکو مت چھو ؤ ہم پاک ہیں مسیح  نے فریسیوں اور صدوقیوں کے ساتھ اِسی مقدمہ میں کیا کیا مباحثے کئے کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو  اوروں سے نیک سمجھتے تھے حتی  کہ اوروں کو لایق مغفرت کے بھی نہیں جانتے تھے ۔  اِس روحانی تکبّرکا  تنقیہ نہ ہونا شریعت  کی نادانی سے ہے اور تنقیہ تب ہی ہوتا ہے جب روح القدس آکے اُسپر اثر کرتی ہے  جو اپنے آپ کو دینداری میں بزرگ اور بڑا جانتے ہیں  اگر اُنکو کوئی کہے کہ یہہ سب اِسقداد اُنکی خدا کی بخشش  ہو تو فریسیوں کی طر ح  مان لیوینگے پس پر بھی اس تصور سے باز نہ آوینگے کہ ہم ہی اِس بخشش کے لایق ہیں اگر بتلایا جاوے کہ اُنکی دینداری کا لباس بہت عیبونکی چرک  سے  بھی آلودہ ہے اور اِسواسطے وے اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کے لایق نہیں تو سارے نقصان اِنسانی ناتوانی کے زمہ ڈالینگے اور غرور سے یہہ خیال  کرینگے کہ شکر ہم پر بھی اوروں سے اچھے ہیں۔ پس ایسے شخص جو اپنی دینداری پر فخر کرتے ہیں  اور بڑے بڑے خیال اپنی نیکوکاری کے دلمیں رکھتے ہیں  شریعت  کے قہر  میں پڑے ہیں اور خدا  کا غضب  اُنپر جھوم رہا ہے اور اُنکی جڑ پر غارت کی کلہاڑی رکھی گئی  ہے اگر اِن خیالات کو اپنے دل سے دور نہ کریں تو ہلاک ہووینکے۔ سواے رحمت اور راستبازی مسیح کے  خدا کی نظر میں راستباز ٹھرنے کی کوئی اور وجہ نہیں اور اپنی تعریف کی کوئی جگہ نہیں اگرچہ ایک گنہگار کسی  دوسرے گنہگار پر کسی  ظاہری پاکیزگی میں سبقت رکھتا ہو پر خدا کی نظر میں کو ئی بشر  اپنی اطاعت سے مقبول ہونے کے لایٍق نہیں۔ نجات کی راہ  اوربرکت کا طریقہ صرف فضل ہے فخر  اور خود پرستی کی قوت  صرف شریعت  کی پہچان پر ہی موقوف  ہے ہماری نظر میں آج تک ایسا کوئی  آدمی نہیں آیا جو گناہ سے بالکل بری  ہو اگر شریعت کے پیمانہ سے ناپے جاویں تو نیکی  میں پورا ایک بھی نہیں  نکلیگا بلکہ نیکوکاری تو ایک طرف سب کے سب بنی  آدم گناہ  کے نیچے دبے  ہوئے ہیں اِن باتونسے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر تم نجات کے خواہاں ہو تو شریعت کی تلاوت کرو تاکہ گناہ کے قایل ہو جاؤ اور مسیح کی پیروی  کرو تاکہ نجات حاصل  کر سکو  یہی ساری بیبل کا خلاصہ ہے۔ 

دعویٰ بشارات بہ نسبت محمد صاحب توریت و انجیل میں

Does the Torah or Gospel
Mentioned Muhammad?

Published in Nur-i-Afshan August 5, 1876
By Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

دعویٰ بشارات بہ نسبت محمد صاحب توریت و انجیل میں

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ۔ Pakistani School Children سورہ صف آیت ۶ قرآن کی اِن دو آیتوں سے اہل اسلام کے دل میں خیال پیدا ہو ا کہ تورات و زبور و انجیل میں محمد صاحب کی نسبت بشارت کا مذکور صراحتاً اور کنایتہ ہوا ہے اور اِس تہمت سے علماء اِسلامیہ اُن کتب مقدسہ کامطالعہ کر کے بشارات کے تلاش میں مصروف ہوئے اور جبکہ بعد تلاش اور تجسس لبیار کے اُنکو کوئی بشارت نظر نہ پڑی تو بعض کسان نے نہایت تعصب اور بے پرواہی سے کہدیا کے تورات و انجیل و زبور اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں رہیں جو آیات اُن میں ازقسم بشارات مذکور ہوئی تھیں اُن کو یہود و نصار یٰ نے ملکر نکال ڈالا یہہ تہمت نہایت سفاہت اور بخیردی پر دلالت رکھتی ہے کیونکہ پہلے تو اِسیطرح کی آیت کو اُن کتب مقدسہ سے نکال ڈالنا ممکن ہی نہ تھا اور اگر اِسیطرح کا تبدل اور تغیر بیبل کی نسخ ستداولہ میں منظور کیا جاوے تو ضرور وہ محمد صاحب کے ظہور کے بعد وقوع اور ظہور میں آیا ہو گا۔ کیونکہ یہہ تو ممکن نہیں ہو سکتا کہ یہودی عیسائی اپنی کتابوں میں سے جنکو وہ پاک اور من عنہ اﷲ سمجھتے تھے اگر اُن کتابوں میں کسی پیغمبر کے مبعوث ہو نے کا مذکور ہوا ہو تو اُس بیان کو وہ نکال ڈالیں بلکہ قریں قباس عقل وقیقہ شفاس کے یہی ہے کہ اُس بشارت کو وہ خوشی کے ساتھ بیان میں لاویں اور سشرلۂ کی انتظار پر آنکھ لگاویں پس اگر ایسا تبدل وقوع میں آیا ہو گا تو سوااِسکے نہیں کہ بعد ظہور محمد صاحب کے آیا ہوگا یہودی ور عیسائی اُن پر ایمان نہیں لائے اور جب انہوں نے اپنی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور اُن میں اُن کی نسبت گواہی موجود پائی تب اُنہوں نے غصہ اور حسد سے اُن آیات کو نکال ڈالا تاکہ اُن کا دعویٰ باطل ٹھہرےمیری دانست میں ایسا کہنا بھی ناواقفیت ور نافہمی اور فکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے کیونکہ یہہ بھی ممکن نہیں ہو سکتا کہ یہودی اور عیسائی جو آپس میں پرلے درجہ کی مخالفت رکھتے تھے باہم متفق ہو کر اپنی کتابوں کو بدل ڈالیں اور اگر بالفرض کسی وجہ سے متفق کبھی ہو جاویں تو بھی اُن کو کتب مقدّسہ میں تبدیل کرنا حیز امکان سے باہر تھا کیونکہ اُسوقت تورات و انجیل کے صدہا نسخے دنیا کے مختلف ملکوں اور مختلف قوموں اور مختلف فرقوں کے درمیان جو آپس میں اشد مخالفت رکھتے تھےپھیل گئے تھے علاوہ بریں اِسکا ترجمہ بھی مختلف زبانوں میں ہو کر پھیل گیا تھا اب کیونکر یقین لایق ہے کہ اُن سارے نسخوں کو اکٹھا کر کے بشارات کو اُنکے بیچ سے نکال دیا ایسی بات خیال میں ہرگز نہیں آسکتی اور اگر بعض میں تصّور کیا جاوے تو تھوڑے نسخوں میں تبدیل کرنا لاحاصل اور لا طایل ہے کیونکہ باقی نسخوں سے اُن کی خیانت بخوبی دریافت ہو سکیگی تو بھی اگر کو ئی ضدّ و کد سے کہتا رہے کہ اِس قسم کا تبدیل ضرور وقوع میں آیا ہے تو وہ بھی نشان دہی کرے کہ وہ تبدیل کس عہد اور کس کی کتاب میں آیا اور جبتک ایسا ثابت نہ کر سکے تب تک اِس معاملہ میں زبان نہ ہلاوے اور خاموش رہے میری سمجھ میں مناسب یہہ تھا کہ جب کہ محمد صاحب کے حق میں کتب مقدّسہ میں کوئی بشارت اُن کو نہیں ملی تب اُن کتابوں پر الزام لگانے کی جگہ محمد صاحب کے دعویٰ کی تصدیق نے کرتے اور بعض جو زیادہ عقلمند اور فہم اور فراست میں قدم رکھتے ہیں وہ کتب انبیا ء میں تاوملات کر کے محمد صاحب پر لگانے کے لیے کوشش بیفایدہ کر رہے ہیں اُنہیں میں سے حافظ ولی اﷲ لاہوری ا ور سید احمد واعظ دہلوی ہیں سید احمد صاحب کی تقریر کی نظر ثانی میں چند ہفتہ ہوئے اِس اخبار میں درج کتب کر دی ہے اور اُن کے دعویٰ کا بطلان میں نے بخوبی کر دکھایا اُن کی مثل مشہور ہے کہ ڈوبتا تنکی کو پکڑتا ہے بہلا تنکا بیچارہ کس طرح بچا سکتا ہے اب چند روز ہوئے کہ اسی قسم کا ایک مضمون تہذیب الاخلاق جلد ششم نمبر ۸ مورخہ یکم جمادی الاّول سن ۱۲۹۲ہجری میں درج ہوا اور نہایت طویل طویل لکھا گیا اور اِس اخبار کے اڈیٹرصاحب کی دیگر تصنیفات کی مانند یہہ مضمون نہایت تفتیش ور بڑی تلاش سے عالمانہ اور تحقیقانہ مرقوم ہوا اگرچہ اڈیٹر صاحب نے اِسمیں بڑی جان فشانی اور عرق ریزی کر کے اپنے مطلب کو ثابت کرنا چاہا مگر افسوس ہے کہ ایسے محقق اور ایسے بڑے فاضل باوجود ایسی تلاش کامیاب نہ ہوسکے اور یخرتاویلات اور نسویلات کے اُن سے اور کچھ سرسبز نہ ہوا اُنہوں نے تمہیدات مطالب میں وعدہ کیا ہے ( کہ اگر بغیر تعصب اور طرفداری ور ضدّ کے اُنپر غور ہو ور اُن کے معنوں میں تحریف نہ کی جاوے تو وہ صاف ہمارے جناب پیغمبر خدا پر صادق آتی ہیں) اب میں اِسکی نظر ثانوی میں دکھلادونگا کہ یہہ وعدہ مقرون بوفانہ فرمایا ور ثبوت اِسکا زیل میں دیا جاویگا اور صاحب مضمون چند بشارات مسیح جنکا اشارہ انجیل میں پایا گیا بطور نمونہ دکھلاگئے تو میں اِس موقع میں اُن کی تقریر پر بہ نسبت بشارات مذکورہ کے کچھ بیان نہیں کرتا بشرط زندگی آیندہ ا ُسکو ثبوت کی تحقیقات میں اُن کی خصوصیات اور تفاسیر وغیرہ کا بیان اِس اخبار میں کر دکھلا ؤنگا بالفعل محمد صاحب کی نسبت جو بشارات کا ذکر ہوا اُنہیں کی نسبت اڈیٹر صاحب کے ملاحظہ اور غور و انصاف کے لیے پیش کرتا ہوں۔

پہلی بشارت محمد صاحب کی نسبت

حضرت موسیٰ کی پہلی کتاب باب ۱۷ آیت ۲۰ میں نے تیری دُعا اسمٰعیل کے حقمیں قبول کی ہاں میں نے اُسے برکت کر دی اور باز اور کیا اور اُسے بہت کچھ فضیلت دی اُس سے بارہ امام پیدا ہوں گئے اور اُسے بڑی قوم کرؤنگا دوسری آیت توریت کی کتاب اول باب اا آیت ۱۲، ۱۳۔ اور خُدا نے ابرہام سے کہا کہ تُجھے اِس لڑکے اور اپنی لَونڈی کے باعِث بُرا نہ لگے ۔ جو کُچھ سارہ تُجھ سے کہتی ہے تُو اُس کی بات مان کیونکہ اِضحاق سے تیری نسل کا نام چلے گا۔ اور اِس لَونڈی کے بیٹے سے بھی مَیں ایک قَوم پَیدا کرُوں گا اِس لِئے کہ وہ تیری نسل ہے۔اِن دو آیتوں کو تہذیب الاخلاق کے اڈیٹر صاحب دست آویز مدعا بنا کر فرماتے ہیں کہ اِسمیں محمد صاحب کے مبعوث ہونے کی بشارت صاف و مصرح ہے میں اِس کلام کو سُنکر نہایت متعجب ہو اکہ میں اِنہیں آیتوں کو اکیس سال برابر پڑھتا اور مطالعہ کرتا رہا لیکن میرے دلمیں ایسا خیال کبھی پیدا نہیں ہو اکہ اِسمیں کسی نبی کے مبعوث ہو نیکی بشارت ہے محمد صاحب کے خیال آنیکا تو کیا ذکر ہے میں یہی سمجھتا رہا اور اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ بنی اِسمٰعیل کے حقمیں خدا کی طرف سے عطا برکت کا بیان ہوا حضرت ابراہیم کی خاطر دار یکو خدا نے اِسمٰعیلکو ابراہیمی عہد سے علیٰحدہ کر دیا تو بھی اُسکو ایک بڑی قوم بنایا اور اُسکے بیچمیں سے بارو سردار پیدا کئے ضرور اِن آیات میں خدا کی برکات کا مذکور ہوا لیکن تصریح نہیں ہوئی کہ وہ برکت روحانی یا جسمانی ہوگی بلکہ پچھلے دو کلام سے کہ اُسکو بڑی قوم بناؤنگا اور اُس سے بارہ سردار نکالونگا صاف ہو یداہے کہ یہہ برکت جسمانی اور دینوی کی نسبت مذکور ہوا اڈیٹر صاحبکا دعویٰ کہ یہہ ایک صاف بشارت محمد صاحب کے پیغمبری کی ہے محض دعوی ہی ہے بشارت صاف آسیکو کہا جاتا ہے جسکو ہر ایک خواندہ سمجھ سکتا ہے لیکن کون کہسکتا ہے کہ اُن آیات کی تلاوت سے پڑھنے والیکو اتنا دریافت ہو جاتا ہے کہ بنی اسمٰعیل سے ایک پیغمبر مبعوث ہوگا اِسمیں یہی ایک عام برکت کا وعدہ ہو بعدازیں اڈیٹر صاحب نے ابراہیم و اِ سحٰقکی نسبت جو برکت کا وعدہ ہوا اُن آیات کو مذکور کیا موسیٰ کی پہلی کتاب سے اول جبکہ حضرت اِسحٰق بیرسبع میں پہنچتے تو خدا تعالیٰ نے خواب میں اُنسے فرمایا کہ میں تیرے باب ابراہیم کا خدا ہوں تو ڈر مت میں تیرے ساتھ ہوں تجھکو برکت دونگا ا وراور اپنے بندے ابراہیم کے سبب تیری نسل کو بہت کرونگا باب ۲۷ آیت ۲۴ ۔ دوم جب حضرت ابراہیم کنعان میں پہنچے تو خدا نے اُنسے کہا کہ یہہ زمین تیری اولاد کو دونگا باب ۱۲ آیت ۷ ۔ سوم جبکہ حضرت لوط حضرت ابراہیم سے جدا ہو گئے تو پھر خدا نے ابراہیم سے کہا کہ آنکھیں کھول اور چاروں طرف دیکھ یہہ تمام زمین جو تو دیکھتا ہے تیری اولاد کو دونگا اور تیری اولاد کو زمین کے ریت کے مانند کرونگا جو کوئی ریت کے زروں کو گن سکے تو تیر ی اولاد کو بھی گن سکیگا باب ۱۳ آیت ۱۴، ۱۵،۱۶۔ چہارم پھر ایک دفعہ خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا کہ تیری اولاد اتنی ہوگی جتنے آسمان کے ستارے جنکو گن نہیں سکتا باب ۱۵ آیت ۵ ۔ پنجم پھر خدا نے اِبراہیم سے ایک اور پختہ وعدہ کیا کہ یہہ زمین مصر دریا سے فرات کے دریا تک تیری اولاد کو دونگا باب ۱۵ آیت ۱۸۔ ششم جب یعقوب بیر سبع سے حاران کیجانب روانہ ہوئے تو ایک مقام پر پتہر سرہانے رکھکر سو رہے خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سیڑہی زمین سے آسمان تک لگی ہوئی ہے اور خدا کے فرشتے اُسپر اُترتے چڑہتےہیں اُسپر خدا نے کھڑے ہو کر کہا میں تیرے باپ ابراہیم اور اسحٰق کا خدا ہوں یہہ زمین جسپر تو سوتا ہے تجھکو اور تیری اولاد کو دیتا ہوں تیری اولاد زمین کے ریت کے برابر ہوگی اور چاروں طرف پھیل جاویگی باب ۲۸ آیت ۱۲،۱۴،۱۳ اِن آیات کو راقم خطبہ نے انتخاب کیا اور اُنکے الفاظوں کو اُن وعدونکے الفاظوں سے جو اسمعٰیل کے نسبت وقوع میں آئے جنکا بیان صدر میں گزر چکا مقابلہ کر کے دعوی ٰ کیا کہ یہہ الفاظ باہم متناسب اور کسیقدر ملتے ہوئے ہیں اُن الفاظ کے ساتھ جو اسمعیٰل کے حقمیں وارد ہوئے پھر اِسکے اوپر دو سوال وارد کئے ایک یہہ کہ جو وعدے خدا نے ابراہیم کی اولاد میں کئے ہیں وہ وعدے اِسمعٰیل اور اِسحاق دونوں کے حقمیں کیوں نہیں سمجھے جاتے حالانکہ خود خدا نے کہا ہے کہ اِسمٰعیل بھی ابراہیم کی اولاد ہے۔ دوسرا سوال یہہ ہے کہ جو وعدہ خدا نے اسحٰق اور یعقوب کی نسبت کیا تھا یعنی ملک کنعان دنیے اور اولاد زیادہ کرنیکا اُسمیں اُنسے کیا چیز ہے جس وہ روحانی قسم کا سمجھا جاتا ہے اور جو وعدہ اِسمٰعیل کے ساتھ کیا تھا اُسمیں کس چیز کی کمی ہے جس سے وہ جسمانی سمجھا جاتا ہے اِن دونوں سوالونکا جواب اُن آیات میں سے سرنکال کر پُکار رہا ہے جنکو صاحب مضمون قصداً یا سہوا چھوڑ گئے اور مجھکو بڑا تعجب تحیر ہے کہ وہ کیونکر اغماض نظر فرما کر درگزر کر گئے۔

خصوصاً  اجزاء اُن آیات منتخبہ کو جنکو اُنہوں نے استدلالاًپیش کیا وہ آیات یہہ ہیں جب ابرام نناویں برس کا ہوا تب خدا ابرام کو نظر آیا اور اُس کو کہا کہ میں خدائے قادر ہوں تو میرے حضور میں چل اور کامل ہو اور میں اپنے اور تیرے درمیان  عہد کرتا ہوں کہ  میں تجھے  نہایت بڑہا ونگا تب ابرام مُنہ کے بل گرا اور خدا اُس سے کلام ہو کر بولا کہ دیکھ میں جوہوں میرا عہد  تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہوگا اور تیرا نام پھر ابرام نہ کہلایا جاوے گا  بلکہ تیرا نام ابی ہام ہوگا کیوں کہ میں نے تجھے بہت قومونکا باپ ٹھہرایااور میں تجھے بہت برومند کرونگا اور قومیں تجھ سے پیدا  ہونگی اور بادشاہ تجھ سے نکلیں گے اور میں اپنے اور تیرے درمیان ور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان اُن کے پشُت در پشت کے لیے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہے کرتا ہوں کہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا ہوں گا اور میں تجھ کو اور تیرے بعد  تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے دیتا ہوں ہمیشہ کے لیے ملک ہو اور میں اُنکا خدا ہوں  گا ۱۷ باب ۔ آیت ایک سے ۸ تک خدا نے کہا کہ بیشک تیری جو رو سارہ تیرے لیے ایک بیٹا جنے گی تو اُس کا نام اسحاق رکھنا اور میں اُس سے اور بعد اُسکی اولاد سے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہے قایم کروں گا  اور اسماعیل کے حق میں مینے تیری سُنی دیکھ میں اُسے برکت دوں گا اور اُسے برومند کروں گا اور اُسے بہت بڑہاوں گا اور اُس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اُس سے بڑی قوم بناؤنگا لیکن میں اسحاق سے جسکو سارہ دوسرے سال  اِسی وقت معین پر جنے اپنا عہد قایم کروں گا  ۱۹ آیت سے ۲۲تک خدا نے ابراہیم سے کہا کہ وہ بات اس لڑکےا ور تیری لونڈی کے بابت تیری نظر میں برُی نہ معلوم ہو ہر ایک بات کے حق میں جو کہ سارہ نے تجھے کہی اُس کی آواز پر کان رکھ کیونکہ تیری نسل اسحاق سے کہلاویگی اور اُس لونڈی کے بیٹے سے بھی ایک قوم پیدا کروں گا اِس لیے کہ وہ بھی تیری نسل ہے اب یہہ تمام وعدے جو کہ خدا نے ابراہیم اور اسحاق اور اسماعیل کی نسبت کئے تھے  ہم نے منتخب کر کہ ہر ایک منصف مزاج پڑہنے والے کے سامنے رکھدتے ہیں تاکہ اُن کو معلوم ہو جاوے کہ وہ وعدے جو کہ خدا نے ابراہیم سے کئے تھے دونوں یعنے اسماعیل واسحاق کے حق میں کیوں نہیں سمجھےجاتے اور یہہ بھی سمجھ میں آجاوے کہ وہ وعدے جو ابراہیم  اسحاق سے کئے تھے کیوں روحانی سمجھے جاتے  ہیں اور اسمعیل کی نسبت جسمانی آڈیٹر صاحب کو بھی یہہ بات روشن ہو جاتی اگر وہ تمام آیات کو انتخاب کرتے یا ا ُن  آیات منتخبہ کو بہ نظر غور ملاحظہ فرمائے پہلی انتخاب یعنے  ۷ا باب کی پہلی آیت سے ۸ آیت میں ابراہیمی عہد کا بیان ہوا  اور ساتویں آیت میں مصرح ہے کہ یہہ عہد میں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان کرتا ہوں جو ہمیشہ کا عہد ہوکہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا ہوں  اور اُسی باب کی ۱۹ آیت میں ہے کہ خدا نے کہا کہ بیشک تیری جو رو سارہ  تیرے لیے ایک بیٹا جنےگی  تو اُس کا نام اسحاق رکھنا اور میں اُس سے اور بعد میں اُس کے اُسکی اولاد  سے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہے قایم کروں گا  اور اسماعیل کے حق میں مینے تیری سنے دیکھ میں اُسے برکت دونگا ور اُسے برومند کروں گا اور اُسے بہت بڑہاؤں گا  اور اُس سے بارہ سردار پیدا ہونگے اور میں اُسے بڑی قوم بناؤںگا لیکن میں اسحاق سے جسکو سارہ  دوسرے اِسی وقت معین میں جنے گی اپنا عہد قایم کرونگا۔ دیکھو اِس مقام میں کھلا کھلی بیان ہو ا کہ اسماعیل کو خدا برکت دے گا برومند کریگا اور بڑھاوے  گا لیکن  ابراہیمی عہد میں جو ۱۷باب کے ابتداء میں مفصل  مرقوم ہوا اُس کو کچھ دخل نہوگا وہ فقط اسحاق کا حصہ اور حق پریدار ہوا معلوم نہیں کہ صاحب مضمون نے اس بدی امر پر کیوں نظر نہیں فرمائی پھر یہی دعا اور جگہ سے ثابت ہے دیکھو باب ۲۱ ۔ آیت ۱۲ خدا نے فرمایا کہ وہ بات اس لونڈی اور لڑکے کی بابت تیری نظر میں برُی نہ معلوم ہو ہر ایک بات کے حق میں جو سارہ نے تجھ کو کہی اُس کی  آواز پر کان رکھ کیونکہ تیری نسل اسحاق سے کہلاوے گی اور اُس لونڈی کے بیٹی سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا کیونکہ وہ بھی تیری نسل ہے اس مقام میں بھی صفائی سے ظاہر رہا ہے کہ اگر چہ اسماعیل ابراہیم ہی کی نسل ہے مگر وہ اُن برکتوں میں شریک اور شامل نہیں ہوا جنکو خدا نے ابراہیم اور اُس  کی نسل  کے لیے مقدر اور مہیا کیا کیونکہ ابراہیم کی نسل اسحاق سے کہلاویگی اور اسماعیل کے واسطے خدا نے الگ اور دوسری قسم کی برکات معین کیں اب میں خیال کرتا ہوں کہ آڈیٹر صاحب پر یہہ امر مخفی نرہا ہو گا کہ کیوں دونوں یعنے اسماعیل و اسحاق اُن برکات سماوی میں جو خدا نے ابراہیم  اور اُس کی نسل کیواسطے معین اور شخص کیں شریک سمجھے گئے اِسکا یہی موجب سمجھیں کہ خدا نے ابراہیم سے فرمایا کہ میں اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہے اسحاق سے اور اُس کے بعد اُس کی اولاد  سے قایم کروں گا اور تیری نسل اسحاق سے کہلاوےگی نہ اسماعیل سے دیکھو باب ۱۷ ۔ آیت ۲۰ ، ۲۱ ۔ اور باب ۲۱ ۔ آیت ۱۲ اور سوال دوم کا جواب ہے ۱۷ باب کی پہلی ۸ آیات سے بھی واضح ہو  کہ وعد ہائے خدا بہ نسبت ابراہیم سارے وعدے روحانی نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ آڈیٹر  صاحب نے خیال کیا جن برکتوں کا خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا سب دو قسم کے ہیں جسمانی و روحانی میں اپنے  اور تیرے  درمیان عہد کرتا ہوں  کہ میں تجھے نہایت بڑہاؤں گا تو بہت قومونکا باپ  ہوگا میں تجھے برومند کروں گا  اور قومیں تجھ سے پیدا  ہوں گی اور بادشاہ تجھ سے نکلیں گے اور میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے دیتا ہوں کہ ہمیشہ کے لیے ملک ہو ۔ یے سب وعدے جسمانی ہیں اور خاص کر دنیاوی چیزوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ روحانی وعدے جو خدا نے ابراہیم سے کئے تھے  اُن کو سنۓ میں اپنے اور تیرے درمیان اُنکی پشت در پشت  کے لیے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد  ہو کرنا ہوں کہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا ہونگا۔  آڈیٹر  صاحب کو دوسرےسوال  کا جواب  بھی پونچایا گیا اور میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ بخوبی معلوم کر لیں گے کہ کیوں اسماعیل کی برکت کو دنیاوی پر محمول کیا نہ روحانی پر قبل ازیں کہ میں پہلی بشارت کی نظر ثانوی کو ختم کروں بیانات سابقہ سے ایک اور نتیجہ  نکالتا ہوں کہ وہ دوسری بشارت کے بیان میں مدد گار اور مفید کار ہو گا وہ یہہ ہے کہ بیانات مذکورہ صدر سے صریح و صاف معلوم ہوا کہ بنی اسماعیل  کوئی نبی مبعوث نہوگا ا ور نہ خدا  کا کلام اُن کو بخشا جاوے گا ۔ اُن کی برکت ساری جسمانی ور دنیوی ہے روحانی برکتوں کا مالک اور امانتدار نبی اسحاق جیسا صدر میں مذکور ہوا ہے۔  خدا نے ابراہیم کو فرمایا تھا کہ میرا ہمیشہ کا عہد کہ میں تمہارا ور تمہاری نسل کا خدا ہوں گا میں اسحاق  سے اور بعد اُس کے اُسکی اولاد سے قایم کرونگا نہ اسماعیل سے۔

بشارت دوم قایم کریگا تیرا معبود موجود تیرنےلیےنبی تجھ میں سے تیرے بھائیوں میں سے مجھ سا اُسکو انیو اُنکے بھائیوں سے نبی تیرا ساقایم کروں گا ور اپنا کلام اُس کے منُہ میں دوں گا اور جو کچھ میں اُس سے کہوں گا وہ اُن سے کہہ دے گا توریت کتاب پنجم باب ۱۸ ۔۱۵، ۱۸ آڈیٹر تہذیب الاخلاق کے مدعی ہیں کہ اِن آیتوں میں محمد صاحب کے مبعو ث ہونے کی ایسی صاف اور ایسی مستحکم بشارت ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا خدا نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ نبی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ایک نبی مثل موسیٰ کے مبعوث کروں گا اور کچھ شبہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اسرائیل کے بھائی بنی اسماعیل ہیں اور بنی اسمعیل میں بخر محمد صاحب کے اور کوئی نبی نہیں ہوا اور اِس سے صاف ثابت ہو گیا کہ یہہ بشارت ہمارے ہی جناب محمد صاحب کی تھی۔ یہہ دعویٰ کچھ نیا نہیں ہو ا بلکہ اکثر علماء اسلام اِسی قبیل سے کہتے اور لکھتے چلے آئے ہیں اور وہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہہ اُنکا ایک حصن حصین ہے جس میں سے کسی طرح اُنکونکالنا ممکن نہیں اور اِس کے جواب میں بھی بہت کچھ تصنیف ہوا خصوصاً مولوی عماوالدین اور پادری نیوٹن صاحب کی قلم کے وسیلہ سے جو چاہا ہے اُنکی کتابوں کو مطالعہ کرے متعصب اور ناواقف کاروں سے جب اِس قسم کا دعویٰ ظہور میں آتا ہے تو تعجب کا مقام اور موقع نہیں ہوا کہ کرتا مگر آڈیٹر صاحب چونکہ ازبس منصف مزاج اور پرلے درجے کے محقق ہیں اور دلایل کو باہم مقابل کرنے کے عادی تو اُن سے ایسا دعویٰ کہ اِس میں صاف اور مستحکم بشارت محمد صاحب کی ہے باعث کمال حیرت اور تعجب کا ہوا میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اُن کا دعویٰ محض غلط اور پادر ہوا ہے اور اُن کی تقریر سے ثبوت کو نہیں پہنچتا اور اُن کی تقریر میں چند باتیں فاحش ہیں جنکی میں پہلے نظر ثانی کر کے پیچھے اُن کے دعوےکی بے بنیاد ظاہر کت دکھلاؤنگا۔

خطا اول اول یہودی عیسائی دونوں اسبات کو تسلیم وپذیر ا کرتے ہیں کہ انبیاء بنی اسرائیل پر سوائے احکام عشرہ موسیٰ کے جو وحی آتی تھی اُس کے لفظ وہی نہیں ہیں جو توریت و زبور و صحف انبیاء میں لکھے ہو ئے ہیں بلکہ انبیاء کو صرف مطلب القا ہوا کرتا تھا اور پھر وہ اُس کو اپنی زبان و محاورہ میں لوگوں کے سامنے بیان کرتے تھے۔ یہہ بیان اِن کا بالکل غلط اور قابل سماعت نہیں خبر نہیں یہہ کہاں سے اُنھوں نے پایا جس کی کچھ اصل نہیں برخلاف اس کے بڑے حصہ عیسائی جماعت کا عقیدہ یہہ ہے کہ کل بائیبل کا لفظ تلفظ انہیں لفظوں میں نبیوں اور رسولوں پر الہام ہوا اور اُنہوں نے اُنھیں لفظوں کو بعینہ کہہ سنایا بعضونکا عقیدہ یہہ ہے کہ بائیبل کے الہام کی قسمیں دو ہیں ایک لفظ تلفظ جس طرح روح القدس سے اُنکو پہنچا وہ ایسے مقام مین سمجھے گئے جہان نبیوں نے فرمایا خدا وند یوں فرماتا ہے خدا یوں حکم دیتا ہے دوسرا مطلب اور معانی جس کو مصنفوں میں اپنی زبان اور لفظ سے تعبیر کیا لیکن کوئی عالم عیسائی جماعت میں ایسا نہیں ہوا کہ وہ آڈیٹر صاحب کے بیان کے مطابق عقیدہ رکھتا ہو یہہ میری ہی خیال نہیں اور نہ صرف واسطے نقص کلام خصم کے لکھتا ہوں بلکہ انجیل میں اسی طور مرقوم ہوا دیکھو دوسرا نامہ پطرس باب اول ۔ ۲۱ ثبوت کی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ خدا کے مقدس لوگ روح قدس کے بولائے بولتے تھے۔ پھر پہلا نامہ پولوس کا قرنتیوں کو باب ۲ ۔ ۱۳ یہہ چیزیں ہم انسان کی حکمت کی سکھائی ہوئی باتوں سے بیان کرتے ہیں ۔ باب جس لفظ کا ترجمہ کیا ہے وہ دراصل الفاظ ہے پطرس کا پہلا خط پہلا با ب ۔ ۱۰،۱۱۔آیت سے بھی یہہ بات ظاہر ہوتی ہے اُن آیتوں میں یہہ لکھا ہے اِسی نجات کی بابت اُن نبیوں نے تلاش اور تحقیق کی جنھوں نے اُس نعمت کی پیشین گوئی کی جو تم پر ظاہر ہونے کو تھی وے اُس کی تحقیق میں تھے کہ مسیح کی روح جو اُن میں تھی جب مسیح کے دُکھوں کی اور اُس کے بعد اُس کے جلال کی گواہی دیتی تھی کس وقت اور کس طرح کے زمانہ کا بیان کرتی تھی ۔ اِس جگہ بیان ہے کہ روح القدس مسیح کے دنوں کے نبیوں کی معرفت گواہی دیتی تھی اور اُس گواہی کو نبیوں نے تالیف کیا اور بعد تالیف کے وے خود بھی نہیں سمجھتے تھے کہ روح کس طرح کے زمانہ اور کس طرح وقت کا بیان کرتی تھی کیونکہ پیشین گوئیاں اُسی عبادت اور الفاظ میں تعبیر ہوا کرتی تھیں جو روح قدس اُنکو تعلیم کیا کرتی تھی خود نبیوں کے کلام کی عبادت کو اگر کوئی غور سے ملاحظہ کرے تو اُس کو جگہ جگہ سے یہہ بات ثابت ہو جاوے کہ کلام ثبوت اُنھیں الفاظ سے تعبیر ہوئی جنکو خدا نے اُن پر ظاہر کیا اِسی سبب سے کل بائیبل کو کلام اﷲ کہا گیا ہے۔

دوسری خطا کہ بنی اسرائیل میں کوئی نبی حضرت موسیٰ جیسا پیدا نہیں ہو اکیونکہ حضرت عزیر پیغمبر نے جب توریت کو بعد قید بابل کے تحریر فرمایا تو اُس میں یہہ لکھا ہے کہ اور پھر قایم نہ ہوا کوئی نبی بنی اسرائیل میں موسیٰ کی مانند جس نے پہچانا اﷲ کو رو برو۔ یہہ بیان دعویٰ اُن کا غلط ہے اور جو دلیل لائے وہ بے محل اور سراسر بیجا کیونکہ خداوند یسوع مسیح نے خود اپنی زبان مبارک سے فرمایا میں تم سے کہتا ہوں کہ اُن میں سے جو عورتوں سے پیدا ہوئے یوحنا بپتمسا دینے والے سے کوئی نبی بڑا نہیں لیکن جو کائی خدا کی بادشاہی میں چھوٹا ہے اُس سے بھی بڑا ہے۔ لوقا کی انجیل کا ۷باب ۔ ۲۸وجہ غلط یہہ ہے کہ اِس کا کچھ ثبوت نہیں کہ یہہ آیت قایم نہیں ہوا کوئی نبی بنی اسرائیل میں موسیٰ کی مانند آہ غررا نبی سے مرقوم ہوئی اور اگر فرض کرو کہ غر یر ہی اُس کے قایل ہیں تو اُس کی شہادت سے صرف اِسی قدر ثابت ہو گا کہ بنی اسرائیل میں کوئی نبی موسیٰ کی مانند اس کے قایل غریرتک قایم نہیں ہوا جو کہ حضرت مسیح کے پانچ سو برس کے قریب پیشتر پیدا ہوئے تھے تو یہہ استدال صحیح نہ ہوا۔

تیسری خطا عیسائی منصفوں نے بھی یہہ بات تسلیم کی ہے کہ حضرت محمد مثل حضرت موسیٰ کے تھے مثلاً  مسٹر ریتا ن نے حضرت عیسیٰ کے حالات زندگی کے بیان میں لکھا ہے آہ یہہ قول کہ عیسائی منصفوں نے تسلیم  کیا ہے کہ حضرت محمد مثل حضرت موسیٰ کے تھے بالکل  جھوٹ اور خلاف واقع ہے کہیں کسی مصنف عیسائی نے ایسا نہیں کیا ریتان صاحب کی نظر دکھلانی دروغ باقی اور رات کو دن بتانا ہے صاحب مذکور عیسائی دین سےمنکر اور ملحد محض ہیں تینوں کتب مصنفہ  اُن کی جو دین عیسوی کے بطلان میں لکھ کر یاد گار چھوریں اور یورپ میں اُن کا چرچا ہو رہا ہے اِ س مقال پر گواہی دے رہی ہیں یوں تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ بہت سے مصنف مزاج اہل اسلام اقرار کرتے  ہیں  کہ محمد صاحب میں کسی طرح کی فضیلت نہ تھی اور نہ شرف رسالت جیسا لامزہبوں کی زبان سے جا بجا سننے میں آیا ریتان صاحب ایک مشہور لامزہب فرانس کا ہے اُن کی شہادت پیش کر کے کہنا کہ یہہ مصنف مذاج عیسائی کا قول ہے سخت مغالطہ اور دھوکہ دہی ہے میں ایسے قول کا بیان تہزیب الاخلاق کے پرچہ میں دیکھنے کی امید بھی نہیں رکھتا تھا ا ور لایق  اس کے ساتھ کہ منشور محمدی وغیرہ مطابع میں مطبوع ہوا ہوتا نہ کہ تہذیب الاخلاق میں اور دوسری نظر کو اٹرلی ریویو کی جو دی گئی یہہ بھی باعث اضلال عوام ہی ۔ کیونکہ کواٹرلی ریویو ایک ایسی کتاب کا نام ہے جو انگلستان میں ہر سہ ماہہ میں مرتب ہوتی  اور اُس میں ہر قسم کا مضمون علمی دینی انتظام ملکی و دیگر امور کی بابت چھپا کرتا ہے اور نوپسندہ ہر ایک قوم و مذہب کا ہوا  کرتا ہے بلکہ اکثر لامذہب اور ہمیشہ مذہب عیسوی کے منکر اور مخالف ہی ہوا کرتے ہیں عجب نہیں کہ یہہ آرٹیکل جس کو اڈیٹر صاحب نے انتخاب کیا کسی ہندوستانی محمدی مذہب کی قلم سے پیدا  ہوا ہو مثل اڈیٹر صاحب کے کیونکہ اِس قسم کی ضرورت والے اپنا آرٹیکل اُس اخبار کی یہہ حالت ہو تو اُس کے مطبوعہ  آرٹیکل کو نقل کر کے کہنا کہ یہہ کسی مصنف عیسائی کا قول ہے سخت بیجا اور دور ازکار ور وکلائے طرفداری کی مانند ہے ۔

بعد ازیں  اڈیٹر صاحب اور موسیٰ کے درمیان ۸ چیزوں میں مناسبت بتائی یعنے ایسی وارداتوں  کا بیان کیا جنکا در حالت زندگی  دونوں  میں فی الجمدمتحقق ہوا اِس طرح کی مناسبات کا ثبوت دینا دو بڑے سردار مختلف قوموں کے درمیان مشکل نہیں اور اِس سبب سے کہ اِس قسم کی مناسبات دونوں میں پائی گئی یہہ ثبوت کو نہیں  ھُنچتاکہ  وہ دونوں رسول اﷲ  ہوں حضرت موسیٰ کی زندگی کے حال میں اور کرشن کی زندگی کے احوال میں بہت چیزوں میں مناسبت نکل سکتی مگر اِس مناسبت سے یہہ لازم نہیں آتا کہ کرشن ہندؤں کا حضرت موسیٰ کی مانند نبی ہے جس کا  ذکر استثنا کے ۱۸ باب میں مرقوم  ہوا فکر و خیال کرنے والا عیسائی موسیٰ اور خدا وند  یسوع مسیح کے درمیان بہت امور میں مناسبات نکالنا ہے چنانچہ میں جبکہ میں اوایل  عمر میں کالج کے درمیان طالب علمی کرتا تھا تو مجھے ایک روز بائیبل کے امتحان میں اِسی سوال کا جواب لکھنا پڑا کہ خداوند یسوع مسیح  کو موسیٰ سے کس چیز  میں مناسبت ہے میں  نے اِس سوال کا جواب لکھا مگر مجھ کو یا میرے متمحن کو ایسا خیال دل میں کبھی نہیں گزرا کہ یہہ مناسبات اِس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ ضرور خداوند  یسوع مسیح موسیٰ کی مانند نبی تھا اُس کی نبوت کی دلیل اول پیش کرنی لازم ہے زاں بعد بہ  وجود مناسبات موسیٰ کی اُس دلیل کو مدد دینا اور پختہ کرنا مناسب ہے جیسا میں نے پیشتر بیان کیا کہ ہر ایک دوسردار مختلف اقوام کے درمیان ہر ایک فکر دو ڑانے والا آدمی مناسبات نکال سکتا ہے۔

راقم  مضمون  طول مقال سے جس کی قدر و مقدار  سے وہی لوگ واقف ہیں جو کہ توریت کی اصلی زبان سے آگہی رکھتے ہیں اپنی قوت علمی کا اظہار کر رہے ہیں اُنہوں  نے اپنی تقریر سے یہہ ظاہر کیا کہ کلام تیر ا تیرےدرمیان سے کسی خاص آدمی کے نسبت مستعمل نہیں ہوا  بلکہ ُکل بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کھا اِس لیے جب لکھا کے تیرے بھائیوں میں سے تو یہی معلوم ہوا کہ وہ بھائی کسی اور قوم سے مراد ہے نہ بنی اسرائیل سے یہہ تقریر نہایت درجہ کی پوچ اور لایعنی ہے اِس کی حقیقت یہہ ہے کہ احکام توریت مفرد پر مخاطب ہو کر اکثر دئے گئے ہیں تاکہ ہر ایک فرد اُن میں کا اپنے آپ کو  شریک جانے اور سمجھے کہ یہہ مجھ پر فرض عین ہے مثلاً خدا نے ساری قوم بنی اسرائیل کو کہا کہ میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہو وے تو اپنے لیے کوئی مورت یا  کسی چیز کی صورت  مت بنا میں اتنی بات کو قبول اور منظور کرتا ہوں کہ لفظ تو یا تیرے سے تمام قوم مراد ہے لیکن اِس کو منظور نہیں کرتا بلکہ جھوٹھی  اور اختراعی  تفسیر سمجھتا ہوں کہ لفظ تیرا بھائی یا تیرا پڑوسی اور کسی قوم کے آدمی پر دلالت رکھتا ہو جو قوم یہود سے خارج ہو اِس کی صدہا مثال کتب تورات میں موجود ہیں جو چاہے دیکھ  لے  مثلاً استثنا کی کتاب کا ۱۷ باب ۱۴ و ۱۵  جب تُو اُس مُلک میں جِسے خُداوند تیرا خُدا تُجھ کو دیتا ہے پُہنچ جائے اور اُس پر قبضہ کر کے وہاں رہنے اور کہنے لگے کہ اُن قَوموں کی طرح جو میرے گِرداگِرد ہیں مَیں بھی کِسی کو اپنا بادشاہ بناؤُں۔ تو تُو بہر حال فقط اُسی کو اپنا بادشاہ بنانا جِس کو خُداوند تیرا خُدا چُن لے ۔ تُو اپنے بھائِیوں میں سے ہی کِسی کو اپنا بادشاہ بنانا اور پردیسی کو جو تیرا بھائی نہیں اپنے اُوپر حاکِم نہ کر لینا۔ یہاں ُکل قوم بنی اسرائیل پر مخاطب ہو کر عین اُسی طرح جیسا کہ موسیٰ نے فرمایا  خداوند تیرا خدا  تیرے درمیان سے تیرے بھائیوں سے میرے مانند ایک نبی قایم کریگا حضرت موسیٰ فرماتے ہیں جب تو اُس زمین میں جو خداوند تیرا خدا دیتا ہے داخل ہو اور اُس پر قابض ہو تو تو اپنے بھائیوں میں سے ایک کو اپنا بادشاہ کیجیوکیا یہاں ہم کو سمجھنا چاہیئے حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم کیا کہ جب تم کنعان کے ملک میں جاؤ تو بنی اسرائیل کے درمیان سے کسی کو بادشاہ نہ کیجیو بلکہ بنی اسمعیل سے چُن کر اپنے لیے بادشاہ بنا ئیواور سوا اِس کے اور کچھ معنے اِس حکم کے نہیں ہو سکتے اڈیٹر صاحب کی تفسیر دانی کے مطابق پھر خیال کرو کہ خدا نے کل بنی سرائیل  کو حکم کیا تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ مت کر تو اپنے پڑوسی پر جھوٹھی گواہی مت دے کیا یہاں پڑوسی بنی اسرائیل مراد نہیں ہے بلکہ صرف اُنہیں اقوام پر دلالت ہے جو بنی اسرائیل کے گردو پیش میں بستی میں بستے تھے پھر دیکھو کتاب استثنا کا ۱۵ باب  ۷ آیت۔  جو مُلک خُداوند تیرا خُدا تُجھ کو دیتا ہے اگر اُس میں کہِیں تیرے پھاٹکوں کے اندر تیرے بھائِیوں میں سے کوئی مُفلِس ہو تو تُو اپنے اُس مُفلِس بھائی کی طرف سے نہ اپنا دِل سخت کرنا اور نہ اپنی مُٹّھی بند کر لینا۔اِس مقام پر صفائی سے ثابت ہے کہ تیرا بھائی سے یہودی یا بنی اسرائیل مراد ہیں نظایراس کی توریت میں بے شمار موجود ہیں جن کا زکر طوالت بے ضرورت ہے واسطے شہادت اِس امر کے تفسیر اڈیٹر صاحب کی ایجاد ی اور اختراعی ہے اِسی قدر کافی سمجھا اب میں اُن آیتوں کا ملاحظہ کرتا ہوں جن کو اڈیٹر صاحب نے بطور شواہد نقل فرمایا اور کہا کہ الفاظ تیرا بھائی بنی اسرائیل کے سوا وروں پر بھی بولا گیا چنانچہ استثنا کے ۲۲باب کے۔  ۷ ، ۸ ۔ ۴ باب کے ۔ ۴ دوسرا باب ۔ ۸  ا یسعیاہ نبی کا  ۲۰ باب ۔ ۱۲ عبدیاہ کا ۔ ۱۰ پیدایش کا ۱۶ باب۔ ۱۲ ۲۵ باب ۔ ۱۸ اِن آیتوں میں سے دو آیت یعنے استثنا کا ۴ باب ۴ اور یسعیاہ کا ۲۰ باب ۔ ۱۲ کلام مناظرہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتے کیونکہ اُن میں یہہ الفاظ نہیں پائے معلوم نہیں اِن کی نظر بلاتحقیق کیوں مرقوم ہوئی اِسی طرح عبدیاہ نبی کا قول بے محل لائے ۔

استثنا کا ۱۸ باب ۱۵، ۱۸، ۱۹ ۔ خُداوند تیرا خُدا تیرے لِئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائِیوں میں سے میری مانِند ایک نبی برپا کرے گا ۔ تُم اُس کی سُننا۔ مَیں اُن کے لِئے اُن ہی کے بھائِیوں میں سے تیری مانِند ایک نبی برپا کرُوں گا اور اپنا کلام اُس کے مُنہ میں ڈالُوں گا اور جو کُچھ مَیں اُسے حُکم دُوں گا وُہی وہ اُن سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جِن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سُنے تو مَیں اُن کا حِساب اُس سے لُوں گا۔

اول الفاظ تیرا بھائی جیسا صدر میں مذکور ہو ا تین قوم کے اشخاص پر مستعمل ہوا  پہلا(۱) نبی  اسرائیل  دوسرا نبی(۲)  عیثاؤ  تیسرا نبی اسماعیل یہہ توریت کا محاورہ ہے۔ اب دیکھنا چاہیےکہ اِس مقام میں اِن تینوں میں سے کس پر اشارہ ہے۔ پہلے یہہ الفاظ اِس مقام میں بنی اسماعیل پر اشارہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ برکت جسکا بیان اِس بشارت میں مذکور ہوا اُس سے نبی اسماعیل بالکل مستثناکئے گئے ہیں ۔ پیدایش کی کتاب کے ۱۷ باب ۷، ۱۹، ۲۰اور مَیں اپنے اور تیرے درمِیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمِیان اُن کی سب پُشتوں کے لِئے اپنا عہد جو ابدی عہد ہو گا باندھوں گا تاکہ مَیں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خُدا رہُوں۔ تب خُدا نے فرمایا کہ بیشک تیری بِیوی سارہ کے تُجھ سے بیٹا ہو گا ۔ تُو اُس کا نام اِضحا ق رکھناا اور مَیں اُس سے اور پِھر اُس کی اَولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھوں گا۔ اور اِسمٰعیل کے حق میں بھی مَیں نے تیری دُعا سُنی ۔ دیکھ مَیں اُسے برکت دُوں گااور اُسے برومند کرُوں گا اور اُسے بُہت بڑھاؤں گا اور اُس سے بارہ سردار پَیدا ہوں گے اور مَیں اُسے بڑی قَوم بناؤں گا۔ باب ۲۱۔۱۲ اور خُدا نے ابرہام سے کہا کہ تُجھے اِس لڑکے اور اپنی لَونڈی کے باعِث بُرا نہ لگے ۔ جو کُچھ سارہ تُجھ سے کہتی ہے تُو اُس کی بات مان کیونکہ اِضحاق سے تیری نسل کا نام چلے گا۔ اِن آیتوں سے بخوبی ظاہر ہے کہ اِسماعیل اور اُسکی اولاد صرف دنیاوی برکت کے مالک ہوئے اور وہ ہمیشہ کا عہد جو خدا نے ابراہیم اور اُسکے بعد اُسکی  نسل کے ساتھ کیا کہ میں تیرا ور تیرے بعد تیری نسل کا خدا ہونگا اُس میں شریک نہ ہوئے اُسکے  وارث  صرف اسحاق اور اُسکی اولاد ہی بنے بنی اسماعیل اِس سے مستثنا ہے بدیں نظر ہر گز ممکن  نہیں کہ کوئی نبی بنی اسماعیل سے مبعوث ہووے یا خدا کی کلام اُس قوم کے کسی آدمی پر نزول کرے۔ دوسرا ِس نبوت کے الفاظ بنی ادوم یا عیثاؤ کی اولاد پر بھی منطبق نہیں ہوسکتے کیونکہ  وہ برکتیں جنکا ذکر اِس نبوت میں آیا  اُنسے بنی عیثاؤ نے اپنے پھلوٹے ہونے کا حق یعقوب کے ہاتھ فروخت کیا اور ابراہیم اور اسحاق کی برکتوں کو حقیر اور ناچیز جانا ۔ اِسواسطے نامہ عبرانیاں میں لکھا گیا نہ ہووے کہ کوئی عیثاؤ کی مانند زانی یا بیدین بنے جس نے ایک خوراک کے واسطے اپنے پھلوٹھے ہونے کا حق بیچ ڈالا کیونکہ تم جانتے ہو کہ اُسکے بعد جب اُس چاہا  کہ برکت کا وارث ہو رد کیا گیا وت اور اُس نے جگہ نہ بائی کہ دل کو بدل دے اگرچہ اُس نے اُسے آنسہوبہا بہا  کت ڈھونڈھا اِس لیے نبوت ملاکی میں خدا کہتا ہے میں نے یعقوب کو پیار کیا اوت میں نے عیثاؤ سے نفرت رکھی اور اُسکے پہاڑوں اور اُسکی میراث کو ویران کر کے دشتی سانپوں کے نصیب کیا بلکہ ا ور اَور  نبیوں کی کتابوں میں بھی بنی عیثاؤ کا زکر خدا کے قہر کے ساتھ ہمیشہ ہوا اور بنی عیثاؤ خدا کے برگزیدہ لوگوں  کے سامنھے ایسے گنے گئے جیسے غیر قوم اور بُت پرست  اُن سے صرف ایک جھوٹی دنیاوی برکت کا وعدہ ہوا ۔ دیکھو پیدایش کی  کتاب ۲۷ باب ۳۹،۴۰ یہاں یوں مرقوم ہے  تب اُس کے باپ اِضحاق نے اُس سے کہا دیکھ! زرخیز زمِین میں تیرا مسکن ہو اور اُوپر سے آسمان کی شبنم اُس پر پڑے۔ تیری اَوقات بسری تیری تلوار سے ہو اور تُو اپنے بھائی کی خِدمت کرے ! اور جب تُو آزادہو تو اپنے بھائی کاجُؤا اپنی گردن پر سے اُتارپھینکے۔

مذکور میں ہے بنی عیثاؤ اُن کے مالک نہیں بن سکتے تیسرا اب رہے بنی اِسرائیل  حقیقت میں وہی اس خدا کی روحانی برکت کے مالک رہے۔ اور بس اسلیے پولوس نامہ رومیوں میں کہہ رہا ہے کہ وے خدا کی کلام کے امانت دار ہوئے اور اور فرزندی اور جلال اور عہد نامہ اور شریعت اور عبادت اور وعدہ اُنہیں کا ہے اور باپ دادے نبی اُنہیں میں کے ہیں اور جسم کی نسبت مسیح بھی اُنہیں میں سے ہوا جو سب کا خدا ہمیشہ مبارک ہے۔ ثبوت اس امر کا نبوت مزکور صرف بنی اسرائیل پر صادق ادیگی اور ماسوا اُنکے اور کسی کے حق میں دوست اور ٹھیک نہیں بیٹھ سکتی اسکے قرینہ اور گردہ پیش پر غور کرنے سے بخوبی ظاہر ہے موسیٰ کو خدا نے مطلع کیا کہ تو بیابان میں اردن کے پورب میں مرجا ویگا اور ملک کنعان میں داخل نہ ہوگا ۔ اِس بات کو سُنکر موسیٰ نہایت غمگین ہوا اور بنی سرائیل کی خیرخواہی کی نسبت فکر مند ہوا اور ساری جماعت بنی اسرائیل کی اکھٹی کر کے اُن کو تعلیم  اور نصیحت  کرنے لگا۔ خصوصاً  اُن کی چال چلن کی بابت جس وقت کہ وہ ملک کنعان میں داخل ہوں اُس نے اُن سے کہا جب تو اُس سر زمین میں جو خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے  داخل ہو تو وہاں کی گروہوں کی کر یہہ  کارمت سیکھو تم میں کوئی ایسا نہ ہو کہ اپنی بیٹی یا بیٹے کو آگ میں گزر کر آوے۔ یا غیب کی بات بناو ے یا جادو گر بنے  اور تم میں سے کوئی افسون گر نہ ہو  نہ دیووں سے جو مسخر ہوتے ہیں سوال کرنے والا اور ساحر اور سیانہ نہ ہو کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں خداوند اُن سے کراہیت کرتا ہے اور ایسی کراہتوں کے باعث سے اُن کو خداوند تیرا خدا تیرے آگے سے دور کرتا ہے تو خداوند اپنے خدا کے آگے کامل ہو کیونکہ وہ گرو ہیں جنکو تو اپنے آگے سے ہالکتا ہے غیب گویوں اور شگونیوں کی طرف کان دھرنے ہیں پر تو جو ہے خداوند تیرے خدا نے تجھ کو اجازت نہیں دی کہ ایسا کرے خداوند تیرا خدا  ۔

تہذیب الاخلاق کی تیسری بشارت کہا خدا  سینا سے نکلا اور سعیرسے تپکا ور فاران کے پہاڑ سے ظاہر ہوا اُسکے دہنے ہاتھ میں شریعت روشن ساتھ لشکر ملائکہ کے آیا  تو ریت کتاب پنجم باب۳۳ ۔ ۲ آئیگا  اﷲ جنوب سے اور قدوس فاران کے پہاڑ سے آسمانوں کو جمال سے چھپا دیا اُسکی ستایش سے زمین  بھر گئی ۔ کتاب حبقوق باب ۳۔ ۳ راقم ابن بشارت کے لکھ رہے ہیں کہ اِن آیتوں میں جو کوہ فاران سے خدا کا ظاہر ہونا اور شریعت کا اُسکے ہاتھ میں ہونا بیان ہو ا  وہ علانیہ محمد صاحب کے مبعوث ہونے اور قرآن مجیدکے نازل ہونیکی کہ وہی شریعت ہے بشارت ہے اور اُسکے ثبوت میں دعویٰ کرتے ہیں کہ یہہ بات عرب کے قدیم جغرافیہ سے اور بڑے بڑے عولموں کی تحقیق اور تسلیم سے اور توریت کے محاورات سے بخوبی ثابت ہو گئی کہ مکہ ہی کہ پہاڑ ونکا نام فاران ہے میں اِس دعویٰ کو سنکر نہایت حیران ہوا کیونکہ یہہ ایک عجیب و غریب مضمون ہے کہ توریت کے دیکھنے والونکے  کےخیا  ل میں  کبھی نہیں گزرا ہوگا اور ایسی جُرأتکے ساتھ دکھایا کہ سننےوالے کے دلمیں پیدا ہوگا کہ یہہ بیان سچائی سے خالی نہوگا۔ اس میں سچائی کچھ نہ کچھ ضرور ہو گی مگر یہہ ایک ایسا بےبنیاد  ہے کہ اِسمیں صداقت کا کہیں نشان و گمان نہیں اور میں حیران ہوں گے کہ اِسکی بطلان کی کونسی دلیل کو پیش لاؤں اور پہلے بیان  کروں اُنسیویں صدی میں عجیب و غریب حکائیتں کثرت سے دیکھنے اور سننے میں آئیں مگر اِس سے بڑھکر غرایب  کہیں نہیں پائی گئی یہہ سب پر سبقت لیگئی اور راقم کی انصاف پروری  اور مبلغ علم کا بڑایا دگار روذگار نا پائدار میں باقی رہا اور اُسکی وجہ ثبوت میں یوں درج تحریر کیا۔

اوّل اکتوبر سن عیسوی ۱۸۶۹  کی کواٹرلی ریولومیں اسلام پر ایک آرٹیکل چھپاہے جو ایک بہت بڑے عالم  یہودی زبان جاننے والیکا لکھا ہوا ہے اُس کے صفحہ ۴۴ میں لکھا  ہوا ہے کہ سیفونے اِن خاص آیتوں کی جسمیں سینا اور سعیر اور فاران کی بشارت مذکور ہے اِسطرح پر تشریح کی ہے کہ خدا سینا سے نکلا  یعنی عبرانی زبانیں شروع دی گئی ( جس سے مراد  توریت ہے) اور سعیر سے چکا یعنی یعنے یونونی زبانیں بھی شریعت دی گئی (جس سے مراد انجیل ہے اور مسلمان کل عیسائیوں کو رومی کہتے ہیں)  اور فاران  کے پہاڑ سے ظاہر ہوا اور اُسکے ہاتھ میں شریعت روشن یعنے عربی زبانیں شریعت دی گئی۔ (جس سے مراد قآن مجید ہے)بس اس عالم کے قول سے ثابت ہو کہ فاران وہی جگہ جہاں سے مذہب اسلام ظاہر ہوا یعنے حجاز یا  مکہ اِس وجہ ثبوت کی نسبت میں اِسقدر کہسکتا ہوں کہ یہہ پوچ و لچر محض بیفائدہ ہے جیسا صدر میں مذکور ہوا کیونکہ کواٹرلی ریویو ایک ایسے اخبار کا نام جو انگلستان میں چار مرتبہ سال میں چھپا کرتا ہے دین عیسوی کے خلاف پراور اُسکے إضامین لکھنے والے اکثر لامزہب اور دین کے منکر ہوا کرتے ہین ایسے اخبار کی رائے دین مخالف امر میں کبھی منظور نہیں ہو سکتی علاوہ اِس کے انگریز ی تعلیم یافتہ مسلمان بھی اُس خبار میں اپنا مضمون چھپوایا کرتے ہیں عجب نہیں کہ یہہ تفسیر اِن آیتوں کی کسی  ہندوستانی مسلمان نے چھپوائی ہو جیسا راقم خطبہ اور اُنکے فرزند سوا اِسکے صرف  اتنا کہنا خدا سینا سے نکلا یعنے عبرانی زبان میں شروع دی گئی جس سے مراد  توریت ہے اور سعیر سے چمکا یعنی یونانی زبانمیں بھی شریعت روشن یعنے عربی زبان میں شریعت دی گئی جس سے مراد قرآن مجید ہی کافی نہیں یہہ عجب رنگ  کی تفسیر ہے کہ جب تک اسکا ثبوت پیش نہو اسکا قبول کرنا ممکن نہیں کیا وجہ ہے جس سے یہہ الفاظ کہ خدا سعیر سے چمکا اور فاران کے پہاڑ سے ظاہر ہوا اِس معنی پر  محول ہو ئی کہ یونانی زبان میں شریعت دی گئی یعنی  انجیل ور عربی زبانیں شریعت دی گئی یعنی قرآن  جبتک اِسکی وجہ معقول ظاہر نہ کیجاوے تب تک اِس عجیب تفسیر کو سوائے راقم خطبہ کے اور کون پزیرا کرے زمانہ ست بچن کا منقضی ہو گیا اور ہانجی  ہانجی کہنے والا کوئی  نرہا اب ایسے بے بنیاد خیلوں کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔

دوم اِس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ سینا اور سعیر اکثر بجا ے اِسرائیل اور عیسیٰ کے مستعمل ہوتے ہیں اور ادوم بجاے روم کے اور فاران تو صرف عرب کے لیے مستعمل ہے۔ اِس کلام کے پڑہنے سے ہر ایک ناواقف آدمی کو یہہ معلوم ہوگا یہہ بات ٹھیک اور درست ہوگی بلکہ مسلم الثبوت کہ جسکے واسطے دلیل ا ور نظیر بھی نہیں لائے گویا مثل بد یہی اول کی ہے مگر حقیقت دیکھو تو اِسکے برخلاف ہے یعنے سراسر جھوٹ ناواقفو نکے ٹھگنے کے واسطے دھوکھا دیا ہر ایک مطالعہ کنندہ بائیبل کا اِسکا انکاری ہے کیونکہ عہد عتیق اور عہد جدید کی کتابوں میں سینا ور سعیر بجاے اِسرائیل اور عیسیٰ کے کہیں مستعمل نہیں ہوا یہہ صرف راقم خطبہ کا خیال اور ادعاے شاعر انہ ہے اگر اُنکو کوئی دلیل اور نظیر ہے تو پیش کریں اور تاو قتیکہ پیش نہ کر سکیں انصاف اسی میں ہے کہ یورپ کے جغرافیہ نویس متضق ہو کر جو راے اِس مقام کے واسطے دے چکے اور رہے ہیں اُسکو تسلیم کریں ۔

سوم فرماتے ہیں کہ صرف اِسمیں ہے کہ مکہّ کے گرد کے پہاڑ ونیکا یہہ نام ہے یا نہیں مگر ہم اِس شبہ کو بھی مٹا وینگے ور قدیم جغرافیہ کی تحقیقات سے ثابت کر دینگے کہ مکہّ کے گرد کے پہاڑ بھی فاران ہیں۔

اِس وعدہ کو راقم نے پورا نہ کیا صرف یہہ دکھلایا کہ حضرت اِسمعیل  اور اُنکی ماں ہاجرہ جب حضرت ابراہیم سے  جدُا ہوئے تو اُنہوں نے بیابان فاران میں سکونت کی اور رفتہ رفتہ اُنکی اولاد تمام ملک عرب میں پھیل گئی اِس بات کے بیان میں نہایت لمبی چوڑی تقریر قلم ریز کر کے انجام کو یہہ دہ نتیجے نکالے ایک یہہ کہ حضرت اسمعیل اور اُنکی اولاد عرب میں آباد ہوئی دوسرا یہہ کہ مرکز اِس خاندان کی آبادی کا حجاز تھا جہاں اسمعیل کی مقدم اولاد کا مسکن ہوا تھا اور پھر اُس  مرکز سے اطراف عرب میں پھیل گئے۔

اِس  بیان پر میرا کچھ اعتراض نہیں اگرچہ  اسکی  صحت پر کوئی دلیل پیش نہیں ہوئی راقم خطبہ صرف یہی لکھتے  ہیں کہ قدیم جغرافیہ سے یہہ امر ثبوت کو پہنچا لیکن اُس قدیم جغرافیہ اور اُسکے کھنے والے کے نام و نشان سے آگہی نہیں بخشی قرنیہ سے دریافت ہوا کہ شاید کوئی اہل اِسلام میں سے ہی کیونکہ اہل اسلام کا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت اسمعیل نے حجاز میں سکونت کی اور خانہ کعبہ اُنہیں کی تعمیر ہر اور  میں اِس خیال پر کچھ اعتراض نہیں  کرتا بلکہ تسلیم کرتا ہوں کہ ملک عرب بنی اسمعیل  سے آباد ہوا ور حصہ حجاز ا ور حصوں  سے بڑھکر مشہور ہوا لیکن اِس سے یہہ ثابت نہیں ہوسکتا  کہ بیابان فاران جہاں حضرت اسمعیل ور ہاجرہ سکونت  پزیر ہوئی حجاز ہے یا اُنکی اولاد اُنکے حین حیات ا ِسطرح سارے ملک میں پھیل گئی بلکہ برخلاف اِس خیال کے تورات میں مصرح ہو کہ اسمعیل  اور انکے بیٹے نزدیک ملک کنعان اور مصر ا کے آباد ہوئے ُسوقت جبکہ تورات جمع ہوئی دیکھو پیدایش کی کتاب باب ۲۵ ۔ ۱۸ ہے (یعنی اسمعیل ور انکے  بیٹے) ہویلا سے صور  تک جو مصر کیطرف  اسور کی راہ میں  ہے بستے تھے۔ 

وہ اپنے سب بھائیو ں سے پورب طرف  ڈیرہ کرتے تھے اِس سے بخوبی ثابت ہوا کہ اسمعیل اور اُنکے بیٹونکی سکونت کہ جگہ بنی اسرائیل کے پورب طرف تھے اُسور کے بیابان کے نزدیک نہ جیسا  کہ راقم خطبہ نے دعویٰ کیا کہ وادی حجاز میں جوکہ کنعان سے سیکڑوں کوس  کے فاصلے  پر واقع ہے اور بنی اسرائیل کے جنوب کیطرف ہے انکی تقریر اسمقام پر ایسی ہے کہ کوئی کہے کہ نوحکی اولاد سارے جزیروں اور ملکوں میں زمیں کے پھیل گئی۔ اور اُن کے پھیلنے کا مرکز بیابان بابل تھا اِس سے ثابت  ہوا  کہ حضرت نوح اپنی اولاد کت ساتھ بابل کے میدان پر نہیں  گئے  اِسیطرح خیال کرو کہ اگر چہ اسمعیل کی اولاد ُکل ملک عرب مین پھیل گئی اور اُنکے پھیلنے کا مرکز ور اوّل اولاد کا مسکن وادی حجاز ہوا ا ِس سے ثابت  سے یہہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت اسمعیل کا مسکن  وادی حجاز رہے۔

اور فرض کرو کہ اسمعیل کی جائے سکونت کبھی حجاز بھی ہوا لیکن اِس سے کیونکر ثابت کروگے کہ بیابان فاران اور حجاز مین آیسے ہوں یعنے اپنی حیات کے مختلف وقت میں ان دونوں مقام میں بودوباش کی ہو مثلاً توریت کے ایکمقام میں یوں ثابت ہوا کہ براہیم  کالد یونکی آر میں بستے تھے پھر دوسری جگہ سے پایا گیا کہ بیر شبع کے میدان میں سکونت کی کیا  اِس سے یہہ نکلا کہ بیر شبع اور کالدیونکا آر ایک ہی مکان کا نام ہرگز نہیں لیکن راقم خطبہ کی تقریر سے یہی نتیجہ پیدا ہو رہا ہے۔

چہارم دلیل میں کہتے ہیں کہ سامری توریت کے عربی ترجمہ میں جسکو ارکیونن نے سن عیسوی ۱۸۵۱ میں مقام میں بمقام گلدونی شا ورم چھاپا فاران کو حجاز بتلایا ہے چنانچہ اُس ترجمہ کے بعینہ یہہ عبارت ہے و سکن فی مرتبہ قرآن (الجہاز) وا خدت لا مہ امرہ من ا رض مصر یعنے اور ٹھرافاران کے بیابان میں (یعنی حجاز) اور لی اُسکے واسطے اُسکی مانے ایک عورت مصر کی زمین سے ۔

میں کبھی یہ عربی ترجمہ سامری تو رات کا نہیں دیکھا اُسکی معتبر یکے بابت کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن اتنا تو خواب صفائی سے ظاہر  ہو رہا  ہے کہ لفظ الجہاز مترجم کا زلید کیا ہوا ہے  نشان براکٹ اس بات پر دلالت کرتا ہے اصلی کتاب کا لفظ نہیں کیا راقم خطبہ کو اُس  نشانکے  معنے سے واقفیت  نہیں ہا دانستہ دھوکہ دہی کر رہیئےہیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ اور شک کا مقام نہیں کہ عربی مترجم نے جو اہل اسلام میں سے  تھے اس لفظ کو اپنے خیال کے مطابق بنا لیا لیکن چونکہ وہ دیانت  داتھا اسکو بریکٹ میں رکھدیا تا کہ کوئی  پڑھنے والا دھوکہ نہ کہاوے لیکن اگر یہہ لفظ اصلی سامری توریت ہی میں  بھی  ہوتا تو بھی اِس  راقم خطبہ کا مطلب ثبوت کو نہیں  پہنچتا کیونکہ سامری توریت یہودی اور عیسائیونکے درمیان معتبر نہیں گنی جاتی یہہ بات راقم خطبہ پر پوشیدہ نہیں اور اُنکو  بخوبی معلوم ہے کہ سامری ایک قوم بت پرستی اصل میں باشندہ بابل تھی لیکن بادشاہ کے حکم سے ملک کنعان میں یعنی آبسی تھی۔ اور کچھ رسم رواج کی اختیار کر کے عمل میں لایا کرتی۔  اس قوم  اور یہود  کے درمیان سخت مخالفت رہی ہے یہود اُنسے نفرت  رکھتے تھے۔ اور یہہ اہل کتاب میں کبھی  شامل نہیں ہوئی اگر اُنکو کتاب میں توریت کا  کوئی غلط حوالہ  ہو تو کچھ عجیب وغریب نہیں اور وہ قابل سندنہیں بن سکتی اب میں اس مقام پر دکھلاتا ہوں کہ بیابان فاران اور کوہ  فاران وادی حجاز میں اور مکہ کے گرد نواحمیں نہیں ہو سکتے یہہ بات توریت کے مطالعہ کرنے والوں پر بخوبی روشن ہے اور ہر ایک جغرافیہ کے پڑھنے والے اور نقشہ کے دیکھنے والوں  کو دریافت ہو سکتا ہے اُسکو ٹھیک طرح  سے یہہ سمجھانے کے لیے زیل میں لکھی ہوئی باتوں کا بخوبی یاد رکھنا چاہیئے۔

پہلا نبی اسرائیل ملک مصر کنعان میں آرہے تھے  اُنکے راستے فلیج سویز جو کہ دریائے قلزم کی ایک شاخ ہی واقع ہے اِس خلیج سے وہ پار ہو کر جزیرہ نمائی سینا  ہے جہاں خدا نے حضرت موسیٰ کو ا حکام  شریعت عنایت کئے بعد شریعت ملنے کے بنی اسرائیل ملک کنعان کو چلے گئے۔

دوم شہر مکہ کوہ سینا سے قریب آٹھ سو میل کے فاصلے پر جنوبی مغرب کی طرف میں واقع ہے اور وادی حجاز اور جزیرہ نمائی سینا میں خلیج مکا وہ حائل ہے اور دونوں مقام یعنے مکہ ور حجاز عین برخلاف اُس راستہ کے ہے جو کوہ سینا سے ملک کنعان کو جاتا۔

سوم ملک کنعان کوہ سینا ور جزیرہ نمائی سینا کے شمالمیں واقع ہے کوہ سینا سے صرف دو سو میل کے فاصلے پر اب خلاصہ بیان یہہ ہے کہ بیابان فاران بیابان سینا اور ملک کنعان سے زیادہ نزدیک ہے نسبت کوہ سینا کے کیونکہ توریت سے اسیطرح ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل دریا سے نکل کر اوّل کوہ سینا پر آئے اور وہاں سے۔